فیس بک

November 08, 2019



کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد کا پیش نماز تھا اس کی بڑی عزت تھی بڑی تکریم تھی ایک صبح صادق اس نے جنابت کی حالت میں نماز پڑھا دی اسے کچھ نہ ہوا ، اس نے یہ عادت بنا لی ، پھر اس نے نجاست کی حالت میں قرآن پڑھا ، اسے کچھ نہ ہوا ، یوں یہ اس کی عادت بن گئی اور وہ نجاست کی حالت میں نماز و قرآن بھی پڑھتا رہا ، دین کا ڈر اس سے دور ہوتا گیا ، وہ طرح طرح کے ایسے خبائث کا عادی ہو گیا کہ آخر اس نے اسلام کو ترک کر دیا ،
لوگوں کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ آخر اس کو ہوا کیا اور اتنی عزت طہارت و پاکیزگی چھوڑ کر یہ شخص دائرہ اسلام سے ہی نکل گیا ، آخر کیوں ؟

ایک دن ایک متقی عالم اسلام پر بحث کر رہا تھا پاکی پاکیزگی طہارت پر گفتگو چل رہی تھی کہ وہ شخص مسکرایا اور مسکراہٹ کو قہقہے میں بدل کر بولا کہ میں نے یوں پہلی نماز پڑھائی یوں قرآن پڑھایا اور اتنا عرصہ بغیر پاکی کے جماعت کرواتا رہا مگر مجھے تو کچھ بھی نہ ہوا یہ سب جھوٹ ہے یہ سب فریب ہے جو اسلام میں ہے اگر اس کا کوئی اثر ہوتا تو میں تمھارے سامنے ہوں مجھ ہر کوئی اثر ہوتا

وہ عالم مسکرائے اور کہا کہ خدا کے دین کے دائرے سے نکل گئے خدا نے تم سے اپنا سجدہ کرنے کی صلاحیت چھین لی تم کو لوگوں کی امامت کے رتبے سے گرا کر تم کو رذالت میں داخل کر دیا اور ابھی بھی تم کہہ رہے ہو میرا کچھ نہیں بگڑا ؟

عزیزان مکرم ،
ہم لوگ بہت چھوٹی چھوٹی چیزوں پر قہر خداوندی کو قوم عاد و ثمود و لوط کی طرح دیکھنا چاہتے ہیں جب کہ ان سے بڑا عذاب ہم پر نافذ ہو چکا ہوتا ہے ، ہم اپنی بے راہ روی پر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ یہ چھوٹے چھوٹے عذاب کتنے بڑے ہیں، میرا مقصد قرآن پاک میں بیان کردہ ایک ایسا گناہ عظیم ہے جو زنا ، شراب ، سود سے بھی بڑا ہے اور جس پر خدائے یکتا نے لعنت کی ہے اور وہ گناہ جس پر خدا نے لعنت کی ہے وہ ہے جھوٹ اور وہ جھوٹ ہم اس فیس بک کی وساطت سے ہر روز تقریبا اکثریت بولتی ہے اور وہ خدا کی لعنت کی حقدار ٹھہرتی ہے
ہم نے فیس بک کو ایک شغل سمجھ لیا ہے اور اس کو ضابطہ دین سے خارج سمجھ لیا ہے جبکہ ایسا نہیں
ہماری اس فیس بک پر بے راہ روی کا نتیجہ ہے کہ ہم بھٹک رہے ہیں ہماری اخلاقی اقدار ختم ہو کر رہ گئی ہیں، ہمارا معاشرہ تباہ ہو کر رہ گیا ہے اور ہم اس معاشرے کی تباہی پر خاموش تماشائی ہیں ، ہمیں اپنا معاشرہ اب فیس بک پر ہی تیار کرنا ہے جہاں ہماری نسل موجود ہے سو آپ اور میں جس حالت میں نماز پڑھیں گے وہ حالت یہ طے کرے گی کہ آیا ہم دائرہ اسلام میں رہ سکتے ہیں یا خارج ہو کر ہنستے رہیں گے کہ ہمارا کیا بگڑا ، جبکہ ہمارا کچھ باقی نہیں رہے گا

آپ سے التماس ہے کہ فیس بک پر بھی حقیقی زندگی والے قواعد لاگو کریں اور غلط بیانی ، بے راہ روی ، اخلاقی پسماندگی ، جھوٹ سے اجتناب کریں تاکہ یہ معمولی نظر آنے والا تحریر شدہ گناہ ہمارے معاشرے اور کردار کی تباہی نہ بنے ، یہ بظاہر مذاق و شغل کردار کشی میں بہت بڑا کردار ادا کر رہا ہے اور اس سے میرا دل کڑھتا ہے ، ایک دوسرے سے اخلاص و پیار کے مروجہ مشرقی رسوم کے اندر رہ کر اچھے روابط قائم کریں تاکہ ہم اپنی اگلی نسل کو قدرے بہتر ماحول دیکر جائیں کیونکہ ہم سے پچھلے ہم کو اس سے بہتر ماحول دیکر گئے تھے ، کم سے کم ہم اپنی آئندہ نسل کو پچھلوں سے بہتر نہ سہی مگر اخلاقی اعتبار سے ویسا تو ماحول دیکر جائیں جو ہمارے پاس بطور امانت پہنچا.

متعلقہ خبریں