جن ڈاکٹرز کو جان پیاری ہے وہ نوکری چھوڑ دیں۔چیف جسٹس کی اس بات کا ایسا خوبصورت جواب کے آپ بھی ڈاکٹرز کو سلام پیش کئے بنا نہیں رہ پائیں گے

2020 ,اپریل 21



جن ڈاکٹرز کو جان پیاری ہے وہ نوکری چھوڑ دیں۔ چیف جسٹس

بسم اللہ عالی جناب!

کچھ فرمان اور جاری کریں۔۔

1.ججز کے گھروں کے باہر سے پولیس کے حفاظتی دستے ختم کر دیں۔

2. عدالتوں سے پولیس کی نفری ہٹائی جائے (اور انہیں تھانوں میں بھیجا جائے تا کہ وہ عوام کی حفاظت کریں جو کہ انکا اصل کام ہے)

3. جج صاحبان جب دوروں کے لیے نکلتے ہیں تو بغیر پروٹوکول اور بغیر سکیورٹی کے نکلیں۔

4. عدالتوں میں بالخصوص ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کی حدود میں اسلحہ لے جانے پہ جو پابندی ہے وہ پابندی ختم کر دیں۔

5. تمام جج صاحبان کے بچے پولیس کی رکھوالی کے بغیر سکول جائیں گے اس کے بعد ایک فرمان جاری ہو کہ جن معزز جج صاحبان کو جان پیاری ہے وہ نوکری چھوڑ دیں اور گھر چلے جائیں۔۔۔۔

تو بسم اللہ جناب ڈاکٹر بھی گھر چلے جائیں گے۔

معزز قاضی صاحب!

جس طرح آپ کی جان کو گولی، ڈنڈے سے خطرہ ہے، یا آپ کے بچے کو اغوا ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ آپ خطرناک مجرموں کے فیصلے سناتے ہیں اسی طرح ڈاکٹرز اور ان کے بچوں کو بھی اسی طرح کے خطرات ہوتے ہیں۔ کیونکہ انہی مجرموں کے میڈیکل انہی ڈاکٹرز کو بنانے ہوتے ہیں۔۔۔

لیکن جناب عالی

ڈاکٹرز آپ سے نہ تو سبز نمبر پلیٹ والی گاڑی مانگ رہیں ہیں جس کے اوپر نیلی بتی لگی ہوتی ہے، نہ ہی اپنی ذاتی حفاظت کے لیے پولیس کے چاک و چوبند دستے مانگ رہےہیں، وہ تو صرف ایک نادیدہ وبا سے لڑنے کے لیے چند کپڑے (PPE) مانگ رہے ہیں۔ یہ ایسی وبا ہے جس کا نہ تو گولی کی طرح کوئی شور ہوتا ہے، نہ ہی لاٹھی کی طرح ہاتھ میں پکڑی نظر آتی ہے۔۔ یہ ایسی وبا ہے کہ اگر عدالت عالیہ کے ایک ملازم کو لگ جائے تو عدالت عالیہ کو بند کر دیا جاتا ہے اور جج مقدمہ سننے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ وہ ماسک اور (PPE) پہن کر مقدمات سن سکتے تھے، وہ الگ بات ہے کہ یہی PPE ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے لیے موجود نہیں ہوتے۔۔۔

مائی لارڈ،

ڈاکٹرز تو کرونا سے متاثر ہو کر بھی علاج کرنے سے انکاری نہیں ہوئے، انہوں نے تو عدالت عالیہ کی طرح ہسپتال بھی بند نہیں کیے، وہ تو صرف چند حفاظتی کپڑے مانگ رہے ہیں تا کہ بے فکری سے مریضوں کا علاج کر سکیں۔۔۔

مائی لارڈ،

اللّہ نے آپ کو رتبہ دیا ہے، عادل بنایا ہے، ہم آپ سے عدل کی توقع رکھتے ہیں نہ کہ جبر کی۔ کیونکہ معاشرہ ظلم پہ تو چل سکتا ہے نا انصافی پر نہیں چل سکتا۔۔۔

اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو!!!

حنیف بیگ

متعلقہ خبریں