ہر گھر کا مسئلہ : بیٹیاں پڑھی لکھے اور بیٹے سڑک چھاپ ۔۔۔۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ صف اول کے کالم نگار نے پورے معاشرے کو آئینہ دکھا دیا

2018 ,نومبر 17



لاہور (ویب ڈیسک) اخبار میں لکھنے والے ہر شخص کی طرح میری ڈاک بھی بعض اوقات مجھے جذباتی دیتی ہے۔ چار دن پہلے کویت میں مقیم ایک پڑھے لکھے پاکستانی نے ای میل بھیجا ، جسے میں چاہتے ہوئے بھی نظر انداز کرنے کی ہمت نہیں کرپایا۔ موصوف 75برس کے بزرگ ہیں۔

 

نامور   کالم  نگار ریاض احمد سید اپنے ایک کالم میں  لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جامعہ پنجاب کے شعبہ سیاسیات سے 1966میں ماسٹرز کیا جہاں ایک سابق کئیر ٹیکر وزیراعلیٰ کے ہمدرس تھے ۔یونیورسٹی لاء کالج سے قانون کی ڈگری لی۔ وہاں بھی شعبہ قانون سے متعلق متعدد اہم شخصیات ان کی ہمعصر تھیں۔ پاکستان میں آفیسر کیڈر میں ملازمت کی اور پھر کویت میں معقول عہدوں پر فائز رہے ۔ بیگم بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کویت یونیورسٹی میں انگریزی کی استاد ہیں ۔ مسئلہ ان کا بھی وہی ہے جو وطن عزیزمیں گھر گھر کا ہے اور جس کیلئے جمعہ کی نماز کے بعد خطیب صاحبان باقاعدگی اور خضوع و خشوع کے ساتھ دعائیں بھی کرتے ہیں ’’نوجوان اولاد بالخصوص بچوں کے رشتے کا معاملہ ‘‘۔ انکی اکلوتی صاحبزادی کویت میں پیدا ہوئیں اور عمر عزیز30برس۔ پیشہ کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور کویت کے پبلک سروس کمشن کے ذریعے اسسٹنٹ رجسٹرار (میڈیسن) بھرتی ہوئیں ۔ آج کل وہیں ایک بڑے ہسپتال میں پکی نوکری پر ہیں۔مشاہرہ بھی معقول ہے۔ والد محترم کا تقاضہ آسمان سے تارے توڑ کر لانے کا نہیں ، اور نہ ہی وہ کسی راجکمار کی تلاش میں ہیں ۔ مگر اتنا ضرور چاہتے ہیں کہ رشتہ ہم پلہ ہو ۔ مجھے موصوف نے پابند کرنے کی حد تک تاکید ہے کہ ضرور انکی مدد کروں ۔

 

اگر میری نظر میں نہ ہو تو میں یہ مسئلہ اپنے دوست احباب ، عزیز و اقارب ، ہمسایوں ، رفقائے کار ،حتی کہ وطن عزیز کے ہر ہر باسی تک پہنچادوں اور یقین رکھتے ہیں کہ یہ اجتماعی تلاش رائیگاں نہیں جائیگی۔ نیز اس کاوش میں حصہ لینے والوں کیلئے موصوف کا وعدہ ہے کہ ان کیلئے اپنی قبر سے دعاکرتے رہیں گے ۔ موصوف اردو سپیکنگ سنی سید ہیں اور نسلوں سے روایتوں کا پالن کرتے آئے ہیں ۔ مگر ’’ مجبوری کی حالت میں سب جائز‘‘ کے مصداق صدیوں سے چلی آنے والی ریتوں ، روایتوں کے تلخ گھونٹ پر بھی آمادہ ۔ موصوف کو اپنی جذباتیت کا بھی پورا احساس ہے ۔ اسی لئے کہتے ہیں ’’ آپ بھی کہیں گے کہ میں ایک معمولی سا مسئلہ لے کر پینک ہوگیا ہوں ایک ایسا ایشو جس کا میں تنہا شکار نہیں ، کروڑوں اس کی گرفت میں ہیں ۔ مگر جانے کیوں کوشش کے باوجود خود کو سمجھا نہیں پاتا۔ شاید اسلئے کہ میرے پاس زیادہ وقت نہیں بچا ۔ ہمارے خاندان میں جو انمرگی کا چلن ہے میں تو الحمد اللہ 75کا ہو چکا جو شاید اللہ رب العزت کی جانب سے خصوصی رعایت ہے تاکہ زندگی کی سب سے بڑی خواہش کو تکمیل پاتا دیکھ سکوں ‘‘ ۔

 

میں آپکی طرف سیدھا منہ اٹھائے نہیں آگیا ۔ اپنی سی کر چکا ہوں اخباروں میں اشتہار دئیے ، رشتہ کرانے والوں کے ہتھے بھی چڑھا کئی ویب سائٹس بھی آزمائے ۔ مگر ہر کسی نے مجھے ایکسپلائٹ کیا اور خوب لوٹا ۔ میں آپ کیلئے آشنا نہیں ہوں شاید اس نا آشنائی کے سبب میری اس رام کہانی کو لفٹ بھی نہ کرانا چاہیں ۔ مگر یہ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیجئے گا کہ ہر آشنا کبھی نا آشنا ہوتا ہے اور آج جنہیں آپکے دل کے بہت قریب سمجھتے ہیں کبھی انکے بھی واقف نہ تھے ۔ اسکے باوجود میں اگر بے نیل و مرام رہا ہے تو اپنی تقدیر کو زندگی بھر کوستا رہوں گا اور ہاں وہ جواں مرگی والی بات ۔ میرے والد محض 52برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ ریلوے میں ملازم تھے۔ دسمبر 1972کی ایک صبح سرکاری کام سے کراچی جا رہے تھے کہ ٹرین میں ہی ہیمبرج ہوا اور اللہ کو پیارے ہوگئے میں تو ان سے بہت آگے نکل آیا ہوں۔ کہاں باون اور کہاں پچھتر ۔موصوف نے تو سب کہہ سنایا اور دل کھول کر رکھ دیا جس سے سینے کا بوجھ بھی کچھ ہلکا ہوگیا ہوگا ۔

 

مگر بچیوں کی شادی کا مسئلہ تو ہر کسی کو درپیش ہے اور قصوروار ہم خود ہیں ۔ خاندان بکھر گئے ایک بھائی آگے نگل گیا تو باقی اسے فقیر فقرے دکھائی دینے لگے۔ غیروں کی وقتی چمک دمک نے اسکی آنکھیں خیرہ کر دیں۔ تعلیم نے بھی لڑکوں اور لڑکیوں کے مابین عدم توازن پیدا کردیا۔ پچاس برس پہلے لڑکیوں میں تعلیم نہ ہونے کے برابر اور سارا زور لڑکوں پر لگایا جا تا تھا مگر اب معاملہ الٹ ہو چکا۔ خواتین ملکی آبادی کا نصف مگر پیشہ ورانہ تعلیم اور عملی زندگی کے کسی بھی شعبے میں انکی دو تہائی سے لے کر تین چوتھائی تک۔ طب اور تعلیم کے شعبوں تو لڑکے بہت پیچھے رہ چکے ہیں۔ اعلیٰ سول ملازمتوں کو ماضی قریب میں مردوں کا شعبہ خیال کیا جاتا تھا ۔ اب وہاں بھی صنف نازک کا تناسب نصف ہونے کو ہے ۔ جب لڑکیاں پڑھ جائیں اور لڑکے سڑک چھاپ ہوں تو مسائل تو پیدا ہوں گے ۔ پھر ایسے میں کمپرو مائیزز ہوتے ہیں ۔ ڈاکٹر بچیاں ان پڑھوں سے بیاہی جاتی ہیں۔ جنوبی پنجاب کی دو ڈاکٹر بہنوں کی اسی قسم کی کہانی پچھلے دنوں میڈیا کی زینت بنی رہی۔ لڑکوں کی پیدائش پر جشن منانے والو ! انہیں قرینے میں رکھنے کا بھی سوچو۔ ورنہ سوسائٹی منفی عدم توازن کے ساتھ ساتھ نفسیاتی مسائل کا شکار بھی ہو جائیگی بلکہ ہو چکی ۔ نالائق شوہروں کی ایک نسل پڑھی لکھی بیویوں پر رعب جما کر مردانیت کا بول بالا کرنے کوشش کریگی اور پھر بتدریج گھر میں غلاموں کی طرح رہنے کے عادی ہو جائینگے ۔ سوری میں کسی اور جانب نکل گیا۔ بہر حال کویت والے بزرگوار کا مسئلہ چونکہ ترجیحی قسم کا ہے۔ لہذ اپنے سب غم بھلا کر اس پر توجہ ضرور دیجئے گا ۔(ش س م

متعلقہ خبریں