ہیڈلانی……ڈبل ایجنٹ

2022 ,اکتوبر 17



ممبئی حملوں میں چھ امریکی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ امریکہ اس لیے بھی حملوں کے ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں کیفرکردار تک پہنچانا چاہتا ہے۔بادیئ النظر میں اس کے پاس ممبئی حملوں کے حوالے سے ہیڈلانی(بیک وقت دو ناموں "ڈیوڈ کولمین ہیڈلی اور سید داؤد گیلانی"کی شناخت رکھنے والا) کی صورت میں ایک مہرہ آگیا۔پہلے تواس کیساتھ امریکی سرکار کا ایک معاہدہ ہوا کہ اسے سزائے موت نہیں دی جائے گی، اس کے بعد اس کے  ممبئی حملوں میں ملوث ہونے سمیت اعترافات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔  دوسرے اس کو بھارت کی عدالت کے روبر رو بھی ویڈیو کانفرنس کے ذریعے پیش کیا گیا۔بھارت نے دسمبر2015ء میں اسے وعدہ معاف گواہ بننے پر معاف کر دیاجبکہ اس کا بیان دو ماہ بعد فروری2016ء کو قلمبند کیا گیا۔2011ء میں ہیڈلانی نے شکاگو کی عدالت میں حکومتی گواہ بن کر بیان میں ساجد مجید پر ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔ اس کا کہنا تھا:26 نومبر 2008ء کی شب ساجد مجید  ان تین افراد میں سے ایک تھے جنھوں نے 10 مسلح افراد کو کراچی میں لشکر کے ایک محفوظ مقام سے بذریعہ سمندر ممبئی بھیجا۔ وہ فون پر ان سے رابطے میں تھے۔ہیڈلانی  نے الزام لگایاکہ ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی میں لشکر طیبہ اورآئی ایس آئی کے افراد شامل تھے۔

8 فروری 2016ء کوہیڈلانی نے امریکہ کی جیل سے بھارتی عدالت کو بتایا کہ 26 نومبر  2008 سے قبل بھی ممبئی پر حملے کی دو کوششیں ہوئی تھیں۔ اس نے حملے سے قبل آٹھ بار بھارت کا دورہ کیا اور پھر حملے کے بعد ایک بار بھارت گیا۔امریکہ کے استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس  نے اپنا نام ڈیوڈ کولمین ہیڈلی اس لیے رکھا کہ بھارت میں اپنے آپ کو امریکی بنا کر پیش کر سکے جس کا نہ تو پاکستان سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی وہ مسلمان ہے۔اس نے مزید کہا کہ وہ  2002ء سے لشکر طیبہ کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ہیڈلی کے وکیل مہیش جیٹھ ملانی کا کہنا تھاکہ ہیڈلی لشکر کا کام حافظ سعید کی ہدایات پر کرتا تھا۔ وہ حافظ سعید سے ’متاثر‘ تھا۔

آپ کو بھی تجسس ہوگا کہ ہیڈلانی( ڈیوڈ کولمین ہیڈلی) کون ہے بظاہر نام سے وہ غیر مسلم لگتا ہے زیادہ قیاس کہ وہ کرسچیئن  ہے۔اس کا ایسے لوگوں اور تنظیم کیساتھ کیا تعلق جو خالصتاً مذہبی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق وہ کچھ سال پہلے تک داؤد گیلانی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ ریڈیو پاکستان کے معروف ڈائریکٹر جنرل، سید سلیم گیلانی مرحوم کا بیٹاہے۔اس کی زندگی اور پاکستان سے تعلق کے بارے میں معلومات اس وقت سامنے آئیں جب اس کے سوتیلے بھائی دانیال گیلانی نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا۔ دانیال گیلانی اُس دور یعنی  2010ء  میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے پبلک ریلیشنز آفیسر تھے۔انہوں نے یہ بیان بھارتی میڈیا میں ان کے ڈیوڈ ہیڈلی کے بھائی ہونے اور وزیر اعظم سے رشتہ داری کے بارے میں قیاس آرائیاں چھپنے کے بعد جاری کیا۔دانیال گیلانی نے وضاحت کی تھی کہ ان کے خاندان کا یوسف رضا گیلانی سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔یوسف رضا گیلانی میرے ساتھ تعزیت کیلئے ہمارے گھر آئے تھے۔

ایک رپورٹ کے مطابق: سید سلیم گیلانی کا خاندان 1947ء  میں  دہلی کے علاقے جسترول سے ہجرت کر کے  لاہور میں آکرآباد ہو گیا۔ سلیم گیلانی نے ایم اے کیا اور  ریڈیو پاکستان سے منسلک ہو گئے۔بعدازاں ”وائس آف امریکہ“ سے وابستہ ہو کر واشنگٹن چلے گئے۔ وہیں انکی ملاقات سیرل کولمین ہیڈلی نامی خاتون سے ہوئی جو واشنگٹن میں قائم پاکستانی سفارت خانہ میں بطور سیکرٹری ملازمہ تھی کہا جاتا ہے کہ اس کا تعلق امریکی خفیہ ادارے سے تھا۔ سلیم گیلانی اور سیرل کی جلد ہی شادی ہو گئی۔30 جون 1960ء  کو داؤد گیلانی پیدا ہوا۔دو برس بعد بیٹی سیدہ پیدا ہوئی۔سیرل نے  اسلام قبول کر کے اپنا نام سمیرا رکھ لیا تھا۔ یہ شادی زیادہ عرصہ تک قائم نہ رہ سکی۔ نوبت طلاق تک پہنچی تو سلیم گیلانی اپنے بچوں کو لیکر واپس پاکستان لوٹ آئے۔ یہاں سلیم گیلانی نے اپنے بیٹے کو کیڈٹ کالج حسن ابدال میں داخل کرا دیا۔ وہ داؤد گیلانی کو فوج میں بھیجنا چاہتے تھے۔ کیڈٹ کالج حسن ابدال سے ایف ایس سی کرنے کے بعد داؤد گیلانی پاکستان ملٹری اکیڈمی میں داخلے کیلئے اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر آئی ایس ایس بی کی تیار کر رہا تھا کہ اس دوران سیرل ہیڈلی پاکستان پہنچی اور داؤد گیلانی کی مرضی سے اسے اپنے ساتھ امریکہ لے گئی۔ سیرل نے ریاست فلوائنا میں شراب کی دکان کھول رکھی تھی۔ ڈیوڈ وہیں ماں کا ہاتھ بٹانے لگا۔اس پورے عرصے میں اسکا پاکستان میں کیڈٹ کالج حسن ابدال کے زمانے کے اپنے قریبی دوستوں و کلاس فیلوز سے رابطہ برقرار رہا جن میں سے کچھ پاک فوج کوجوائن کرچکے تھے۔ 

ڈیوڈ نے 1999ء میں پاکستان میں اپنی ایک عزیزہ سے شادی کی جو دو برس کے بعد ختم ہو گئی بعدازاں 2002ء میں ڈیوڈ نے نیویارک میں اپنی ایک پرانی مراکشی نژاد دوست فائزہ سے شادی کر لی۔ ایک موقع پرمیاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا تو فائزہ نے فیڈرل پولیس کو شکایت کر دی کہ ڈیوڈ دہشت گرد ہے اور اسکے پاکستان میں لشکر طیبہ سے گہرے روابط ہیں۔امریکی فیڈرل پولیس نے اس شکایت پر چند گھنٹوں کیلئے ڈیوڈ ہیڈلی کو حراست میں ضرو رکھا لیکن اسکے لشکر طیبہ سے تعلق کو رتی بھر اہمیت نہیں دی گئی اور میاں بیوی میں صلح کرادی۔ یہاں یہ سوال حل طلب ہے کہ امریکی فیڈرل پولیس جو ”دہشت گردی“ جیسے لفظ سے سخت الرجک ہے اس نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمزکے مطابق انیس سو اٹھانوے میں داؤد گیلانی کو منشیات سمگل کرنے کے کیس میں قصوروار پایا اور تقریباً ڈیڑھ سال تک جیل میں رہا لیکن حکام سے تعاون کرنے کے باعث  طویل سزا نہیں کاٹنی پڑی اور وہ پھر امریکہ کی انسداد منشیات ادارے کے پاکستان میں خفیہ آپریشنز میں کام کرنے لگا۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق  دو ہزار چھ میں وہ امریکہ کے شہر شکاگو منتقل ہوا۔  دو ہزار پانچ یا چھ میں  باقائدہ اپنا نام تبدیل کر لیا اورداؤد گیلانی  سے ڈیوڈ کولمین ہیڈلی بن گیا۔  اپنے ویڈیو بیان میں اس نے کہا کہ بھارت میں گھسنے کیلئے اس نے اپنا نام تبدیل کیا اسکے بعد آٹھ بار بھارت کا دورہ کیا۔

ہیڈلانی کے بارے میں آپ جتنا بھی پڑھتے جائیں، معلومات حاصل کرتے جائیں،الجھن بڑھتی  جاتی ہے۔ یہ کتنا تعجب خیز ہے کہ ایک شخص کے دو نام ہیں۔سید داؤد گیلانی اور ڈیوڈ کولمین ہیڈلی۔وہ پاکستانی بھی ہے امریکی بھی۔خود کومسلمان کہتا ہے اور عیسائی  ہونے کابھی دعویدارہے۔ڈبل ایجنٹ۔ ڈبل کراس: بیک وقت لشکرطیبہ اور سی آئی کا کیساتھ رابطے میں رہا۔اس کی اصلیت کیا ہے؟ یہ تو ممکن نہیں کہ لشکرطیبہ کیلئے وہ امریکہ کی جاسوسی کرتا تھاالبتہ یہ قرینِ قیاس ضرور ہے کہ وہ سی آئی اے کیلئے جاسوسی کرتاہو۔شواہد اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں