ایکسٹنشن ،ریٹنشن ایکسٹنشن لینے کیلئے جنرل باجوہ نے مارشل لا کی دھمکیوں اور بلیک میلنگ سمیت ہرحربہ استعمال کیا مگر آخر میں سینیئر موسٹ سے صرف نظر کرنیکا مطالبہ بھی مسترد جنرل کیسے سرنڈر پر مجبور ہوا؟ ثبوتوں کیساتھ ہوشربا انکشافات

2022 ,دسمبر 8



تحریر: فضل حسین اعوان 
تحریک عدم اعتمادکی کامیابی اتحادی جماعتوں کے لیے پیامِِ نویدِسحر لے کر آئی۔ ان کی سیاست کے صحرا میں گلشن آرائی ہو گئی۔دوسری طرف فریقِ ثانی کیلئے یہی تحریک آتش فشاں کے پھٹنے اور اس کے لاوہ میں جھلسنے سے کم نہیں تھی۔ان کیلئے صورحال یہی تھی
بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے
رجیم چینج سے نفرتوں میں مزیداضافہ نہیں ہوا۔وہ تو پہلے ہی نکتہ  کھولاﺅ پر تھیں۔
 سیاست سدا بہارپیشہ کام اور کارِ حیات ہے۔ سیاستدان بوڑھا ہو جاتا ہے۔ سیاست کے جوبن اور بانکپن میں فرق نہیں آتا۔ سیاست سدا سہاگن رہتی ہے۔ کئی تو ”جماندرو“ سیاستدان ہوتے ہیں۔ سیاست میں ریٹائرمنٹ نہیں ہوتی۔ یہ چشمہ بہتا رہتا ہے۔ جھرنے کی جلترنگ جاری رہتی ہے۔ گلاب مہکتا، خوشبوئیں بکھیرتا رہتا ہے۔
 سیاستدان کبھی ریٹائر نہیں ہوتا، سابق نہیں ہوتا لہٰذا اسے ایکسٹنشن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایکسٹنشن کی بات ہو تو اس کے گرد ہماری سیاست کے ساتھ معیشت اور معاشرت بھی گھومتی ہے۔ کچھ ایکسٹنشن ایسی بھی ہوئیں کہ ان کے ہونے سے سیاست اور ملک میں کسی کی نظر میں ترقی و خوشحالی کے در' کھل جا سم سم' کی طرح وا ہوئے اور کچھ کی نظر میں بربادی کا سامان کر گئیں۔کچھ ایکسٹنشن نہ ہونے سے کئی سیاستدانوں کی امیدوں کے دیئے بجھ گئے۔ عدلیہ میں کیسا نظام ہے!۔ جو جج سپریم کورٹ گیااس نے قاضی القضاہ یعنی چیف بننا ہی ہے۔ بھلے چند دن کے لیے سہی۔ پولیس ایف آئی اے کسٹمز اور ایسے کئی محکموں کے افسر خوش قسمت ہیں جو اپنے اپنے محکموں میں اعلیٰ ترین عہدے پر جاکر ریٹائر ہوتے ہیں۔ نیب ، پی آئی اے، الیکشن کمیشن، جیسے محکموں کے سربراہان امپورٹ کرنے پڑتے ہیں۔کیوں؟
فوج میں ہر افسر چیف نہیں بن سکتا۔ تین سال بعد ایک کو چیف بنائے جانے کا کبھی اصول طے ہوا تھا۔ سینئر موسٹ کی شرط نہیں تھی۔آرمی چیف کی تعیناتی جس کے اختیار میں رہی اس نے مرضی کی کبھی پہلے کو پہلے نمبر پر آنے دیا کبھی تو ساتویں نمبر والے کو بھی چیف لگا دیا۔ جنرل ضیاءالحق اور جنرل قمر جاوید باجوہ سے سینئر 6 چھ جرنیل تھے۔ اُن سے قسمت روٹھی اِن کے سروں پرہما بن کر بیٹھ گئی۔ ایکسٹنشن کے ”سر چشمے“ ایوب خان دور سے پھوٹنا شروع ہوئے۔ایوب خان، موسیٰ خان، ضیاءالحق،پرویز مشرف ، اشفاق پرویز کیانی اور قمر جاوید باجوہ پاکستان کی75سال کی فوجی تاریخ میں36سال ”توسیعاتی“ چیف رہے۔ 

میرے عزیز ہم وطنو!' | Urdu News – اردو نیوز
جنرل قمر جاوید کی ایکسٹنشن کی اس کے باوجود ان کی ریٹائرمنٹ کے آخری دنوں تک چہ میگوئیاں ہوتی رہیں کہ وہ بار بار ایکسٹنشن نہ لینے کا اعلان کرتے رہے۔ کیا وہ ایکسٹنشن لینا چاہتے تھے؟ اس سوال کا پورے وثوق کے ساتھ "اب" جواب ہاںمیںہے۔ وہ ایکسٹنشن لینے میں کس حد تک چلے گئے تھے اس کی ایک جھلک بیرسٹر عثمان چیمہ کے ایک ”ٹوئٹر آرٹیکل“ میں موجود ہے۔ان کے بقول کی میاں نواز شریف اور شہباز شریف سے قربت رہی۔ وہ کہتے ہیں۔" 22 نومبرکی شام کو وزیر اعظم شہباز شریف کو پیغام پہنچایا گیا کہ اگر چھ ماہ کی ایکسٹینشن نہ دی گئی تو ادارہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں حکومت اپنے ہاتھ لے سکتا ہے۔وزیر اعظم نے مشاورت کا وقت لے کر بات کو آنے والے وقت پر ڈال دیا۔ اس دوران وزیر اعظم کی نواز شریف سے بات ہوئی ۔وہاں سے جواب دیاگیا کہ انکو کہہ دیں بسم اللہ، آئیے اور انتظام حکومت سنبھالیں لیکن ہم سے مزید ایک دن کی ایکسٹینشن کی بھی توقع نہ رکھی جائے۔ یہ پیغام من و عن اسی طرح آگے پہنچا دیا گیاتو ایک نئی ڈیمانڈ آگئی کہ پھر سیکنڈ سینئر موسٹ کو پروموٹ کیا جائے۔ اس پرلندن سے پیغام ملا، یہ بھی نہیں ہوگا ۔اسی دوران حکومتی اتحادی کو وزیر اعظم کے پاس بھجوایا گیاکہ آپ سینئر موسٹ کو چھوڑ کر ہمارے نامزد کردہ بندے کو یا پھر کسی اور کو بنا دیں۔اس پر بھی دوٹوک جواب تھا کہ اس بار سینئر موسٹ ہی پروموٹ ہوگا۔ یہ سننا تھا کہ واپس پیغام بھجوایا گیا کہ ہم سمری روک دیں گے اس طرح سینئر موسٹ ریٹائر ہو جائے گا۔ لندن سے جواب ملا کہ آپ کو جو کرنا ہے کریں۔ساتھ ہی حکومت نے کہہ دیا، وزیر اعظم سمری کے بغیر ہی اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے اگلی صبح نئے عہدیداران کا اعلان کر دیں گے اور پھرآدھی رات سمری بھجوا دی گئی۔ اس دوران حکومت نے حفظ ماتقدم کے طور پر ریٹنشن کردی تھی "

جنرل قمر جاوید باجوہ: امریکہ اور چین دونوں سے تعلقات خراب کیے بغیر تعلقات  میں وسعت چاہتے ہیں - BBC News اردو
ایکسٹنشن کے حوالے سے تگ و دو میں اگر کوئی شک ہے تو پھر عرفان صدیقی صاحب کا کالم ”ایکسٹنشن“ پڑھ لیں۔ جہاں مختصراً متعلقہ اقتباسات نقل کرتے ہیں۔"ابھی اکتوبر میں لندن جانا ہوا توخیال تھا کہ نوازشریف، نئے آرمی چیف کے انتخاب کے لئے زائچے بنا رہے ہوں گے۔ ملاقاتیں ہوئیں تو پتہ چلا کہ نہیں! ریٹائرمنٹ کے اعلانات کے باوجود جنرل باجوہ کی مزید آٹھ ماہ کی توسیع کے لئے منہ زور ہوائیں ’ایون فیلڈ‘ کی دیواروں سے سر پھوڑ رہی ہیں۔"
عرفان صدیقی تھوڑا سا ماضی میں لے جاتے ہوئے 19 مئی کو ایک ملاقات کا احوال لکھتے ہیں۔میاں صاحب کے چہرے کی روایتی بشاشت قدرے سنولائی ہوئی تھی۔ خیرعافیت معلوم کرنے کے بعد انہوں نے اپنے ذاتی ملازم عابد کو بلوایا۔میرا سیل فون اٹھا کر اس کے حوالے کر دیا۔ پھر میز پر سجے دو تین فون سیٹس کی تاریں نکالیں۔ ریموٹ اٹھا کر ٹی وی آن کیا۔ آواز قدرے اونچی کی۔ پھرنوازشریف بولے جا رہے تھے اور میں تصویر ِحیرت بنا سن رہا تھا۔ انہوں نے دو تین بار مجھ سے رازداری کا عہد لیا

سینیٹر عرفان صدیقی میڈیا اتھارٹی بل کیخلاف میدان میں
” میں جانتا ہوں پانامہ کا ڈرامہ کیوں رچایا گیا ہے؟ 2014 کے دھرنوں سے ناکام ہو کر ایک بار پھر یہ لوگ عمران خان کو استعمال کر رہے ہیں۔ فساد کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں۔ عدالتوں پر دباﺅ ڈال کر مجھے منظر سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ نشانہ صرف میری ذات ہے ....۔میرے پاس مصدقہ اطلاعات آرہی ہیں کہ ان کی نیت ٹھیک نہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ مستعفی ہو جاﺅں تاکہ ملک کسی نئے عذاب سے بچ جائے“آہنی اعصاب کے مالک نوازشریف کے لہجے میں بلا کی شکستگی تھی۔ میں نے پوچھا۔ ”میاں صاحب آپ کی ذات سے ایسا کیا مسئلہ ہے؟ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟“ وزیراعظم نوازشریف اپنی کرسی سے اٹھے۔ دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور سرگوشی کے انداز میں بولے۔”ایکسٹینشن“۔

نوازشریف کی جائیداد نیلامی کیلئے درخواست دائر
عرفان صدیقی یہ انکشاف بھی کرگئے کہ2013ء میں چھ برس بعد بھی جنرل کیانی کے دل میں تیسری ایکسٹینشن کی آرزو زِندہ تھی۔ راحیل شریف ہزار جتن کرنے کے باوجود بے ثمر رہے۔

کیا راحیل شریف کو واپس بلایا جانا چاہیے؟ – DW – 17.12.2018

متعلقہ خبریں