میجر محمد وسیم کے بچے عید کے موقع پر اپنے بابا کو عید ملتے ہوئے

2017 ,جولائی 1



لاہور(مہرماہ رپورٹ): میجر محمد وسیم فیصل شہید رحمتہ اللہ علیہ کے پھول جیسے پیارے بچے عید کے دن اپنے بابا جان کی قبر پہ اپنے بابا سے عید ملنے آئے یہ معصوم بھی جانتے ہیں ان کے بابا جان اس وطن کے کل کے لیے اپنا آج قربان کر گئے ان بچوں کے لیے خصوصی دعا کیجیے گا اپنے ارد گرد تمام شہداء کے ورثاء کے گھر ضرور جائیں ان کے والدین سے ضرور ملیں ! سب پاسبانوں کو دعا خیر میں ضرور یاد رکھیں یہ ہمارا قومی فریضہ بھی ہے حق بھی ہے یہ سارے ہمارے بھائی ہمارے بیٹے اس وطن کے پاسبان ہیں!
سلام افواج پاکستان !
شہید کا ہے مقام کیسا؟ افق کے اُس پار جا کے دیکھو
حیاتِ تازہ کیا مزے ہیں ؟ذرا یہ گردن کٹا کے دیکھو
یہ حسنِ فانی کی کیا طلب ہے؟خدا کے عاشق بنو تو تب ہے
گلاب بن کے مہک اٹھیں گے، جگر پہ یہ زخم کھا کے دیکھو
کسی کے دل پہ گمان نہیں، نا خبر ذراچشم و گوش کو ہے
شہید پر جو عنایتیں ہیں،کتاب و سنت کو اُٹھا کے دیکھو
نکھرتا جائے گا تن بدن اور جمال آئے گا خال و خط پہ
بڑھے گا حسن و جمال کتنا؟ ذرا لہو میں نہا کے دیکھو
وہ باغِ جنت کی نازنیں، جو تمہاری دلہن بنی کھڑی ہیں
تمہی تو دلہا ہو ،دیر کیسی؟ یہ سرخ مہندی لگا کے دیکھو
نہیں ناداں کو کچھ خبر یہ شعور والے ہی جانتے ہیں
خدا کی جو میزبانیاں ہیں،وفا کی رسمیں نبھا کے دیکھو
غرور تم کو نہیں ہے زیبا، اسے نہ اوڑھو خدا کا حق ہے
ملیں گے عظمت کے تاج کیا کیا؟ ذرا سا خودکو مٹا کے دیکھو
یہ تیرو تلوار اور خنجر، تمہارے زیور ہیں اے جوانو!
حسین لگتے ہو کس قدرتم، یہ اسلحہ تو سجا کے دیکھو.

متعلقہ خبریں