میاں نوازشریف وزیراعظم بنے تو جنرل حمید گل نے انہیں تین مشورے دیے تھے ، یہ تین مشورے کون سے تھے ؟ جان کر آپ کو شریف خاندان کے زوال کی اصل وجہ معلوم ہو جائے گی

2018 ,نومبر 17



اہور (ویب ڈیسک) عموماً کہا جاتا ہے یہ نہ دیکھو کون کہہ رہا ہے‘ یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے۔ یہ شاید ان لوگوں کیلئے ہے جو دانشمندی کی بات کرتے ہیں مگر انکی کوئی نہیں سنتا۔ ہمارے ہاں کے عمومی معاشرتی چلن میں دیکھا جاتا ہے کہ کون کہہ رہا ہے۔

 

نامور  کالم نگار فضل حسین اعوان روزنامہ نوائے وقت میں اپنے  ایک کالم  میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔عام بندے کی دانشمندی و دانشوری دھول کے ساتھ دھول بن جاتی ہے۔ بڑے لوگوں کی واجبی اور سرسری باتوں کو شہ سرخیوں میں پرویا جاتا ہے۔ اس پر بھی عش عش کرنیوالوں کی کمی نہیں ہے۔ ارسطو، سقراط، بقراط ایسے لوگ بھی کبھی بے وسیلہ تھے مگر انکی دانش‘ عقل و فہم اور فکر کے لوگ قدردان تھے۔ سو ایسے لوگ اعلیٰ مقام پا گئے۔ ان لوگوں کی سوچ اور فکر کو فلسفے اور نظریات کا نام دیا گیا۔ فکر و فلسفے اور نظریات میں تبدیلی آ سکتی ہے مگر جو لوگ ناپ تول کر اور پوری جانچ پڑتال کے بعد بات کرتے جس میں تبدیلی و ترمیم کا امکان ہی نہیں ہوتا تھا۔ پہلی بات ہی حتمی اور آخری پتھر پر لکیر جیسی ہوتی۔ ہمارے ہاں کی لیڈرشپ فلسفوں سے معمور اور نظریات کی تخلیق میں مشہور ہوئی۔ ایک لیڈر نے تو خود کو سراپا نظریہ قرار دیا اور انکے جاننے والے جو انہیں قائداعظم ثانی کہا کرتے تھے۔ انہیں نظرئیے کے ساتھ ایک نشہ بھی کہنے لگے۔ میاں نوازشریف تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ انہوں نے بڑے نشیب و فراز دیکھے۔

 

 زمانہ ساز ہیں۔ جیلیں بھگتیں‘ جلاوطنیاں کاٹیں‘ ایک حلقے کی نظر میں وہ کندن بن چکے ہیں۔ خدا کرے ایسا ہی ہو۔ میاں نوازشریف نے دور روز قبل احتساب عدالت میں کچھ سوالات کے جواب جمع کرائے۔ ان میں انہوں نے کہا: قومی اسمبلی میں تقریر اور قوم سے خطاب میں العزیزیہ اور گلف سٹیل سے متعلق جو باتیں کیں‘ وہ سنی سنائی باتیں تھیں۔آئین کے آرٹیکل 66کے تحت فلور آف دی ہائوس تقریر کو عدالت میں ثبوت کے طورپر پیش نہیں کیا جاسکتا۔ میاں نوازشریف جو کچھ کہتے رہے، ان کو نظریہ اور نشہ کہنے والے اس پر پختہ ایمان رکھتے ہیں۔ اس سب سے جب انہوں نے خود ہی رجوع کر لیا ہے تو اسے یوٹرن نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ لفظ صرف عمران خان کیلئے مختص ہو چکا اور انہی کو سزا وار ہے۔ اگر میاں نوازشریف اپنا کہا واپس لیتے ہیں تو اسے نیوٹرن کہا جا سکتا ہے۔ اپنی رائے سے رجوع کو یوٹرن کہا جا سکتا ہے۔ حقیقت سامنے آنے پر اسے مان لینا یوٹرن نہیں بڑا پن ہے جبکہ حقیقت سامنے آنے کے باوجود مؤقف پر قائم رہنے کو ہٹ دھرمی کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے۔ میاں نوازشریف نے قوم سے خطاب اور قومی اسمبلی میں اپنی تقریروں کو سنی سنائی باتوں پر مبنی قرار دے کر بحث و مباحثے کی بنیاد ہی اکھاڑ پھینکی ہے

 

جس پر انکے پیروکار حریفوں کے شریفانہ دلائل کے بخیے ادھیڑ دیتے تھے۔ اب بھی خیر پسپائی اختیار نہیں کرینگے۔ دلائل کے انبار لگانے کی مہارت میں یکتا ہیں۔ میاں نوازشریف وزیراعظم بنے تو جنرل حمید گل نے انہیں تین مشورے دیئے۔ جب تک وزیراعظم ہیں‘ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی طرح اپنے کاروبار سے لاتعلق ہو جائیں۔ ہر ہفتے لاہور جانے سے گریز کریں۔ ہر صوبے کے دارالحکومتوں میں ہفتے میں ایک دن گزارنے کی روٹین بنا لیں۔ ضیاشاہد نے اپنی کتاب میں لکھا کہ نوازشریف وزیراعظم بنے تو انہیں کہا کہ اللہ نے آپ کو عزت‘ دولت اور شہرت کے جس بلند مقام پر پہنچایا‘ یہ کسی کسی کا مقدر ہوتا ہے۔ آپ وزارت عظمیٰ کے دوران اپنا کاروبار نہ کریں۔ میاں نوازشریف شہبازشریف کی طرف اشارہ کیا تو انہوں نے کہا ہم کاروبار نہیں چھوڑ سکتے۔ میاں صاحب نے اپنے بے لوث دوستوں سے مشورے پر عمل کیا ہوتا تو آج یوں یہ رسوائیاں مقدر نہ ہوتیں جن کے پیچھے سچی یا جھوٹی یا کرپشن کی کہانیاں ہیں۔ عمران خان کی حکومت کرپٹ لوگوں کے پیچھے لٹھ لیکر پڑی ہوئی ہے۔ نیب کا الگ سے دست بگریباں ہے۔ سپریم کورٹ تو خیر سب سے آگے ہے۔ اس پر سب کے یکساں احتساب کی بات ہو رہی ہے

 

جسےAcross the boardکہا جا رہا ہے۔ کچھ حکومتی لوگوں سے رعایت کی بات کی جاتی ہے۔ کئی لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان سب کا تعلق اپوزیشن سے ہے جن پر کیس ہیں اور ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے۔ ان میں سے حکومتی اور اپوزیشن کے بڑے بڑے لیڈر شامل ہیں۔ ملزموں نے اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ ملزم کو اپنی صفائی کا پورا حق ہے مگر ادنیٰ سے ’’اعلیٰ‘‘ ملزم تک اپنی صفائی میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے ہزار کی چوری کی ہے‘ پہلے دو ہزار کی چوری کرنیوالے کو پکڑو۔ مگر ایسا کہا جا رہا ہے۔ یہ چلن بھی ہمارے ہاں ہی ہے کہ ملزم کہتا ہے مجھے کس موقع پر پکڑا جانا چاہئے اور کون سے سوالات کئے جائیں۔ بڑے بڑے لیڈر کہتے ہیں کہ بھینسیں اور گاڑیاں بیچنے سے ملک نہیں چلتے تو کیا وزیراعظم ہائوس میں بھینسیں‘ بکریاں اور بے سود مہنگی گاڑیاں رکھنے سے ملک چلتے ہیں۔ سابق ادوار میں تو اعلیٰ ایوانوں میں گھوڑے بھی رکھے گئے مگر ملک مقروض ہوتا چلا گیا۔ آج قرضوں کی مالیت 28 ہزار ارب روپے ہے۔ ’’باری‘‘ کا سلسلہ مزید دس سال چلتا تو قرض پچاس ہزار ارب ہوتا اور مزید باریوں پر بات کہاں سے کہاں چلی جاتی۔ بالآخر ملک خدانخواستہ دیوالیہ ہوتا تو کیا ہوتا۔  تاج برطانیہ سر سے پائوں میں معیشت ڈوبنے سے آیا تھا۔ سوویت بھی اسی سبب ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ وزیراعظم ہائوس میں بھینسوں کی افزائش کے حامی بڑی دور کی کوڑی لائے۔ کہتے ہیں ان پر اخراجات سے زیادہ منافع تھا۔ وزیراعظم ہائوس کی ایک بھینس میاں نوازشریف کے ایک حبدار نے دُگنا قیمت پر خرید لی۔ عقیدت ہو تو ایسی!! ایسے ہی عقیدت مند وزیراعظم ہائوس سے عقیدتاً پاتھیاں سونے کے بھائو خرید لیتے تھے۔ اگر اس کو مقصد بنا لیا جاتا منافع میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا۔ آخر میں میاں نوازشریف سے عرض ہے کہ وہ ایک ہی بار سچ بول کر اپنے من کا بوجھ دھن قومی خزانے میں جمع کراکے ہلکا کرلیں۔(ش س م)

 

متعلقہ خبریں