دوپٹہ

2020 ,فروری 2



دوپٹہ خواتین کے لباس میں ھمیشہ سے ہی لازمی جزو رہا ہے۔۔۔ بلکہ یوں کہیں تو بے جا نہ ہوگا کہ مشرقی لباس کا سارا حسن دوپٹے میں پوشیدہ ہے۔۔۔ جیسے جیسے فیشن بدلتے رہے۔۔ دوپٹوں کے انداز میں بھی تبدیلیاں آتی رہیں۔۔ کبھی یہ کرن ، گوٹے کناری سے مرصع ہوئے تو کبھی کروشیا سے بنی بیلوں سے سجے نظر آئے ، کبھی مختلف دھنک رنگوں میں رنگے ھوئے ، زرق برق ، نت نئے انداز سے چُنے ہوئے ، کلف اور ابرق لگے ہوئے نظروں کو بھاتے رہے ۔۔ سوتی ، جارجٹ ، شفون ، سلک اور جالی کے خوبصورت اور حسین ان دوپٹوں نے ہمارے لباس کی شان ہمیشہ ہی بڑھائی ہے ۔۔۔۔
بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ دوپٹہ اوڑھنے کے انداز میں بھی تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں۔۔۔۔ پہلے پہل شرفاء میں دوپٹے سے سر ڈھکنے کے رواج پر سخت سے عمل درآمد ہوا کرتا تھا۔۔۔حتی کہ گھر کی بڑی بزرگ خواتین کے سامنے بھی لڑکیاں بالیاں سلیقے سے سر ڈھک کے سامنے آیا کرتیں۔۔۔ رفتہ رفتہ یہ اھتمام گھر کے مرد حضرات کی آمد پر ہی کیا جانے لگا۔۔۔ یعنی جیسے ہی گھر کے بڑے حضرات نے زنان خانے میں قدم رکھنے والے ہوئے ۔۔۔گھر کی ماماؤں اور ملازماؤں نے منادی کر دی کہ بیبیو اباحضور تشریف لا رہے ہیں اور یہ سنتے ہی نیک بیبیاں قرینے سے دوپٹہ سے سر ڈھک لیتیں اور مؤدبانہ انداز میں باپ دادا اور تایا چچا ماموں جیسے بزرگوں کے سامنے آیا کرتیں۔۔یہ رکھ رکھاؤ اب بھی بہت سے گھرانوں میں تعظیما قائم ہے۔۔۔۔

بھتیجی اب سلیقے سے دوپٹہ اوڑھتی ہوگی
وہی جھولے میں ہم جس کو ہمکتا چھوڑ آئے ہیں

یہ طور طریقہ ہمیشہ ہی سے یہ ھمارا ایک تہذیبی اور ثقافتی چلن اور رواج تھا ، رکھ رکھاؤ تھا۔۔۔بلکہ ادب و آداب تھے۔۔۔ پھر زمانہ اپنی رفتار بدلتا گیا۔۔۔ اور رفتہ رفتہ دوپٹہ سر پہ سے پھسل کر شانوں پر براجمان ہوگیا۔۔۔ہاں اتنا ضرور ہوا کہ بو وقت تلاوت یا آذان کی صدا گونجتے ھی خواتین جلدی سے آنچل اوڑھ کر احتراماً سر ڈھک لیا کرتیں۔۔۔ مخلوط محافل میں قرینے سے دوپٹہ جسم پر پھیلا کر اس طرح اوڑھا جاتا کہ جسمانی ساخت نمایاں نہ ہو گویا دوپٹہ ستر پوشی میں بھی معاون ہو اور شرم و حیا کے تقاضوں کو پورا کر سکے۔۔۔ وہ لڑکیاں یا خواتین جو دوپٹوں سے بے نیاز ہوتیں وہ عموماً خاصی ناپسندیدہ ، معیوب اور بے باک سمجھیں جاتیں۔۔۔۔جوں جوں وقت سرکا اور دوپٹے کا سفر بھی آگے بڑھتا گیا۔۔۔اور رفتہ رفتہ وہ ایک کاندھے پر جھولنے اور لہرانے لگا ۔۔ دل کو یہ ڈھارس بہرحال تھی کہ دوپٹہ اب بھی لباس کا لازمی حصہ ضرور ہے جب بھی ضرورت ہوئی بطریقِ احسن استعمال میں آ ہی جاتا ہے ۔۔چلیں یہ دم بھی بہرحال غنیمت ہی تھا لیکن پھر حالات نے کروٹ لیتے لیتے اچانک قلابازی ہی کھا لی اور دوپٹے کے مستبقل کو داؤ پر ہی لگا دیا ۔۔۔ فی زمانہ دوپٹے کی حالت جس قدر مخدوش ہوچکی ہے وہ قابلِ تشویش ہے۔۔۔ اب تو اردگرد دوپٹہ بیزاریت کی عجب ہی مثالیں تواتر کے ساتھ نظر آنے لگی ہیں ۔۔ گزشتہ دنوں ایک شاپنگ مال کے فوڈ کورٹ میں منظر دیکھا کہ ایک نوعمر صاحبزادی ماڈرن سے لباس میں جھنجھلاتی صورت لیئے ٹھک ٹھک کرتی آگے جا رہی ہیں اور انکی مسکین سی والدہ دبی دبی سی آوازیں لگاتی پیچھے پیچھے چلتی ھوئی دوپٹہ نما اسکارف ہاتھ میں لیے منت بھرے انداز میں بیٹی کو پیش کر رہی ہیں۔۔۔ صاحبزادی چونکہ نئے دور کی طرح دار حسینہ تھیں اور دوپٹے کی پابندیوں سے راہ فرار ڈھونڈنے پر تلی بیٹھی تھیں لہذا سنی ان سنی کرتے ہوئے ماں کو قطعا خاطر میں نہیں لا رہی تھیں ۔۔۔ بلا آخر اماں کے مسلسل اصرار پر انھوں نے زچ ہوتے ہوئے خفگی سے بھرپور نظر ماں پر ڈالی اور شدید کوفت بھرے انداز میں ماں کے ہاتھ سے اسکارف جھپٹ کے اپنے گلے میں اڑس لیا۔۔۔اس پر بھی اماں بیچاری کی جان میں جان آئی اور وہ اردگرد سے نظریں چراتی صاحبزادی کے قدم سے قدم ملانے کی کوشش کرنے لگیں ۔۔۔ اتفاقاً اگلے ہی روز ایک برانڈڈ کپڑوں کے آوٹ لٹ پر ایک اور ماں بیٹی کی گفتگو سننے کو ملی۔۔۔۔کھلتے رنگوں والا لینن کا پیارا سا تھری پیس سوٹ ڈمی پر لگا ہوا تھا جسکا دوپٹہ بہت خوبصورت تھا۔۔ ایک بچی اور اسکی والدہ برابر میں کھڑی بہت شوق سے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔شدید چست جینز کے ساتھ خوبصورت ایمبرائیڈڈ کرتی نما چھوٹی سی شرٹ پہنے دوپٹے سے بے نیاز صاحبزادی اور ساتھ شلوار قمیض اور ھم رنگ دوپٹے کے مناسب حلیے میں انکی والدہ۔۔۔ شاید وہ دونوں یہ ڈریس خریدنا چاہتی تھیں۔۔برابر میں کھڑی اس بچی کی آواز اچانک کانوں میں آئی۔۔۔مام لے لیں ناں یہ ڈریس۔۔ آپ ٹو پیس بنا لیجیئے گا اور اس دوپٹے سے میری کرتی بنوا دیں بہت حسین لگے گی۔۔۔والدہ نے خشمگین نظروں سے بیٹی کو گھورا اور دھیرے سے بولیں ۔۔۔ مجھے تو تم معاف ہی رکھو۔۔۔
اس قبیل کی بچیوں کی دوپٹے سے بے نیازی اور عدم۔دلچسپی پر شاید صبر آ ہی جاتا اگر انکا لباس معقول اور مناسب ھوتا ستر پوشی کے تقاضوں کو پورا کر رہا ہوتا۔۔۔ایک وقت تھا جب اداکاراؤں کے لباس میں اور مہذب خواتین کے لباس میں واضح فرق ہوا کرتا تھا۔۔ بہت باریک ، تنگ ، چست اور کھلے چاک یا بڑے گلے والے لباس گھر کی مائیں اور بزرگ خواتین یہ کہہ کر رد کر دیتیں کہ یہ بھی کوئی شریف بہو بیٹیوں کے پہننے کے کپڑے میں۔۔۔ یہ تو میراثنیں ، ناچنے گانے والی عورتیں یا ڈومنیاں پہنا کرتی ہیں۔۔۔۔گویا "پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں" کا لحاظ ہمیشہ ہی ملحوظ خاطر رہا کرتا تھا۔۔۔۔ مگر بدقسمتی سے اس موجودہ دورِ پرآشوب میں یہی فلمی خواتین ہر دوسری لڑکی کی آئیڈیل ہیں۔۔۔ ان کے جیسا لباس ، چال ڈھال ، جسمانی ساخت کی نمائش فیشن کا حصہ بننے لگی ہے۔۔۔
کیا عجب دور آگیا ہے۔۔۔۔ عقل حیران ہے کہ موجود نسل دوپٹے سے آخر اس قدر نالاں کیوں دکھائی دیتی ہے۔۔۔ اور اس سے بھی تاسف کا مقام یہ کہ گھر کے بڑے بزرگوں کو تو چھوڑیئے مائیں تک انھیں سمجھانے یا قائل کرنے سے قطعی طور پہ قاصر ہیں ۔۔ ایک وقت تھا کہ جس زمانے میں حدیقہ کیانی لہرا لہرا کر اپنا مشہور زمانہ گیت گایا کرتی تھیں۔۔
دوپٹہ میرا ململ کا
کروں کیا اس چنچل کا۔۔۔
ہماری ایک کلاس فیلو ہمسی سے دھری ہوجاتیں یہ قصہ سنانے میں کہ جونہی یہ گانا سماعتوں میں رس گھولتا ہے انکی دھان پان سی دادی سخت جلالی کیفیت میں اپنے کمرے سے پکارتے ہوئے حدیقہ کیانی سے مخاطب ہوتی ہیں ۔۔۔" ارے آگ لگا دے موئے کو۔۔ ہم سے کیا پوچھتی ہے" ۔۔۔۔اور پھر دوسرا فرمان صادر ہوتا کہ "بند کرو یہ خرافات ۔۔جو دیکھیں گی کل کو وہی سیکھیں گی "۔۔۔پھر جب دادی حضور کا غصہ کچھ ٹھنڈا ہوتا تو گہری تشویش سے کہتیں۔۔" لو بھلا آج تک ہمارے سر سے ریشمی آنچل نہیں ڈھلکتے اور ان سے ململ کا نہیں سنبھالا جاتا "... کیا خوب وضعدار لوگ تھے گئے وقتوں کے ۔۔۔کہ جن کے لیے دوپٹہ حرمت اور تقدس کی نشانی ہوا کرتا تھا۔۔۔ اب تو بزرگ بھی ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی صورت لب سیئے رکھتے ہیں کہ نئی نسل کی بارِ خاطر پہ کچھ گراں نہ گذر جائے۔۔۔
سمجھ سے بالاتر ہے دوپٹے کو متروک کرنے کی آخر وجوہات کیا ہیں ۔۔۔ کیا روشن خیالی کی پہلی دلیل یہی ہے کہ دوپٹہ اتار پھینکا جائے ؟؟ کیا دوپٹہ دقیانوسیت کی علامت اور محض فرسودہ رواج ہوگیا ہے ؟؟ کیا ہم اس حوالے سے اتنے احساس کمتری میں مبتلا ہیں کہ ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارا دوپٹہ بن چکا ہے ؟؟ یا مردوں کے شانہ بہ شانہ چلنے کے شوق میں ہمارے شانے دوپٹوں کا بوجھ سنبھالنے سے قاصر ہیں ؟؟ ہم اندر سے اتنے کھوکھلے ہو چکے ہیں کہ اپنی اقدار پر مضبوطی سے جمے نہیں رہ سکتے۔۔۔؟؟ ہمارا لباس ہمارے لیے باعث فخر ہونے کے بجائے شرم بن چکا ہے۔۔۔؟؟
آخر ہم اپنی بچیوں کو کیوں نہیں سمجھا سکتے کہ مرد کی پہلی نظر اسکے شوق اور تجسس میں فطرتاً آپ پر اٹھے گی۔۔۔ مگر اس نظر کو واپس لوٹانا آپ کے ذمہ ہی ٹھہرا ہے۔۔۔ آپ اس نظر کے شوق اور اشتیاق کو ہوا دے کر ہوس میں بدلنا چاہتی ہیں یا احترام سے نیچے کرنا جانتی ہیں ۔۔ آپکا لباس اس سلسلے میں سب سے ذیادہ معاون اور مددگار ہے ۔۔۔ جب گھروں میں بچیاں بڑی ہونے لگتی ہیں تب ان کے انداز نشت و برخاست پہ دھیان دینا ستر پوشی کی اہمیت سمجھانا ان کے اندر شرم اور حیا کی اہمیت اجاگر کرنا ماؤں کی ہی ذمہ داری ہے۔۔۔بچیوں کو یہ کیوں نہیں سمجھایا جا سکتا کہ آپ کا لباس مخلوط تعلیمی اداروں میں۔۔۔۔آپکی پروفیشنل زندگی میں یا آپکی سیروتفریح میں باعث ندامت یا رکاوٹ نہیں بلکہ باعث فخر اور باعث تحفظ ہونا چاھیئے ۔۔ اپنے روائتی لباس میں بھی باوقار لگا جاسکتا ہے ۔۔کیا وجہ ہے کہ ہم اپنی بچیوں کی اس غلط روش کو سدھارنے کی جرات ہی نہیں کرسکتے کیوں آج کی اولاد اتنی باغی ، سرکش اور بے کہے قابو ہوتی جا رہی ہے کہ عافیت اسی میں سمجھی جاتی ہے کہ منہ لپیٹے اور کان دبائے بلا چوں وچرا انھیں من مانی کرنے دے جائے۔۔۔
مزے کی بات یہ ہے کہ "دوپٹہ ندارد" رحجان کے حوالے ہونے والی کسی بھی گفتگو کو شخصی اذادی پر حملہ سمجھنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے اور جو اس نئے اور بیہودہ رواج پر انگلی اٹھائے یا اس کے خلاف بولنے کی جرات کرے اس پر تنگ نظری کا فتویٰ لگانے میں دیر نہیں لگتی۔۔ اگر کوئی خاتون حجاب کرنے لگے تو ہم اس سے دس سوالات پوچھنے میں نہیں جھجھکتے لیکن اگر کوئی یہ پوچھ بیٹھے کہ آپ نے اپنا دوپٹہ کہاں بھاڑ چولہے میں جھونک دیا تو یوں سمجھیے کہ آپ نے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا۔۔۔ہزار بھاشن سننے کو مل سکتے ہیں۔۔جس میں سے ایک اعلیٰ توجیہہ یہ بھی ہے کہ پردہ تو نظر کا ہوتا ہے۔۔۔ لباس ہم چاہیں جیسا بھی پہنیں دیکھنے والوں کو اپنی نظروں سے لے کر جذبات و احساسات سب پر قابو ہونا چاھیئے۔۔۔گویا خرابی دیکھنے والے میں ہے پہننے والیاں تو معصوم اور نادان ہیں ۔۔ خیر یہ بیانیہ بھی اپنے آپ میں ایک الگ ہی موضوع ہے ۔
یہ تو ہم نے ابھی صرف طرز معاشرت اور ثقافتی رواج کے حوالے سے لباس اور خصوصا دوپٹے کے عنقا ہوئے جانے پر اظہار تشویش کیا ہے ۔۔۔ کہ معاشرتی چلن اور رواج کے حوالے سے اس موضوع پر گفتگو کرنا پھر بھی آسان ہے ۔۔۔
مذہبی حوالے سے اس موضوع بات کرنے کی تو ہمت ہی نہیں پڑتی ۔۔۔ کیونکہ ۔۔۔جب بھی سورہ نور میں اللہ سبحان وتعالیٰ کے اس فرمان پر دھیان جاتا ہے کہ " اپنی اوڑھنیاں گریبانوں پہ ڈالے رہیں"۔۔ اور جب جب سورۃ احزاب کی یہ آیات یاد آتی ہیں۔۔۔۔۔
" اے نبى ( صلى اللہ عليہ وسلم ) اپنى بيويوں اور اپنى بيٹيوں سے، اور مسلمانوں كى عورتوں سے كہہ دو كہ وہ اپنے اوپر اپنى چادريں لٹكا ليا كريں اس سے بہت جلد انكى پہچان و شناخت ہو جايا كرےگى، پھر وہ ستائى نہ جائين گى، اور اللہ تعالى بخشنے والا مہربان ہے الاحزاب ( 59 ).
ہم یہی سوچتے ہیں کہ پروردگار کبھی وہ وقت نہ لائے کہ ہماری نئی نسلِ کی ان بچیوں سے انکی اگلی نسل یہ سوال کرنے بیٹھ جائے کہ ۔۔۔۔
" دوپٹے ، چادر اور اوڑھنیاں کہتے کسے ہیں۔۔"

متعلقہ خبریں