ڈاکٹر ظہور احمد اظہر:گڈریا اور پھر....

2022 ,مارچ 15



ڈاکٹر ظہور احمد اظہر کے بارے میں پتہ چلا کہ ان کی صحت کچھ ٹھیک نہیں ہے، ان کی خبر گیری میں بھی کئی دن لگ گئے اور پھر فون کر کے ان کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ ملاقات اچھی رہی۔خوش گلو،خوش خو،باغ و بہار شخصیت اور سراپا خوشبو ہیں۔ ایک ہزار کتابیں لکھ چکے ہیں۔ان میں اردو اور فارسی کی ہیں جبکہ زیادہ عربی کی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے گڈریئے سے گریٹر ورلڈ گھومنے تک اپنی داستان سنائی وہ اب کافی حد تک صحت یاب ہو چکے ہیں مگر کمزوری بدستور موجود ہے۔ ایسے بیمار پڑے تھے کہ زندگی سے مایوس ہوگئے۔ حافظِ قرآن ہیں اور حفظ کا سلسلہ دادا اور ان کے۵ بھائیوں کے دور سے جاری ہے۔ والد جوانی میں شہید ہوگئے ۔ ڈاکٹر ظہور مدر سے اور میں پڑھتے رہے۔ مستقبل منشی (سکول ماسٹر) یا مولوی میں سے ایک کو سلسلہ روزگارچننا تھا۔ دو مولویوں کو مردہ نہلانے کے پیسوں پر لڑتا دیکھا تو یہ آپشن سرے سے ترک کر دیا۔ بی اے کرنے کے بعد ماسٹر بن گئے۔ انہوں نے ساری تعلیم پرائیویٹ امیدوار کے طور پر حاصل کی۔پنجاب یوینیورسٹی میں پروفیسر اوراوریئنٹل کالج کے پرنسپل رہے۔اورنٹیئل کالج میں ہجویری چیئر کا قیام ان کے نام پر بڑا کریڈٹ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کاخوشاب سے تعلق ہے جو کبھی ضلع سرگودھا کی تحصیل تھی اب ضلع ہے۔ اس کے پہاڑی علاقوں میں والد کاشتکاری کرتے تھے۔ ظہور اظہر بکریاں چرانے کے ساتھ ساتھ پڑھائی بھی کرتے رہے۔لوہاراں والا پہاڑ پرکی زمینوں پرہل چلایا،مویشی اوربکریاں چرائیں۔وہ اپنے گڈریا ہونے کا اظہار فخر سے کرتے ہیں۔ہٹاچ اور سجنال ندیوں کا ذکر بڑے اشتیاق کیا۔یہیں پر نیک بیبیاں شہید کا مزار ہے۔قبر کے نیچے سے فوارے کی مانند فراٹے مارتا چشمہ پھوٹتا ہے۔پانی اتنے زور سے نکلتاہے کہ اس مقام پر تین پن چکیاں لگی تھیں۔اسی مقام سے ڈاکٹر صاحب کی والدہ گھر سے دو میل چل کے دو مٹکوں میں پانی لے جاتی تھیں۔ ان کے سو ڈیڑھ سو بکریوں کے ریوڑ میں دوسرے لوگ اپنی بکریاں بھی مزدوری طے کر کے چھوڑ جاتے تھے۔ان بکریوں میں کالی بکری کی داستان بڑی عجیب ہے۔ اسے ایک روز اپنی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھنے پر آدھی روٹی کھلا دی۔ اس کے بعد وہ روزانہ "پچھائیں"(کھانے کے) وقت جہاں بیٹھے ہوتے آجاتی۔دودھ پینے کیلئے اپنے تھن ان کے سامنے کردیتی۔سوئے ہونے کی صورت میں کُھریاں مار کر جگا تی۔ راولپنڈی میں سکول ماسٹری کے دوران عربی سیکھنے کی جستجو ہوئی تو دوست سے وی سی آر لیا۔ اس پر ریڈیو سے نشر ہونے والے عربی پروگرام ریکارڈ کر کے رات کو سنتے اور اسی لب و لہجے میں بولنے کی کوشش کرتے، رٹا لگاتے رہتے۔ ریڈیو تل ابیت پر عربی کے اعلیٰ ادیب شاعر اور نقادپروگرامز میں آتے تھے۔ ان دانشوروں کے خطابات بھی عربی دانی و عربی شناسی میں معاون ہوئے۔ جسٹس جاوید اقبال نے علامہ اقبال کی سوانح حیات لکھی، ڈاکٹر ظہور صاحب کو دکھائی اور اس کا نام تجویز کرنے کو کہا تو اس کا نام" زندہ رَود" تجویز کیا گیا۔زندہ رَود ایران میں بہنے والا دریا ہے جو کہیں زمیں دوز ہوجاتا ہے ۔زندہ رَود کے نام سے یہ کتاب اردو میں شائع ہوئی۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے عربی میں ترجمہ کرنے کو کہا تو رد وکد کے بعد آمادہ ہو گئے اورالنہر الخالد کے نام سے تین جلدوں میں ترجمہ کیا۔ علامہ اقبال پر جامعہ الازہر میں النہرالخالد سورس بک یعنی سند مانی جاتی ہے۔ فروری1974ءمیں لاہور میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس ہوئی۔پہلی کانفرنس مراکش میں ہوئی تھی۔ مسلم ممالک کے سربراہان کانفرنس میں شریک ہوئے۔ ان دنوں لیبیا کے صدر کرنل قذاقی کا عالمی سطح پر بڑا طنطنہ تھا۔ذوالفقار علی بھٹو مسلم ممالک کے سربراہان کو لاہور سٹیڈیم لے گئے۔ جلسہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ دنیا کے اتنے سربراہان کو ایک جگہ دیکھنے کا یہ ایک نادر موقع تھا ۔ کرنل قذاقی نے اس جلسہ سے خطاب کرنا تھا۔ ان کی تقریر کے ترجمے کے لیے ماہر مترجم کی ضرورت تھی۔ غلام مصطفےٰ پاور فل گورنر پنجاب تھے۔ ان کی نظر انتخاب مولانا کوثر نیازی پر پڑی۔ کوثر نیازی کو بھنک پڑی تو روپوش ہو گئے۔ اِدھر اُدھر سے مترجم کی تلاش شروع ہوئی ، پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر عبدالخالق سے رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے ڈاکٹر ظہور احمد اظہر کا نام تجویز کیا۔ جو پی ٹی وی پرعربی میں دو نیوز بلٹن پڑھا کرتے تھے۔ گورنر کا ہر کارہ ٹی وی سٹیشن پہنچ گیا اور ڈاکٹر عبدالخالق کے پیغام کے ساتھ مدعابیان کیا۔اسے یہ جان پر جھڑک دیا کہ کرنل قذاقی نے ڈیڑھ گھنٹے بعد خطاب کرنا تھا۔ اس محدود مدت میں کیا تیاری ہو سکتی تھی ۔ ڈاکٹر عبدالخالق کا فون آگیا تو ڈاکٹر ظہور آمادہ ہو گئے۔ جلسہ گاہ پہنچے تو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو حاضرین سے کرنل قذاقی کے خطاب کے بارے میں بتانے کے لئے مائیک پر جا رہے تھے۔ حنیف رامے ان دنوں نئے وزیر اعلیٰ بنے تھے۔ وہ ڈاکٹر ظہور کو دیکھ کر بڑے مطمئن ہو ئے۔ گورنر کھر نے ان سے کہا کہ بھٹو صاحب انگریزی میں جو کہیں اس کا ترجمہ کرنل قذاقی کے کان کے قریب ہو کر کرتے رہیں۔چنانچہ کرنل قذاقی کو بھٹو کی تقریر کا ترجمہ کر کے سناتے رہے۔کرنل قذافی نے استفسار کیا کہ ان کی تقریر کا ترجمہ بھی آپ کریں گے؟ ڈاکٹر ظہور اظہر نے ہاں میں جواب دیتے ہوئے درخواست کی کہ آپ جناب چھوٹے فقروں میں خطاب فرمائیں تو ترجمے میں آسانی رہے گی۔کرنل قذاقی نے ایسا ہی کیا۔ بھٹو نے اس موقع پر لاہور سٹیڈیم کا نام کرنل قذاقی کے نام سے منسوب کیا تھا۔ڈاکٹر ظہور احمد اظہر فی البدلیہ کرنل قذاقی کی تقریر کا ترجمہ کرتے رہے۔ وہ کلاسیکل ترجمہ تھا یہ تقریر ترجمہ سمیت میں نے اُن دنوں ریڈیو سے براہِ راست سنی تھی۔ ان کے لہجے میں بھرپور اعتماد تھااور اتفاقاً یا قدرتی طور پر آواز کو سنتے ہوئے لگتا ہی نہیں تھا کہ ترجمہ کوئی دوسرا شخص کر رہا ہے۔ آج کل یوٹیوب پر کرنل قذاقی کے اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر کی گئی تقریر کی ویڈیوکی وائس اوور چل رہی ہے جو کسی اور موقع کی ہے۔ اس معاملے میں بھی جعل سازوں نے ہاتھ کردکھایا ہے۔ ڈاکٹر ظہوراظہر صاحب سے اس تقریر کی آڈیو کی سی ڈی بنانے کی بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ پی ٹی وی کے ریکارڈ میں تھی جسے کسی دور کے اسمٰعیل نامی پی ٹی وی کے ڈائریکٹر نے ادھر ادھر کر دیا۔ ڈاکٹر ظہور اظہر کو جنرل ضیاءالحق کے دورس نشانِِ پاکستان کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔یہ بھی ایک دلچسپ داستان ہے۔ جنرل ضیاءالحق سے ان کی ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔ان دنوں روسی فوجیں افغانستان میں اتر رہی تھیں ان کا پروگرام گرم پانیوں تک آنے کا تھا۔ جنرل ضیاءالحق نے برسبیل تذکرہ سے پوچھ لیا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ بس جہاں روسی فوجیں ہوں وہاں پٹاخہ چھوڑیں ۔ جنرل صاحب نے آئی ایس آئی کے ذریعے ایساہی کیا گیا جس سے روسی فوجوں کے قدم وہیں رک گئے ۔یہ مشورہ دینے پر انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا۔

متعلقہ خبریں