میرے نیناں ساون بھادوں

2017 ,جون 29



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): ورنہ گرمی اور حبس اس قدر تھا کہ سانس لینا بھی دوبھر ہو رہا تھا۔ ملک بھر میں پری مون سون نے 27 ویں رمضان کے بعد رنگ جمانا شروع کیا تو روزداروں کو پتہ چلا کہ شدید گرمی کے باوجود حبسِ دم نہ ہونے کی وجہ سے روزے بہرحال آرام سے گزرے آخری دو روزوں نے جب گھٹن سے دم بند کرنا شروع کیا تو لوگ بارش کی دعائیں مانگنے لگے۔ عید کا دن بھی پسینے میں تتر بتر گزرا۔ یہ تو واپڈا اور بجلی فراہم کرنے والوں کی مہربانی رہی کہ حکومت کی طرف سے ایام عید پر لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے احکامات پر مکمل عمل درآمد کر کے انہوں نے عوام کی دعائیں لیں۔ اب خدا کرے عوام کی دعائیں پوری ہوں اور لوگوں کی اس لوڈشیڈنگ نامی مصیبت سے ہمیشہ کے لئے جان چھوٹ جائے جو ماسی مصیبتے بن کر مستقل ہی چمٹ گئی ہے۔ ان ایام عید میں بجلی کی مسلسل فراہمی سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت اور بجلی پیدا کرنے والے ادارے اگر نیک نیتی سے کام کریں تو لوڈشیڈنگ پر قابو پا سکتے ہیں۔ ان کے پاس وسائل ہیں۔ بس اگر کمی ہے تو نیک نیتی کی۔ اسلئے اب یہ حکومت اور بجلی پیدا کرنے والے ادارے خوف خدا سے کام لیں اور اس گھٹن والے حبس زدہ ماحول میں عوام کو سانس لینے میں مدد دیں۔ ورنہ مون سون یعنی ساون بھادوں میں تو لوڈشیڈنگ کی وجہ وہی ’’میرے نیناں ساون بھادوں‘‘ والی حالت ہر لمحہ جاری رہے گی۔جس سے پاکستانی قوم چھٹکارہ پانا چاہتی ہے اور اسی نعرے پر ووٹ بھی دیتی ہے۔

متعلقہ خبریں