ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ

2020 ,اپریل 3



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): ملک بھر میں کورونا وائرس کے شکار افراد کی تعداد 2547 ہوگئی ہے جبکہ اس خطرناک بیماری سے 37 افراد جاں بحق اور 126 صحت یاب ہوچکے ہیں۔ وفاقی وزارت صحت کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 97 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس وبا کے مریضوں کی تعداد 2 ہزار 547 ہوگئی ہے۔ اس وائرس سے 37 مریض زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ کورونا میں مبتلا افراد میں سے 10 کی حالت تشویش ناک ہے اور 126 نے اس سے صحت یابی حاصل کرلی ہے۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں کورونا کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 977 ہوگئی ہے، سندھ میں 783، خیبر پختونخوا میں 343، بلوچستان میں 175 ، اسلام آباد میں 68، گلگت بلتستان میں 190 جب کہ آزاد کشمیر میں 11 افراد کورونا کا شکار ہیں۔

وزارت منصوبہ بندی نے کورونا وائرس کی موجودہ وبا کے سبب 3 ماہ میں معیشت کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ 2 سے ڈھائی ہزار ارب روپے لگایا ہے جبکہ اس سے ایک کروڑ23 لاکھ سے ایک کروڑ 85 لاکھ تک افراد بیروزگار ہوجائیں گے۔نقصان کا انحصارکم درجہ ،درمیانے درجہ اور مکمل لاک ڈاؤن کو مدنظر رکھ کر لگایا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ سندھ نے کراچی سمیت صوبے بھر میں جمعہ کے روز 3 گھنٹے کے انتہائی سخت لاک ڈاؤن کیا ، جس کے تحت دن 12 سے سہہ پہر 3 بجے تک تمام دکانیں بند رہیں اور ہر طرح کی ٹرانسپورٹ معطل رہی۔ شہریوں کو نقل و حرکت کی بھی اجازت نہیں ملی اور مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات نہیں ہوئے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر قانونی چارہ جوئی کا انتباہ دیا تھا۔ سندھ حکومت نے صوبے میں عمومی لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع کا بھی باقاعدہ اعلان کیا ہے جس کا باضابطہ نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں لاک ڈاون کےتحت پابندیوں کا اطلاق 14 اپریل تک رہے گا۔

سندھ حکومت کی جانب سے کراچی سمیت صوبے بھر میں دوپہر 12 بجے سے تین بجے تک کرفیو جیسا لاک ڈاؤن کیا گیا اور کسی کو نماز جمعہ کی اجازت نہیں دی گئی۔ لیاقت آباد کے علاقے میں شہریوں کی بڑی تعداد نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے ایک مسجد کا رخ کیا تو پولیس نے انہیں روکا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے پابندی کے باوجود جمعہ کا اجتماع کرنے پر مسجد کے امام کو حراست میں لینے کی کوشش کی تو شہری مشتعل ہوگئے اور پولیس و رینجرز پر دھاوا بول دیا۔ شہریوں نے سیکیورٹی اہلکاروں کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور اہلکاروں کو تھپڑ، لاتے اور گھونسے مارے۔ اس موقع پر کچھ لوگوں نے پولیس اہلکاروں کو بچاکر علاقے سے نکالا۔

ورلڈ بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پاکستان کے لیے 200 ملین ڈالر کے پیکیج کی منظوری دیدی ہے جو کورونا وبا سے نمٹنے، صحت کے نظام کو تقویت دینے اور سماجی و اقتصادی مسائل کے حل پر استعمال کیا جائے گا، اس کے علاوہ ضروری طبی سامان کی فراہمی کے 8 جاری منصوبوں سے 38ملین ڈالر کی اضافی رقم بھی حاصل کی جائے گی۔ ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ایمرجنسی فنڈ میں سرکاری ملازمین کی جانب سے 2 ارب چوراسی کروڑ، ترانوے لاکھ 15 ہزار 4 سو چھیاسی روپے سے جمع کرائے گئے ہیں جو ملازمین اور افسران کی تنخواہ سے منہاکیے گئے ہیں، فنڈ میں ارکان اسمبلی اور صوبائی کابینہ کے ارکان کی تنخواہیں بھی شامل ہیں۔ انھوں نے بتایاکہ نجی ڈونرز کی جانب سے 4کروڑ 31 لاکھ، 25 ہزار 671 روپے فنڈ میں دیے گئے جو بہت حوصلہ افزابات ہے، ان کاکہنا تھاکہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک رٹائرڈ سرکاری ملازم نے 10 لاکھ روپے کے عطیات جمع کرائے دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں نے بھی عطیات سندھ حکومت کے کورونا ایمرجنسی فنڈ میں دیے ہیں۔

ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے کی خصوصی پرواز 194 پاکستانیوں کو لیکر استنبول سے اسلام آباد پہنچی، لاک ڈاؤن اور انٹرنیشنل فلائٹس کی بندش کے باعث 194 پاکستانی استنبول میں پھنسے تھے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی خصوصی پرواز کے ذریعے ترکی میں پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لایا گیا، اسلام آباد ایئر پورٹ پر مسافروں کی اسکریننگ کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے، ایئر پورٹ پر مسافروں کی کورونا ٹیسٹ اسکریننگ کی جائے گی جب کہ تمام مسافروں کو 24 گھنٹے کے لئے قرنطینہ سینٹر میں رکھا جائے گا۔ 

اس وقت دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد 10 لاکھ سے زائد ہوچکی ہے اور اموات میں تیزی سے اضافہ ہوتے ہوتے 53000 کا ہندسہ عبور ہوچکا ہے۔ ان ممالک میں یکن، ترکمانستان، شمالی کوریا، جنوبی سوڈان، کوموروس، لیسوتھو، مارشل جزائر، مائیکرونیشیا، نورو، پالاؤ، ساموا، ساؤ ٹومے اور پرنسائپ، سولومن جزائر، ٹونگا، ٹووالو اور ویناٹو وغیرہ شامل ہیں۔

کورونا سے پاک ممالک میں خود کوموروس بھی شامل ہے جو باضابطہ طور پر عرب لیگ کا رکن بھی ہے۔ دوسرا ملک جنگ سے متاثرہ یمن بھی ہے جہاں اب تک کورونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آسکا ہے۔ واضح رہے کہ عرب ممالک میں یمن سب سے غریب ممالک میں سے ایک ہے۔ دوسری جانب شمالی کوریا میں کورونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے لیکن بعض تجزیہ نگاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ شاید یہ غلط بیانی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افریقی ممالک میں لیسوتھو، جنوبی سوڈان، ساؤ ٹومے اور پرنسائپ بھی کووڈ 19 سے پاک ہیں کیونکہ یہ ممالک دنیا سے کٹے رہتے ہیں۔ جبکہ جنوبی سوڈان میں شدید لڑائی کی وجہ سے بھی اعدادوشمار نہ ہونے کے برابر ہیں۔ دوسری جانب کیریباٹی، مارشل جزائر، مائیکرونیشیا، نورو، پالاؤ، سولومن جزائر، ٹوالو، ٹونگا، اور وینوٹو تک رسائی بھی مشکل ہے۔

چینی ماہرینِ امراضِ چشم نے ناول کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے 38 افراد کا مطالعہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ ان میں سے 12 کی آنکھیں گلابی تھیں جبکہ ان کے آنسوؤں میں بھی کورونا وائرس موجود تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آنکھوں کا کسی ظاہری وجہ کے بغیر اچانک گلابی ہوجانا بھی کورونا وائرس کی بیماری ’’کووِڈ 19‘‘ میں مبتلا ہونے کی ایک ممکنہ علامت ہوسکتی ہے، بشرطیکہ اس مرض کی دیگر علامات بھی موجود ہوں۔ واضح رہے کہ آنکھیں گلابی ہوجانے کی کیفیت کو میڈیکل سائنس کی زبان میں ’’کنجکٹیوائٹس‘‘ (conjunctivitis) کہا جاتا ہے جبکہ اس کا عوامی نام ’’آشوبِ چشم‘‘ ہے؛ اور یہ پاکستان میں آنکھوں کی ایک عام بیماری ہے۔ اسی لیے ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر صرف آشوبِ چشم ہو لیکن نزلہ، زکام اور سانس لینے میں دشواری جیسی علامات موجود نہ ہوں تو قوی امکان ہے کہ اس کی وجہ ناول کورونا وائرس نہیں ہوگا۔

دنیا بھر کی تمام تر سائنسی ارتقائی منازل کے حصول کے باوجود ’’کورنا وائرس‘‘ کے آگے جدید میڈیکل سائنس کی بے بسی اور لاچاری کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں نیچرو پیتھی ( طب قدیم )کی ایک روشن مثال ہے۔ کورونا  وائرس  کاشکار ہونیوالے سابق فوجی اہلکار نے وائرس کے علاج کے دنوں میں معاشرتی تنہائی میں رہنے کے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنا بدترین خواب دیکھا ہے۔ یہ کورونا وائرس نہیں تھا۔ لیکن تنہائی میں طویل علاج نے اسے ایک تلخ تجربہ بنا دیاتھا۔اگر آپ بیمار ہیں تو ، آپ کو اپنے آس پاس کے عزیزوں کی ضرورت ہے۔

کورونا وائرس اور کچھ احتیاطی تدابیر؛

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔ سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر اُبھری ہوئی پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔ پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

متعلقہ خبریں