دنیا کے سامنے صحرا لیکن حقیقت کچھ اور

2016 ,نومبر 27



 

لاہور(حنا شہزادی)زمین کے ایک تہائی حصے پر صحرا پھیلے ہوئے ہیں جو کہ دنیا کے 41 ممالک میں واقع ہیں- صحرا ایک ایسا مقام ہوتا ہے جہاں ہر طرف تقریباً صرف ریت ہی ریت دکھائی دیتی ہے جبکہ یہاں کی آب و ہوا انتہائی خشک ہوتی ہے- لیکن ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا میں کئی ایسے صحرا بھی ہیں جو حقیقت میں صحرا ہیں ہی نہیں بلکہ یہ مقامات مختلف وجوہات کی بنا پر ایک صحرا کی شکل اختیار کر گئے ہیں- اور آج کا آرٹیکل بھی چند ایسے ہی مصنوعی صحراؤں کی تفصیلات پر مشتمل ہے-

Desert of Maine
40 ایکڑ کے رقبے پر پھیلا ہوا یہ صحرا امریکہ کے علاقے Maine کے قصبے Freeport میں واقع ہے اور یہاں سفیدے کے درخت پائے جاتے ہیں- درحقیت یہ کوئی صحرا نہیں ہے اور نہ یہ ریت ہے بلکہ یہ ایک ریت نما مادہ ہے جو زیرِ زمین تھا- یہ مادہ اس وقت اوپر آیا جب یہاں 1797 میں ایک خاندان نے کھیتی باڑی کا آغاز کیا- یہ خاندان تو 1919 میں اس مصنوعی صحرا کو چھوڑا گیا لیکن آج یہ مقام سیاحت کے حوالے سے انتہائی مقبول ہے-


Osoyoos Desert
خوبصورت Okanagan وادی کے انتہائی جنوب میں واقع یہ کینیڈا کا صحرا ہے- اس مقام پر ایک حسین جھیل بھی ہے جبکہ یہاں متعدد ایسے نایاب پودے پائے جاتے ہیں جو پورے ملک میں کہیں نہیں ہیں- یہاں کی آب و ہوا انتہائی خشک اور گرم ہوتی ہے- اس جھیل کا پانی بھی گرم ہوتا ہے یہاں تک کہ موسمِ سرما میں یہ پانی مکمل طور پر منجمد بھی نہیں ہوتا- درحقیقت یہاں ایک ایسا سینٹر قائم ہے جو سیاحوں کو صحرا کے ماحول٬ رہائش اور خطرے سے دوچار نظام کے حوالے سے معلومات فراہم کرتا ہے-


Carcross Desert
کینیڈا کے علاقے Yukon میں واقع یہ صحرا دنیا کا سب سے چھوٹا صحرا ہے جو کہ صرف 1 اسکوائر میل کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے- یہ بھی کوئی حقیقی صحرا نہیں ہے اور یہاں پائی جانے والی بھاری مقدار میں ریت بھی برفانی جھیل کے برفانی گاد میں تبدیل ہونے کی وجہ سے وجود میں آئی ہے- جھیلوں کے خشک ہونے کے بعد یہاں صرف ٹیلے رہ گئے تھے- یہاں متعدد اقسام کے پودے پائے جاتے ہیں جبکہ یہ ایک مقبول ترین سیاحتی مقام بھی ہے-


Bledow Desert
یہ صحرا پولینڈ کے گاؤں Klucze اور Bledow نامی علاقے کے درمیان میں واقع ہے- 32 اسکوائر کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا یہ صحرا وسطی یورپ کے کسی سمندر سے نکالے جانے والی ریت کے جمع ہونے کی وجہ سے وجود میں آیا- یہ ریت اتنی زیادہ تھی یہاں ریت کے طوفان بھی اٹھتے دیکھے گئے- اس سے قبل یہ علاقہ جنگلات سے ڈھکا ہوا تھا- لیکن یہ صورتحال 12ویں صدی میں اس وقت تبدیل ہوگئی جب مقامی افراد نے ان جنگلات کو کاٹنا شروع کردیا-


Oleshky Sands
یہ صحرا بحیرہ اسود کے یوکرانی ساحل سے کچھ فاصلے پر واقع ہے جہاں وسیع پیمانے پر ریت پھیلی ہوئی ہے- یہ ریت Dnieper دریا کے نچلے حصے میں صدیوں سے موجود تھی تاہم یہ صحرا حال ہی میں سامنے آیا ہے- یہ ریت وسیع پیمانے پر پھیلی جھاڑیوں اور پودوں کی وجہ سے نظروں سے اوجھل تھی اور اسی وجہ سے پھیل بھی نہیں سکی تھی- لیکن 19ویں صدی میں جانوروں کی بڑی تعداد نے ان پودوں کو اپنی غذا بنا لیا اور یہ ریت دنیا کے سامنے آ گئی- ہوا کے باعث یہ ریت ایک بڑے علاقے تک پھیل گئی اور اس مقام نے صحرا کی صورت اختیار کرلی-


Highlands of Iceland
آئس لینڈ کا نام سنتے ہی ذہن میں سب سے پہلے کسی سرسبز یا برفانی جگہ کا خیال آتا ہے لیکن آپ کو جان کر حیرت ہوگی یہاں ایک ایسا صحرا بھی پایا جاتا ہے جو آتش فشاں پہاڑ بھی رکھتا ہے اور ناقابلِ رہائش ہے- جی ہاں یہ صحرا اس وقت وجود میں آیا جب یہاں کسی صورت میں بھی پایا جانے والا پانی زمین میں سرایت کر گیا اور پودے نہ ہونے کی وجہ سے چٹیل زمین سامنے آگئی جس پر ہر طرف آتش فشاں پہاڑ سے نکلنے والی راکھ ہی راکھ دکھائی دیتی ہے-

متعلقہ خبریں