دھمال ؟؟؟۔ایسی معلومات جن کے بارے میں آپ کو بھی نہیں پتہ ہو گا۔۔۔

2017 ,مارچ 11



قلندر ترکی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ایسا شخص جو دنیا کو چھوڑ کر صرف اللہ کا ہوجائے.

جو لوگ سرکار امام حسین علیه السلام
کے روضے کی زیارت کر چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس روضے میں حضرت ابراہیم مجاب کی قبر مبارک ہے۔
 مجاب کے معنی جس کو جواب آتا هو.

ابراہیم مجاب کو سرکار امام حسین علیه السلام سلام کا جواب دیتے تھے۔

ابراہیم مجاب مولا حسین علیه السلام کے روضے میں بہت آتے اور وہیں انکا ٹھکانہ تھا۔
وہ شادی نہیں کرنا چاہتے تھےصرف روضے کی خدمت میں زندگی گزارنا چاہتے تھے۔ ابراہیم مجاب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے پڑپوتے اور امام حسین علیه السلام کی ساتویں نسل میں تھے۔
 ان کے خواب میں سرکار امام حسین تشریف لائےاور فرمایا کہ ابراہیم تم مروند جاؤاور وہاں کے بادشاہ کی بیٹی سےشادی کرو۔ وہ تمہیں اپنی بیٹی کا رشتہ دے دے گا.
پھر ہم تمہیں ایک امانت دیں گے،
 وہ شہباز جو رسول اللہ نے ہمیں دیا ہم تمہارے سپرد کریں گے۔

حکم پا کر حضرت ابراہیم مجاب مروند آئے ، شادی کی اور ان کے ایک بیٹا ہوا۔
پیدائش کے وقت ایسا سرخ چہرہ جیسے یاقوت
ماں کے منہ سے نکلا "لعل"
باپ کے منہ سے نکلا "شہباز" آگیا
نام نکالا گیا تو نکلا "شاہ حسین"
 نانا نے کہا اس نام پر قتل کردیا جائے گا اس لئے انکا نام رکھا گیا سید عثمان.

جب حسینؑ نے عطا کیا تھا تو کچھ خصوصیت تو ہونی تھی ،
علم آسمانی عطا ہورہا تھا
 دل نہ لگتا تھا.

ایک بار مدرسے کے ساتھیوں کی کتابیں حوض میں ڈال دیں۔ ساتھیوں نے رونا شروع کیا تو ہاتھ ڈال کر کتابیں نکال دیں۔ کتابیں بالکل خشک تھیں۔

سات سال کی عمر میں پورا قرآن حفظ کرلیا ۔ اساتذہ حیران تھے کہ یہ بچہ مدرسہ میں ایک لفظ نہیں پڑھتا تو حفظ کیسے ہوا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب نجف میں علامہ حلی نے ،
 ایران میں امیر خسرو رح ، ہند میں حضرت نظام الدین اولیا نے سات سات برس میں حفظ کیا۔

ان کے بچپن کے دوست نے فرمایا کہ یہ ببول کے کانٹوں پر چلتا ہےاور نجانےاس کوکیا نظر آتا ہےکہ یہ
 یا حسین یا حسین کی صدا دیتا ہے اور پیروں سےخون جاری رہتا ہے۔

پھر مروند سے آذربائیجان ، افغانستان ، کشمیر ، ملتان سے ہوتے ہوئے سندھ پہنچے جہاں سہون کو مسکن بنایا۔

مرزا قلیچ بیگ جو حیدرآباد دکن کے تھے ان کے پوتے نے کچھ تبرکات دکھائے جو انکو جدی پشتی منتقل ہورہے تھے۔ انہوں نے صندوق سے ایک طوق نکالا۔

یہ وہ طوق تھا جو امام زین العابدین کو کربلا سے شام تک پہنایا گیا۔ اس کے بارے میں بتاتے ہیں کہ یہ ایک پتھر کی چٹان تھی جس میں گردن کے حصے کو کاٹ کر اسے گردن میں پہنادیا گیا اور اس کا وزن پورے شانوں اور ہاتھوں پر تھا۔ ہاتھوں کو صلیب کی طرح رکھنا پڑتا اور ہاتھوں کے نیچےدو اور پتھر کی سلیں رکھ کر لوہےکی کیلوں سے باندھ دیا جاتا اور پھر جب پیچھےسے تازیانہ مارا جاتا تو امام آگےکی طرف وزن کو سنبھالتے ہوئے جھکتے ، کبھی دائیں جانب کبھی بائیں جانب کبھی آگے۔ اور عرب کی جھلسا دینےوالی گرمی میں جب وہ طوق گرم ہوتا تو گردن اورہاتھوں پرچھالے پڑجاتے۔

اس طوق کا آدھا حصہ قلیچ بیگ کے دکن میں اور باقی آدھا حصہ قلندر سائیں کی قبر پر لٹکا ہوا ہے۔ قلندر سائیں عاشور کے روز ویسا ہی طوق بنا کر پہن لیتے اور عاشور کے جلوس میں اسی انداز میں جاتے ، کبھی آگے گرتے ، کبھی دائیں ، کبھی بائیں۔

جو لوگ انکو دیکھتے وہ بھی اسی طرح کرنے کی کوشش کرتے اس طرح قلندر سائیں غم منانے کے انداز کو دھمال کا نام پڑا۔
 قلندر سائیں جلوس میں چلتےجاتے اور یا حسین یا حسین کی صدائیں بلند کرتے جاتے۔

کاش کہ آج قلندر کے پیروکار قلندر کے صحیح نقشِ قدم پر چلیں،
حسین حسین کریں،
 اور اصل دھمال ڈالیں نہ کہ مسیقی کی دھمال ڈالیں۔

طالب د عا.۔۔۔۔۔

متعلقہ خبریں