ایک بار عمران خان کے باورچی خانے میں ، میں نے بریڈ فورڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے لیے چنے کی دال پکائی ، اسے کھا کر موصوف کا کیا حال ہوا ؟ ہارون الرشید نے ناقابل یقین واقعہ بیان کر دیا

2018 ,نومبر 16



لاہور (ویب ڈیسک) ہم مگر وہ دلاور ہیں کہ جنگلوں میں شکار ڈھونڈتے ہیں۔ جھیل پہ پرواز کرتی مرغابیوں کے پر ے ہمیں دکھائی نہیں دیتے۔ کیا ہم صحرائے سینا میں بھٹکتے بنی اسرائیل کے پیروکار ہیں؟ ملک صاحب سے میری ملاقات ریل گاڑی میں ہوئی۔ وزیر آباد سے سوار ہوئے‘ جہاں برسوں سے لنگر وہ چلا رہے ہیں۔

 

نامور  کالم  نگار   ہارون الرشید اپنے ایک کالم  میں لکھتے  ہیں ۔۔۔۔۔۔کھانا مفت نہیں ‘ دس روپے میں۔ چند ہفتے بعدیہ لنگر دیکھنے گیا‘ شوربے والا آلو قیمہ پکا تھا۔ میزبان کے احترام میں دیسی مرغی بھی کھائی‘ مگر کچھ آلو قیمہ بھی۔ ایمان داری کی بات یہ ہے کہ کم لذیذ نہ تھا۔ یحییٰ خان یاد آئے۔ مرحوم مشرقی پاکستان کے گورنر مالک نے ان کے اعزاز میں عشائیہ برپا کیا۔ پوچھا: کھانا کیسا ہے‘ ''اچھا ہے‘ لیکن اگر فوجی میس سے چنے کی دال منگوائی جا سکتی ‘‘۔ ایک بار عمران خان کے باورچی خانے میں‘ بریڈ فورڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور سمندر پار منصوبوں کی نگران پروفیسر ایلی سن کیلئے‘ ناچیز نے چنے کی دال خود پکائی۔ ان کا ردِ عمل بھی یہی تھا۔ راز کی بات یہ ہے کہ میانوالی کے میدانوں میں کھاد کے بغیر اگائی جاتی ہے۔ لذیذ ہی نہیں‘ مفرح اورمقوی بھی۔ کہاں سے بات کہاں نکل جاتی ہے۔ ملک صاحب ایک شائستہ آدمی ہیں۔ بھلے آدمیوں سے مراسم‘ بھلائی کے کاموں میں شرکت۔ یا للعجب اس کے باوجود وہ پورا ٹیکس نہیں دیتے۔ٹیکس وہ دینا چاہتے ہیں‘ مگر دے نہیں سکتے۔ متعلقہ افسر اُن کے عملے کو بتاتا ہے کہ واجب الادا میں سے اسی فیصد اس کی جیب میں ڈالیں اور بیس فیصدخزانے میں جمع کرائیں ‘ وگرنہ

 

 

س یہی ''وگرنہ‘‘ ہے جو ہمالہ بن کے کھڑا ہے۔ بائیس کروڑ انسانوں کی زندگیاں جس نے اجیرن کر دی ہیں۔میاں محمد نواز شریف اور آصف علی زرداری کے ادوار میں تو اس ادارے کے سدھرنے کا سوال ہی نہ تھا‘ ٹیکس وصول کرنا‘ جس کی ذمہ داری ہے۔ تمام تر حشمت و قوت کے باوجود مشرف ایسا فوجی حکمران بھی مداوا نہ کر سکا۔ درآں حالیکہ معاشی طور پہ اس کا دور بہتر تھا۔ الزامات لگتے رہے‘ مگر بعد ازاں ثابت ہوا ذاتی طور پہ وہ کرپٹ بھی نہ تھا۔ باقی معاملات الگ ٹیکس وصولی کی راہ میں‘ سب سے بڑی رکاوٹ ایف بی آر ہے۔ نئی حکومت نے اصلاحات کا اعلان کیا تھا ‘مگر اب تک ایک قدم بھی اس سلسلے میں اٹھایا نہیں۔ کم از کم عوام کے علم میں نہیں۔ وصولی کی شرح گر رہی ہے‘ اہداف پورے نہیں ہو رہے ۔ مستقبل قریب میں بظاہر ایسا کوئی امکان بھی نہیں۔ جس طرح وسیم اکرم اور انضمام الحق بننے کے لیے عثمان بزدار کو کئی عشرے درکار ہیں۔ کرشمہ دکھانے کے لیے اسد عمر کو بھی مہلت چاہئے۔ عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب ۔۔ دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک ۔۔ ذہین آدمی ہیں‘ ایم بی اے کی ڈگری رکھتے ہیں‘ خوش کلام ہیں‘ سیکھتے سیکھتے سیکھ ہی جائیں گے۔ جس زمانے میں پی ٹی وی واحد چینل تھا۔ ٹیکنالوجی نئی تھی۔ سکرین پہ کبھی ایک اشتہار لگا رہتا۔ ''انتظار کیجئے‘‘... تو انتظار کیجئے۔

 

؎

کھیلنے دو انہیں عشق کا کھیل‘ کھیلیں گے تو سیکھیں گے ۔۔ مجنوں اور فرہاد کی خاطر کیا کھولیں اسکول میاں ۔۔ ایف بی آر کے نئے چیئر مین کے بارے میں خوش فہمی کا کوئی جواز نہیں۔ پوت کے پائوں پالنے ہی میں نظر آ جاتے ہیں۔ ایف بی آر کا عملہ‘ سرتاپا کرپٹ ہے۔ کیا سدھارا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ایک چیئر مین اور چھ ارکان۔ کیا ایسا ایک چیئر مین اور چھ ارکان میسر نہیں آ سکتے؟ قحط الرّجال اور بے حد مگر ایسا بھی نہیں ، مگر ایسا بھی نہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ افسروں کی جس ٹیم نے وزیراعظم کو گھیر رکھا ہے‘ وہ ایک گروپ کی طرح کام کرتے ہیں۔ کچھ دیانت دار‘ کچھ بددیانت‘ کچھ لائق کچھ نالائق‘ مگر وہ ایک گروپ کی طرح کام کرتے ہیں۔ اس پہ مستزاد سرکاری پالیسیاں‘ افسر شاہی کو جس نے بد دل کر دیا۔اور جو زیادہ کائیاں ہیں‘ انہیں بے قابو۔ افسر شاہی ایک گھوڑا ہے۔ روسی شاعر نے کہا تھا: میں وہ ہوں کہ گھوڑا سر کشی میں الف ہو جائے تو میں اس کی کمر یوں توڑ دیا کرتا ہوں ‘جس طرح کنیز کی مرضی مسترد کر دی جائے۔

 

فواد چوہدری اینڈ کمپنی کنیز کی مرضی مسترد کر سکتے ہیں‘ الف ہو جانے والے گھوڑے کی کمر نہیں توڑ سکتے۔ وہ اور طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ بیچارہ شہزاد اکبر! سمندر پار سات سو ارب روپے کی جائیدادوں کا سراغ اس نے لگا یا ہے۔ ان میں سے چار سو ارب کا سراغ کاشف عباسی اور کلاسرا پہلے ہی لگا چکے تھے۔اس نے دوبارہ لگا لیا۔باقی برطانیہ ‘ سوئٹزر لینڈ‘ امریکہ اور دوسرے ممالک میں۔ سراغ لگانے سے کیا ہوتا ہے۔ ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔ عدالت جانا ہو گا۔ سول جج سے سپریم کورٹ تک شواہد پیش کرنا ہوں گے۔ کتنا عرصہ درکار ہوگا۔ کتنا عرصہ۔ کہر اور دھوپ کے کتنے موسم؟ پاکستان میں شریفوں کے جرائم(White collar crime)کے سب سے بڑے ماہر کو وزیراعظم نے طلب کیا تو ان کا جواب یہ تھا: 2023ء تک پانچ سال کو آپ بھول جائیے۔ اگلی بار اقتدار مل سکا تو کچھ نہ کچھ وصول ہو جائے گا۔ شہزاد اکبر آگے بڑھے اور یہ بوجھ انہوں نے اٹھا لیا۔اللہ کی آخری کتاب میں لکھا ہے: انسان بڑا ہی ظالم اور جاہل ہے۔پہاڑوں نے جو بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا تھا اُس نے چونک کے اٹھا لیا۔حسین بن منصور حلاج نے کہا تھا ''ان کے لئے میں روتا ہوں جو راہوں میں سرگرداں ہیںاور ان کے لئے جو چلے گئے ‘‘۔کرپشن کے خلاف حکومت شور مچاتی رہے گی۔پانچ برس تک ڈنکا بجتا رہے گا۔

 

 دس بلین ڈالر سالانہ ملک سے باہر جاتے رہیں گے۔ فواد چوہدری کو آزادیٔ عمل حاصل رہی اور انشاء اللہ حاصل رہے گی تو یہ پندرہ بیس بلین ڈالر بھی ہو سکتے ہیں۔ ہفتے میں دو چار بار‘ وزیراعظم ان کی کمر پہ تھپکی دیتے ہیں۔ پارلیمانی پارٹی کے حالیہ اجلاس میں انہوں نے کہا ''... پھر فیصلہ کریں گے کہ کس کس پہ فواد چوہدری کو یلغار کرنی ہے‘‘ ... وزیر اعظم کے اصل جملے کو شائستہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ 1992ء میں میاں محمد نواز شریف کے نافذ کئے گئے ایک قانون کے تحت‘ قانونی طور پر سرمائے کی کوئی بھی مقدار ملک سے باہر جا سکتی ہے... قانونی طور پر! پاک فوج کی تحقیق کے مطابق ملک کی ساٹھ فیصد معیشت غیر دستاویزی ہے۔ اور برطانیہ میں شریف خاندان کی 300 جائیدادیں ہیں۔ سال بھر میں تیرہ کا سراغ لگالیا۔ باقی ماندہ 287 کا پتہ چلانے کے لیے کتنی مہلت درکار ہوگی؟ کون بزرجمہر تھا‘امسال پھول کھلنے کے موسم میںجس نے فیصلہ کیا کہ سمندر پار جائیدادیں اور سرمایہ رکھا جا سکتا ہے۔ اس آدمی کا نام شاہد خاقان عباسی ہے۔ ذاتی طور پہ دیانت دار ہیں۔ ارشاد اُن کا یہ تھا: میرے وزیراعظم اب بھی نواز شریف ہیں۔ زرداری صاحب کی مانئے تو اصل چیز جرم کا ارتکاب نہیں‘ ثبوت ہے۔برطانیہ میں 95 فیصد مجرم سزا پاتے ہیں ، پاکستان میں پانچ فیصد۔ نجم سیٹھی ایسے لوگ ان میں شامل نہیں۔ ایک کروڑ بیس لاکھ روپے جن کے ذمہ واجب الادا ہیں۔ نواز شریف کے دور میں تو سوال ہی کیا تھا‘ عمران خان کی حکومت میں بھی ان سے باز پرس نہیں ہوئی۔ باز پرس کیا معنی‘ 2013ء میں بھیجے گئے نوٹس کا اعادہ تک نہیں۔ 120 ارب روپے ایک اور صاحب کے ذمہ ہیں۔ رپورٹ سپریم کورٹ میں پڑی ہے‘ چیف جسٹس ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ سامنے کی بات یہ ہے کہ بہرحال ایف بی آر کی اصلاح کرنا ہوگی‘ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ایف آئی اے کی‘ پولیس ‘ کاروباری اداروں کی نگران ایس ای سی پی اور سٹیٹ بینک کی۔ ہم مگر وہ دلاور ہیں کہ جنگلوں میں شکار ڈھونڈتے ہیں۔ جھیل پہ پرواز کرتی مرغابیوں کے پر ے ہمیں دکھائی نہیں دیتے۔ کیا ہم صحرائے سینا میں بھٹکتے بنی اسرائیل کے پیروکار ہیں؟(ش س م)

 

متعلقہ خبریں