گجرانوالہ میں ڈاکٹر پائے جاتے ہیں یا ڈھکن؟؟؟

2017 ,جولائی 22



گوجرانوالہ(مانیٹرنگ ڈیسک): یہ خبر گوجرانوالہ سے آئی ہے۔ ایک روز قبل مردے اور مریض کو ایک ہی بیڈ پر لٹانے کی خبر بھی اسی شہر میں آئی تھی جسے پہلوانوں کا شہر کہتے ہیں۔ پہلوان یقیناً موٹے تازے ہوتے ہیں مگر دماغ کے موٹے نہیں ہوتے البتہ ڈاکٹر جو بلاشبہ ذہین ترین لوگ ہیں‘ ان میں چند موٹے دماغ کے بھی ہوتے ہونگے جو لگتا ہے اس شہر میں زیادہ ہی لگا دئیے گئے ہیں۔ بہرحال بائیں آنکھ کا اپریشن کرنیوالے ڈاکٹر کی اپریشن کرنے سے قبل مت ضروری ماری گئی تھی مگراس نے شاید درست آنکھ کا ہی اپریشن کیا ہے۔ مریض آنکھ میں جھلی کی شکایت لےکر آیا ہے وہ تو اس آنکھ میں تھی ہی نہیں پھر ڈاکٹر نے اس آنکھ سے اتارا کیا ہے؟ مریض شکر کرے آنکھ کی بینائی نہیں اتار دی۔ آنکھ صحیح سلامت ہے۔ اب اسے جھلی والی آنکھ کا اپریشن کرانے کی ضرورت نہیں، عدالت کے دروازے پر دستک دینے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر کو اس غلطی پر معافی تو نہیں مل سکتی۔ اس کا کفارہ یہ ہے کہ ڈاکٹر اور مریض کی آنکھ آپس میں بدل دی جائے۔ اسکے بعد ڈاکٹر صاحب خود اس کا کسی ماہر ڈاکٹر سے علاج کرائیں یا شیشہ سامنے رکھ کر خود جھلی اتار دیں۔ معاملہ عدالت میں جاتا ہے تو ڈاکٹر صاحب اپنی بےگناہی بلکہ مہارت اس دلیل سے ثابت کر سکتے ہیں کہ ایک شخص دانت کے شدید درد میں مبتلا تھا وہ کسی ڈاکٹر ”ڈھکن“ کے پاس چلا گیا جس نے کمپوڈر کو فوری طور پر مریض کے کان میں مرچوں ملا پانی ڈالنے کی ہدایت کی۔ کان میں مرچوں والا پانی کیا گیا‘ مریض کے چودہ طبق روشن ہو گئے اور وہ چلانے لگا۔ کان میں تکلیف کی شدت نے تو گویا اسکی جان نکالی لی۔ ڈاکٹر نے دانت کے درد کا پوچھا تو اس نے کہا۔ اب تو کان کے درد سے جان جا رہی ہے‘ دانت میں درد نہیں ہے۔ ڈاکٹر نے کہا ہم نے دانت کے درد کا علاج کر دیا اب کان والے ڈاکٹر کے پاس جاﺅ۔میڈیکل سائنس کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ آسٹریلیا میں ڈاکٹروں نے ایک نوجوان کے ہاتھ کا انگوٹھا بیکار ہونے پراس کے پاﺅں کا انگوٹھا نکال کر کامیابی سے ہاتھ میں لگا دیا۔ ہمارے کچھ طبیب پیٹ میں قینچیاں اور تولیے بھول جاتے ہیں دائیں کے بجائے بائیں آنکھ کا اپریشن کر دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں