عوام کی بے فکری اور حکومتی سستی، کراچی میں کورونا بڑھنے لگا۔ حالات کشیدگی اختیار کرنے لگے

2020 ,اپریل 11



کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک): عوام کو گھروں تک محدود کرنے کے لیے حکومتی نوٹیفکیشن پر عمل درآمد بھی موثر انداز میں نہیں ہوسکا ہے جب کہ کراچی میں کوروناوائرس کے کیسوں میں بتدریج اضافہ ہورہاہے۔ حکومت سندھ کی جانب سے کراچی سمیت صوبہ بھر میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کو دوہفتہ سے زائد گزرچکے ہیں،اس لاک ڈاؤن سے جہاں عام افراد کے روزمرہ زندگی کے معمولات متاثر ہوئے ہیں وہاں کاروباری وتجارتی سرگرمیاں بند ہونے سے لوگ کوڑی کوڑی کے محتاج ہورہے ہیں،غریب اور متوسط طبقہ بھی اب فاقہ کشی کا شکار ہوتا جارہاہے۔

اس صورتحال سے منافع خوروں سے خوب فائدہ اٹھایا ہے،عوام کو اشیائے خوردونوش من پسند قیمتوں میں فروخت کی جارہی ہیں،ان کو روکنے والا کوئی حکومتی نظام فعال نظر نہیں آرہاہے،جن دکانوں یا کاروبار کوکھولنے کی اجازت دی گئی ہے وہاں سماجی دوری کے لیے کوئی احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد نظر نہیں آرہاہے،لوگ گھروں میں رہنے کے بجائے بلامقصد گھومتے پھرتے نظر آرہے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ پر پاپندی کے باوجود شہر کی اہم شاہراؤں پر رکشے رواں دواں ہیں،جبکہ عوام کو گھروں تک محدود کرنے کے لیے حکومت نے جو نوٹیفکیشن جاری کیا تھا،اس پر عمل درآمد بھی موثر انداز میں نہیں ہوسکا ہے،اس لیے کراچی میں کوروناوائرس کے کیسوں میں بتدریج اضافہ ہورہاہے۔

حکومت سندھ صرف عوام سے گھروں میں رہنے کی اپیل تو ضرور کررہی ہے لیکن لاک ڈاؤن کے سبب فاقہ کشی اور غربت سے تنگ عوام کو راشن کی فراہمی کے لیے کوئی موثر حکمت عملی مرتب کرنے میں تاحال کامیاب ہوتی نظرنہیں آرہی ہے،اس سے یہ ہی اندازہ ہورہاہے کہ لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کے لیے ’’سختی‘‘ کے بجائے اب عملی طور پر کچھ ’’نرمی‘‘ برتی جارہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ برقرار رہاتو لاک ڈاؤن کے نتائج کا حصول کامیابی کے بجائے ناکامی کی طرف گامزن ہوجائے گا اور صورتحال مذید خراب ہوسکتی ہے اور کورونا کو کنٹرول کرنا نہ ممکن ہوجائے گا۔حکومت سندھ کی جانب سے لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کے لیے پہلے ہفتے میں سختی کا فارمولا اختیار کیا گیا۔

شہر کی اہم شاہراؤں پر رکاوٹیں لگاکر پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے ناکے لگائے تاکہ لوگ گھروں پر رہیں،لیکن اب تازہ صورتحال اس کے برعکس ہے باظاہر نرمی ہونے کا فائدہ عوام نے خوب اٹھایا ہے،شہر میں ناکوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر معمول سے زیادہ گاڑیاں نظر آرہی ہیں،موٹرسائیکل کی ڈبل سواری کی پاپندی پر بھی عمل درآمد نظر نہیں آرہاہے۔ کورنگی،لاندھی، ملیر، بلدیہ ٹاؤن، کیماڑی،شیر شاہ، کھاردار، صدر، گولیمار، ناظم آباد،اورنگی ٹاؤن،سائٹ،سرجانی ٹاؤن، نیوکراچی ،سہراب گوٹھ،ایف بی ایریا،برنس روڈ،لیاقت آباد،مارٹن کوارٹرز،شاہ فیصل کالونی سمیت شہر کے اندورنی وگنجان،مضافاتی علاقوں میں لاک ڈاؤن پر موثر عمل درآمد نظر نہیں آرہاہے۔ شہر کے کئی اندورنی علاقوں میں پلبمر،دھوبی،بیکریوں،پان،نائی،آٹوز،موچی،چھوٹے اسٹورز،الیکٹرک سمیت چھوٹے کاروبار سے وابستہ کچھ دکانیں کھولنا شروع ہوگئیں ہیں،صورتحال سے سب سے زیادہ فائدہ اشیائے خوردنوش کے کاروبار سے وابستہ دکان داروں نے اٹھایا ہے۔ اور اس میں بھی سب سے زیادہ نقصان عوام کو ہی بھگتنا پڑا ہے۔

متعلقہ خبریں