کورونا وائرس کے باعث بند واہگہ بارڈر کس کے لیے اور کیوں کھولا گیا۔ جانئے اس خبر میں

2020 ,مارچ 21



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): کورونا وائرس کے وجہ سے بند کیا گیا واہگہ بارڈر ایک پاکستانی بچے کے لئے کھول دیا گیا جو اپنے دل کا علاج کروانے فیملی کے ہمراہ بھارت گیا تھا۔ کراچی کا رہائشی 12 سالہ صبیح شیراز دل کا آپریشن کروانے کے لئے اپنی والدہ اور والد سمیت 18 فروری کو بھارت گیا تھا جہاں اس کا کامیاب آپریشن کیا گیا، آپریشن کے بعد صبیح شیراز اپنی فیملی کے ساتھ واپس پاکستان آنے کے لیے بھارت کے اٹاری بارڈر پہنچا جہاں بھارتی حکام نے انہیں پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی اورانہیں بتایا گیا کہ واہگہ سرحد کومکمل طورپر سیل کردیا گیا ہے جس کے بعد صبیح شیراز اوران کے والد کی اپیل پر بچے اوراس کی فیملی کو واپس پاکستان جانے کی خصوصی اجازت دے دی گئی۔

صبیح شیرازاوران کی فیملی نے رات امرتسرمیں ایک سینئربھارتی صحافی راجیندرسنگھ روبن کے گھرگزاری جس کے بعد جمعہ کے روز اس فیملی کو خصوصی اجازت ملی جس کے بعد پاکستانی فیملی واہگہ کراس کرکے لاہورپہنچ گئی۔ اس موقع پر صبیح شیراز نے کہا کہ وہ پاکستان اوربھارت دونوں حکومتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے انہیں واپس آنے کے لئے بارڈر کھولا۔

بچے کے والد شیزاز ارشد کا کہنا تھا ان کے بیٹے کے زخموں کے ٹانکے ابھی کھلے نہیں ہیں، اسے دوائی دینا پڑتی ہے، جب جمعرات کے روز انہیں اٹاری بارڈر پر روکا گیا تھا انہیں خاصی مشکل اورپریشانی لاحق تھی لیکن وہ وزیراعظم عمران خان کے شکرگزارہیں جنہوں نے انہیں اوران کے بیٹے کوواپس آنے کے لئے خصوصی اجازت دی۔

بچے کی والدہ صائمہ شیرازبھی واپسی کی اجازت ملنے پربہت خوش تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کی زندگی کا مسئلہ تھا وہ شکرگزارہیں کہ انہیں اتنی جلدی اجازت مل گئی ہے۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے واہگہ اٹاری سرحد کو آمد و رفت اورتجارت کے لئے بند کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں