موت چند قدم کے فاصلے پر

2019 ,نومبر 2



:مجید نظامی
تحریک پاکستان کے اولین شہید محمد مالک اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں مجید نظامی کے کلاس فیلو تھے، جو تحریک پاکستان کیلئے اپنی ہستی سے بے نیاز ہو کر مقصد کے حصول کو ہی انجام حیات سمجھتے ہوئے اپنے آپکو ہی فراموش کئے ہوئے تھے اور وارفتگی کے عالم میں دل صد پارہ میں ایک عزم آہنی کے ساتھ آزادی کی شمع کو بوسہ دینے کی تمنا کو لیے رواں دواں تھے اور قبولیت قربانی کیلئے دست دعا تھے کہ طلباء کے ایک جلوس کے دوران ”لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان“ کے نعروں کے درمیان سناتن دھرم کالج لاہور(موجودہ ایم اے اوکالج) لاہور کی چھت پر ہندو طلباء کی خشت باری کی وجہ سے جام شہادت نوش فرما کرشہیدانِ وفا کے پہلو میں چلے گئے۔ اسوقت مجید نظامی عبدالمالک کے شانہ بشانہ تھے۔نظامی صاحب نے یہ واقعہ متعدد بار سناتے ہوئے کہ وہ پتھر یا اینٹ جومحمدمالک کو لگی مجھے بھی لگ سکتی تھی۔
محمدمالک شہید کے خون سے رنگی ہوئی اپنی قمیض مجید نظامی نے لندن جانے سے پہلے 1954ء تک اپنے پاس محفوظ رکھی، محمدمالک تیز ہوا کے دوش پر آنے والی ”اینٹوں“ کی وجہ سے چراغ کی طرح ٹمٹما کر بجھ گیا، آزادی کے حصول کی اس قسم کی عظیم تحریکوں میں سردو گرم چشیدہ ہونے کیلئے مصائب کے پہاڑ اٹھانے ہی پڑتے ہیں، مگر جواں جذبے دل برداشتہ نہیں ہوتے، محمد مالک شہید بھی تحریک پاکستان کے ”پہلے“ شہید کا خطاب حاصل کر کے امر ہو گئے، ان کا مزار اسلامیہ کالج لاہور میں ہے اور مجید نظامی تحریک پاکستان کے ”سرٹیفائیڈ مجاہد“ بن کر تین مرتبہ ”بائی پاس“ کے کٹھن مراحل سے گزرنے کے باوجودآخری سانس تک نظریہ پاکستان کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دیتے رہے۔ یہ سر ٹیفکیٹ انہیں اسلامیہ کالج میں باقی ساتھیوں کیساتھ سیکرٹری جنرل آل انڈیا مسلم لیگ لیاقت علی خان کے ہاتھ سے ایک تلوار کیسا ملا تھا۔ یہ سر ٹیفکیٹ ان کے دفتر کے کمرے میں آویزاں ہے جسے وہ زندگی کا سب سے بڑا سر ٹیفکیٹ قرار دیتے تھے۔ ان طلباء نے 1946ء کے الیکشن میں کام کیا تھا۔ کالج کے پرنسپل عمر حیات ملک نے انہیں اس کام کے لیے فری کر دیا تھا اور پنجاب میں مسلم لیگ کی کامیابی کے بعد میں قیام پاکستان ممکن ہوا تھا اس لحاظ سے اسلامیہ کالج کا بڑا تاریخی رول ہے۔ اس روشنی کی طرح جسے تاریکی چھپا نہیں سکتی۔ اس بادل کی طرح جو چمن حیات میں وطن کی محبت کے پھولوں کو سیراب کرتا رہتا ہے۔ خدا ایسے جاں فروش پروانوں کی حفاظت خود کرتا ہے۔
٭٭٭

گلشن پارک لاہور اتوار 27 مارچ 2016 کو ایک بم دھماکے میں خون میں نہا گئی، اس روز ایسٹر بھی تھا، خوشگوار موسم میں لوگ بڑی تعداد میں سیرگاہوں کا رخ اختیار کرتے ہیں۔ اس روز بھی لوگ آئے اور 100 اس دنیا سے اٹھ گئے، ساڑھے تین سو خون میں لت پت ہسپتالوں میں پہنچائے گئے، اس روز گلشن پارک جانے، وہاں ہولناک اور خوفناک مناظر ملاحظہ کرنے والوں میں لاہور جی پی او میں تعینات اسسٹنٹ ڈائریکٹر زون سٹمپ سٹور حفیظ اقبال بھی تھے۔ ان کے ساتھ ان کے آفس میں ملاقات ہوئی۔ اس سانحہ کے تذکرے سے ان کے چہرے پر کرب نمایاں نظر آنے لگا، انہوں نے بتایا ”میرے بھائی اظہر اقبال بنگلہ دیش میں ٹیکسٹائل انڈسٹری میں کام کرتے ہیں، وہ پاکستان آئے تو  مرید کے  سے فیملی سمیت ہمارے پاس شاہدرہ میں چلے آئے۔ اتوار کا دن تھا، سب نے گلشن پارک جانے کا پروگرام بنایا۔ مجھے کمر کی تکلیف ہے میں گھر سے باہر جانے سے گریز کرتا ہوں، بچوں نے اصرار کیا تو میں بھی ساتھ چل پڑا، بچوں بڑوں سمیت ہم فیملی کے 15 افراد کچھ گاڑی پر کچھ موٹر سائیکل پرگلشن اقبال پارک چلے گئے، بوٹنگ سائیڈ کی طرف ہم نے گاڑی کھڑی کی، بچوں نے  کشتی میں سیرکی، اس کے بعد جھولوں کی طرف پورا قافلہ چلا آیا۔ بچے اپنے طور پر جھولے لینے لگے، بڑے بیٹے حمزہ نے کہا وہ منی کار چلانا چاہتا ہے، الیکٹرک کاریں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں تو بچے اس کیفیت اور منظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔میں حمزہ کے ساتھ اس طرف چل چل پڑا۔ اس دوران خاندان کے تمام افراد بھی ہمارے ساتھ ہو لئے۔ فیصلہ کیا کہ 14 سالہ حمزہ کار میں انجوائے کرے گا اور باقی اسے دیکھیں گے۔ وہاں پہنچے تو ٹکٹوں کیلئے ایک لمبی قطار تھی۔ میں نے حمزہ سے کہا ایک گھنٹے کے بعد ٹکٹ کیلئے باری آئے گی، اتنا انتظار کرنا ہو گا بہتر ہے اس ایونٹ کو چھوڑ دیں، پھر کبھی یہ شوق پورا کر لینا۔ حمزہ اپنی دھن کا پکا ہے، مجھے نہیں لگتا تھا کہ مان جائیگا مگر حیران کن طور پر اس نے کہا چلیں اس ایونٹ کو چھوڑ دیتے ہیں۔ یوں ہم وہاں سے واپس آ گئے۔ چند گز کے فاصلے پر کونوں والا تھا۔ بچوں نے کہا کونیں کھلائیں۔ کون والے کو آرڈر دیا وہ بچوں کو کونیں پکڑانے لگا۔ چھ سات نے کون پکڑی تھی کہ زور دار دھماکے کی آواز آئی۔ اس کے ساتھ ہی دھویں کے بادل فضا میں چھا گئے۔ بھگڈر مچ گئی اور چیخ و پکار شروع ہو گئی۔ جہاں قیامت کا منظر نظر آ رہا تھا۔ یہ دھماکہ عین اس جگہ ہوا جہاں ہم لوگ پانچ منٹ قبل ٹکٹ لینے کیلئے کھڑے تھے۔ ہر طرف سراسیمہ چہرے نظر آ رہے تھے۔ اللہ نے ہم 15 افراد کو موت کے منہ سے بچا لیا تھا مگر سب کے جسموں پر لرزا طاری تھا۔ چند منٹ تو سکتے میں رہے تاہم قریب ترین گیٹ کے ذریعے پارک سے باہر جانے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران 1122 کے اہلکار پہنچ گئے تھے۔ ہم گیٹ کی طرف بڑھے تو گیٹ تک انسانوں کا خون بہہ رہا تھا۔ ان میں ننھے ننھے بچوں اور خواتین کا خون بھی شامل تھا۔ ہم  بہتے خون سے اِدھر اُدھر پاؤں رکھ کر گزر رہے تھے۔ بچے، عورتیں اور بڑے بے سدھ پڑے اور کچھ تڑپ رہے تھے۔ جو بے سدھ تھے وہ موت کی لکیر پار کر گئے تھے۔انسانی اعضا کو اس طرح بکھرے اور انسانوں کو خون میں بُری طرح لتھڑے زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا۔ میرے بھتیجے اعظم کی بائیک گیٹ کے سامنے کھڑی تھی، خوف کے مارے اس سے بائیک کا تالہ نہیں کھل رہا تھا۔ میں نے اپنے حواس مجتمع اور بحال رکھے، میں نے تالہ کھولا۔ اس کی بائیک کے ساتھ ایک لڑکی کے اوپر چادر ڈالی ہوئی تھی، اس کے جسم میں معمولی سی حرکت  اس جسم میں زندگی کی رمق کی علامت تھی۔ شاید پارک کے اندر سے بھاگ کر آتے ہوئے موٹر سائیکلوں کے درمیان گر گئی تھی۔ وہاں موجود لوگوں نے بتایا، انہوں نے اس لڑکی پر چادر دی ہے، اس کو 1122 والے اٹھانے کو تیار نہیں۔
 دھماکے سے قبل پارک کے گیٹوں پر کوئی اہلکار تعینات نہیں تھے۔ لوگ اپنی مرضی سے آ جا رہے تھے میں نہیں سمجھتا، دہشتگردی کا منصوبہ بنانے والوں نے خودکش بمبار کو استعمال کیا ہو گا۔ انہیں ایک بندہ ضائع کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ دہشتگرد اپنے بیگ یا پانی کے کولر میں بم رکھ کے ریموٹ کنٹرول سے تباہی مچا سکتا تھا۔ شاید اس روز بھی ایسا ہی ہوا ہو، تاہم اس سانحہ کی یاد سے دل دہل جاتا اور جسم کا روآں روآں کھڑا ہو جاتا ہے۔
تحسین ضیاء ایجو کیشنسٹ رہی ہیں، اللہ تعالیٰ نے جب یہ دنیا بنائی تو اس میں جہاں طرح طرح کی چیزیں بنائیں وہاں بہت سے پیارے پیارے رشتے بھی بنائے۔ ہر رشتے کی اپنی اہمیت اور اپنی خوبصورتی ہے ان رشتوں میں سے ایک رشتہ ماں باپ کا ہے۔ ماں باپ کی عظمت کا کون انکار کر سکتا ہے اور ماں کی محبت کے بہت سے قصے ہیں جو تاریخ کے اوراق اور روز مرہ زندگی سے بھی ملتے ہیں لیکن میں ایک سچا واقعہ جو کہ میرے والد صاحب کے ساتھ منسلک ہے تحریر کرنا چاہوں گی۔
یہ 1974ء کا واقعہ ہے جب ہم چار بہنیں تھیں۔ اس وقت جب میرے والد صاحب کو اچانک دل کا دورہ پڑا اور وہ اتنا شدید تھا کہ سات دن تک قومہ کی حالت میں رہے کیونکہ اس دور میں میڈیکل سائنس اتنی advance نہ تھی۔ اس لئے کسی کو پتہ ہی نہیں چلا کہ انہیں ہوا کیا ہے۔ سب ڈاکٹرز نے جواب دے دیا اور کہا کہ آپ اللہ سے ان کیلئے آسانی کی دعا کریں۔سب نے یہی کہا کہ یہ حالت نزع میں ہیں لہٰذا خوب پڑھائی کی گئی کہ اللہ ان کی جان بخشی کر دے لیکن اللہ کو تو کچھ اور ہی منظور تھا۔ سات دن کے بعد میرے والد ہوش میں آ گئے اور کہنے لگے۔”میں اس سارے وقت کے دوران اپنی موت سے لڑتا رہا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتا رہا ہوں کہ میری چار بیٹیاں ہیں …… یا رب! میرے بعد ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہو گا لہٰذا مجھے اتنی مہلت دے دے کہ ان کی اچھی پرورش کر سکوں۔
خیر وقت گزر گیا اور ہم سب بڑے ہو گئے والد کی طبیعت اسی طرح کبھی بہتر اور کبھی خراب رہتی تھی لیکن بعد میں 1998ء میں جب میں نے ان کا چیک اپ کروایا تو ڈاکٹرز بڑے حیران ہوئے کہ 1974ء میں جو اٹیک ہوا تھا وہ بہت ہی شدید تھا جس میں ان کا ایک وال بندہو چکا تھا اور دوسرا بھی proper کام نہیں کر رہا تھا، ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ یہ ایک معجزہ ہے کہ یہ زندہ ہیں۔ میرا یقین ہے کہ ابو کو جو ہم سے بے تحاشا محبت تھی یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے اپنی will power سے اپنی بیماری کو خود پر حاوی نہ ہونے دیا۔
٭٭٭
کرنل (ر) رانا کمال الدین
کرنل (ر) کمال الدین 1989ء میں سیاچن میں تعینات تھے انہوں نے اس دوران اور اس کے علاوہ جن مشکل لمحات کا سامنا کیا اس کو وہ کلوز اور کلوزسٹ کال قرار دیتے ہیں۔ سیاچن میں وہ کمانڈر تھے اور ایک سے دوسری، تیسری اور پھر ہر پوسٹ کی وزٹ کو معمول بنایا تھا حالانکہ کمانڈر کیلئے ہر پوسٹ پر جانا ضروری نہیں۔کرنل رانا کہتے ہیں ٍ ”ایک دن میں 19 ہزار فٹ کی بلندی پر پوسٹ پر گیا اور چلتے ہوئے پاؤں پھسلنے سے چالیس فٹ نیچے چلا گیا۔ رسی کا ہر سپاہی کے پاس ہونا لازم ہے۔ میرے پاس بھی یہ رسی تھی جس کے ذریعے اوپر چڑھنے کی کوشش کی لیکن میں دو فٹ اوپر جاتا تو پھسل کر تین فٹ مزید نیچے آ جاتا۔ اس پہاڑی کے نیچے انڈین پوسٹ تھی۔ مگر دھند کی وجہ سے مجھے اور ان کو کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔
کسی بھی فوجی کیلئے سیاچن پر گزارا کڑا وقت ہوتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہاں جانیوالا کوئی بھی شخص خدا کے قریب نہ ہو جائے۔ بندہ وہاں جا کر سب کچھ بھول جاتا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اوپر اللہ، نیچے میں ہوں۔ وہاں سامنے پوسٹوں پر بیٹھا دشمن ہی آپکا دشمن نہیں۔ وہاں کا موسم، پہاڑ، ہوا اور برف سب آپ کے ایک سے بڑھ کر ایک دشمن ہے۔
میں ہائیسٹ پوسٹ پر گیا۔ وہاں سے واپس آ رہا تھا۔ میرا اس وقت بھی وزن آج کی طرح 93 کلوگرام تھا۔ میرے لئے اس وزن کے ساتھ اوپر چڑھنا آسان اور اترنا نسبتاً مشکل ہوتا تھا۔ سیدھی اترائی اترتے ہوئے میرا پاؤں پھسلا اور میں 40 فٹ نیچے چلا گیا مگر میں نے رسی کو نہ چھوڑا۔ جو اسی پہاڑ کے ساتھ لگی تھی وہ میرے ساتھ رہی۔ اب صورت حال یہ تھی کہ میں رسی کے ساتھ لٹکا ہوا تھا اس دوران ہاتھ شل ہو گئے اور اعصاب جواب دے گئے تھے۔ دل کہہ رہا تھاکہ رسی کوچھوڑا اور زندگی سے جان چھڑا۔ اس پر میں پوری طرح کنونس ہو گیا تھا۔ رسی کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔

عین اس وقت اوپر سے میرے ساتھ میجر کی آواز آئی۔ ”کرنل رانا رسی نہیں چھوڑنی ہم آپ کو نکال لیں گے۔ اس کے ساتھ ہی یکے بعد دیگرے دو جوان رسیوں کے ساتھ اوپر سے اترتے ہوئے نیچے آئے اور جیسے تیسے انہوں نے مجھے اوپر لے جانے میں مدد کی، اوپر آئے تو میرا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ جہاں سے میرا اگلو دو ہزار فٹ نیچے تھا۔ میں وہاں جانے کے بجائے اوپر ہی قیام کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہاں چھوٹے اگلو میں تین افراد کے قیام کی گنجائش تھی، انہوں نے کہا کہ میرا وہاں قیام ممکن نہیں مگر میں نے وہیں رکنے پر اصرار کیا اور وہیں رات گزاری نیچے میرا اگلو کافی بڑا اور نسبتاً آرام دہ تھا جہاں 15 سولہ فوجی موجود ہوتے تھے۔ میں اگلے روز صبح جاگا تو عجیب منظر تھا۔ دشمن کی طرف سے نیچے والے اگلو کو اٹیک کیا جا رہا تھا، اوپر سے میں سب کچھ دیکھ رہا تھا، اس اٹیک میں ہمارے 4 ساتھی شہید اورباقی زخمی ہوئے۔ یقینی بات ہے میں وہاں تو شہیدوں میں ہوتا یا زخمیوں میں ہوتا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اللہ نے مجھے جہاں سے گرایا، پھر اٹھایا اور ذہن میں ڈالا کہ نیچے اپنے اگلو میں نہیں جانا۔ میرے ٹو آئی سی میجر صاحب شدید زخمی ہوئے ان کے جسم میں لوہے کے کئی ٹکرے موجود رہے۔ ان کو ہر بار ائرپورٹ پر واک تھرو گیٹ سے گزرنے کے دوران روک لیا جاتا تھا۔ میں چونکہ انڈر اٹیک نہیں تھا اس لئے بھرپور جوابی کارروائی کا موقع مل گیا۔ وہاں میرے پاس گن تھی نیچے گنیں تھیں۔ میں نے بڑے سکون سے تین چار جگہ سے کمیونیکشن کر کے اٹیک کیا اور بھارتی ہیلی کاپٹر مار گرایا۔ میں حملے کی زد میں ہوتا تو کمانڈ سٹرکچر ختم ہو چکا ہوتا۔ بہر حال یہ ایک کلوز کی کال تھی جس میں میں محفوظ رہا۔
 ایک اور کلوز کال کا سامنا 1972ء کو ہوا۔ میں اسلام آباد سے سکردو جانے کیلئے ائرپورٹ پہنچا تو ایک شخص نے وہاں آکر مجھے بتایا کہ اس کی ماں سخت بیمار ہے میں اپنا ٹکٹ اسے دے دوں میں نے اپنے افسر سے بات کی۔ انہوں نے اجازت دیدی، اس فوکر نے گلگت میں لینڈ کرنے کے بعد سکردو جانا تھا۔ بدقسمتی سے گلگت کے بعد جہاز نانگا پربت کی پہاڑیوں میں گر گیا، عملہ اور مسافروں سمیت تمام افراد راہی ملک عدم ہو گئے۔ مرنے والوں کی لسٹ میں میرا نام بھی تھا کیونکہ ٹکٹ میرے نام پر تھا۔ تیسری کلوزمنٹ کال کوئٹہ میں تھی۔ جہاں ٹریننگ کے شیڈ بنے ہوئے تھے۔ دفاتر کیلئے چند فٹ کے کیوسیکل کمرے تھے۔ ان کی لمبائی چوڑائی 4 بائی چھ ہو گی، میں وہاں رائیٹنگ ورک کر رہا تھا اس دوران میرے جے سی او نے آ کر کہا کہ فلاں بندے نے آج چٹھی جانا ہے، آپ نے اس کی انکوائری کرنی تھی وہ کر لیں۔ ہمارے سٹور میں آگ لگی جس کی انکوائری کرنی تھی۔ جے سی او نے کہا میں انکوائری ابھی کر لوں تاکہ وہ جوان جانے والا بنے، میں نے کہا کہ دیکھ لیتے ہیں۔ مگر جے سی او  نے کہا، سر چھوڑیں، پن کو ادھر رکھیں، چل کر انکوائری کر لیں، اس کے اس طرح اصرار کرنے اور زور دینے پر میں اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کمرے کی چھت میں ایک فٹ موٹے اور 6 بائی چار کے کنکریٹ کی فال سیلنگ لگائی ہوئی تھی۔ میں دروازے تک ابھی پہنچ ہی پایا وہاں کنکریٹ کا ٹکڑا نیچے گر گیا جس کے بعد وہاں اس کرسی اور میز کا نام و نشان بھی نہیں تھا جس پر بیٹھ کر میں کام کر رہا تھا۔ جہاں موت چند لمحات کے فاصلے سے واپس چلی گئی تھیں۔

٭٭٭
یعقوب علی علوی 
میں نے پرائمری اپنے گاؤں چکنمبر 113 گ ب تحصیل جڑانوالہ ضلع فیصل آباد سے پاس کی، والد صاحب نے فیصل آباد رحمانیہ ہائی سکول میں داخل کرا دیا۔ گاؤں سے روز شہر جانا مشکل تھا۔ اس لئے میں کچھ عرصہ اپنے چچا کے گھر قیام پذیر رہا۔ چچا قربان علی کا گھر سمندری روڈ پر تھا، وہ صبح نماز کے لئے جگا دیا کرتے تھے۔ مسجد نہر اور سمندری روڈ کے درمیان تھی۔ ان دنوں نہر میں آلودگی نہیں ہوا کرتی تھی۔ لوگ عموماً نہر کے کنارے بیٹھ کر وضو کر لیا کرتے تھے۔ ایک روز میں صبح نماز کے لئے گیا، جولائی کا مہینہ تھا، اس روز سخت حبس تھی، نہر میں نہانے کے بارے میں سوچا۔ تیراکی نہیں آتی تھی۔ کپڑوں کے نیچے کچھا پہنا ہوا تھا۔ کپڑے کنارے رکھ کر نہر میں چھلانگ لگا دی۔ نہر اتنی زیادہ گہری ہو گی یہ سوچا بھی نہیں تھا۔ اگلے ہی لمحے غوطے آنے لگے۔ مجھے لگا میں گھمن گھیری کی زد میں آگیا۔ میں ڈوب تو رہا تھا مگر اوسان خطا نہیں ہوئے تھے۔ مگر اوسان بھی کیا کر سکتے تھے۔ میں نے یہ سوچ کر ہاتھ اوپر کر کے پانی کے باہر نکال دیا۔ شاید کوئی آدمی وضو کرنے آیا ہو تو مجھے بچا لے۔ میں نہر کے کنارے کے ساتھ ڈوبتا ہوا پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہہ کر جا رہا تھا۔ ایک بزرگ واقعی وہاں وضو کر رہے تھے۔ انہوں نے ہاتھ دیکھا تو خوف کے مارے وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ مگر نہ جانے کیا سوچ کر فوراً واپس مڑے تو ہاتھ کو حرکت کرتے دیکھا تو وہیں سے پکڑ کر اوپر کھینچ لیا۔ اس وقت تک میں ہوش کھو چکا تھا۔ پیٹ پانی بھرنے سے پھول گیا تھا۔ اس نے لٹا کر پیٹ پر پاؤں رکھ کر تین چار بار دبایا تو پانی منہ سے نکل گیا میں بھی جلد ہوش میں آگیا۔ اس کے بعد اس نہر میں تو کبھی نہ کودا تاہم اپنے ننھال کے گاؤں بندے جاگیر میں اپنے کزن فضل حسین اعوان اور دوسر ے لڑکوں کے ساتھ بڑے سرکاری ٹیوب کے تالاب نما پانی میں خوب نہایا کرتے تھے وہیں تیراکی سیکھی۔
……………………………………

غزالہ کنول عمر کے 39 ویں سال میں بھی فطرت کی حسیں تصویر نظر آتی ہے۔ اس کا سراپا قدرت کا تراشا ہوا شہکار دکھائی دیتا ہے، ایسی  خوبرو خاتون جس کی رفیقہ حیات بن جائے وہ اس کی زلف گرہ گیر کا اسیر بن کر زندگی نہ گزارے تو انسان ہی نہیں ہے، ایسی دلربا سے محبت نہیں، اس کی پوچا کی جاتی ہے، مگر غزالہ کی زندگی اس کیلئے ایک عبرت بن گئی۔ اسے اپنے ناکردہ اور کسی کے کردہ گناہوں کی کڑی سزا ملی، شادی کا بندھن گو سوا سال قائم رہا مگر خوشیاں لمحوں کی مہمان ثابت ہوئیں۔ وہ اپنی المناک زندگی میں رشتوں کے ہاتھوں بار بار مرتی رہی۔ یہ ایک الگ کہانی ہے جس کا تذکرہ ان کو پیش آنیوالے ان واقعات کے بعد کریں گے جن میں انہوں نے موت کو حقیقی روپ میں دیکھا جو ان سے گلے مل کر لوٹ گئی۔ غزالہ کنول نے اپنی کہانی فیس بک پر شیئر کی تھی۔ اسی پر انہوں نے اپنی سالگرہ کی تصویریں بھی پوسٹ کیں جن میں وہ اپنے سوتیلے رشتوں کے درمیان لنگوروں میں حور نظر آتی ہیں۔ وہ کیا کہتی ہیں، ملاحظہ کیجئے۔
طلاق کے دس سال بعد مجھے صحت کے شدیدمسائل سے دو چار ہونا پڑا، عورتوں میں عموماً ایسے مسائل  شادی شدہ زندگی نہ گزارنے کے باعث پیدا ہوتے ہیں،  اس کی وجہ سے مجھے تین مرتبہ میجر سرجریز سے گزرنا پڑا۔ ڈاکٹرز نے یہ جاننے کے بعد کہ مجھے دس سال قبل طلاق ہوئی تھی کہا۔”آپ کو شرافت کی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے“۔
میں  قطر سے آنے کے بعد مزید تعلیم کیلئے کراچی سے اسلام آباد چلی گئی تھی جہاں میرا پہلا آپریشن لیفٹ اووری میں Cyst بن جانے کی وجہ سے ہوا۔یہ انتہائی تکلیف دہ اپریشن تھا۔سِسٹ نکالنے کیلئے ڈاکٹروں نے اووری کا کچھ حصہ بھی کاٹ کر نکال دیا۔ میں نے اووری کو نہ کاٹنے کی بڑی درخواست کی مگر ماہر ڈاکٹروں کی رائے میں ایسا کرنا ناگزیر تھا۔ اس آپریشن کے دوران مجھے زندگی اور موت کی کشمکش سے گزرنا پڑا۔ اس کے بعد پھر بائیں اووری میں سِسٹ بننا شروع ہو گئی، وہ اتنی بڑی تھی کہ یورین میں رکاوٹ ہونے لگی، ان دنوں میں کراچی منتقل ہوچکی تھی، ہم اسے مثانے کا مسئلہ سمجھ رہے تھے ان دنوں مجھے یورین بیگ لگا ہوا تھا۔ والد صاحب آپریشن کرانے کی تیاری میں تھے کہ اچانک ہارٹ اٹیک کے باعث ان کا انتقال ہو گیا، والد کی وفات میرے لئے ناقابل برداشت صدمہ تھا۔ اس پر میں بری طرح سے روئی اور شاید اس کے باعث سِسٹ کی پوزیشن بدل گئی جو ڈاکٹرز کو نظر نہ آئی۔ ڈاکٹرز آپریشن کے پیٹ کھولا تو سسٹ کا سائز دیکھ کر حیران رہ گئیں، یہ دو کلو کی تھی۔ اس نے کھانے کی نالی کو لپیٹا ہوا اور پورے پیٹ کو جکڑا ہوا تھا یہ بڑا ہی خوفناک اور پیچیدہ قسم کا آپریشن تھا۔ یہ کیسنر والی سِسٹ ہو سکتی تھی۔ شکر ہے کینسر والی نہیں تھی۔ آپریشن کے دوران میری حالت سیریس ہو گئی۔ ڈاکٹر نے آپریشن چھوڑ کے ڈاکٹرز کی میٹنگ بلائی اور میری والدہ کو آپریشن کی سنگینی سے آگاہ کیا اور ان سے ایک بار پھر لکھوایا کہ اگر کچھ ہوا تو ہم ذمہ دار نہیں ہونگے۔ آپریشن کے دوران مزید خون کی بوتلیں لگائی گئیں ساڑھے تین گھنٹے آپریشن جاری رہا۔ اس آپریشن کے دوران سسٹ کے ساتھ لیفٹ اووری مکمل طور پر نکال دی گئی اب رائٹ اووری بچی تھی، اس کے بعد ڈاکٹرز نے جو احتیاط بتائی تھیں میں نے تھک جانے کے باعث چھوڑ دی۔ آفس میں کام زیادہ ہوتا میری تو گویا دوڑ لگی رہتی تھی۔ کام کے حوالے سے میرے ساتھی مجھے بے چین روح کہتے ہیں جو کبھی سکون سے نہیں بیٹھتی۔ اس دوران مجھے کمر میں شدید درد ہوا، اسے میں نے گردے کا درد سمجھا اور پین کلر لینے لگی۔ تین دن درد کے عذاب میں گزرے۔ انجکشن اور پین کلرزکی ہیوی ڈوز لیتی رہی،

اس سے  شدید نیند آتی اور میں اسی حالت میں گاڑی چلا رہی ہوتی تھی، میری دوست ساتھ ہوتی جسے میں کہتی مجھے سونے نہ دینا وہ مجھے دھکے مار کر جگا کر رکھتی تھی، درد ناقابل برداشت ہوئی تو ہسپتال چلی گئی۔ الٹرا ساؤنڈ کرایا تو اس دوران الٹرا ساؤنڈ کرنیوالی ایکسپرٹ چلانے لگی اس نے کہا، آپ زندہ کیسے ہیں۔ آپ کو کڈنی پین نہیں، رائٹ اووری میں بڑی سسٹ بن گئی تھی جو پھٹ گئی اور اس کا مواد زہر بن کرپورے پیٹ میں پھیل چکا ہے۔ ہم حیران ہیں آپ زندہ ہیں، کسی انسان کا تکلیف برداشت کرنے کا اتنا لیول نہیں ہو سکتا۔ اس پر میں نے اپنے پرائیویٹ ڈاکٹر سے رابطہ کیا اس نے آپریشن کرنے سے انکار کر دیا۔ اِس ہسپتال جا، اُس ہسپتال جا مگر کوئی بھی ڈاکٹر آپریشن کرنے پر تیار نہیں تھا۔ سب کا ایک جواب تھا ہم آپ کی موت اپنے ذمے نہیں لینا چاہتے، یہ وہ دور تھا جب سوتیلے رشتوں نے گھر سے باہر نکال رکھا تھا، میں اس تکلیف میں خود گاڑی چلاتی، اپنے آپریشن کیلئے خود دوڑ دھوپ کرتی تھی۔ بہر حال ایک ڈاکٹر کو ترس آگیا اس نے آپریشن کی حامی تو بھر لی ساتھ ہی مایوسی کا اظہار بھی کیا تاہم ایک موہوم سی امید پر انہوں نے آپریشن کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ ڈاکٹرز کے ایسے مایوس کن ریمارکس مجھے موت کے خوف میں مبتلا کئے رکھتے تھے۔ اس موقع پر اس سینئر ڈاکٹر نے میرے دکھ اور تکلیف کو دیکھ کر روتے ہوئے کہا تھا آپ نے شرافت کی قیمت ادا کی ہے، اتنی چھوٹی عمر میں تمہاری شادی ٹوٹ گئی شادی کے ریلیشن ہوتے تو تمہاری یہ حالت نہ ہوتی۔ انہوں نے ٹیسٹوں کیلئے مجھے ہسپتال میں داخل رکھا۔ تیسرے دن میں بہت تنگ آ چکی تھی اور شاید ہسپتال سے بھاگ جاتی۔ اس دوران ڈاکٹر نے آ کر ایک آخری ٹیسٹ کرانے کو کہا۔ میرے ساتھ کوئی اٹنڈنٹ نہیں تھا۔ میں خود دس منٹ  واک کیا دوڑتی ہوئی گئی  اور ٹیسٹ کرا کے واپس آئی، ڈاکٹر کو پتہ چلا تو وہ میری اس حالت میں اس اقدام پر ششدر رہ گئی اور کہا تم کیا انسان ہو؟ اگلی صبح مزید ادویات کی لسٹ دیدی، میں کس کو ادویات لانے کو کہتی اور میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ جہاں میری نیکی کام آئی میں کمپیوٹر انجینئرنگ کے سٹوڈنٹ کو پڑھاتی تھی، جس کی کوئی ٹیویشن اور فیس نہیں لیتی تھی، عین اس وقت ایک سٹوڈنٹ کا فون آ گیا۔ اس کا اگلے روز جاب انٹرویو تھا۔ اس کی تیاری کرنا تھی، میں نے بتایا کہ میں ہسپتال میں داخل ہوں، وہ سمجھا کہ میڈم  مذاق کر رہی ہوں۔ وہ سٹوڈنٹ وہیں چلا آیا اور مجھے اس حالت میں دیکھ کر بہت پریشان ہوا تاہم میں نے اسے جیسے تیسے تیاری کرا دی۔ اس نے میڈیسن کی لسٹ پکڑی اور بازار چلا گیا۔ وہ تین گھنٹے نہ آیا تو میں پریشان ہوئی، مجھے تو اس کے نام کا بھی علم نہیں تھا۔ بہرحال وہ تین گھنٹے بعد آیا تو اس نے ایک میڈیسن کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ یہ بڑی مشکل سے بہت دور سے ملی ہے۔ میرے لئے یقیناً وہاں تک جانا ممکن نہیں تھا، وہ میرے کام آیا اور میں اس کے کام آئی تھی۔ اس نے دوا کے پیسے بھی نہیں لئے۔ اس نے کہا جس حالت میں آپ نے مجھے پڑھایا کیا اس کی کوئی قیمت ہو سکتی ہے؟۔ اس کے  آپریشن تھا۔ میں نے دنیا کو آخری بار دیکھا، بچنے کی امید کم اور رخصت ہونے کا خوف سر پر منڈلا رہا تھا۔ آپریشن تھیٹر جاتے ہوئے پھر دنیا کو اپنی دانست میں آخری بار دیکھا۔ میری ایک فرینڈ کو ڈاکٹر بار بار کہہ رہی تھی امید کم ہے۔ میری ایک سٹوڈنٹ اس موقع پر موجود تھی۔ اس نے کہا میڈم! آپ اللہ کا نام لے کر جائیں، آپریشن کامیاب ہو گا۔ آپ کے ساتھ ان طلباء و طالبات کی دعائیں ہیں جن کو آپ نے بغیر لالچ کے پڑھاتی رہیں، بہت سے بچوں کو آپ کی اب بھی ضرورت ہے۔ میں بڑی گھبرائی ہوئی تھی۔ یہ میری زندگی کا خوفناک اور دوسرا بڑا فیصلہ تھا۔ پہلا فیصلہ بے بی کو سوا سال کی عمر میں اس کے باپ کے حوالے کرنا تھا۔ وہ بھی میں سمجھتی تھی کہ ایسا نہیں کر پاؤں گی۔
بہرحال آپریشن ہوا،ڈاکٹروں اووری مکمل طور پر نکال دی تھی۔ ہوش آیا تو حالت بہت نازک تھی۔ الٹیاں شروع ہو گئیں۔تین روز بعد ہسپتال سے گھر شفٹ ہوگئی، چوتھے پانچویں روزیہ دیکھ کر اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیاکہ  زخموں سے خون رس رہا تھا۔ تکلیف میں بھی مزیداضافہ ہو گیا۔ ڈاکٹر کو دکھایا تو عقدہ کھلا کہ وہ پینک میں پیٹ کے اندر نالی لگانا بھول گئے تھے۔ اس نالی سے خون اور غیر ضروری مواد باہر آتا رہتاتھا۔ اس سے قبل دونوں بار اپریشن کے دوران نالی لگائی گئی تھی۔ اب جان لیوا مراحل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ کبھی میں زخم کے گرد جگہ دبا کر خون نکالتی‘ کبھی یہ کام ڈاکٹر کرتے۔ اس دوران پیپ کا اخراج بھی ہونے لگا۔ آپ اس تکلیف کی شدت کا اندازہ نہیں کر سکتے مگر ابھی آزمائش امتحان اور عذاب ختم نہیں ہوا تھا، ٹانکے کھلوائے تو چند روز بعد پیٹ ہی کھل گیا، چار انچ چوڑا زخم وا ہو گیا، یہ مصیبت اور پریشانیاں اور پھر کوئی دیکھ بھال کرنے والا بھی نہیں تھا، ان حالات میں بھلا ہو میرے پڑوسیوں کا‘ وہ میاں بیوی مجھے اپنے گھر لے آئے، خاتون نے میری دن رات کیئر کی۔ ڈاکٹر کو گھر بلا لیا جاتا تھا۔ 15 دن میں ان کے ہاں رہی، حالت کافی بہتر ہوئی تو اپنے گھر شفٹ ہو گئی۔ اس اپریشن کے بعد واقعی اللہ نے مجھے نئی زندگی دی۔ گو بظاہر میں بالکل ٹھیک اور صحت مند نظر آتی ہوں مگر اصل میں جسم ایک پھوڑا بن چکا ہے۔ کمر میں درد‘ ٹانگوں میں درد اور بعض اوقات پورا جسم دکھنے لگتا ہے۔ اب میں نے ان سب کے ساتھ جینے کو عادت بنا لیا ہے۔
دنیا میں ہر انسان کسی  نہ کسی کہانی کے گرد گھومتا ہے یا کوئی کہانی اس کے گرد گھومتی ہے، انسان ایک سراپا کہانی ہے۔ میری زندگی بیک وقت دکھوں تکلیفوں، آزمائشوں، عذابوں اور نوازشات خداوندی کا مرقع ہے، میری زندگی میں ٹھہراؤ نہیں رہا۔ یہ سیماب پا اور تغیرات سے عبارت رہی ہے، ایک موقع پر مرد، معاشرہ، رشتے اور فطرت مجھے رسوائی، دکھ اور غم کی اتھاہ گہرائیوں میں لے گئے، پھر مالک کائنات نے مجھے پستیوں سے نکال کر بلندیوں سے سرفرار کر دیا مگر مہربانوں کی نامہربانیوں نے روح کو جس طرح گھائل کیا کبھی کبھی اس کی ٹیسیں روئیں روئیں سے اٹھتی محسوس ہوتی ہیں۔
میں ایک بڑے سرکاری اور ایماندار افسر کی بیٹی ہوں۔ نازو نعم میں پلی، ہمارا خاندان 1947ء میں مائیگریٹ کر کے پاکستان آیا، انڈیا سے آکر ملتان میں سیٹل ہوگئے اور پھر کراچی چلے گئے۔ جائنٹ فیملی سسٹم تھا۔ دادا کی شان و شکوہ اور دبدبہ اپنی مثال آپ تھا۔ والد ایک بڑے افسر ضرور تھے مگر والد کے سامنے وہ  بچے ہی رہے، فرمانبردار اور تابع فرمان بیٹے تھے، دادا جو کہہ دیتے وہی فیصلہ اورحرفِ آخرہوتا تھا۔وہ جتنے سخت رو تھے دادی اتنی ہی نرم خو تھیں۔ دادی کا تعلق بڑے گھرانے سے تھا وہ بھی دب کے رہنے والی نہ تھیں، اس لئے دونوں کی مشکل سے نبھ پائی اور ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے الگ تھلگ سے رہتے تھے۔ خاندان دادا جی کے مرتب کردہ قواعد و ضوابط اور اصولوں کے زیر اثر تھا۔
 وہ لڑکیوں کی زیادہ تعلیم کے قائل نہیں تھے، تاہم والد چودھری غلام رسول نے مجھے اعلیٰ تعلیم دلوانے کی کوشش کی، سروس کے دوران والد کو فیملی ساتھ رکھنے کی دادا نے اجازت دی تھی۔ جس سے فائدہ یہ ہوا کہ میں سکول و کالج جاتی رہی مگر والد کی دیانتداری کی وجہ سے ان کی جلدی جلدی پوسٹنگ ہو جاتی تھی۔ جس سے میری ایجوکیشن کا سلسلہ ٹوٹتا اور جڑتا رہتا جو چھٹی جماعت  میں میرے فیل ہونے کا باعث بھی بنا۔
تعلیم کے دوران میری لائف گھر سے سکول اور سکول سے گھر تک محدود تھی، دنیا کی رعنائیوں کو کبھی محسوس کیا نہ بے اعتنائیوں سے پالا پڑاتھا، میری زندگی میں کئی ٹرننگ پوائنٹ آئے۔ پہلا تو میں سمجھتی ہوں میری شادی تھی۔ یہ میری زندگی میں خوشی کی لہر بن کر داخل ہوئی اور دکھوں کا دھارا بن کر مجھے زندگی کے بے رحم صحرا میں چھوڑ گئی، میں نے کمپیوٹر سائینس میں انجینئرنگ  کی تو والد نے شادی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ اچھے سے اچھے رشتے آئے۔ قطر میں ابو کے دوست نے وہاں سیٹل نوجوان کی تصویر بھجواتے ہوئے بتایاکہ اس کے والدین  کراچی  ہی میں مقیم ہیں۔ والد نے تصویر دیکھی اور اپنے دوست کے مشورے پر اسے ہاں کر دی۔ اس کے بعد معاملات اس خاندان کے ساتھ طے ہونے لگے، مجھے بھی لڑکے کی تصویر دکھائی گئی، لڑکے کا نام خادم تھا۔ اس میں اور اس کے خاندان میں بظاہر کوئی کمی نہ تھی۔ یہ پانچ بھائی اور پانچوں انجینئراور سب خلیجی ممالک میں جاب پر تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ شادی کے بعد قطر میں رہنا ہے تو یہ میرے لئے مسرت وانبساط کے بجائے شاکنگ تھا کیونکہ میں نے تو کبھی گھر کی دہلیز بھی سوائے سکول کالج جانے آنے کے عبور نہیں کی تھی۔ میرے لئے اجنبی دیس اور نامانوس لوگوں میں جانا پریشانی کا باعث تھا۔ میں نے ابو سے کہا کہ آپ نے جس طرح میری تربیت کی، میرے لئے اس طرح کے ماحول میں ایڈجسٹ ہونا مشکل ہو گا۔ مگر ابو زبان دے چکے تھے۔ خادم نکاح سے دو روز قبل کراچی آئے، دو دن میں کیا انڈرسٹینڈنگ ہو سکتی تھی۔ بہر حال بڑی دھوم دھام سے شادی ہوئی۔ والد کے پاس کافی وراثتی جائیداد تھی۔ بڑے افسر تھے جہیز میں جو کچھ ممکن تھا بمع گاڑی کے سب کچھ دیا۔ چند دن بعد میں خادم کے ساتھ قطر شفٹ ہو گئی۔ اجنبی ملک جانے اور انجانے لوگوں کے ساتھ رہنے کے حوالے خدشات  ائرپورٹ پر اترتے ہوئے خاوند کی نظرِ التفات اور حسن سلوک سے دور ہو گئے۔ میرے لئے یہ ایک حسین زندگی کا آغاز تھا۔ لگژری لائف کا احساس نمایاں تھا۔ اچھی رہائش، اچھا کھانا، والدین نے قیمتی سوٹوں کے سوٹ کیس بھر کے دیئے،یہ ملبوسات ایک سے بڑھ کر ایک تھے۔ میں ان کو پہنتی اور اِتراتی پھرتی تھی۔ اپنے گمان میں میں پریوں کے دیس آگئی تھی۔ خاوند ڈیوٹی سے واپس آتے تو باقی وقت گھومنے پھرنے میں صرف  ہوتا۔ مگر یہ سب کچھ ایک لہر کی مانند تھا جو جھومتی، لہراتی گنگناتی اور بل کھاتی ساحل کی طرف آ کر معدوم اور اپنے وجود سے محروم ہو جاتی ہے۔ میں دو ہفتے میں خوشیوں کے قلزم سے زندگی کی تنگنائیوں کے ساحل پر کھڑی تھی۔خاوند نے چھوٹی اور معمولی باتوں پر ٹوکنا شروع کردیا۔ کہنے لگا یہ لپ سٹک نہ لگاؤ، میں نے ویسا ہی کیا جیسا اس نے کہا۔ پہناوے پر تنقید اور ہدایت کہ میں صرف اس کے والدین کے دیئے ہوئے کپڑے ہی پہنوں جبکہ میرے والدین کے کپڑے میری  پسندکے اور قیمتی تھے، سسرال والوں کے واجبی سے تھے۔ جہیز پر طعنے دیئے جانے لگے۔

”یہاں بڑی گاڑیوں میں گھومتی ہو جہیز میں تمہیں چھوٹی گاڑی دی گئی۔ تمہارے والد اتنے بڑے افسر ہیں مال بناتے ہوں گے مگر جہیز کم دیا ہے“،  میں اس کے اس قسم کے رویے سے پریشان رہنے لگی۔ اس کی  مجھ پر سختی بھی ہونے لگی تھی، گھر سے باہر لیجانا چھوڑ دیا، بات بات پر غصہ ناراضگی اور چلانا اس کا معمول بن رہا تھا۔ مجھے اس کے رویے میں شدت آنے کی سمجھ نہیں آ رہی ہے۔ ایک دن یہ بھید بھی کھل گیا۔ میں فلیٹ کے اوپر والے گھر میں گئی۔ اس خاتون خانہ سے ہماری علیک سلیک تھی۔ میں نے دیکھا کہ ان کے لینڈ لائن فون کی سی ایل آئی پر خادم  کا نمبر فلک کر رہا ہے۔ اس عورت نے بات کو ٹالنے کی کوشش کی مگر میں کافی کچھ سمجھ گئی تھی۔ میں نے خادم کو فون کر کے اس سے فون کرنے کی وجہ پوچھی تو وہ آگ بگولہ ہو گیا اور غلیظ گالیاں دینے لگا۔ اس کے بعد گالم گلوچ  اس کا معمول بن گیا۔ دراصل  اس عورت نے خادم کے کسی لڑکی سے مراسم قائم کرادیئے تھے۔ اس کے بعد میری زندگی عذاب ہونے لگی تھی۔ یہ لڑکی  ہماری زندگی میں نفرتوں کا زہر گھول گئی۔ میں نے  قطر میں ابو کے دوست، جس نے شادی کرانے میں کردار ادا کیا تھا کو اس صورت سے آگاہ کیامگر یہ بے سود رہا۔ پھربادل نخواستہ لاہور میں والدین کو سب کچھ بتا دیا۔ فطری طور پرمیرے والدین لڑکے کے والدین کے گھر گئے مگر ان کا رسپانس زیادہ مثبت نہیں تھا۔ یہ لوگ بھی جہیز میں کمی کے شاکی دکھائی دیئے۔ اپنے بیٹے کو راہ راست پر لانے کی کوشش نہیں کی۔ ادھر قطر میں میری زندگی عذاب بنی ہوئی تھی، اس ماحول میں میرا دم گھٹنے لگا۔ میں نے والد سے واپس آنے کو کہا انہوں نے خادم اور اس کے خاندان والوں سے پھربات کی مگر مایوسی ہوئی اور بالآخر شادی کے دو ماہ بعد میں پاکستان آ گئی۔ اس دوران پریگننٹ ہو چکی تھی۔ عزیز رشتہ داروں اور والدین نے اوبارشن کا مشورہ دیا مگر میں نے بچے کو پیدا کرنے کااٹل فیصلہ سنا دیا۔ جس پر والد سمیت ہر کوئی حیرت زدہ رہ گیا۔ سسرال والوں نے دوران حمل ہی کہنا شروع کر دیا۔”ہمارا بچہ نہیں ہے“۔ ایک عورت پر اس سے بڑا الزام،بہتان اور دشنام کیا ہو گا۔ بہرحال ڈلیوری ہوئی، اللہ نے بیٹی عطا کی، سسرال والوں نے اس پر کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی۔ اللہ کی طرف سے یہ بچی میرے پاکیزہ کردار کی گواہ بنا کر بھیجی گئی تھی۔ اس کی شکل ماں پر نہیں باپ پر گئی تھی۔ وہ اپنے باپ اور دادا کی ہو بہو کاپی تھی۔ اس کے دھدیال میں یہ خبر پہنچی تو دیکھنے چلے آئے۔ اسے دیکھ کر میرے کردار پر بات کرنے پر انہوں نے معذرت کی مگر مجھے ساتھ لیجانے یا صلح کرنے سے گریز کیا۔ ان کا رویہ بھی سمجھ سے بالا تھا۔ ابو نے خاندان کے معتبر لوگوں کو ساتھ لیا، معاملات سدھارنے کیلئے میرے سسرال گئے تو باتوں باتوں میں انہوں نے 6 لاکھ کی ڈیمانڈ کر دی۔ کہا کہ آپ بڑے افسر ہیں 6 لاکھ سے  قطرمیں گھر کیلئے سامان خریدنا ہے حالانکہ میں جو سامان وہاں لے گئی تھی، اس سے گھر بھر گیا تھا۔ والد سفید پوش تھے۔ راشی اور مال بنانے والے  ہوتے تو ان کے آئے روز کے تبادلوں سے ہماری زندگی ڈسٹرب نہ ہوتی۔ بہرحال وہ لوگ پنچائیت کے دباؤ یا سمجھانے پر صلح کیلئے آمادہ ہو گئے۔ میں ایک بار پھر قطرخادم کے پاس چلی گئی۔ میں سمجھتی تھی ایمان کی وجہ سے ہماری زندگیوں میں تلخیاں دور ہو جائیں گی مگر بدنصیبی نے شاید میرا آنگن دیکھ لیا تھا۔ چند روز بعد پتہ چلا کہ میرا بھائی لندن چلا گیا ہے۔ اس پر خاوند بگڑا اور بپھر گیا۔کہنے لگا۔ ”اسے لندن بھجوانے کیلئے تیرے باپ کے پاس اتنے پیسے آ گئے ہیں جبکہ ہمیں 6 لاکھ روپے  دینے سے انکار کر دیاتھا“۔ اس کا رویہ اب پہلے کی نسبت زیادہ تلخ ترش اور متشددانہ تھا۔

بات بات پر پیٹنا شروع کر دیتا، بال نوچتا، پٹخ کے فرش پر دے مارتا۔ میں والد کو اس سب سے آگاہ کرتی رہی مگر وہ بے بس تھے، میرے سسرال والے کوئی بات سننے پر تیار نہ تھے، ایک بار خاوند مجھے تشدد کا نشانہ بنا رہا تھا، سوا سال کی ایمان ایک سائیڈ پر سہمی ہوئی کھڑی تھی، میری اس پر نظر پڑی تو سوچا غزالہ! یہ معصوم اس ماحول میں پلے بڑھے گی تو اس کی نفسیاتی کیفیت کیا ہو گی!!۔ اس کے ساتھ ہی میں نے بچی کے مستقبل کی خاطر جو فیصلہ کیا وہ میری زندگی کا ایک اور ٹرننگ پوائنٹ تھا۔
خادم ڈیوٹی کے لئے گھر سے نکلا تو میں ایمان کو ساتھ لے کر پولیس سٹیشن پہنچ گئی۔ جہاں رپورٹ درج کرائی، پولیس نے میڈیکل کرایا تو جسم کے ہر حصے پر نیل اور زخموں کے نشان دیکھ کر ڈاکٹرز اُف اُف کرنے لگیں۔”ایسا ظلم تو دشمن بھی نہیں کرتا“۔ اس کے بعد خادم کو پولیس نے گرفتار کیا۔ چند روز بعد اس کے بھائیوں نے اپنے پاسپورٹ جمع کرا کے ضمانت کرائی اور میرا خلع کا کیس چل پڑا۔ والدبھی قطر چلے آئے۔ایک دن میں نے ابو سے دل پر پتھر رکھ کر کہا۔”ایمان کو میں اس کے باپ کے حوالے کرنا چاہتی ہوں“۔ ابو نے کہا۔”کیا پاگل ہو گئی ہو“۔ تاہم میرے اصرار پر انہوں نے میری حمایت کر دی۔ اگلے روز عدالت میں ابو نے خادم کی طرف میری پہچان میرے دل اور جان  ایمان کو اچھالتے ہوئے کہا۔ ”خادم یہ لو تم اپنی بیٹی کو سنبھالو میں اپنی بیٹی کو سنبھالتا ہوں تمہیں بھی تو پتہ چلے بیٹی کا دُکھ کیا ہوتا ہے“۔
 اس کے بعد میں عدالت جاتی تو بیٹی کے سامنے آنے یا اسے اپنا چہرہ دکھانے سے گریز کرتی تھی۔ ایک روز عدالت نے ہماری علیحدگی کا فیصلہ کر دیا اور میں اپنے جگر کے ٹکڑے ایمان سے ہزاروں میل دور پاکستان چلی آئی۔
 تعلیم اچھی تھی ایک کالج میں جاب مل گئی، جاب اچھی مگرپرنسپل کی نظریں بری تھیں۔ میں اپنی عزت اور عفت پر کمپرومائز کرنے پر تیار نہ تھی، وہ زیادہ ہی تنگ کرنے لگا تو میں نے ریزائن کا فیصلہ کر لیا۔ ابو کو بتایا تو انہوں نے استعفیٰ دینے سے منع کیا تاہم میرے اصرار پر وہ مان گئے اور میں استعفیٰ دے کر گھر آ گئی، ابو مجھے دکھ میں دیکھ کر افسردہ اور دل گرفتہ ہو جایا کرتے تھے۔ ایک دن مجھے کہنے لگے۔”غزالہ تمہیں میرے گناہوں کی سزا مل رہی ہے“۔ اس پر میں نے چونکتے ہوئے کہا تھا۔”نہیں ابو ایسا نہیں ہو سکتا۔ آپ شریف آدمی ہیں۔ رشوت نہیں لیتے، اپنے تو کیا غیروں کی بھی مدد کرتے ہیں۔ آپ اور گناہ ایسا نہیں ہو سکتا“، اس پر والد نے بتایا، ”میں نے تیری والدہ شمیم کے اوپر بڑے ظلم کئے۔ وہ حسین وجمیل عورت تھی۔ اتنی خوبصورت کہ ایک جن کا اس پر سایہ تھا۔ محمد حسین نامی جن اس پر آتا تو ظاہر ہے وہ اپنے حواس میں نہیں رہتی تھی۔ ایسا ہوتا تو میں اس پر تشدد کرتا حالانکہ وہ بے قصور ہوا کرتی تھی۔ اب ایسا ہی تیرے ساتھ ہو رہا ہے جو اللہ کی طرف سے میرے شامت اعمال کا نتیجہ ہے“۔میری والدہ میرے بچپن میں اللہ کو پیاری ہوگئی تھیں۔رشتہ دار مجھے میری والدہ کی ہوبہو کاپی سمجھتے ہیں۔ میں نے کالج  کی ملازمت چھوڑی تو اس کے دو ماہ بعد ابو دل کے اٹیک کے باعث دار فانی سے کوچ کر گئے، ان دنوں مجھے بھی صحت کے شدید مسائل کا سامنا تھا، میری زندگی میں یہ آزمائش اور عذاب کے دن تھے، والد کی وفات کے بعد معاملات نے کچھ ایسا رخ اختیار کیا کہ مجھے گھر والوں نے بھائی کے پاس لندن بھجوا دیا۔ جہاں میں جس کو اپنے ہاتھوں سے بھائی کی دلہن بنا کے لائی تھی اس کا رویہ پہلے ترش پھر کڑوا اور اس کے بعد زہریلا ہو گیا، بات بات پر ٹوکنا ان کی عادت بن گئی۔ ”آج اس نے دو روٹیاں کھا لیں۔ چائے میں دودھ زیادہ ڈال لیا۔ یہ ہمارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے“۔ لوگ لندن کی خوبصورتیوں اور گہما گہمی میں کھو جاتے ہیں جبکہ میں وہاں رویا کرتی تھی۔لندن میں چونکہ فراغت بھی تھی اس لئے لائبریری چلی جاتی۔ اس میں اردو کتب کا سیکشن تھا جہاں میں نے بڑے بڑے پاکستانی رائٹرز کی کتابیں پڑھیں، مذہب کی طرف رجحان زیادہ ہو گیا۔ اسلامی لٹریچر بغور پڑھا۔ میری  زندگی  میں اسلامی لٹریچر کے مطالعہ کے بعد صوفیانہ رنگ در آیا۔ انسانیت کی خدمت کا درس توابو نے ابتداء میں دینا شروع کر دیا تاہم لندن میں اسلامی کتب کے مطالعے کے بعد انسانیت کی خدمت کی خاصیت پختہ تر ہو گئی۔چند ماہ بعدلندن سے بھابی کے رویے سے تنگ آ کر پاکستان وآپس آ گئی۔ جہاں آلام و مصائب میرا راستہ دیکھ رہے تھے۔
قطر سے آنے کے بعد میں نے اپنی ایجوکیشن کو مزید بہتر کیا تھا۔کراچی سے اسلام آبادجاکرکچھ کورسز کئے۔ جس  کی بناء پرایک گورنمنٹ آگنائزیشن میں ملازمت مل گئی۔ اس کے ساتھ ہی سوتیلی ماں، بھائی اور بہنوں نے یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا۔”والدین نے تعلیم دلا دی، شادی کر دی اب مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔ یہاں سے جاؤ اپنا کماؤ اور کھاؤ“۔میں کہاں جاتی،زندگی بڑے گھروں اور نازو نعم میں گزری تھی۔ بہرحال آمدن کے مطابق پسماندہ علاقے میں ایک گھر کرائے پر لیا۔ جس میں بجلی تو تھی پنکھا نہیں تھا۔ رات کو بے اختیار غم سے چیختی اور چلاتی تھی۔ اس چیخ و پکار پر پڑوسیوں کی شکایات اور اعتراضات پر تین گھر تبدیل کرنے پڑے۔ عشرت کی زندگی سے محرومی اور عسرت کی زندگی مقدر بننے پر ایک فیصلہ کیا۔یہ میری زندگی کا ایک اور ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ تنخواہوں سے بچت کر کے 25 ہزار جمع کئے  اوروالد کی جائیداد میں حصہ کیلئے عدالت چلی گئی۔ایک کوٹھی ابو نے اپنی دوسری بیوی کے نام کرا دی تھی۔ باقی جائیداد ابو کے نام تھی۔ میں عدالت رکشوں پر جاتی تو امی اور بھائی بہن بڑی گاڑی میں آتے تھے۔ میرے  رویے میں میرے سوتیلے رشتوں کیخلاف  شدت نہیں تھی۔ عدالت کی طرف سے کوئی فیصلہ آنے سے قبل ان لوگوں نے میرے ساتھ صلح کر لی۔ڈیفنس کی کوٹھی میرے نام کرا دی اور ایک عجیب اور حیران کن شرط رکھ دی۔”غزالہ ہمارے ساتھ ہمارے گھر میں رہے گی اور گھر غزالہ کی مرضی و منشا پر چلے گا“۔ اس کے بعد سے میں کینٹ والے گھر میں شفٹ ہو گئی جہاں والدہ کی صحت اور دیگر ضروریات کا پورا خیال رکھتی ہوں۔ ایک بھائی کی شادی ابو کی زندگی میں ہو گئی تھی۔ دوسرے بھائی اور بہن کی شادی میں نے کر دی اور ایک بہن ساتھ رہتی ہے اس کا رشتہ دیکھ رہی ہوں۔
زندگی واقعی ایک کہانی ہے، اس پر ذرا غور کریں میرے ابو جو انہوں نے نگینہ کے ساتھ کیا اس کی سزا ان کو  اپنی کی بیٹی کو آزمائش اور عذاب کی صورت میں ملی۔ ایک کہانی خادم اورایمان کی چل رہی ہے۔ایمان خادم کی سزا بنے گی۔لندن والے بھائی کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ بیٹا جوان اور اس کا اپنے ابو اور امی سے رویہ گستاخانہ رہتاہے۔یہ لوگ اپنے بیٹے سے تنگ ہیں۔ میرے ساتھ روا رکھے رویے کا انہیں بھی خمیازہ بھگتنا ہے۔ خادم کے والدین کی بربریت کی سزاکیلئے کوئی اور کہانی چل رہی ہوگی۔
جب سے میں نے اپنے ابو کے گھر شفٹ ہوئی ہوں میری زندگی کی تلخیاں کم ہو گئی ہیں، مگر میرے  اندر ایک تڑپتی ہوئی ممتا موجود ہے، ایک کامیاب مستقبل  کا یقین کئے ہوئے ہوں، اب اللہ میری سنتا اور مانتا ہے کبھی تو بن کہے نوازشات کی بارش ہوتی ہے، ایسا بہت دفعہ ہوا ہے۔ ایک بار دودھ پینے کو دل کیا مارکیٹ جانے کا ارادہ نہیں تھا، گھر میں دودھ موجود نہیں تھا۔ کیا کیا جائے؟ یہ سوچ رہی تھی کہ گیٹ پر  بیل ہوئی دروازہ کھولا تو دودھ والا کھڑا تھا۔ اس نے کہا۔”آپ کے پڑوسی گھر پر نہیں ہیں۔ میں نے سوچا یہ دودھ آپ کو دے دوں۔ آپ استعمال کر لیں“۔ کبھی بریانی کھانے کو دل کیا تو پڑوس سے بنی بنائی آ گئی۔ ایسا کئی بار ہوا ہے۔ اب اللہ کی رحمت سے جو پلاننگ کرتی ہوں وسائل اس قدر ہیں کہ پلاننگ پر عمل کر لیتی ہوں۔
٭٭٭
چودھری فیاض احمد ہمارے  محلہ دار ہیں۔ وہ آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس میں رہے ہیں، وہ کہتے ہیں مجھے گردے میں کینسر کا پتہ چلا تو پریشانی تو فطری امر تھا۔ میں نے فوراً اس کے تدارک کی جدوجہد شروع کر دی۔ انمول سے ٹیسٹ کرایا تو ڈاکٹر خالدہ کی مہر اور دستخطوں سے جاری ہونیوالی رپورٹ لے کر جنرل ہسپتال میں ڈاکٹر فرخ خان کے پاس چلاگیا، انہوں نے جو کہاوہ سن کر  توگویا میرے جسم سے خون ہی خشک ہو گیا ہے، پہلے انہوں نے وضاحت کی۔ ”آپ چونکہ اکیلے آتے ہیں، اس لئے آپ کو بتا رہا ہوں اگر آپ کے ساتھ کوئی آتا تو یہ بُری خبر ان کے کوش گزار کرتا۔اس کے بعد انہوں نے بتایا۔”رپورٹ کے مطابق کینسر گردے سے جگر تک پہنچ گیا ہے۔ آپ زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ ماہ زندہ رہ سکتے ہیں“۔ باقی زندگی صرف ڈیڑھ ماہ ہے،یہ سن  میری دنیا تاریک تو ہونی ہی تھی۔اس وقت میرے دو ننھے مُنے بیٹے واسع اور رافع تھے۔مجھے ان کا اور اہلیہ حمیرا فیاض کی فکر دامن گیر تھی۔انکا کا کیا بنے گا؟ زین بعد میں پیدا ہوا۔ میں فیصل آباد میں پراپرٹی کا کام بھی کرتا تھا۔ میں نے ابو کو فون پر کہا کہ میرے تمام پلاٹ بیچ کر فلاں جگہ چھ دکانیں اور انکے اوپرگھربنا دیں۔ انہوں نے بہت پوچھا مگر میں نے اسی پر اصرار کیا اور ابو نے ہاں کر دی۔
میں نے ڈاکٹرفرخ افتخار کی زبانی رپورٹ سنی ضرورتھی اس پر پریشان بھی ہوا مگر اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھا۔ دو دن بعد میں ڈاکٹر افتخار کے پاس گیا۔یہ دودن میں ایک لمحہ جیتا تو دو لمحے مرتا تھا۔ میں چونکہ ٹیسٹوں اور مشورے کیلئے تقریباً روز ڈاکٹر افتخار کے پاس آتا تھا۔ وہاں ایک دن ایک بزرگ نے مجھے بڑے شفقت سے پوچھا ”آپ مجھے بہت پریشان لگتے ہیں۔ آپ روز یہاں آتے ہیں اور اکیلے ہوتے ہیں۔ کیاآپ کے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے“۔ میں نے انہیں بیماری اور پریشانی کی وجہ بتائی اور کہا۔”میری بہت بڑی فیملی ہے۔ مگر میں نے ان کو اپنے مرض کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔میں انہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا“۔ اس پر بزرگ نے کہا۔”یہ تم بہت غلط کر رہے ہو۔ دیکھو! اگر تم نے اپنے خاندان والوں کو بتایا ہوتا تو وہ تمہارے لئے دعا کرتے، صدقہ دیتے اور اللہ قبول کر کے تمہاری بیماری کو دور فرما دیتا“۔ ان بزرگ کی بات میرے دل کو لگی۔ میں نے والد صاحب کو فون کر کے کہا۔”صحت کا کچھ مسئلہ ہے۔ ٹیسٹ وغیرہ کرا رہا ہوں۔زیادہ پریشانی کی بات نہیں۔ آپ لوگ خود دعا کریں اور عزیز واقارب سے بھی کرائیں“۔
تیسرے دن یکایک میرے  دماغ میں ایک خیال کوندا اور جنرل ہسپتال چلا گیا۔وہاں میں نے ڈاکٹر فرخ  افتخارسے مل کررپورٹوں پر شک کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا۔”یہ رپورٹیں کیسے غلط ہو سکتی ہیں، اس پر ڈاکٹر خالدہ کے دستخط ہیں جو امریکہ سے آئی ہیں۔ میں نے کہیں اور سے بھی ٹیسٹ کرانے کو کہا۔ ڈاکٹر فرخ افتخار نے کہا۔”نوری اسلام آباد یا آغا خان کراچی سے ٹیسٹ ہو سکتے ہیں“۔ میرے انمول کی رپورٹ پر شک کی وجہ صرف یہ تھی کہ جب کینسر کا ابتدائی طور پر پتہ چل گیا ہے توجگر تک نہیں پہنچا ہوگا۔
میں نے اسی رات کراچی کی فلائیٹ لی، آغا خان ہسپتال سے ٹیسٹ کرا کے وہاں سے سیدھا اسلام آباد نوری ہسپتال چلا گیا۔ تیسرے روز میں رپورٹیں لے کر ڈاکٹرفرخ افتخار کے پاس پہنچ گیا۔ نوری اور آغا ہسپتال کی ٹیسٹ  رپورٹیں یکساں تھیں۔ان کے مطابق کینسرگردے میں تھا جبکہ جگر کلیئرتھا۔ یہ رپورٹیں دیکھ کر ڈاکٹرفرخ اپنی کرسی سے اُٹھے اور فرطِ جذبات  سے میرے چہرے کو ہاتھوں میں لے کر میرا ماتھا چومتے ہوئے کہا۔”اللہ نے آپ کو نئی زندگی دی ہے“۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ڈاکٹر نوازچغتائی کو بلا کر کہا۔”ان کو آپریشن کا ٹائم دیدیں“۔ چند دن بعد انہوں نے میرا کینسر زدہ گردہ نکال دیا۔یہ اللہ نے مجھے نئی زندگی دی تھی۔میرا یقین ہے،اللہ نے یہ زندگی مجھے دعاؤں اور صدقات کے صدقے بخشی تھی۔

جمیل اطہرقاضی
چیف ایڈیٹر روزنامہ تجارت/جرأت

میں آپ کو کس طرح بتاؤں کہ میں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور اس نے مجھ سے گلے ملنے کی مقدور بھر سعی کی مگر اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا۔1947 ء میں جب فسادات کی آگ بھڑکی تومیری عمر اس وقت سات سال تھی، میرے والد محترم قاضی سراج الدین سرہندی نے جو سر ہند (ریاست پٹیالہ) کے ایک متمول تاجر تھے، ہمیں اپنے ننھیال پٹیالہ بھیج دیا تاکہ ہم وہاں اپنے نانا مرحوم شیخ مہر علی کے پاس بحفاظت رہ سکیں کیونکہ وہ وہاں ایک ممتاز پولیس افسر تھے۔ ہمیں سرہند سے گاڑی میں سوار کر دیا گیا اور پٹیالہ ریلوے سٹیشن پر ہمارے نانا ہمیں لینے کے لئے موجود تھے۔ ٹانگہ میں سوار ہو کر گھر پہنچے۔ وہاں ایک دو روز امن اور چین سے گزارے۔ ایک روز جبکہ دوپہر کا کھانا تیار ہو رہا تھا تو اچانک گولیوں کی آواز سنائی دی اور ہمارے نانا نے ہمیں یہ پیغام دیا کہ ہمیں بہت جلد یہ مکان چھوڑ دینا چاہئے کہ محلہ کے غیر مسلم لوگوں کے ارادے اچھے نہیں ہیں۔ اس صورت حال سے گھر بھر میں پریشانی اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی مگر اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ یہ مکان چھوڑ دیاجائے اور کسی مسلم اکثریت والے علاقے میں پناہ لی جائے، ابھی یہ مکان چھوڑنے کی تیاری ہو رہی تھی کہ ہمارے ماموں نے جومکان کی بالائی منزل میں رہائش رکھتے تھے اورمحکمہ پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل تھے۔ یہ اطلاع دی کہ ایک پڑوسی نے ان کی طرف بندوق کا نشانہ باندھنے کی کوشش کی مگر وہ جان بچا کر نیچے آگئے ہیں۔ ایسی صورت میں مزید ایک لمحہ کے لئے اس مکان میں رہنا قرین مصلحت نہیں تھا۔ اس لئے جملہ اہل خانہ مکان سے باہر نکل آئے، باہر پولیس یا فوج کے کچھ جوان پہرہ دے رہے تھے ہم یہاں سے ایک دوسرے محلہ میں چلے گئے اور وہاں ایک واقف کار کے مکان میں پناہ لی۔ ہم لوگ اس مکان کے ایک آخری کمرہ میں پناہ گزین تھے، مالک مکان کسی ضرورت سے بالائی منزل پر گیا مگر واپس نہ لوٹا۔ کافی انتظار کے بعد پتہ کیاگیا تو وہ خون میں لت پت پایا گیا۔ خیال گزرا کہ یہ کسی بدبخت کی گولیوں کانشانہ بن گیا ہے اسی دوران میں گولیوں کی آواز بڑھتی گئی اور ہمیں مجبوراً ایک قافلہ کے ساتھ دوسرے محلہ میں ہجرت کرنا پڑی۔ ہم گھر سے جومعمولی سامان ہمراہ لائے تھے۔ اس کا بڑا حصہ اسی مکان میں چھوڑ دیا گیا۔ یہاں سے ایک اور جگہ پہنچے وہاں بدقسمتی سے عورتوں کو ایک علیحدہ بڑے کمرے میں رکھا گیا اور مردوں کو علیحدہ کر دیا گیا۔ غیر مسلموں نے کچھ عرصہ میں اس محلہ پر بھی حملہ کر دیا۔ جس حویلی میں ہم مقیم تھے۔ اس کا مالک نہایت نیک اور شریف مسلمان تھا اور پٹیالہ کے معززین میں اس کا شمار ہوتا تھا۔ اس نے حالات کی نزاکت دیکھ کر تمام خواتین کو ہدایت کی کہ وہ غیر مسلموں کی چیرہ دستیوں اور ان کے مذموم ارادوں سے بچنے کے لئے یہ طریقہ اختیار کریں کہ جب غیر مسلم حملہ آور مکان میں داخل ہوں تو مکان کے صحن میں سے گزرتی ہوئی بجلی کی ایک ننگی تار کو چھو کر خود کو موت کے حوالے کر دیں۔ چونکہ محلہ میں گولیوں کی بوچھاڑ جاری تھی اس لئے کئی کمزور دل خواتین نے اس ہدایت پر عمل کرنا شروع کر دیا، ہماری والدہ محترمہ بھی اس کے لئے تیار ہوگئیں مگر اچانک انہیں یہ احساس ہوا کہ مرنے سے  پہلے بچوں کو پانی ضرور پلانا چاہئے، وہ ہمیں لے کر پانی کے نل کی طرف گئیں کہ اچانک ہمارے ماموں کی نظر پڑی۔ وہ ہمیں دیکھ کر دیوانہ وار دوڑے اور ہم سب کو بری طرح گھسیٹ کر ایک اور جگہ لے گئے۔ اس وقت ہم اپنے نانا اور دوسرے اہل خانہ سے الگ ہو چکے تھے۔ رات اسی طرح گزری۔ اگلے روز ایک اور جگہ منتقل ہوئے، وہاں نانا اور دوسرے اراکین کنبہ پھر مل گئے، اس جگہ بھی وہ حادثہ ہوا کہ غیر مسلموں کے حملہ کے خوف سے مالک مکان نے اپنے مکان کو آگ لگانے کا اعلان کر دیا۔ ہم اپنی والدہ کے پاس اسی مکان کی بالائی منزل پر تھے۔ یہ سن کر عورتیں اور بچے بڑی تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگے۔ اسی دھکم پیل میں ہماری خالہ زاد بہن بری طرح زخمی ہوگئیں (بعد میں وہ پاکستا ن آکر انتقال کرگئیں) اور جب ہم مکان سے باہر نکلے تو خالہ بھی فائرنگ کی زد میں آچکی تھیں۔ انہیں اگرچہ شدید زخم آئے مگر ان کی جان بچ گئی۔ اس دھکم پیل میں چھ سات روز گزر چکے تھے اور اب پٹیالہ شہر میں ہمارا آخری پڑاؤ ”شیرانوالہ گیٹ“ تھا۔ یہاں ہم دکانوں کے آگے کے ”پھٹوں“ پر پناہ گزین تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں اپنے ماموں زاد بھائی کے ساتھ سیڑھیوں کے ذریعے اس دکان کی چھت پر گیا تو وہاں ان گنت لاشیں پڑی ہوئی تھیں اور دوسری دکانوں کی چھتیں بھی لاشوں سے اٹی پڑی تھیں۔ سخت جانچ پڑتال اور ”آخری مرحلہ بعافیت“ گزارنے کے لئے ہم سڑک پر پڑی لاشوں میں ”مردہ“ بن کر چھپ گئے۔ پھراعلان ہوا کہ اگلے روز مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کے لئے بہادر گڑھ کیمپ بھیجا جائے گا۔ صبح سویرے گیٹ پرایک ہجوم جمع ہوگیا تھا۔ ہم بھی لاشوں کے انبارسے باہر آگئے تھے۔ گیٹ پر تلاشی لی گئی۔ ہماری آخری پونجی پیتل کا ایک تھال تھا جو یہاں چھیننے کی کوشش کی گئی مگر کافی منت سماجت کے بعد یہ ہمیں واپس کر دیا گیا۔ بہادرگڑھ کیمپ میں ایک ماہ کے قریب عرصہ گزارنا پڑا۔ یہاں اس دوران میں راشن کا حصول، لکڑی اور ایندھن اور کپڑوں کی نایابی کے مسائل نے بری طرح پریشان کررکھا۔ راشن کا مسئلہ تو اس طرح حل ہوا کہ نانا مرحوم کسی نہ کسی طرح ایک سو روپے اپنے ساتھ لانے میں کامیاب ہوگئے تھے اور ایندھن کی ضرورت ایک کمرے کی چھت کی لکڑیاں، کھڑکیاں اور دروازے توڑ کر پوری کی گئی۔ رات کو پتھروں پر سوتے تھے اور صبح اِدھر اُدھر چل پھر کر اور گھوم کر…… بالآخر پاکستان آنے کے لئے گاڑی میں سوار ہوئے اور ہزار ہا پریشانیوں اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کی سرحدوں میں داخل ہو کر ہماری گاڑی کی منزل شاہ جیونہ (ضلع جھنگ) قرار پائی۔ لیکن گاڑی کے مسافروں نے جو تمام کے تمام پٹیالہ شہر کے رہنے والے تھے اس پر سخت اعتراض کیا جس کے نتیجہ میں گاڑی کا سفر جھنگ ریلوے سٹیشن پر ختم ہوا۔ یہاں مکان کا حصول سب سے پہلی ضرورت تھی لوگ دھڑا دھڑ متروکہ مکانوں کے تالے توڑ ررہے  تھے مگر ہمارے شریف النفس نانا اس لاقانونیت پر آمادہ نہ ہوئے اور اس کی بجائے متعلقہ حکام کے دفاتر کا طواف کرنا پڑا۔ اس دوران میں جھنگ صدر کی ایک شاہراہ پر واقع گندے نالہ کے کنارے پر پڑاؤ رہا۔ ہمارے پاس بوریوں کے بستر تھے اور تن ڈھانپنے کے لئے بھی بوریوں کا یہی لباس…… ادھر والد صاحب ضلع لائل پور کے ایک قصبہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تشریف لے آئے تھے جو جھنگ سے بیس میل کے فاصلہ پر تھا۔ پٹیالہ میں خون ریزی اور مار دھاڑکی اطلاعات انہیں مل چکی تھیں وہ ہماری زندگی یا موت کے واقعات کے بارے میں معلومات لینے کے لئے جھنگ آئے میں اسی گندے نالے کے قریب کھڑا سڑک پر آنے جانے والوں کی طرف دیکھ رہا تھا کہ مجھے سامنے سے ایک شناسا صورت نظر آئی اور دفعتہ میرے منہ سے چیخ قسم کی آواز نکلی۔ ابا جی…… ابا جی……! میں والد صاحب کی طرف بھاگا اور ان سے لپٹ گیا۔ میری آنکھوں میں آنسو تھے اور جب میں نے نظریں اٹھائیں اور  دیکھا کہ فرط مسرت سے والد صاحب کی آنکھیں بھی آنسوؤں سے تر ہو چکی تھیں۔

ظفر علی راجا
گاہے منظر یہ بھی دکھلاتی ہے موت
مرزا غالب نے کیا خوب کہا تھا ؎
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
مرزاصاحب موصوف کو شاید یہ خبر نہیں تھی کہ موت کے آنے اور موت کے انسان کو چُھو کر گزرجانے میں بڑا فرق ہے۔موت نے تو آخر اک دن آنا ہے لہٰذا اس خیال سے خوف زدہ ہوکر جاگتے رہنے کو مرزا غالب نے بالکل درست قابل اعتراض قرار دیا ہے لیکن کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ موت انسان کو چھو کر گزر جاتی ہے۔ جب جب ایسے لمحات یاد آتے ہیں تو راتوں کی نیند اڑجاتی ہے اور انسان اللہ تبارک تعالیٰ کا شکر ادا کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جس نے موت کانظارہ کروایا لیکن زندگی کا چراغ گل نہیں ہونے دیا۔ 
میری زندگی میں بھی چندایک واقعات ایسے یادگار ہیں جب موت نے اپنے درشن کروائے لیکن پھر یوں ہوا کہ یہ بادِ فنا میرے قریب سے گزر گئی۔ 1962ء کا ذکر ہے، میں لاہور میں انیمل ہسبینڈری کالج کا طالب علم تھا۔ عید کی چھٹیاں ہوئیں تو میں اپنے خاندان کے ساتھ عید منانے راولپنڈی چلا گیا۔ ان دنوں صرف تین بڑی ٹرانسپورٹ کمپنیاں تھیں۔ ایک تو گورنمنٹ بس سروس تھی جو صدر راولپنڈی سے چلتی تھی ایک ہمالیہ ٹرانسپورٹ اور خان ٹرانسپورٹ کمپنی تھیں۔ ان دونوں کمپنیوں کی بسیں راولپنڈی شہر سے روانہ ہوتی تھیں۔گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کا اڈہ ہمارے گھر سے قریب تھا۔ یہ بس سروس بھی باقی دونوں سے بہتر تھی۔ اس لئے میں گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کی بسوں ہی میں سفر کیا کرتا تھا۔ جب میں لاہور واپسی کیلئے اڈے پر پہنچا تو عید کی چھٹیاں ختم ہونے کی وجہ سے ٹکٹ خریدنے والوں کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی۔ میں بھی قطار میں کھڑا ہوگیا۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد میری باری آئی۔ میں نے پانچ روپے کا نوٹس کھڑکی کے اندر ٹکٹ کلرک کو پکڑایا لیکن چند ہی سیکنڈ کے بعد اس نے مجھے پیسے واپس کرتے ہوئے بتایا کہ بس کی تمام نشستوں کے ٹکٹ جاری ہوچکے ہیں۔ آپ یہیں کھڑے رہیں۔ آدھے گھنٹے بعد اگلی بس کے ٹکٹوں کا اجرا شروع ہوگا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پچیس تیس مسافروں کی قطار کھڑی تھی۔ میں نے ٹکٹ کلرک سے کہا کہ بس کی آخری نشست پانچ سواریوں کے لئے ہوتی ہے لیکن چھ سواریاں بھی اس پر باآسانی بیٹھ سکتی ہیں۔ اگر مجھے ٹکٹ دے دیا جائے تو میں آخرت نشست پر بیٹھی سواریوں کی اجازت سے جگہ بنالوں گا لیکن ٹکٹ کلرک نے ٹکٹ جاری کرنے سے انکار کردیا۔ نتیجہ یہ کہ مجھے قطار میں سب سے آگے آدھا گھنٹہ مزید کھڑا ہونا پڑا۔ ٹکٹوں کا اجراء شروع ہوا تو سب سے پہلے مجھے ٹکٹ ملا اور بس کی پہلی نشست بیٹھنے کو ملی۔ جہاں سے سامنے سڑک کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ ان دنوں جی ٹی روڈ آج کل کی طرف چوڑی اور دوطرفہ نہیں تھی۔ ابھی ہم جہلم سے پندرہ بیس میل پیچھے تھے کہ اچانک سڑک پر لوگوں کا ایک ہجوم دکھائی دیا۔ آٹھ دس بسیں اور کاریں بھی سڑک کے کنارے کھڑی تھیں۔ سب لوگ سڑک کے بائیں طرف گہری کھائی پرنظریں جمائے ہوئے تھے۔ ہمارے ڈرائیور نے بھی بس روک لی۔ ہم سب بھی بس سے اتر آئے اور گہری کھائی پر نگاہ ڈالی۔ یہ دیکھ کر خوف سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے کہ نیچے کھائی میں وہی بس پچکی ہوئی الٹی پڑی تھی جس کا آخری ٹکٹ لینے کے لئے میں نے راولپنڈی میں ٹکٹ کلرک کی منّت کی تھی۔ نیچے بہت سے لوگ بس کے ڈھانچے سے زخمیوں اور جان کی بازی ہارنے والوں کو نکال رہے تھے۔ ہماری بس بھی چونکہ اسی کمپنی کی تھی۔ ہمارے ڈرائیور نے اعلان کیا کہ نیچے جاکر زخمیوں کو بس میں منتقل کیا جائے تاکہ انہیں قریبی ہسپتال میں پہنچایا جاسکے۔ زخمیوں کی مدد کے لئے جو لوگ بس سے اتر کر نیچے گئے۔ یہ خاکسار بھی ان میں شامل تھا۔ بس کے پچکے ہوئے ڈھانچے سے زخمیوں کو نکالتے ہوئے میری نظر آخری نشست پر پڑی تو اندرونی منظر دیکھ کر دل خوف سے دھک دھک کرنے لگا۔ آخری نشست کی پانچوں سواریاں اپنی جان کی بازی ہار چکی تھیں۔ میں نے دل میں خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اور سوچا کہ اگر میری دوبارہ درخواست پر ٹکٹ مل جاتا تو اس وقت میں بھی ان پانچوں کے ساتھ بے جان پڑا ہوا ہوتا۔
1965ء کے دوران میں محکمہ ریماؤنٹ کے ماتحت میاں چنوں میں بطور وٹرنری ڈاکٹر خدمات سرانجام دے رہا تھا۔ ایک دن اچانک میری ایک ممانی صاحبہ راولپنڈی سے میاں چنوں تشریف لائیں اور مجھے بتایا کہ ان کا بیٹا ارشد محمود ان سے ناراض ہے اسے کسی طرح منا کر یہاں لاؤ تاکہ ہماری صلح ہوسکے۔ اس روز ہفتے کا دن تھا۔ اگلے دن اتوار کی چھٹی تھی۔ا رشد محمود لاہور کے ایورنیو سٹوڈیو میں لیبارٹری انچارج پیارے خان کے ساتھ ذمہ داریاں نبھا رہا تھا۔ وہ نہ صرف یہ کہ میرا ماموں زاد بھائی تھا بلکہ قریبی دوست بھی تھا۔میں اسی روز بذریعہ بس لاہور پہنچا۔ ایورنیو سٹوڈیو میں ارشد محمود سے ملا۔ تو اس نے بتایا کہ ایک فلم کا فائنل پرنٹ نکالا جارہا ہے۔ یہ کام صبح کے قریب ختم ہوگا۔ پھر ہم دونوں بھائی میاں چنوں چلیں گے لیکن بعض فنی مسائل کی وجہ سے اس رات کام مکمل ہونا مشکل ہوگیا تو ارشد محمو دنے مجھے کہا کہ آپ میاں چنوں چلے جائیں رات تک میں بھی وہاں پہنچ جاؤں گا۔ اس وقت صبح کے تقریباً چار بج رہے تھے۔ میں ملتان روڈ پر آکر کھڑا ہوگیا۔ اچانک دو بسیں تیزی سے آتی ہوئی دکھائی دیں۔ میں نے ہاتھ بلند کرکے رکنے کا اشارہ دیا۔ اگلی بس تو فراٹے بھرتی ہوئی گزر گئی۔ رات ہلکی بارش کی وجہ سے سڑک پر پھسلن کے اثرات تھے عقب میں آنے والی بس کے ڈرائیور نے مجھے دیکھ کر جونہی بریک لگائی بس بے قابو ہوگئی اور تیزی سے پھسلتی ہوئی میری جانب آنے لگی جان کے خطرے کو بھانپتے ہوئے میں بھاگ کر ایک طر ف ہوہی رہا تھا کہ بے قابو بس تین چار فٹ کے فاصلے سے میرے قریب سے گزری اور ایک ہوٹل کے دروازے سے جاٹکرائی۔ ہوٹل کا دروازہ ایک دھماکے سے ٹوٹ گیا اور آدھی بس ہوٹل کے اندر داخل ہوکر رک گئی۔ بس کا درمیانی دروازہ ہوٹل سے باہر رہ گیا۔ میں تیزی سے بس میں داخل ہو اتو دیکھا کہ نشستوں سے ٹکرانے کی وجہ سے تقریباً سارے مسافر زخمی ہوچکے ہیں۔ سب سے اگلی نشست پر بیٹھے ہوئے دو مسافر اور ڈرائیور شدید زخمی تھے۔ بس سے باہر نکالتے نکالتے یہ دونوں مسافر اللہ کو پیارے ہوگئے۔ میں نے اللہ تبارک تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے چار قدم بھاگنے کی مہلت عطا کی۔ اگر وہ بے قابو بس مجھ سے ٹکراجاتی تو ہوٹل کے بند دروازے اور بس کے درمیان ہونے والے ٹکراؤ کے نتیجے میں میرے 

بدن کے پُرزے پُرزے ہوسکتے تھے۔
1966ء میں بھی اسی خاکسار کو اللہ تعالیٰ نے ایک لرزہ خیز حادثاتی موت سے محفوظ رکھا۔ میں اوکاڑہ کے ملٹی فارمز میں بطور وٹرنری ڈاکٹر خدمات سرانجام دے رہا تھا۔ اوکاڑہ میں کچھ کچھ میلوں کے فاصلے پر چار فارم بنے ہوئے ہیں اور شاہراہ ملتان روڈ پر مرکزی دفاتر ہیں جہاں کرنل اور میجر صاحبان فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ میرا دفتر بھی یہیں تھا اور سرکاری جیپ پر میں ہر روز ان تمام فارموں پر جایا کرتا تھا۔ ایک دن میں ایک فارم ”ارنم“ پر مصنوعی نسل کشی کے حوالے سے جانوروں کو دیکھ رہا تھا کہ موٹرسائیکل پر ایک شخص میرے بارے میں پوچھتا ہوا وہاں پہنچ گیا۔ اس نے بتایا کہ اوکاڑہ کے ریلوے سٹیشن کے قریب اس کا پولٹری فارم ہے۔ وہاں مرغیوں میں ایک عجیب سی بیماری پھیلی ہوئی ہے۔ آپ مہربانی کرکے میرے ساتھ چلیں تاکہ آپ کی ہدایات کے مطابق بیماری پر قابو پایا جاسکے۔ میں نے اسے انتظار کرنے کا کہا۔ پھر اپنی ڈیوٹی پوری کرکے میں اسکے ساتھ موٹرسائیکل پر بیٹھ گیا اور جیپ کے ڈرائیور کو کہا کہ وہ واپس مرکزی دفتر میں چلا جائے۔ ابھی ہم مرکزی دفتر سے تقریباً دومیل پیچھے ہی تھے کہ جیپ کے ڈرائیور نے گاڑی ہمارے موٹرسائیکل سے آگے نکالی اور ہمیں آگے رکنے کا اشارہ کیا۔ جب ہم رک گئے توڈرائیور نے مجھ سے کہا کہ اس وقت کرنل افتخارصاحب ارنم فارم پر آنے والے ہیں۔ انہوں نے آپ کے بغیر مجھے اکیلے جیپ چلاتے ہوئے دیکھا تو میری سرزنش کردیں گے۔ کرنل افتخار صاحب جلد غصے میں آنے والے افسر تھے۔ میں موٹرسائیکل کی عقبی نشست سے اترکر جیپ پر بیٹھ گیا اور موٹرسائیکل کے مالک کو اپنے پیچھے آنے کی تلقین کی۔ دومیل کے سفرکے بعد ہماری جیپ ملتان روڈ پر دائیں ہاتھ ہیڈکوارٹر کی طرف مڑی تولاہور کی طرف سے ایک تیزرفتار بس آرہی تھی۔ اچانک ہمیں ایک زبردست دھماکے کی آوازآئی، پلٹ کردیکھا توموٹرسائیکل ڈرائیور اور موٹرسائیکل ہوا میں اڑتے ہوئے ایک دیوار سے ٹکرارہے تھے۔ میں اورجیپ کے ڈرائیورنے اسے اٹھایا جیپ میں ڈالا اور سرکاری ہسپتال میں پہنچایا۔ اس کے بعد اس کے بتائے ہوئے پتے پر پولٹری فارم پہنچے اور اس کے اہل خانہ کوحادثے کی اطلاع دی۔ جب ہم اس کے اہل خانہ سمیت واپس ہسپتال پہنچے توپتہ چلا کہ حادثے کی شدت کے سبب اس کی ٹانگیں بازو اور سرکی ہڈی ٹوٹ گئی تھی اور ہسپتال میں داخلے کے چند منٹ کے بعد وہ جان کی بازی ہارچکا تھا۔ میں نے دل میں خدا کا لاکھ لاکھ شکرادا کیا اگرمیرا ڈرائیور مجھے دومیل پہلے روک کر جیپ میں نہ بٹھاتاتو پولٹری فارم کے مالک کے ساتھ میں بھی ہڈیاں پسلیاں تڑوا کر اگلے جہان کے سفرپر روانہ ہوچکا تھا۔
1971ء میں بھی میری زندگی کا چراغ گل ہوتے ہوئے بچا۔ ایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔ ان دنوں پاک بھارت جنگ جاری تھی اور میں کھاریاں ملٹری فارم میں بطور وٹرنری ڈاکٹرخدمات سرانجام دے رہا۔ ایک دن شام کو ملٹری فارم کے منیجر نے مجھے بلایا اور بتایا کہ صبح چار بجے لالہ موسیٰ ریلوے سٹیشن پر مال گاڑی آئے گی اس میں سرگودھا سے تربیت یافتہ خچرآرہے ہیں جوکشمیرکے محاذ پر جائیں گے۔ جی ایچ کیو راولپنڈی سے ہدایت آئی ہے کہ آپ صبح چاربجے لالہ موسیٰ ریلوے سٹیشن پر موجود ہوں اوراگرسفرکرتے ہوئے خچروں کو کسی طبی امداد کی ضرورت ہو تووہ مہیاکریں میں حکم کے مطابق صبح چاربجے موٹرسائیکل پر لالہ موسیٰ ریلوے سٹیشن پہنچ گیا۔وقت مقررہ پرگاڑی آگئی۔ خچروں کے ساتھ بطورنگران دوفوجی حوالدار بھی سفرکررہے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ سب معاملات ٹھیک ہیں کسی بھی طبی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔اس وقت صرف ایک چائے کا سٹال کھلا تھا۔ ایک جاروب کش پلیٹ فارم کو جھاڑو سے صاف کررہا تھا اور ایک ریلوے گارڈ بھی ڈیوٹی پر موجود تھا۔میں نے ددنوں فوجی حوالداروں کو چائے کی دعوت دی جوانہوں نے قبول کرلی۔ ہم تینوں نے ریلوے ٹی سٹال سے چائے پی۔ چائے ختم ہوتے ہی دونوں حوالدار کہنے لگے کہ اب آپ واپس چلے جائیں۔ ریل کی روانگی میں تین چارمنٹ باقی ہیں، میں نے کہا جب ریل روانہ ہوگی میں اس وقت جاؤں گا کیونکہ جی ایچ کیو میں ریل کی روانگی کا وقت بتانا ہے۔ دونوں حوالداروں نے ہنستے ہوئے کہا۔ آپ شاید ساری رات جاگتے رہے ہیں۔ کھاریاں جاکر جی ایچ کیو فون کرکے بتادیں کہ گاڑی بخیریت لالہ موسیٰ سے نکل گئی ہے۔ میں نے ان کی بات مان لی اور سٹیشن سے باہر آکرموٹرسائیکل پر کھاریاں کی طرف روانہ ہوگیا۔ ابھی میں نے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹرسفرکیا تھا کہ اچانک عقب سے زوردار دھماکوں کی آوازیں آنے لگیں۔ میں نے موٹرسائیکل روک کرپیچھے دیکھا توایک بھارتی  جنگی جہاز سٹیشن کی طرف سے آرہا تھا اور سٹیشن سے گہرا دھواں اٹھ رہا تھا میں نے فوراً موٹرسائیکل واپس کی اور ریلوے سٹیشن پر پہنچا تودل ہلادینے والا منظر دیکھا۔ دونوں ہنس مکھ حوالدار چائے والا، جاروب کش اور ریلوے گارڈ ریلوے پلیٹ فارم پر لہولہان مردہ پڑے ہوئے تھے۔ خچروں والے دونوں ڈبے بھارتی جہاز کی بمباری سے پچک گئے تھے۔ کچھ خچربے جان اور لہولہان تڑپ رہے تھے۔ میں نے سٹیشن ماسٹرکے کمرے سے فون پر فارم منیجر سے بات کی اور اسے سارا منظرنامہ بتایا۔ مینجرنے اسی وقت جی ایچ کیوسے رابطہ کیا۔ وہاں سے ہدایت آئی کہ ظفرسے کہو کہ دونوں فوجی شہیدوں کی لاشوں کو لکڑی کے تابوت بنوا کر سرگودھا روانہ کردے۔  میں نے یہ فریضہ سرانجام دیا جب میں دونوں شہدا کی لاشوں کو تابوتوں میں رکھ رہا تھا۔ تومیرے خیالوں میں ان کے ہنستے مسکراتے چہرے ابھرآئے جو مجھے ریلوے سٹیشن سے قبل ازوقت روانہ ہوجانے کی تلقین کررہے تھے۔ میں نے دونوں کے اجسام خاکی کو سلام کیا اور سوچا کہ اگریہ دونوں شہید مجھے قبل ازوقت ریلوے سٹیشن سے روانہ نہ کردیتے توشاید میں بھی ایک تیسرے تابوت میں بندکیا جارہا ہوتا۔ ان سب واقعات سے حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ اللہ بزرگ وبرتر جب کسی کو بچاناچاہے توناقابل یقین اتفاقات پیدا ہوجاتے ہیں اور جب کسی کو مارنا چاہے توہزار حفاظتی تدبیریں بھی پڑی کی پڑی رہ جاتی ہیں۔ موت کے قریب گزرجانے کے یہ مناظر دیکھ کر اور محسوس کرکے میرے ذہن میں ایک شعرگردش کرنے لگتا ہے جوکچھ یوں ہے۔
؎گاہے منظریہ بھی دکھلاتی ہے موت 
چھو کے بندے کو گزر جاتی ہے موت

عارف خان سندھیلا
عارف خان سندھ مسلم لیگ ن کے ایم پی اے ہیں۔ وہ حقیقت میں وزیراعظم میاں نواز شریف کے شیدائی اور فدائی ہیں۔ مسلم لیگ ن میں شمولیت کے بعد اپنا تن من دھن سب نواز شریف پر قربان کیا۔ 12 اکتوبر 1999ء کو جنرل مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹا تو عارف خان سندھیلہ مشرف آمریت کے خلاف سب سے پہلے سینہ سپر ہوئے۔ جس کی پاداش میں ان کو قید و بند کی صعوبتوں سے دو چار ہونا پڑا۔ قید کے دوران ان کے والد کا انتقال ہوا۔ کلثوم نواز نے میاں نواز شریف کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا۔ ایک موقع پر ان کی گاڑی کرین سے اٹھا لی گئی سندھیلہ کلثوم نواز کی گاڑی کے ساتھ لٹکے ہوئے تھے۔ کرین کی چین میں آ کر ان کی ایک انگلی بھی کٹ گئی۔ بعض تو انگلی کو خون لگا کر شہیدوں کی صف میں شامل ہو گئے۔ سندھیلہ کی حقیقت میں انگلی کٹی تھی۔ سندھیلہ نے  اپنی جائیداد سیاست اور میاں نواز شریف کی حمایت میں بیچ ڈالی۔ ملتان کے شیخ ظہور کے بعد عارف خان سندھیلہ نے نواز شریف کی حمایت میں اشتہارات پر سب سے زیادہ خرچہ کیا۔ 12اکتوبر کو نواز شریف گرفتار ہوئے تو شیخ ظہور اشتہار بازثابت ہو گئے۔ عارف سندھیلہ ڈٹے رہے۔ نوابزادہ نصراللہ خان کی سربراہی میں بحالی جمہوریت کی تحریک  (ARD) چلی تو سندھیلہ اس تحریک کے پرجوش کارکنوں میں شامل تھے۔ نوابزادہ نصراللہ نے اس تحریک میں آگ اور پانی کو  یکجاکر دیا تھا۔نواز شریف کی مسلم لیگ اور بینظیر بھٹوکی پیپلز پارٹی  اس تحریک میں شامل تھی۔ عارف سندھیلہ بتاتے ہیں کہ 23 مارچ 2001ء کو اے آر ڈی کا موچی دروازے میں جلسہ تھا جس کو مشرف حکومت نے سبوتاژ کر کے رکھ دیا۔ ہم لوگ نوابزادہ نصراللہ خان کے گھر کے سامنے جمع ہو گئے۔ مسلم لیگ ن کی طرف سے میں علاقے کے نوجوان مسلم لیگی کارکن عرفان الحسن بھٹی ساتھ لے کراس کربلا میں چلا آیا۔  عرفان الحسن بھٹی کندھے سے کندھا ملا کے  میرے ساتھ ہی ڈٹے رہے۔پیپلز پارٹی کے ورکرز کی تعداد زیادہ تھی۔ ہم لوگوں پر پولیس حملہ آور ہو گئی۔ شیلنگ، آنسو گیس، لاٹھی چارج، جیسے  پولیس کی طرف سے ظالمانہ حربے استعمال کئے گئے۔ لگتا تھا کہ ہمارا وقت قریب آ گیا ہے۔ سر پر ڈنڈے، جسم پر سوٹے ایسے پڑے کہ اپنا ہوش نہ رہا  آنکھ کھلی تو قلعہ گوجر سنگھ تھانہ کی حوالات میں پایا جہاں سے تیسرے روز زخمی حالت میں جیل منتقل کردیا گیا۔جہاں جو سلوک ہوا ایسا دشمن کے جنگی قیدیوں کے ساتھ بھی نہیں ہوتا ہوگا۔بہر زندگی تھی،اس لئے بچ گئے۔
عرفان الحسن بھٹی بتاتے ہیں کہ میں نے اور عارف خان سندھیلہ نے جہاں اکٹھے مار کھائی۔ میرا سر لاٹھی لگنے سے پھٹ گیا، جس سے خون کا فوارہ ابل پڑا۔ پولیس والوں نے ہم لوگوں کو اٹھا اٹھا کر ٹرکوں میں ڈالا۔ وہاں جس طرح فائرنگ اور لاٹھی چارج ہو رہا تھا زندہ بچ جانا بھی ایک معجزہ تھا۔
سندھیلہ کہتے ہیں کہ دوسری مرتبہ انہوں نے 2013ء کی انتخابی مہم کے دوران اس وقت موت کو قریب سے دیکھا جب میاں نواز شریف کے جلسے کے بعد مجھے یرغمال بنا لیا گیا۔
نواز شریف نے ہمیشہ مجھ پر شفقت کی ہے۔ شیخوپورہ میں جلسہ عام کے دوران سٹیج پر میرا ہاتھ پکڑ کر انہوں نے اوپر اٹھایااور کامیاب جلسے پر مبارک باد دی۔مشکل میں اپنے ساتھ کھڑا رہنے کا تذکرہ کیا۔ اس پر شیخوپورہ کے میرے حریف رنجیدہ ہو گئے جن سے مجھے کبھی اچھائی اور بھلائی کی امید نہیں رہی۔ جلسہ ختم ہوا تو میاں نواز شریف ہیلی کاپٹر میں سوار ہو کر لاہور چلے گئے ان کے  چیف سیکورٹی افسر شکور صاحب نے  مجھے گھر ڈراپ کرنے کو کہا توساتھ کھڑے جاوید لطیف نے کہہ دیا ہم انہیں گھر چھوڑ دیں گے۔ میں نے بھی شکور صاحب کوزحمت  دینا مناسب نہ سمجھا۔ جاوید لطیف کی گاڑی میں سوار ہو گیا جس میں سات آٹھ لوگ موجود تھے۔ انہوں نے مجھ پر تشددکرنا شروع کر دیا۔اس بہمیت سے  میں بے ہوش ہو گیا۔ اس کے بعد جب آنکھ کھلی تو میں ڈاکٹرز ہسپتال میں تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ میں چار دن بعد ہوش میں آیا ہوں۔جہاں میاں محمدنواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف الگ الگ تیمار داری کیلئے آئے۔  
٭٭٭
عرفان الحسن بھٹی 
عرفان الحسن بھٹی نے عارف سندھیلا والا واقعہ دہراتے ہوئے کہا کہ  ”میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے مسلم لیگ ن سے وابستہ رہا ہوں،مشرف دور میں مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑامگر کبھی پائے استقلال لغزش نہ آسکتی،آمریت دھونس اور دباؤ سے جھکا سکی نہ لالچ  دے کر اپنے ساتھ ملا سکی۔مسلم لیگ ن کی اعلیٰ لیڈر شپ نے ورکر کو ہمیشہ عزت دی۔نواز شریف پاکستان کے آج کے دور میں واحد حقیقی لیڈر ہیں،ہم جیسے کارکن ان کے جانثار ہیں،مجھے علاقے میں نواز شریف سے محبت اور ان کے کارنامے اجاگر کرنے پر علاقے کے لوگ نواز شریف کا جیالا کہتے ہیں،یہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی شفقت تھی کہ مجھے مسلم لیگ ن کی طرف سے 2013ء کے الیکشن میں صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دیا گیا۔مقامی مسلم لیگی لیڈر نے ایک کروڑ کی ڈیمانڈ کی،میں نے انکار کیا تو اس نے حلقہ اوپن کرادیااور میرے مد مقابل کی حمایت کی،اسی کردار کی وجہ سے شیخوپورہ میں بلدیاتی الیکشن میں اس ایم این اے کا پورا پینل ہار گیا۔“ 

متعلقہ خبریں