طلاق کیوں هوئی____ ؟

2019 ,ستمبر 17



 پچهلے سال کی بات ہے _ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ گول بازار سرگودها شاپنگ کر رہا تها __ دوست کی بیٹی کا فون آیا کہ ابو آپکے داماد نے مجهے فارغ کر دیا _علیحدگی د ے دی ہے __فورا آئیں اور مجهے لے جائیں _
بیٹی کی یہ بات سن کر وه دوست بائیک دوڑاتا گهر کو واپس چل دیا۔ وہ کافی پریشان تھا ان ہی سوچوں میں گم وہ بائیک چلا رہا ہو گا , راستے میں چلتی بائیک پر اچانک اسے ہارٹ اٹیک ہوا __ان کی بائیک بجلی کے پول سے ٹکرائی اور وهیں سڑک پر انہون نے جان دے دی _
بظاهر یہ بات اتنی سی ہے کہ هارٹ اٹیک ہوا اور بنده فوت ہو گیا _ وقت مقرر تها_ لیکن نہیں _میں نہیں مانتا_
کوئی بات تو تهی جو ایک اچهے بهلے صحت مند آدمی کی اچانک موت کا باعث بنی _ اِس میں کہیں نا کہیں تو انسانی غلطی نے بهی اپنا حصہ ڈالا ہو گا _
علیحدگی کے کچھ دن بعد میں بچی سے ملا اور پوچها کہ بیٹا تین بچوں کیساتھ خاوند نے جو تمہیں چهوڑ دیا __کیا بات ہوئی تهی _وہ آدمی تو تمہارا فسٹ کزن بهی تها_
اُس بیٹی نے جو بهی وجہ بتائی وه مجهے سمجهہ نہیں آئی _ الزامات کی ایک لمبی فہرست تهی _ لیکن وه صاحبزادی مجهے کہیں بهی یہ نا بتا سکی کہ معاملات کی بہتری کے لیے خود اُس نے کیا کیا _ ؟
ایک بات میں نے بطور خاص نوٹ کی کہ محترمہ کے ہاتھ میں ڈیڑھ لاکھ والا آئی فون تها _
مرحوم دوست میرے رشتے دار بهی تهے _ اُنکا سابقہ داماد اعلی تعلیم یافتہ اور ایک محترم ادارے میں سکول ٹیچر ہے _ چند دن بعد میں بطور خاص اُسے ملنے گیا __ پوچها کہ جوان تم جو اتنی انتہا پر پہنچے _اپنے بچے تک چهوڑ دیے _کیا تمہیں بچے پیارے نا تهے _ ہوا کیا تها _کس بات نے تمہیں اتنا مجبور کیا _
وه بولا کہ سر _ میری دو سالیاں ہیں _دونوں اِنتہائی امیر گهروں میں بیاہی ہوئی _ کوٹهیوں کاروں اور نوکر چاکروں والی _
جب بهی میری بیوی اپنی بہنوں کو مل کر آتی _ میرے گهر جهگڑا شروع ہو جاتا _مجهے بات بات پر غریبی کے طعنے ملتے _ میں چالیس ہزار ماہانہ کا ملازم ہوں _ جتنا کر سکتا تها , اِنتہائی حد تک کیا لیکن اب بات برداشت سے باہر تهی _
اُس نے مزید کہا کہ مجهے اپنی بیوی بہت پیاری تهی _ میرے پاس تین ہزار والا موبائل ہے _بیگم کو میں نے آئی فون لے کر دیا __پهر کار کا مطالبہ ہوا __بنک لون سے کار لے کر دی _ پرانا فرج بیچ کر قسطوں پر فل سائز نیا فرج لیا _ پهر اے سی کا کہا گیا _ اے سی لے کر دیا __ اِس سب کے باوجود طعنے ہی طعنے _ میں اپنی نظر میں ہی حقیر بن چکا تها_
علیحدگی والے ماه بجلی کا بل تیس ہزار آ گیا _چالیس ہزار کل تنخواه میں سے میں کیا کرتا _ دس ہزار تو صرف ماہانہ دودھ کا بل بنتا تها _ اُوپر سے بیگم کی فضول کی باتیں _
میں پہلے ہی بیگم کی پچهلی لامحدود خواہشات سے تنگ تها_ بالکل ناک میں دم آ چکا تها_ فوری جهگڑا اُس بل پر ہوا __ اور بات اِس انتہا تک پہنچی _
یہ بات کرتے کرتے وه رو پڑا _
ساری بات سن کر میں نے اپنا سر جهکایا _اور گهر واپس آ گیا_اللہ کا شکر ادا کیا کہ میں نے اپنی بیٹیوں کو __اپنے بیٹوں کو کم از کم خواہشات کیساتھ زنده رہنا بتایا _
اس وقت وه علیحدگی یافتہ بیٹی اپنے شادی شده بهائی کے تین مرلہ مکان کے اوپر والے ایک کمرے میں ره رہی ہے __
جب بجلی بند ہو تو اِس کمرے میں بنده ایسے ہو جاتا جیسے بهٹی میں دانے بهنتے ہیں _ نا اوپر واش روم ہے اور نا کچن _ بچے نیچے جائیں تو اُن کی ممانی تهپڑ لگا کر اوپر واپس بهگا دیتی ہے _
گوری چٹی اور سرخ و سفید چهبیس سالہ لڑکی صرف ایک سال میں پچاس سال کی اماں نظر آتی ہے _سنا ہے کسی پرائیویٹ سکول میں نو دس ہزار کی نوکری بهی شروع کر دی ہے۔۔۔۔۔

غلط کون ہے اور سہی کون اس کا فیصلہ تو میں نہیں کر سکتا لیکن بس اتنا کہوں گا کہ اگر گھر بسانے ہوں تو بہت سی باتیں برداشت بھی کرنی پڑتی ہیں۔۔۔ ہر بار آپ کی مانی اور سنی جائے یہ ضروری نہیں ۔۔۔ شوہر اور بیوی دونوں ساتھ مل کر اور ایک دوسرے کو سمجھ کر چلیں گے تب ہی زندگی گزرتی ہے ورنہ لالچ اور ہٹ دھرمی کا انجام وہی ہوتا ہے جو اِس لڑکی کا ہوا۔۔۔۔۔ یعنی مر بھی رہے ہوں تو کوئی پانی منہ میں نہیں ڈالتا۔۔۔

متعلقہ خبریں