دنیا

2017 ,جون 22



 

لاہور(مانیٹرنگ رپورٹ) دنیا انسانی نقطۂ نظر سے زمین کو دیکھنے کا نام ہے۔ یہ ہمارے تجربات ہماری تاریخ اور ہماری صورت جال کا عکس ہے۔ ہر انسان کے نزدیک دنیا کا تصور مختلف ہے۔

دنیا مفکر اور فنکاروں کی نظر میں

ماہر نفسیات ابراہم ایچ میزلو نے یہ دنیا اپنی بنیادی خواہشات کے پورا کرنے اور خود شناسی کی منزل کی طرف اپنے سفر کو قرار دیا۔ اندلس کے فلسفی ابن رشد نے دنیا کو انسانی خواہشات اور حدوں کا امتزاج قرار دیا۔ مذہبی لوگوں کے نزدیک دنیا محض آخرت کی کھیتی ہے۔ ایک بچے کی دنیا کھلونوں کے گرد گھومتی ہے اور ایک وطن پرست کے نزدیک اسکا وطن ہی اسکی دنیا ہے۔ اندھی گونگی اور بہری ہیلن کیلر کو یہ دنیا بہت خوبصورت لگی۔ ایک عورت کے جس کی محبت کی دنیا برباد ہو چکی تھی وہ لتا منگیشکر کی زبان میں یوں کہتی ہے:
اب نہ کھلے گي سرسوں اب نہ اگیں گے چاند ستارے
دو دل ٹوٹے دو دل ہارے دنیا والو صدقے تمہارے

ہماری خواہشات اور جزبات کی دنیا رد عمل ہے ہماری بیرونی طبعی دنیا کی۔ اگر یہ درست ہے کہ جغرافیہ ماں ہے تاریخ کا تو پھر دوسرے الفاظ میں ہماری تاریخ اور ہم عکس ہیں اپنے جغرافیے کا اپنی زمین کا۔

طبعی خصوصیات
پیمائش

اوپری علاقہ    510000000کلومیٹر 2
زمینی علاقہ    149000000کلومیٹر 2
سمندری علاقہ    361000000کلومیٹر 2
استوائی محیط    40077کلومیٹر
میریڈونال محیط    40009کلومیٹر
استوائی قطر    12757کلومیٹر
قطبی قطر    12714کلومیٹر
قطبی رداس    6356.89کلومیٹر
زمین کا حجم    1080000000000کلومیٹر
وزن    6592000000000000000000ٹن
براعظم
براعظم    رقبہ

ایشیا    43810000کلومیٹر 2
افریقا    30370000کلومیٹر 2
یورپ    10400000کلومیٹر 2
شمالی امریکا    24490000کلومیٹر 2
جنوبی امریکا    17840000کلومیٹر 2
آسٹریلیا    8470000کلومیٹر 2
انٹارکٹکا    13720000کلومیٹر 2
آبادی
براعظم    اندازاً آبادی    فیصد
ایشیا    3800000000    60٪
افریقہ    890000000    14٪
یورپ    710000000    11٪
شمالی امریکہ    515000000    
جنوبی امریکہ    371000000    
آسٹریلیا    24700000    0.3٪
انٹارکٹکا    1000    0.00002٪

متعلقہ خبریں