ڈاکٹروں نے اپنی ایک ایسی چیز کرائے پر دینی شروع کردی کہ جان کر سب کے ہوش اڑ گے۔۔۔

2017 ,مئی 23



نئی دلی (مانیٹرنگ  ڈیسک) بھارت کے تھینی ڈسٹرکٹ میں عوام کی صحت کے ساتھ کھیلنے والے ایک جعلی ڈاکٹر کو گرفتا ر کیا گیا تو ملک بھر میں اصلی اور جعلی ڈاکٹروں کے گٹھ جوڑ سے جاری ایک ایسے بھیانک دھندے کا انکشاف ہو گیا کہ ہر کوئی سر پکڑ کر بیٹھ گیا ہے۔ 
 پولیس نے تھینی ڈسٹرکٹ میں ڈاکٹر ویرانان کانان کا نام استعمال کرنے والے ایک جعلی ڈاکٹر وینود جوئے کو گرفتار کیا تھا۔ یہ شخص ڈاکٹرویرانان کے پریسکرپشن پیڈ پر ادویات لکھ کر مریضوں کو دے رہا تھا جبکہ اپنے کلینک اور فارمیسی کے باہر ڈاکٹر ویرانان کے نام کا بورڈ بھی لگا رکھا تھا ۔ جب پولیس نے اسے گرفتار کر کے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ ڈاکٹر ویرانان کی آشیرباد سے ہی ہو رہا تھا کیونکہ وہ اس جعلی ڈاکٹر سے 25 ہزار روپے ماہانہ فیس لیتا تھا ، جس کے بدلے یہ اس کا نام اور پریسکرپشن پیڈ استعمال کرتا تھا ۔ پولیس جب جعلی ڈاکٹر کو گرفتار کرنے کیلئے پہنچی تو آس پاس کے علاقے کے لوگ جمع ہو گئے اور جعلی ڈاکٹر کی گرفتار ی پر احتجاج کرنے لگے۔ 
پولیس نے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا گیا تو معلوم ہوا کہ پوری ریاست تامل ناڈو میں اصلی اور جعلی ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے چلنے والا جعل سازی کا دھندا عروج پر ہے۔ عام طورپر بھارتی میڈیکل ایسوسی ایشن کے ساتھ رجسٹرڈ ڈاکٹر اتائی ڈاکٹروں کو اپنا نام استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور اس کے بدلے 25 سے 50 ہزار ماہانہ رقم وصول کرتے ہیں۔ یہ اصلی ڈاکٹر خود کو جعلی ہسپتالوں میں کنسلٹنٹ اور وزٹنگ ڈاکٹر ظاہر کرتے ہیں لیکن وہاں کبھی بھی قدم نہیں رکھتے۔ بس ان کا نام استعمال ہوتا ہے جس کی بنیاد پر اتائی ڈاکٹر عوام سے لاکھوں روپے لوٹتے ہیں۔ 
انڈیا میڈیکل ایسوسی ایشن کے تامل ناڈو چیپٹر کا کہناہے کہ صرف اس ایک ریاست میں 50 ہزار سے زائد جعلی ڈاکٹر کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ سا ل اس ریاست سے 100 سے زائد جعلی ڈاکٹروں کو گرفتا بھی کیا گیا ، لیکن ان گرفتاریوں کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا ۔ بھارتی قانون کے مطابق ان اتائیوں کو صرف ایک ہزار روپے کا جرمانہ کیا جاتا ہے ، جو ان کی لاکھوں روپے کی ناجائز کمائی کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ انہیں گرفتار بھی کیا بھی جاتا ہے تویہ ایک ہزار روپے کا جرمانہ دے کر آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر سے وہی کام شروع کر دیتے ہیں۔ اور ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔۔۔ ان کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں