جہیز کی شرعی حیثیت

2019 ,اکتوبر 16



حصہ دوم

لاہور (شفق رپورٹ) آج ہمارے سماج کو جن داخلی برائیوں کا سب سے بڑا چیلنج ہے، ان میں سے ایک ’’جہیز‘‘ ہے۔ جہیز ایک خطرناک کیڑے کی طرح بڑی تیزی کے ساتھ ہماری سماجی زندگی کے ہڈیوں کو کھوکھلا کرتا جا رہا ہے، جس کا ہمیں ذرّہ برابر بھی احساس نہیں ، اگر کسی کو ہے بھی تو اس کے سد باب کے لیے کوئی پائدار منصوبہ تیار کرنے کے بجائے وہ بھی شعوری طور پر اس لعنت کا شکار ہو رہا ہے۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں یہ وبا جس تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے اگر جلد اس پر قابو نہ پایا جا سکا تو مستقبل قریب میں اس کے بہت ہی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

اسے اسلام کی حقانیت کی دلیل ہی کہا جا سکتا ہے کہ اس نے آج سے ساڑھے چودہ سو برس قبل اس سماجی برائی کی نہ صرف نشان دہی کر دی تھی بلکہ اپنے پیروکاروں کو اس سے بچنے کی تاکید بھی فرما دی تھی۔ اس کے باوجود اسے مسلمانوں کی حرماں نصیبی کے علاوہ اور کیا کہا جائے کہ آج وہ بھی شعوری و لاشعوری طور پر اس مہلک مرض میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ بات واضح ہے کہ قرآن پاک، صحاح ستہ اور معروف کتب احادیث اور چاروں فقہاء کی امہات الکتب میں باب الجہیز کے عنوان سے کوئی باب نہیں اگر کوئی شرعی حکم ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ جہاں نکاح سے متعلق دیگر احکامات تفصیلاً بیان ہوئے وہاں جہیز کا بیان نہ ہوتا۔ لیکن جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ اسلام کا دائرہ کار وسیع ہوجانے سے اور مسلمانوں کے مختلف ممالک میں پھیل جانے ور غیر مسلم اقوام کے ساتھ مل جل کر رہنے کی وجہ سے بعض رسومات ان میں دانستہ یا نادانستہ پیدا ہوگئی تھیں۔ جن میں سے ایک جہیز ہے۔ اس کے مسلمانوں میں آجانے کی وجہ سے بعض متاخرین فقہاء کے فتاویٰ میں جہیز کے سلسلے میں چند جزوی احکامات ملتے ہیں۔

الاحوال الشخصیہ میں مشہور فقیہ محمد ابوزہرہ متاع البیت کے عنوان سے فقہاء حنفیہ کی رائے بتاتے ہوئے رقمطراز ہیں:

رای الحنفية وهو ان اعداد البيت علی المزوج کان النفقة بکل انواعها من مطعم او ملبس ومسکن عليه واعبداد البيت من المسکن فکان بمقتضی هذا الاعداد علی الزوج اذا النفقة بکل انواعها تجب عليه والمهر ليس عوض الجهاز لانه عطا ونخلة کما سماه القرآن فهو ملک خالص لها وهو حقها علی الزوج بمقتضی احکام الزواج وليس ثمه من مصادر الشريعة مايجعل المتاع حقا علی المبرئة ولا يثبت حق من حقوق الزواج من غير دليل.

’’حنفی فقہاء کی رائے یہ ہے کہ گھر (اور گھریلو سامان) کی تیاری خاوند کے ذمہ ہے کیونکہ ہر قسم کا خرچہ مثلاً کھانا، لباس اور رہائش کی جگہ دینا اس پر واجب ہے۔ اور گھریلو سازو سامان (جسے عرف عام میں جہیز کہا جاتا ہے) رہائش کے مکان میں داخل ہے۔ پس اس اعتبار سے گھریلو سازو سامان کی تیاری خاوند پر واجب ہوئی۔ حق مہر جہیز کا عوض نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ صرف اور صرف عطیہ ہے جیسا کہ قرآن مجید نے اس کا نام نحلۃ (عطیہ) رکھا۔ وہ خالصتاً بیوی کی ملکیت ہے اور خاوند پر اس کا حق ہے۔ مصادر شریعت میں کوئی ایسی دلیل نہیں جس کی بنیاد پر گھریلو سازو سامان کی تیاری عورت کا حق قرار دیا جاسکے اور بغیر دلیل کے کبھی کوئی حق ثابت نہیں ہوتا‘‘۔

(ابوزهره، محمد، محي الدين، الاحوال الشخصيه، السعادة القاهرة، 1985ء، 977)

مالکی فقہاء کے نزدیک اگرچہ جہیز کے سامان کی تیاری عورت کے ذمہ ہے تاہم اس میں بھی یہ وضاحت ہے کہ یہ سازو سامان پیشگی رقم مہر سے بنائے گی نہ کہ اپنے ذاتی مال یا والدین کے مال سے۔ اگر خاوند کی طرف سے پیشگی کوئی رقم اس کے پاس نہ بھیجی جائے تو اس پر سامان جہیز لازم نہیں ہے۔

السید سابق لکھتے ہیں۔ جس کا ترجمہ درج ذیل ہے۔

’’یہ ایک عام رواج یا عادت ہے کہ بیوی اور اس کے گھر والے جہیز اور گھر کا سازو سامان تیار کرتے ہیں اور دوسرا یہ کہ عورت کے نئے گھر میں جانے کی مناسبت سے عورت کو خوش کرنے کا ایک طریقہ ہے‘‘۔

جس طرح دیگر کئی ایک رسوم کو جن میں کوئی شرعی قباحت یا ممانعت نہ تھی قبول کرلیا گیا، اسی طرح اس رواج (جہیز) کو بھی اپنالیا گیا ورنہ یہ کوئی شرعی حکم یا نکاح کا کوئی لازمی جزو نہیں ہے۔

    رشوت کا مقصد

اگر ہم رشوت دینے والے اور جہیز دینے والے کے مقاصد پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں ان دونوں میں یکسانیت نظر آتی ہے، کیوں کہ رشوت دینے والے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سامنے والا اس کے اخلاقی دباؤ میں رہے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے  اور جہیز دینے والے کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ اس کا داماد اور اس کے گھر والے ہمارے اخلاقی دباؤ میں رہیں اور وہ ہماری لاڈلی کے ساتھ کوئی ناروا سلوک نہ کرے۔ اس طرح دیکھا جائے تو جہیز اور رشوت کے مقاصد ایک سے ہیں۔

جہیز کی فرمائش، ایک ناجائز مطالبہ

یہ امر ثابت ہوچکا کہ سامان جہیز خاوند کی ذمہ داری ہے اور جملہ ضروری گھریلو اشیاء کے مہیا کرنے کا پابند ہے۔ لہذا خاوند یا اس کے گھر والوں کو قطعاً حق حاصل نہیں کہ وہ بیوی یا اس کے والدین سے جہیز کا مطالبہ کریں یا انہیں مجبور کریں۔ امام ابن حزم بیان کرتے ہیں:

’’عورت کو اس بات پر مجبور کرنا جائز نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے پاس سامان جہیز لائے۔ نہ ہی اس مہر کی رقم سے جو خاوند نے اسے دی ہے اس کا اپنا مال مہر جو سارے کا سارا اس کی ملکیت ہے اس میں وہ جو چاہے کرے خاوند کو اس میں کسی قسم کا دخل دینے کا کوئی حق نہیں۔

(ابن حزم، علی بن احمد، المحلی، دارالافاق الجديده، بيروت، لبنان، 404)

کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں ہے:

’’اگر کوئی آدمی ایک ہزار روپے مہر پر کسی عورت سے نکاح کرے اور عادت یہ ہو کہ اتنا مہر ایک بڑے جہیز کے مقابلے میں ہوتا ہو مگر وہ عورت ایسا نہ کرے (جہیز نہ لائے) تو خاوند کو اس بات کا حق نہیں کہ اس سے جہیز لانے کا مطالبہ کرے۔ اگر بیوی جہیز بھی لائے تو اس کی مالک بیوی ہی ہوگی خاوند کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔ آدمی پر واجب ہے کہ وہ عورت کے لئے ایسی رہائش کی جگہ تیار کرے جو ضروریات زندگی پر مشتمل ہو۔

(الجزيری، عبدالرحمن، ترجمه: منظور احسن عباسی، کتاب الفقه علی مذهب الاربعة، علماء اکيدمي، شعبه مطبوعات محکمه اوقاف پنجاب، 2006ء، ج4، ص217)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

’’صحیح یہ ہے کہ خاوند بیوی کے باپ سے کسی شے کا مطالبہ نہ کرے کیونکہ مال نکاح میں مقصود نہیں۔

(مواهب الرحمن، ترجمه: مولانا سيد امير علی، فتاویٰ عالمگيری، مکتبه رحمانيه، اردو بازار، لاهور، س،ن، ج2، ص223)

 

اسراف و تبذیر

جہیز کی برائیوں میں سے ایک برائی اسراف وتبذیر بھی ہے۔ لوگ دیکھا دیکھی اسراف پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ مثلاً بھاری کپڑے، زیورات اور ضرورت سے زائد اشیاء وغیرہ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسراف سے منع کیا فرمایا ہے:

اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ کَانُوْا اِخْوَانَ الشَّيٰـطِيْنِ ط وَکَانَ الشَّيْطٰـنُ لِرَبِّهِ کَفُوْرًا.

’’بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے‘‘۔

(الاسراء: 27)

اور اعتدال کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

خيرالامور اوسطها.

’’کاموں کی اچھائی ان کا اعتدال ہے‘‘۔

پس جو لوگ اپنی عیاشیوں کے لئے ناجائز طریقوں سے لڑکی کے والدین کو لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں وہ دراصل ڈاکو ہیں جو ایک جونک کی طرح لڑکی کے والدین کا خون چوستے ہیں۔ اگر ان کی فرمائش کو پورا نہ کیا جائے تو ساس و نند کا لڑکی کو کہنا کہ تمہارے ماں باپ نے تو کچھ نہیں دیا۔ وغیرہ وغیرہ۔

متعلقہ خبریں