انا للہ وانا الیہ راجعون: پاکستان کا نامور نوجوان تاجر دماغ کی شریان پھٹنے سے جان بحق

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع مارچ 29, 2017 | 19:45 شام

لاہور (مانیٹرنگ رپورٹ) معروف صنعت کار، سماجی شخصیت ،زک آئل اینڈ لبریکیشن کے ڈائریکٹر باسط حسن دو ہفتے کی شدید علالت (قومے )میں گزار کر گذشتہ روز دوپہر کو ڈاکٹرز ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں، ان کی عمر تقریباََ38سال تھی۔

تفصیلات کے مطابق 16مارچ کو گھر میں صبح نہاتے ہوئے انہیں برین ہیمبرج ہوگیا تھاجس کے بعدانہیں ڈاکٹرز اسپتال میں داخل کرایاگیا جہاں وہ قومے کی حالت میں وینٹی لیٹر پررہے اور گذشتہ روز خالق حقیقی سے جاملے۔ ان کے انتقال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح لاہور اور دیگر شہروں میں پھیل

گئی اور ان کی رہائش گاہ A44 گلبرگ میں عزیز و اقارب اورزک آئل کی انتظامیہ اور ملازمین کے علاوہ سیاسی و سماجی اور تجارتی شخصیات کی آمد شروع ہو گئی اور نماز مغرب تک رہائش گاہ کے اندر اور باہر ہزاروں لوگ جمع ہوگئے۔ اس موقع پر ہر آنکھ نم اورعلاقے کی پوری فضا سوگوار تھی۔ نماز مغرب کے بعد جامعہ نعیمیہ کے مہتمم مولانا راغب حسین نعیمی نے نماز جنازہ پڑھائی ،جس میں ایم این اے پرویز ملک ،خواجہ احمد حسان، میاں مصباح الرحمن، صدر لاہور چیمبرآف کامرس عبدالباسط سمیت ہر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں نمایاں افراد نے شرکت کی،بعد ازاں انہیں سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیاگیا۔ مرحوم باسط حسن1979 میں شوکت حسن کے گھرپیدا ہوئے،انہوں نےLSE سے گریجو ایشن کیا اوراپنے والد کی نگرانی میں ہائی ٹیک لبریکیشن میں عملی زندگی کا آغاز کیا اوراپنی محنت اور صلاحیتوں سے زک کو بلند مقام پر پہنچادیا۔باسط حسن مرحوم نے اپنے پسماندگان میں والد شوکت حسن، بیوہ ثناباسط، تین بیٹیاں اور چھوٹے بھائی علی حسن کے علاوہ سینکڑوں عزیز و اقارب اور احباب کو سوگوار چھوڑا ہے۔مرحوم کی رسم قل آج (بدھ کو) شام چار بجے ان کی رہائش گاہ A44 گلبرگ میں ہوگی،قرآن خوانی کے بعداجتماعی دعا بعد نماز عصرکی جائے گی۔