اب تک کرونا وبا سے کتنے افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ تفصیل جانئے اس رپورٹ میں

2020 ,جولائی 17



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک): پاکستان میں کورونا وائرس کے شکار افراد کی تعداد 2 لاکھ 61 ہزار سے زائد ہوگئی جب کہ تاحال اس وائرس سے 5 ہزار 514 مریض جاں بحق ہوچکے ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق ایک روز قبل 23 ہزار 907 کورونا ٹیسٹ کیے گئے، اب تک مجموعی طور پر 16 لاکھ 76 ہزار 90 کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ ملک بھر میں کورونا وائرس کے مزید تین ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد اس وبا کے شکار مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 61 ہزار 514 ہوگئی۔ اس وقت ملک میں کورونا کے فعال مریضوں کی تعداد 73 ہزار 751 ہے جب کہ ایک لاکھ 98 ہزار 206 مریضوں نے اس وائرس کو شکست دے دی۔

سندھ میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 8 ہزار 913 ہے، پنجاب میں 88 ہزار 539، خیبرپختونخوا میں 31 ہزار 217، بلوچستان میں 11 ہزار 322، اسلام آباد میں 14 ہزار 402، آزاد کشمیر میں ایک ہزار 771 جب کہ گلگت بلتستان میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد ایک ہزار 750 ہے۔ ملک بھر میں کورونا وائرس سے مزید 88 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد اس وائرس سے اموات کی تعداد 5 ہزار 514 تک پہنچ گئی۔ پنجاب میں 2 ہزار 43 مریض کورونا سے جاں بحق ہوئے ہیں۔ سندھ میں ایک ہزار 863، خیبرپختونخوا میں ایک ہزار114، اسلام آباد میں 155، بلوچستان میں 127، آزاد کشمیر میں 46 اور گلگت بلتستان میں38 اموات ریکارڈ ہوئی ہیں۔

کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر:

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔ سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔ پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

متعلقہ خبریں