آذربائیجان:چند روز،دبئی ایئر پورٹ پر رت جگا

2022 ,مئی 12



تحریر: فضل حسین اعوان۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دبئی اور باکو میں مماثلتوں کی بات کریں تو دونوں کے مسلم ممالک ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں جدید طرز کی عمارتوں کی تعمیر، انکا امیر ہونااور ڈسکو کلبوں میں راتوں کاجاگنا شامل ہے۔ ترکی میں بھی یہ سب ”شرافات“ موجود ہیں۔ نائٹ کلبوں میں شباب کا عروج ہوتا ہے۔ شباب کے ساتھ کے لوازمات بھی دستیاب ہیں۔ باکومیں رات گئے ہوٹلوں کے سامنے اور شاپنگ مالز اور ریستورانوں کے باہر ٹیکسی ڈرائیور ڈسکو کلب تک فری لے جانے کی پیشکش کرتے ہیں۔ کچھ ٹاﺅٹ بھی" ڈسکو بوم" کے خاص الفاظ اداکرکے دعوت دیتے ہیں۔ڈسکو بوم ان کا کوڈ ہے۔ نائٹ کلب پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی ہیں مگرکھلے اور سرِ عام نہیں چلتے ۔ باکو میں اولمپک سٹیڈیم تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جاگتا دکھائی دیتا ہے۔رات سٹیڈیم شعلے برساتانظر آتا ہے۔پٹرول سستا ہونے کے باعث باکو میں ٹیکسی( سفر کرنیوالی)کافی سستی ہے۔ ہم لوگوں کا5دن اور4راتوں کا پیکج تھا۔ ایک پیکج 4دن اور3راتوں کا بھی ہے۔ وہ زیادہ مناسب ہے۔ قبل الذکر پیکج میں ہوٹل میں اچھا ناشتہ، لنچ اور ڈنر دیا گیا۔ ایک ڈنر کے ایف سی دوسرا میکڈونلڈ میں کرایا گیا۔ اسی طرح ایک لنچ انڈین اور دوسراباکو کے مقامی ریسٹورنٹ میں دیا گیا۔ایک لنچ مرضی سے کرنے کے پیسے دے دئیے گئے۔ آذربائیجان کی کرنسی منات ہے۔ ایک منات 106روپے کا ہے۔ آذربائیجان تیل کی دولت سے مالامال ہے۔ یا نارڈیگ (جلتے ہوئے پہاڑ) کے راستے میں ہزاروں پٹرول نکالنے کے پمپ لگے ہوئے ہیں۔پاکستان کی کرنسی میں فی لیٹر قیمت سو روپے ہے۔ کرونا کے بعد پٹرول کو اس ملک کو بھی آگ لگی ہے۔15ڈالر فی بیرل سے قیمت 115ڈالر ہو گئی۔ باکو ایئر پورٹ خوبصورت اور جدتوں سے آراستہ ہے۔ عملہ کو آپریٹو ہے۔ مسافروں کی معاونت کرتا ہے۔ لاؤنج میں آرام دہ کرسیاں ہیں۔مسافرو ںکو زیادہ دیر رُکنے کی صورت میں کوفت نہیں ہوتی۔ جدید طرز کے واش روم ہیں۔ کموڈ میں لوٹے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ہمارے ہاں تو ویسے بھی کئی لوٹے اقتدار کے ایوانوں میں چلے گئے۔ کموڈز میں مسلم شاور اولین ضرورت بن گئے مگر باکو ایئر پورٹ سمیت کئی مقامات پر مسلم شاور بھی موجود نہیں۔ کچھ مغربی ممالک (سکنڈے نیوین ممالک) میں واش رومز میں پانی کا تصور ہی نہیں ہے۔ ٹشوز کا بے بہا استعمال ہوتا ہے۔ٹشوز اکثر یورپی ممالک میں چین سے جاتے ہیں۔ کرونا کے دوران چین کی یہ انڈسٹری بھی بند ہوگئی تو یورپ میںٹشوز کا بحران پیدا ہو گیا تھا۔ ان ممالک میں موجود پاکستانی اپنے گھروں میں واش رومز میں پانی کی دستیابی کا جگاڑ لگا لیتے ہیں، آڑا جوڑا کر لیتے ہیں۔ باکو سے دبئی آنے کے بعدپاکستان کیلئے پرواز 14گھنٹے بعد روانہ ہونی تھی۔ ایک پاکستانی سرِراہ ملا اس کو اگلی پرواز کے لیے16گھنٹے انتظار کرنا تھا۔ دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ جدتوں سے آراستہ ہے۔ ایک ٹرمینل سے دوسرے کے درمیان کئی کئی کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ سیکڑوں میٹر کی واکنگ بیلٹ لگی ہیں۔ڈی این اے ٹی اے(دبئی نیشنل ایئر ٹریول ایجنسی) کی کارکردگی مثالی ہے۔ ہمیں ٹرمینل 2پر چودہ گھنٹے گزارنے تھے۔ باکو سے دبئی ایئر پورٹ شام پانچ بجے پہنچ گئے ۔ فیصل آباد کی پرواز صبح سات دس پر تھی۔ اس ٹرمینل پر باکو ایئر پورٹ کی طرح آرام دہ کرسیاں نہیں ہیں۔ ریسٹ کیلئے لاؤنج کا پتہ کیا تو آٹھ اور4گھنٹے کی سلاٹ کے لاؤنج دستیاب تھے۔4گھنٹے کا لاؤنج دن میں مل سکتا ہے۔8گھنٹے کا لاؤنج کرائے پر آپ اپنی مرضی کے وقت کے لیے نہیں لے سکتے۔ ہمارے لئے رات گیارہ بجے سے صبح سات بجے تک کا وقت موزوں تھا۔ اس کا کرایہ 500درہم تھا۔ ایک درہم 50روپے کا ہے۔ ہم صرف معلومات تک محدود رہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ لاؤنج ایئر پورٹ کے باہر ہیں۔چیک ان کے لیے تین گھنٹے پرواز سے پہلے ایئر پورٹ آنا پڑتا ہے۔ گویا 25ہزار میں 4گھنٹے آرام کرنا تھا۔ کچھ ایئر لائنز کنکٹنگ فلائٹس میں زیادہ دورانیہ ہوتو ہوٹل فراہم کرتی ہیں۔ امارات ایئر کی پارٹنر فلائی دبئی کی شاید اتنے اخراجات سے کتراتی ہو مگر ایک آسان حل یہ ہے کہ ٹرمینل پر پسنجر لاؤنجز میں آرام دہ سیٹنگ ارینجمنٹ کردی جائے۔یہ خرچ ایک بار ہی ہوگاجو بہت زیادہ بھی نہیں ہے۔ لوگوں کی ایسی رات مشکل میں کٹتی ہے۔ ویسے میں اس صورت حال سے پریشان نہیں ہوا۔ اسے بھی مہم جوئی سمجھا اور انجوائے کرنے کی کوشش کی۔ یہ سطور بھی میں لاؤنج میں بیٹھ کر لکھ رہا ہوں۔ یو ں وقت بے مشکل گزر رہا ہے ۔ میرے سامنے ایک ستر سالہ گوری مائی بغیر بازوؤں کے قمیض پہنے سکڑی کرسی کے دستے پر سر رکھے سو رہی ہے۔اس وقت4بجے ہیں۔ اس ٹرمینل پر چھوٹی سے مسجد ہے۔ کچھ لوگ اس میں سو رہے تھے۔ رات بارہ بجے ان کو نکال کر لاک کر دیا گیا۔ ہم باکو سے نکل کر دبئی پہنچ کر کہیں اورکھو گئے۔ آئیں پھر دبئی سے باکو چلتے ہیں۔ ان دنوں جشن نو روز کی تقریبات عروج پر تھیں ۔ آذربائیجانی ایران کے ساتھ ہی نئے سال کا جشن مناتے ہیں۔ مقامی لوگوں کی زبانی آذربائیجانی ہے۔ کچھ لوگ اسے آذری بھی کہہ دیتے ہیں۔ہمارے ٹور کی گائیڈ خانم جو ایک نیشنلسٹ بھی ہے اس نے بتایا کہ آذر ایران کا ایک علاقہ ہے۔ وہاں کے لوگوں کو آذری کہا جاتا ہے۔ آذربائیجانی باقاعدہ مقامی لوگوں کی زبان ہے۔ آذربائیجان فارسی کا لفظ ہے جس کے معنی آگ کے رکھوالے ہیں۔ اس نام کی نسبت کی وجہ بتائی جاتی ہے کہ تیل کے جگہ جگہ چشمے بن جاتے تھے۔ ان میں آگ لگ جاتی جس سے شعلے بھڑکتے رہتے تھے۔ ایک روزکے لیے ہم لوگ قبالہ گئے۔ جس کے نصف راستے میں پندرہ منٹ کے لیے رکے تو برف باری ہو رہی تھی۔ اس سے آگے جیسے جیسے بڑھتے گئے برف باری کا سلسلہ تیز ہوتا گیا۔ کبھی بارش بھی ہونے لگتی۔ آدھا راستہ موٹروے اور باقی آدھا قدرے ٹوٹ پھوٹ کا شکارمگر کھڈوں سے پاک ہے۔ قبالہ سے تیس چالیس کلو میٹر پہلے برف نے ہر تعمیر اور نباتات کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ درختوں کی پہچان برف نے ختم کر دی ہوئی تھی۔ ہر طرف برف ہر جگہ اور ہر چیز چٹی سفید۔ کھڑی گاڑیوں گھروں کی چھتوں اور دیواروں پر دو دو فٹ برف۔یہ ایک لائف ٹائم ایکس پیریئنس تھا۔ قبالہ میں (ہمارے ہاں پتریاٹا کی طرح کی )کیبل کارکی سیر پیکج میں شامل تھی۔برفیلے بادلوں کے باعث کارکے اندر سے شیشوں کے باہر کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ واپسی پر قبالہ کے نواح میں مالا بارریسٹورنٹ میں ڈنر کیا۔چند کلو میٹر آگے پُر کیف وادی میں پُر کشش نوہرجھیل حشر سامانی کے ساتھ اٹھکیلیاں کر رہی تھی۔پُر اسرار یانا ر ڈیگ( شعلے اگلتا پہاڑ) اورطلسماتی وجادوئی فائر ٹمپل(آتشکدہ) کی وزٹ بھی پیکچ کا حصہ تھی ۔ اس پر انشا ءاللہ آئندہ بات ہوگی۔

متعلقہ خبریں