یمنی ڈرون سعودی عرب اور پاکستان

2019 ,ستمبر 18



صدر ٹرمپ لاٹو کی طرح گھوم رہا ہے پسپا ہورہا ہے u turn لینے سیکھ رہا ہے سعودی عرب کی دو تیل کے کنووں پر یمنی ڈرون حملے کے بعد ٹرمپ نے بڑے تکبر سے اعلان کیا تھا کہ ہم نے ایران میں مختلف مقامات پر حملے کے لیے نشان لگادیئے ہیں اورہمارے جہاز بمباری کے لیے تیار ہیں اس کے لیے (Loaded & Locked) کی جنگی اصطلاح استعمال کی لیکن 24 گھنٹے نہیں گزرے تھے کہ ٹرمپ کو اپنا تھوکا چاٹنا پڑرہا ہے کہ میں جنگ نہیں چاہتا اورامریکہ ایران پر حملہ نہیں کرے گا ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب پر حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے لیکن ہم جلد بازی میں کوئی اقدام نہیں کریں گے۔ سعودی عرب نے کہا تھا کہ حملوں میں ایرانی اسلحہ استعمال ہوا ہے لیکن سعودی عرب نے جوابی حملہ کرنے یا بدلہ لینے جیسے اشتعال انگیز بیانات نہیں دیئے کیونکہ گذشتہ 4سال یمن پر مسلط کردہ یک طرفہ جارحانہ جنگ کاانجام ان کے سامنے گھوم رہا ہے یمن کے جوابی حملوں سے پہلے متحدہ عرب امارات یمن کے محاذ سے اپنے زمینی دستے اورتوپ خانہ واپس بلارہا ہے کہ یمن نے دھمکی دی تھی کہ ابو ظہبی اوردبئی پر دونشانے ان عظیم الشان کاروباری مراکز،برج الخلیفہ کی بلند و بالا’ فلک شگاف عمارت اور کاغذی محلات کو لمحوں میں زمین بوس کردیں گے جس پراماراتی شہزادے نے اس جنگ کے بارے میں سردمہری اختیارکرلی تھی اور جبکہ سعودی حکام دعوی کرتے ہیں کہ یہ جنگ محمد بن زائد کی ایما پر شروع کی گئی تھی جس میں MBS کوملوث ہونے پر مجبور کیا گیا اس جنگ میں لاکھوں یمنی شہید ہوچکے ہیں 60ہزار پھولوں جیسے بچے ابدی نین سلادیئے گئے تھے۔ یمنی فوج نے سعودی عرب پرڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کیا تھا کہ وہ اپنے حق دفاع میں ایسے حملے جاری رکھیں گے۔ ان حملوں کی وجہ سے گذشتہ ایک دہائی کے بعد تیل کی قیمتیں آسمان کوچھونے لگی ہیں یمن نے سعودی تیل تنصیبات پر کام کرنے والے تمام غیرملکیوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا ہے کہ ان تنصیبات پر مزید حملے کئے جائیں گے تیل کے یہ کنویں کل عالمی لاگت کا 5فیصد پیدا کرتے ہیں ان حملوں کی وجہ سے سعودی عرب کی تیل کی آدھی پیداوار متاثرہوئی ہے جبکہ ان کنووں کی مرمت پر کم از کم 6ماہ لگیں گے سعودی عرب ان کنووں سے 59لاکھ بیرل تیل نکالتا ہے یمنی ڈرون حملوں کی وجہ سے مشرقی وسطی اورخلیج فارس کے علاقے میں تیل صاف کرنے والے کارخانوں اورپائپ لائنوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں ان حملوں نے عالمی معیشت اورتیل کی دنیا کو دہلا کررکھ دیا ہے لیکن جابجا آنکھیں دکھانے والاٹرمپ اب بڑکیں مارنے کی بجائے جنگ پر سفارت کاری کو ترجیح دینے کے راگ الاپ رہا ہے۔ یمن پر مسلط کردہ یک طرفہ جارحانہ جنگ کے چارسالہ دور میں اس کاری وار نے آل سعود کو سر تاپیر دہلا کررکھ دیا ہے اور خاندان سعود میں MBS کے خلاف دوبارہ اختلافی آوازیں بلندہونا شروع ہوگئی ہیں۔ مشرقی وسطی کی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے آئندہ چند ہفتوں میں 4 سال سے جاری جنگ کے بادل بھی جھپٹنا شروع ہوجائیں گے ایران ساختہ ڈرون خطے میں امن کی علامت بن کر ابھریں گے۔ "سعودی تیل کی تنصیبات پر کسی بھی وقت حملے ہوسکتے ہیں اس لیے تمام غیرملکی عملہ انہیں خالی کردے" یمنی فوج نے کھلی دھمکی دی ہے کہ اگر سعودی عرب نے یمن پر گذشتہ چارسال سے جاری جارحیت فوری طورپر بند نہ کی تو ہم سارے سعودی عرب پر کسی بھی جگہ کسی بھی وقت حملے کرنے کا حق رکھتے ہیں یمنی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی تنصیبات پر کام کرنے والے غیر ملکی انجینئر اوردیگر عملہ فوری طور پر نکل جائے کیونکہ انہیں مستقبل کے لیے ہدف بنا لیا گیا ہے۔ گذشتہ ہفتے ہونے والی حملوں سے جدید ترین امریکی دفاعی نظام کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ "پیٹریاٹ" سمیت سارے امریکی دفاعی نظام یمنی ڈرون حملے روکنے میں ناکام ہوگئے ہیں کہتے ہیں کہ یمنی حکومت نے سعودی عرب کو میزائل اورڈرون حملوں سے بچاؤکا قابل اعتماد دفاعی نظام بیچنے کی "پیش کش"بھی کی ہے جو امریکی ناقص ہتھیاروں سے کہیں بہتر ہوگا عالمی دفاعی ماہرین حیرت زدہ ہیں کہ اگر صرف 10 یمنی ڈرون سعودی عرب کی تیل کی آدھی پیداوار داؤ پر لگا سکتے ہیں تو اسی طرح کے دو مزید حملے اسے چوراہے میں کھڑا کردیں گے۔ جبکہ اب امریکہ اس جنگ سے پہلو بچا کرامن کی راگنی الاپ رہا ہے۔ سعودی عرب پر یمن کے ڈرون حملے ایک سال جاری تھے جن میں فوجی اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنائی گئیں۔ لیکن 14 ستمبر کے آرامکو آئل ریفائنریز پر ڈرون حملوں نے طاقت کا توازن بدل کر رکھ دیا سعودی وزارت داخلہ نے ڈرون حملوں کی باضابطہ تصدیق کردی یمنی فوج کے ترجمان یحیی سریع نے انکشاف کیا یمن نے 10 ڈرون طیاروں سے سعودی عرب کی ان ریفائنریز کو آپریشن "روک تھام صلاحیت 2" کے نشانہ بنایا ہے گذشتہ ماہ اگست 2019 میں یمن نے 10 ڈرون طیاروں سے متحدہ عرب امارات کی سرحد سے 10 کلومیٹر پر سعودی عرب کی الشیبہ ریفائنری کو نشانہ بنایا تھا۔ اس آپریشن سے 1200 کلومیٹر دور الشیبہ جیسے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقے تک دور مار حملے کی صلاحیت ثابت ہوگئی یہ حملہ متحدہ عرب امارات کو ایک تنبیہ تھی کہ اس کی تیل کی تنصیبات بھی نشانہ بن سکتی ہیں۔ اسی اثنا میں یمن نے بیلاسٹک میزائل سے سعودی عرب میں 1500 کلومیٹر کے فاصلے پر الدمام میں فوجی چھاؤنی کو نشانہ بنایا تھا۔ سعودی عرب کے فوجی اور اقتصادی مراکز کو نشانہ بنانے پر مبنی حکمت عملی مستقبل میں بھی ایسے حملے جاری رہیں گے سعودی حکام کی ڈرونز کا مقابلہ کرنے کی اپنی صلاحیت پر پراسرار خاموشی اختیار کرلی ہے۔ سعودی ترجمان منصور الترکی نے بقیق اور خریص میں حملوں والے یمنی ڈرونز کو مار گرانے کی جانب کوئی اشارہ نہیں کیا۔ امریکی ائر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے ڈرون طیاروں اور میزائلوں کا مقابلہ کرنے اور انہیں فضا میں ہی تباہ کرنے میں ناکامی نے سعودیوں کو از حد مایوس کر دیا ہے اور وہ امریکی دفاعی نظام کو کھلونوں سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں بقیق اور خریص کی آئل ریفائنریز سے اٹھنے والے آگ کے عظیم الاو میں امریکی جاہ ؤ جلال پر ہیبت ہتھیاروں کا خوف بھی بھسم ہو گیا ہے یقیق کی آئل ریفائنری سے روزانہ 70 لاکھ بیرل تیل صاف کیا جاتا ہے اس حملے نے اسرائیلی یہودیوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں اور یمنی ڈرون آل سعود کے ساتھ ساتھ تل ابیب کے صہیونیوں کے لئے ڈراونے خواب بن چکے ہیں۔ اندریں حالات پاکستان پر حالات کو ٹھنڈا رکھنے کی بھاری اور نازک ذمہ داریاں آن پڑی ہیں کہ ہمارے ایک سابق سپہ سالار جنرلُ راحیل شریف متحدہُ مسلم افواج کے سربراہ کی حثیت سے مختلف شاہی تقریبات میں پنجاب کا روایتی کھیل تلواروں سے گتکہ کھیلتے دکھائی دیتے ہیں قازقستان میں جاری امن مذاکرات ASTANA PROCESS یمنی تنازعے کا پر امن حل ثابت ہو سکتے ہیں امریکی سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کا الزام ایران کے ساتھ ساتھ عراق پر بھی عائد کر رہے ہیں جبکہ عراقی کابینہ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے سعودی عرب کی دو آئیل ریفائنریوں کی تباہی کا مسئلہ سعودی عرب کا علاقائی مقامی مسئلہ ہے اسکو امت مسلمہ کا مسئلہ نہ بنایا جائے اور نہ اسے حرمین شریفین کی حفاظت سے جوڑا جائے کیونکہ آوارہ مزاج شہزادہ محمد بن سلمان سعودی عرب میں جو جوئے اور کنجر خانے کھول رہا ہے انہیں کسی طور حرمین شریفین سے کوئی نسبت نہیں ہوسکتی ویسے بھی اسلامی نظریاتی کونسل اور جامع دائر الفتاوی سے حدود حرمین شریفین کا باضابطہ تعین کرایا جائے تاکہ شاہی خاندان کے اندرونی تنازعات یا عربوں کے اختلافات میں کوئی بھی فریق حرمین شریفین کے تقدس کو اپنے مفادات اور سیاسی مواصد کے لئے استعمال نہ کرسکے ویسے خودساختہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان نے کہ آئے کہ ڈرون حملے عالمی معیشت پر کئے گئیے تھے ہمیں بھی اس تباہی کا اتنا ہی دکھ ہے جتنا عربوں کو کشمیر کے معاملے پر ہوا ہے اور ہمیں نصیحت کی گئے تھی کہ کشمیر بھارت کا اندرونی تنازعہ ہے اسے پاکستان امت مسلمہ کا مسلہ بنانے سے گریز کرے امریکی خبررساں ادارے اے پی کے لیے کام کرنے والے ضرار خان اورعزیزی ارسلان بختیار ٹیپو مصر تھے کہ امریکی ہمارے واپس اسلام آباد پہنچنے تک ایران پر جوابی حملہ کردیں گے کہ ٹرمپ (Loaded & Locked)کا اعلان کرچکے ہیں۔ یہ کالم نگار دبے دبے لفظوں میں گزارش کرتارہا ہے کہ ان تلوں میں اب تیل نہیں رہا کچھ نہیں ہوگا 24 گھنٹے گزر چکے ہیں اوراب ٹرمپ جنگ کی بجائے امن کے راگ الاپ رہا ہے اور گیت گارہا ہے

متعلقہ خبریں