قائد بنگال اور جماعت اسلامی...فضل حسین اعوان

2016 ,دسمبر 25

فضل حسین اعوان

فضل حسین اعوان

شفق

awan368@yahoo.com



قائد, بنگال اور جماعت اسلامی....فضل حسین اعوان

بھارت کی پوجا نامی خاتون نے کسی کو اپنی بپتا ان الفاظ میں سنائی۔ ”مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ میرے ابا کو ایک سکھ نے برچھی ماری، ماموں نے بچانا چاہا تو ماموں کے سر پر کلہاڑا مارا گیا۔ ماموں پر میری ماں گر گئیں تو انکے سینے میں بھی برچھی اتر گئی۔ میں نے اپنے تین سالہ بھائی کو گود میں اٹھا رکھا تھا۔اسے اٹھا کر بھاگی تو دور جا کر گر گئی۔ ہوش اس وقت آیا جب ایک کیمپ میں پڑی تھی اور سر پٹیوں میں لپٹا ہوا تھا۔ ایک ڈوگرا فوجی اودھم پور لایا اور ہندو تاجر کے پاس چار سو روپے میں فروخت کر دیا، کچھ عرصہ بعد اسکی بیوی اسے دہلی لے آئی اورچند دن بعددو بچوں کے باپ اپنے بھائی کے سپرد کر دیا۔ جس دن پنڈت نے ہمارے پھیرے لگوائے اس صبح مجھے کہا گیا کہ آج سے تم زرینہ نہیں بلکہ ”پوجا“ ہو۔ میں نے پوجا بن کر اپنے شوہر اور بچوں کی خدمت کی اور مجھ سے تین بچوں نے جنم لیا۔ تینوں ہندو ہیں “۔ 1947ءمیں ایک زرینہ نہیں سینکڑوں مسلمان لڑکیاں اغواءہوئیں جنہیں بعد میں ہندو اور سکھ بنایا گیا۔ پوجا بتاتی ہے کہ صالحہ کے خاندان نے 1965ءکے آپریشن جبرالٹر کے دوران پاکستانی کمانڈوز کی میزبانی کی تھی۔ ان کمانڈوز نے گاﺅں کی مسجد پر پاکستانی پرچم لگایا اور گاﺅں والوں سے کہا کہ اب وہ واپس نہیں جائینگے لیکن سیز فائر کے بعد کمانڈوز واپس چلے گئے۔ صالحہ کے باپ کوانڈین آرمی نے گرفتار کر لیا اور چند دن کے بعد اسکی ماں کو بھی گرفتار کر کے اسکے ہاتھ جلائے گئے کیونکہ ان ہاتھوں سے اس نے پاکستانیوں کیلئے روٹیاں پکائی تھیں۔ جب صالحہ اپنی ماں کو دیکھنے آرمی کیمپ گئی تو اسے ایک حوالدار نے اغواءکر لیا۔ صالحہ کو گورد اسپور لایا گیا اور زبردستی ہندو بنا کر حوالدار نے اسکے ساتھ شادی کر لی۔ جب کبھی اذان کی آواز آتی تو صالحہ رونے لگتی اور پوچھتی پاکستانیوں نے مسجد میں ہم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہم سے بے وفائی نہیں کرینگے پھر وہ ہمیں چھوڑ کے کیوں چلے گئے؟ ایک دن صالحہ کے ہندوخاوند نے بیوی کو چھپ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا اور موقع پر ہی اسے قتل کر دیا۔ پوجاکہتی ہے اذان کی آواز سن کر مجھے بھی کچھ ہوتا ہے لیکن میں نماز بھول چکی ہوں۔ البتہ کسی کو نماز پڑھتے دیکھ کر مجھے بڑا سکون ملتا ہے۔ اب میں اپنا وقت پورا کر چکی ہوں پاکستان کی وجہ سے میں تباہ ہوئی، پاکستان کی وجہ سے صالحہ تباہ ہوئی لیکن پھر بھی ہم پاکستان کا بھلا چاہتے ہیں اور تمہارا بھلا اسی میں ہے کہ ہماری ہندو اولاد پر بھروسہ نہ کرنا، انہیں جب موقع ملا تمہیں کھا جائینگے۔
سر فرانسس اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: ”23 ستمبر 1947ءکو تقریباً پانچ بجے شام کے وقت مسلمان مہاجرین کی گاڑی امرتسر سے روانہ ہوئی لیکن خالصہ کالج کے قریب جا کر رک گئی اس لئے کہ ریلوے کی پٹڑی اکھاڑ دی گئی تھی۔ گاڑی کے رکتے ہی تقریباً 8000 ہندو سکھوں کے جتھے نے گاڑی پر حملہ کر دیا۔ اس گاڑی میں دو سے ڈھائی ہزار تک مسلمان مہاجرین تھے۔ ایک ہزار یا اس سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا۔ جو باقی بچ گئے وہ شدید زخمی حالت میں تھے۔ انکا علاج تو دور کی بات وہاں کی بھارتی حکومت کے افسران و عوام انہیں پانی کی ایک بوند بھی دینے کو تیار نہ تھے۔
ایک ہندوستانی صحافی ڈی ایف کاریکا لکھتا ہے کہ اسے ایک گاڑی (ٹرین) دکھانے کیلئے لے جایا گیا جو مسلمان مہاجرین کو مشرقی پنجاب سے پاکستان کی طرف لے جا رہی تھی۔ اس گاڑی پر امرتسر کے سٹیشن پر سکھوں نے حملہ کیا تھا۔ دو ہزار مسلمانوں کی لاشیں ابھی تک گاڑی کے اندر موجود تھیں۔ کئی کٹے ہوئے سر اور بازو جسموں سے علیحدہ پڑے تھے۔ بوگیوں سے خون ٹپک رہا تھا۔ انہیں صرف اس لئے ذبح کیا گیا تھا کہ ان کا مذہب انکے قاتلوں کے دھرم سے مختلف تھا یعنی ان کا قصور یہ تھا کہ وہ مسلمان تھے۔
قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں قائم ہونے والے پاکستان کی داستان حزن و ملال دل کو دہلا کے، روح کو ہلا کے اور جسم کو لرزا کے رکھ دیتی ہے۔ قائد کے احسان کا بدلہ تو ہم کبھی چکا نہ سکے بلکہ احسان کو انتقام بنا دیا۔ قائداعظم ملک میں جمہوریت کا دور دورہ چاہتے تھے مگر ملک پر 33 سال آمریت مسلط رہی اور باقی عرصہ ہم عوام جمہوریت کے نام پر آمرانہ ذہنیت کے حامل سیاستدانوں کو اقتدار میں لاتے رہے۔ فوجی آمریت کے دوران پاکستان دولخت ہوا۔ اس میں بھی سیاستدان برابر کے شریک تھے۔ قائداعظم نے ایوب خان کی فوج میں موجودگی کو گہری آنکھ سے دیکھامگر قائد کی موت کے بعد ایوب خان کو آرمی چیف بنا دیا گیا اور ایوب خان نے موقع ملتے ہی اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔ جمہوریت پر پہلا شب خون ایوب خان نے مارا اور پھر جرنیلوں کو اقتدار کا چسکا لگ گیا جو کبھی اقتدار میں آ کے پورا کیا اور کبھی نیم کش جمہوری حکومتوں کو آنکھیں دکھا کے۔ ملک ٹوٹا تو وہ بھی فوجی دور میں اور سرینڈر کرنیوالا بھی جرنیل تھا۔
جنرل نیازی کیلئے حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ ان کو ہتھیار ڈالنے پڑے، کوئی نہیں کہتا کہ وہ ڈوب کر مر جاتے مگر قومی غیرت کے ساتھ ساتھ اپنی غیرت بھی کوئی وقعت رکھتی ہے۔ نیازی کی طرح طمطراق، جوش و خروش اور فحش گوئی سے دشمن کے قدموں میں غیرت نہیں رکھی جاتی۔ بھارت دنیا کے سامنے ہر سال جنرل نیازی کے پستول اور سرنڈر کی دستاویزات پاکستان کی عزت اور غیرت کی صورت میں اچھالتا ہے۔
کرنل ا رشد نذیر سرینڈر کے حوالے سے دلائل کی بڑی دور سے کوڑی لاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جنرل نیازی کو انکے بیٹل آف پلان کے تحت لڑنے نہیں دیا گیا۔ کرنل ارشد نذیر کے خیال میں جنرل نیازی ڈھاکہ میں رہ کر لڑتے تو ان سے بھارت کا باپ بھی سرینڈر نہیں کرا سکتا تھا۔ڈھاکہ کے گرد دریاﺅں نے ایک باﺅل بنا دیا ہے۔ وہ اسکے اندر رہ کر اپنا دفاع کر سکتے تھے۔ مشرقی پاکستان میں دریاﺅں کی چوڑائی میلوں کی ہے۔ 70 گز بی آر بی نہر انڈین فوج کراس نہیں کر سکی تھی۔ یہی پلان ایسٹ پاکستان کیلئے بہتر رہتا۔ کرنل صاحب یقیناًجنگی ماہر ہیں۔ جنگوں کیلئے رہنما اصول غزوات سے بھی اخذ کئے گئے ہیں۔ ہر غزو ہ میں ایک ہی پلاننگ استعمال نہیں ہوئی۔ جنرل نیازی باﺅل کے اندر کتنا عرصہ بیٹھے رہتے۔ بی آر بی کے ادھر حالات وہ نہیں تھے جو باﺅل کے اندر رہتے ہوئے تھے۔ پاک فوج بھارت کے ساتھ ساتھ باغی بنگالیوں سے بھی برسرپیکار تھی اور پھر فوج تھی ہی کتنی؟ اسکے پاس اسلحہ کیسا اور کتنا تھا۔ باﺅل تک کمک کیسے پہنچتی۔ وہاں سے فوج کو کیسے نکالا جاتا؟ بلاشبہ وہاں فوج بے جگری سے لڑی۔
یحییٰ اور بھٹو کی چھیڑی گئی جنگ کا حتمی انجام یہی ہونا تھا بھٹو کی پلاننگ بہرحال کامیاب رہی، جس میں یحییٰ خان ایک مہرہ بنا اور اپنا منہ کالا کرا لیا۔
اس جنگ میں جماعت اسلامی کا کردار آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ الشمس اورالبدر نے فوج کے کندھے سے کندھا ملا کر پاکستان کو بچانے کی کوشش ضرور کی مگر جہاں فوج نہ رہی، پاکستان نہ رہا، وہاں الشمس اور البدر کہاں رہنی تھی۔ جماعت اسلامی کے پاکستان سے محبت کرنیوالے سپوتوں کو آج پھانسیوں کی صورت میں سزا دی جا رہی ہے۔ انکی مدد کو آنا پاک فوج پر فرض ہے مگر وہ فوج جمہوریت کی یرغمال ہے جبکہ جمہوریت کو بھارت سے پیار اور اسکے بھارت میں کاروبار ہیں۔ بیس جمع بیس پچاس روٹیاں ذہنیت کے وزیر کہتے ہیں ”ایل او سی معاہدہ کی خلاف ورزی کے باوجود بھارت سے تجارت روکنا ہمارے مفاد میں نہیں“
جماعت اسلامی نے 1971ءمیں انڈیا، مکتی باہنی اور باغی بنگالیوں کے ساتھ لڑ کے قیام پاکستان کی مخالفت کا کفارہ ادا کر دیا۔ مگر آج۔۔۔ دہرے کردار کو اپنائے ہوئے ہے۔ ضیاءکی آمریت کو اسلامی جمہوریت سمجھتی ہے۔ مشرف کو 18 ویں ترمیم کیلئے اپنی خدمات پیش کر دیں۔ بنگلہ دیش میں پھانسیوں پر رسمی ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے وہ بھی جب پھانسی لگتی ہے تو مظاہرے ہوتے ہیں، پھانسی کے فیصلے کے بعد خاموشی ہوتی ہے۔ واجپائی پاکستان آئے تو قاضی حسین احمد کی قیادت میں طوفان برپا کر دیا، نواز شریف حکومت نے فائرنگ کر کے چھ افراد کو شہید کر دیا وہی جماعت اسلامی مودی کی پاکستان آمد پر ”دَڑوٹ“ گئی آج نواز شریف کی جمہوریت کی محافظ ہے۔ بظاہر اپوزیشن میں ہے۔ پاناما کیس میں تحریک انصاف کے سوا ہر پارٹی وزیراعظم کو صاف بچانے کے چکر میں ہے۔ جماعت نے کرپشن کےخلاف تحریک الگ سے ڈول ڈالا ہوا ہے۔ عمران کے ساتھ حکومتی اتحاد ہے، کرپشن کے خاتمے کی الگ الگ کوشش۔ پاناما کیس پر کمیشن بنانے کا اصرارتاکہ فیصلہ قیامت تک نہ ہو، ہو جائے تو رپورٹ حسب روایت دبی رہے۔ 2013ءکے الیکشن میں ن لیگ کو سبق سکھانے کےلئے امریکہ کی طرز پر اپنا بندہ بھی جانے دیا۔ صدر جنرل ضیاءالحق امریکی سفیر کا ہاتھ پکڑ کر سی ون تھرٹی کی طرف لے جانے لگے حالانکہ رافیل کا اپنا جہاز تیار کھڑا تھا۔ فوری طور پر سی آئی اے والوں نے کہا رافیل کو ضیاءساتھ لے جا رہے ہیں تو جواب ملا جانے دو۔ 2013ءکے الیکشن میںمنصورہ کے علاقے سے لیاقت بلوچ کو ہروا دیا گیا، پی ٹی آئی جیت گئی۔ ایاز صادق کے مقابلے میں جماعت علیم خان کے ساتھ تھی مگر ووٹ۔۔۔ جماعت جتنی منظم ہے پاکستان کی سیاست میں تو اس کا طوطی بولنا چاہیے تھا مگر یہ تأثر ہے کہ  اقتدار کی سیڑھی چور دروازے سے نہیں تو کسی کے کندھے پر پاﺅں رکھ کر چڑھتی رہی۔ اس وجہ قیادت کے اندر اور باہر فرق ہے۔ مولانا فضل الرحمن سب کچھ کرتے ہونگے سیاست میں منافقت نہیں کرتے۔ بدنام جو ہونگے تو کیا نام نہ ہو گا۔ وہ اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ مشرف کے ہمقدم ہو جاتے ہیں۔ زرداری کے ساتھ چلتے ہیں اور اقتدار میں ”اِن“ رہنے کیلئے نواز شریف کے دامن سے وابستہ ہونے سے بھی گریز نہیں کرتے مگر سب کچھ کھل کر کرتے ہیں۔ مولانا مودودی کی تعلیمات اپنی جگہ مگر خلافت و ملوکیت نے امت کے اندر انتشار کی کیفیت پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، امین احسن اصلاحی کی راہیں مجدد عصر سے کیوں جداہوگئیں؟ جماعت سے کوئی عناد اور مخاصمت نہیں اس سے ہمدردی ہے۔ اس نے جو کرنا ہے کھل کر کرے تو ایسی منظم پارٹی ملک میں کیا کچھ نہیں کر سکتی۔ پاکستان کے اندر پوری پوری داخل ہو جائے تو اس کا مقدر اور ملک کی تقدیر سنور سکتی ہے۔
قائد کے پاکستان میں آج ایک نیب بڑی سرگرم ہے اسکے کرتا دھرتا پلی بارگین کے نام پر حصہ وصول کر کے اربوں روپے کی کرپشن کو جائز اور متبرک قرار دے دیتی ہے۔ اسکے ایک ڈی جی نے کہا کہ گو ہم وصولی کرکے کرپٹ شخص کو جیل نہیں بھیجتے مگر وہ معاشرے میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا، ملک میں کسی ایسے کو ڈوب کے مرتے نہیں دیکھا۔ کرپشن میں لیڈروں کو سزائیں ہوئیں جن کے بعد انکے لبوں پر مسکراہٹ اور حرام کھانے سے گالوں پر سرخی ہوتی ہے۔

 

متعلقہ خبریں