ڈنکرک،بغاوتیں....اورخلافت آپریشن

2022 ,دسمبر 29



تحریر: فضل حسین اعوان 
ڈنکرک سے تین لاکھ برطانوی فوجیوں کا جرمن فورسز کے حصار میں آنے کے بعد بچ کر نکل آنا ناقابلِ یقین تھا۔ برطانوی حکام کو زیادہ سے زیادہ پچاس ہزار کے زندہ لوٹنے کی امید تھی۔فرانسیسی بندرگاہ پر محصور ہونےوالوں میں تین سو ہندوستانی فوجی بھی تھے۔اس دستے کی کمانڈ میجر محمد اکبر خان کر رہے تھے جوتقسیم ہند کے بعد پاکستان میں میجر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔اس دستے میں ایک اور انڈین فوجی ولی محمد تھے۔ انہوں نے ڈنکرک کے دلدوز منظر نامہ کی عکاسی ایک انٹرویو کے دوران اس طرح کی۔"جرمن طیارے خوفناک پرندوں کی طرح تھے جو ہر وقت سروں پر منڈلاتے ۔ میں پندرہ دن سو نہیں سکا۔ ہر طرف آگ لگی ہوئی تھی۔ پورا شہر جل رہا تھا۔"

جرمنی میں مسلح بغاوت کا اشارہ ملتے ہی گرفتاری کا عمل تیز

ء 3جون-1939 جنگ عظیم دوم: برطانیہ اور فرانس نے نازی جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ  کیا | Aalmi Akhbar
 ڈنکرک سے پچاس میل دور انسانیت کو دہلا دینے والا واقعہ رونماہوا۔90برطانوی فوجی جرمن فورسز کے گھیرے میں آئے تو انہوں نے سفید پرچم لہرا دیا۔ ان کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بعد ان سب کو کیپٹن برٹز کونچلین نے ایک گڑھے میں کھڑا کر کے مشین گنوں سے فائر کھلوا دیا۔جو مشین گن کی فائرنگ میں مرنے سے بچ گئے انہیں بندوق کی گولیوں اور سنگینوں سے مادیاگیا۔اتفاق سے پولے اور اوکلاغان دوفوجی شدید زخمی ہونے کے باوجود لاشوں کے ڈھیر تلے دبے ہونے کے باعث زندہ بچ گئے۔ چند روز بعد وہ کسی اورجرمن دستے کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ 1943ءمیں انہیں قیدیوں کے تبادلے میں رہائی ملی۔پولے نے لرزہ خیز داستان سنائی تو اس پر اعتبار نہ کیا گیا بعدمیں اوکلاغان نے تصدیق کر دی۔ جنگ کے بعد کونچلین کو جنگی ٹربیونل نے قصور وار ٹھہرایا۔ 1949ءمیں اسے پھانسی دے دی گئی۔ 
 فاتح اتحادیوں نے جنگی جرائم کے تحت مقدمات چلائے یہی جرائم ان کی طرف سے بھی سرزد ہوئے تھے چونکہ وہ فاتح تھے اس لئے جاپان اورجرمنی کیلئے جرم ضعیفی کی سزا کا اطلاق ”طاقت کے قانون“ کا تقاضہ ٹھہرا۔ 18 اکتوبر 1945 سے یکم اکتوبر 1946 تک نام نہادبین الاقوامی فوجی عدالت نے جنگی جرائم کے الزامات میں ہٹلر کے بائیس بڑے ساتھیوں کے خلاف مقدمات چلا کر بارہ کو سزائے موت دے دی۔ ان میں ہانس فرینک، ہرمان گوئرنگ، ایلفریڈ روزن برگ اور جولیئس اسٹریخ شامل تھے۔ تین کو عمر قید اور چار کو دس سے بیس برس تک کی قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ جاپان کے کئی جرنیلوں کو بھی موت کی سزا دی گئی۔ جنرل یاماشیتا نے سنگاپور کے محاذ پر جنرل پرسیول سے ایک لاکھ تیس ہزار فوجیوں سمیت سرنڈر کرایا تھا۔ یاماشیتا کو بھی پھانسی دی گئی۔ اسکی صدر ٹرومین نے رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی۔یاما شیتا کے آخری لمحات کی داستاں بڑی دلگداز ہے جو کبھی پھر سہی۔

دوسری جنگ عظیم بلحاظ ملک - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا
ایڈولف آئخمین کے مقدمہ نے بڑی شہرت پائی۔اس کیخلاف مقدمہ1961ءمیں یروشلم میں چلا ۔اتحادیوں کے مطابق آئخمین ہولو کاسٹ کے دوران یورپ کی یہودی آبادی کی جلاوطنی کے سلسلے میں مرکزی کرداروں میں سے ایک تھا۔ جنگ کے اختتام پر آئخمین کو امریکہ میں گرفتاکیاگیا لیکن وہ 1946ء کیتھولک چرچ کے اہلکاروں کی مدد سے فرار ہو کر ارجنٹینا پہنچ گیا جہاں وہ ریکارڈو کلیمنٹ کے نام سے مقیم رہا۔ 1960ء میں اسرائیلی سیکورٹی سروس کے ایجنٹوں نے آئخمین کو پکڑا اور اسرائیل لے آئے۔ اس پر کیس چلا جس میں مجرم پایا گیا۔ اسے 31 مئی اور یکم جون 1962ءکی درمیانی شب پھانسی دے دی گئی۔ یہ واحد واقعہ ہے جب اسرائیل کی جانب سے سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا۔اس کیخلاف یہودیوں کے دلوں میں بھڑکتی آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے اس کی لاش کو جلا کر راکھ سمندر میں بہا دی گئی۔جنگی جرائم میں جرمن فیلڈ مارشل وِل ہیلم کیٹل کو بھی موت کی سزا دی گئی تھی۔ 

Lisbon during World War II - Discover Walks Lisbon
فیلڈ مارشل رومیل نے جنگ کے دوران ہٹلر کے خلاف بغاوت کی۔ اسے پیغام دیا گیا کہ کورٹ مارشل سے بچنے کے لیے وہ خود کشی کرلے تو اسے فوجی اعزاز کے ساتھ دفن ہونے کا اعزاز حاصل ہو سکتا ہے۔رومیل کے پاس خودکُشی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اور پھر یہ بھی ہوا کہ ہٹلر نے خود بھی اپنے ہاتھوں سے اپنی جان لے لی۔جرمن اتحادیوں کی غلامی میں چلا گیا۔ آج جرمن کافی حد تک آزاد ہو چکے ہیں۔ کچھ آج بھی خود کو سامراج کا غلام سمجھتے اور مکمل آزادی کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ ان کے ہیرو ہٹلر اور فیلڈ مارشل وِل ہیلم کیٹل جیسے افراد ہیں۔آج آزادی کی بات کرنیوالے یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے حالیہ دنوںسات دسمبر2022کو بغاوت کی کوشش کی اور اب قید میں ہیں۔یہ پہلی جنگِ عظیم میں ختم ہونے والی بادشاہت کی بحالی چاہتے ہیں۔جیسی بغاوت کی جرمنی میں کوشش ہوئی ایسی ہی ایک کاوش 1995ءمیں پاکستان میں بھی ”خلافت آپریشن“ کے نام سے ہو چکی ہے۔

آپریشن خلافت 1995۔ ایک خوفناک منصوبہ - ہم سب
آپریشن خلافت نام سے1995ءمیں کچھ مذہبی رجحان رکھنے والے دائیں بازو کے فوجی افسروں نے اپنی طرف سے شریعت کے اس کی روح کے مطابق نفاذ کے لیے منصوبہ بنایا۔ اس آپریشن میں عمران خان کا پہلے ریحام خان اور بعد ازاں بشریٰ بیگم کے ساتھ نکاح پڑھانے والے مفتی محمد سعید سمت تین سو لوگ شریک تھے۔ اس آپریشن کو میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی لیڈ کررہے تھے۔ان کے بعد دوسرے بڑے افسر بریگیڈیئر مستنصر باللہ تھے۔ پلاننگ کے تحت جنرل وحید کاکڑ کی سربراہی میں ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس کے موقع پر آرمی چیف سمیت تمام کور رکمانڈروں کو گرفتار کرنا تھا ان کی گرفتاری کے ساتھ ہی میجر جنرل ظہیر الاسلام آرمی چیف بن کر خلافت اعلان کر دیتے۔ وزیر اعظم بینظیر بھٹوکی گرفتاری بھی منصوبہ کا حصہ تھی۔ مولانا عبدالقادر ڈیروی صاحب نے تقریر تیار کر کے دے دی تھی۔ 
کرنل لیاقت راجہ منصوبہ سازی میں سرگرم تھے کہ ان کو جانے کیا خیال آیا کہ اعلیٰ کمانڈ یعنی اصل کمانڈکو منصوبے سے آگاہ کر کے سلطانی بن گئے اور پھر وہی ہوا جو ہونا تھا۔ گرفتاریاں ہوئیں ۔ جنرل وحید کاکڑ اور وزیر اعظم بے نظیر بھٹو شدید غصے میں تھے ۔ بڑے افسروں کے لیے شوٹ سے کم سزا کے لئے تیار نہیں تھے۔ مگر مجرموں کی قسمت کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران وحید کاکڑ کی مدت پوری ہونے پر جنرل جہانگیر کرامت ان کے جاں نشیں ٹھہرے لہٰذا یہ لوگ بقول مستنصر باللہ موت کی سزا سے بچ گئے۔ بریگیڈیئر مستنصر بااللہ نے کتاب آپریشن خلافت 95بھی لکھی جس میں آپریشن کی پوری تفصیل درج ہے۔ ان کو قید کی سزا ہوئی ، سزا پوری کرنے پر رہا کر دیئے گئے۔قاری سیف اللہ اختر بھی منصوبہ سازوں اور گرفتار ہونیوالوں میں شامل تھے، رہائی کے بعد پاکستان، افغانستان اور دبئی رہے۔وہ افغانستان میں ڈرون حملے میں مارے گئے۔ سوال ہے کہ تین سو لوگوں کے مابین بغاوت کی خبر خفیہ کیسے رہ گئی۔ اس سے بڑا سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ اس نوعیت کی بغاوت کی پہلی اور آخری کوشش تھی۔

عمران خان نے مرکزی لیڈر شپ کا اجلاس آج طلب کر لیا

متعلقہ خبریں