سانحہ کوئٹہ پر سپریم کورٹ انکوائری کمیشن کی رپورٹ صوبائی اور وفاقی حکومتیں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں ناکام ہوگئیں، وفاقی وزیر داخلہ نیکٹا کے فیصلوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے,

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع دسمبر 16, 2016 | 04:35 صبح

 

اسلام آباد (مانیٹرنگ رہورٹ) سپریم کورٹ کے تحقیقاتی کمیشن نے سول ہسپتال کوئٹہ میں خودکش دھماکے پر رپورٹ میں کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہو رہا، صوبائی اور وفاقی حکومتیں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں ناکام ہوگئیں، وفاقی وزیر داخلہ نیکٹا کے فیصلوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، جنداللہ کو دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کے باوجود کالعدم قرار نہیں دیا گیا،

وفاقی وزیر داخلہ کا احمد لدھیانوی کی تنظیم کے اسلام آباد میں جلسے کو حرج نہ سمجھنا ملکی قوانین کی توہین ہ

ے، وزارت داخلہ حکام عوام کے بجائے وزیر کی خدمت میں دلچسپی رکھتے ہیں، نیشنل ایکشن پلان کو جامع بنایا جائے، حکومت نفرت انگیز تقاریر اور وال چاکنگ پر پابندی یقینی بنائے، تمام مدارس، ان کی انتظامیہ، اساتذہ اور طلباء کے کوائف جمع کئے جائیں، مغربی سرحد کی موثر نگرانی، آنے جانے والوں کا ریکارڈ رکھا جائیں اور سانحہ کوئٹہ کے متاثرین میں امداد فوری تقسیم کی جائے۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل جوڈیشل کمشن نے 56 نکاتی فائنڈنگز،81 نکاتی تجاویز اور کنکلوڈنگ ریمارکس میں کہا ہے کہ اگر گزشتہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد بنک آف فارنزک اور دیگر کے حوالے سے اقدامات کئے جاتے تو 8 اگست کے سانحات کو روکا جاسکتا تھا۔ 2012 میں دہشت گردی سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کو تاحال ممکن نہیں بنایا جاسکا ہے۔ آئی جی پولیس کو بھی دہشت گرد حملے کے بعد کرائم سین اور دیگر سے متعلق محدود معلومات حاصل ہیں۔ ہسپتال مکمل طور پر غیر فعال ہے وہاں ابتدائی طبی امداد کے کٹ دستیاب ہے نہ ہی ایمبولینسز اور دیگر آلات موجود ہیں، فائر فائٹنگ آلات بھی موجود نہیں جبکہ سٹریچرز کی بھی کمی ہے۔ زندگی بچانے والے ادویات سمیت دیگر آلات کی بھی کمی ہے۔ حکومتی سطح پر اقرباء پروری ہے۔ بلوچستان حکومت میں کرپشن کلچر عام ہے جس کا واضح مثال سیکرٹری صحت سمیت دیگر چار سیکرٹریوں کی تعیناتی ہے سابق سیکرٹری صحت وفاقی وزیر کے بھائی تھے۔ وزراء اور دیگر کی جانب سے کام میںمداخلت ہوتی ہے جبکہ پولیس اور لیویز کے ایریوں کے بھی مسائل موجود ہیں۔ حکومتی حکام کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ بیانات بھی تحقیقاتی عمل پر اثرا نداز ہوتے ہیں۔ وزارت داخلہ کے پاس کلیئر لیڈرشپ اور ڈائریکشن نظر نہیںآتی۔ نیشنل سیکورٹی انٹرنل پالیسی پر عملد رآمد نہیں ہوسکا ہے۔ کالعدم تنظیموںپر پابندی میں زیادہ تاخیر لگائی جاتی ہے جبکہ بعض کالعدم تنظیموں پر اب بھی پابندی نہیں ہے وزارت داخلہ کی جانب سے اب تک نیکٹا کی ایگزیکٹیو کمیٹی کا تین برس میں صرف ایک اجلاس ہوسکا ہے جبکہ نیکٹا کے ایگزیکٹیو کمیٹی کے فیصلوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے بلکہ یہ بات بھی دیکھی گئی ہے کہ کالعدم تنظیم کے سربراہ سے نہ صرف ملاقات کی گئی ہے بلکہ ان کے شناختی کارڈز سے متعلق مطالبات بھی مانے گئے ہیں۔ نیکٹا ایکٹ پر عمل درآمد کو ممکن نہیں بنایا جاسکا ہے نیکٹا کیٹگریکلی فیل ہے۔ مغربی بارڈر کی کوئی مانیٹرنگ نہیں ہورہی حتیٰ کہ ہر خاص و عام آ اور جاسکتا ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومت کی کمیونکیشن کمزور ہے حتیٰ کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے پاس ایک دوسرے کے نمبرز، ای میل ایڈرس اور فیکس نمبرز تک نہیں۔ میڈیا کوریج سے لگ رہا ہے جیسے وہ دہشت گردوں کے لئے پروپیگنڈا کیا جارہا ہو۔ سفارشات میں کہاگیاہے کہ اینٹی ٹیررازم ایکٹ، نیکٹا ایکٹ اور دیگر پر عملد رآمدممکن بنا کر کالعدم تنظیموں پر فوری پابندی عائد کی جانی چاہیے،کالعدم تنظیموں کی لسٹیں اردو اور انگریز زبان میں وزارت داخلہ اوردیگرکی ویب سائٹس پر جاری کی جانی چاہیے، صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو سال 2012 میں دہشت گردی سے متعلق دیئے گئے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنے، پنجاب کی طرح دیگر صوبوںمیں فارنزک لیبارٹریز کے قیام، ملک بھر میں ہوائی فائرنگ پر پابندی، نیکٹا کے ایگزیکٹیو کمیٹی اور بورڈ آف گورنرکے اجلاس وقتاً فوقتاً کرانے، ہسپتالوں میں درکار سامان اور آلات سمیت سیکورٹی کے موثر انتظامات، وزٹنگ کارڈز کے اجرائ، تمام تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن، ملک آنے اور جانے والوں کے مکمل کوائف جمع، میڈیا کو قانون کے تحت کام کرنے، زخمیوںاور دیگرکومعاوضوں کی ادائیگی کے تجاویز شامل ہیں۔ علاوہ ازیں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت کی۔ جسٹس قاضی محمد فائز عیسیٰ پر مشتمل کمشن نے رپورٹ عدالت میں پیش کر دی۔ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے رپورٹ کو خفیہ رکھنے کی استدعا کی جسے چیف جسٹس نے مسترد کر دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کوئی بھی چیز خفیہ نہیں رکھ سکتے۔ انکوائری رپورٹ میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سانحہ کوئٹہ پر وزیراعلیٰ، وزرائے داخلہ نے غلط بیانی کی۔ سپریم کورٹ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ فوری نافذ کرنے کی رپورٹ میں دہشت گرد تنظیموں کے بیانات نشتر کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی سفارش کی۔ اسلام آباد اور بلوچستان کی حکومتیں دہشت گردوں کا ڈیٹا بنک بنائیں۔ وزارت داخلہ میں قیادت کا فقدان اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کنفیوژن ہے۔ وزارت داخلہ کی افسر شاہی وزیر داخلہ کی خوشامد میں لگی ہوئی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وزارت داخلہ کو اس کے کردار کا علم ہی نہیں۔نیشن رپورٹ کے مطابق کمشن نے کہا نیشنل ایکشن پلان بامعنی انداز کا یا سٹرکچر پر مبنی کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اسی وجہ سے اس کے اہداف کو مانیٹر کیا گیا اور نہ ہی ان پر عملدرآمد ہوا۔ اس کو ایک مناسب منصوبہ بنانا چاہئے جس کے واضح اہداف ہوں۔ جامع مانیٹرنگ اور اس پر مختلف اوقات میں نظرثانی ہو۔ کمشن نے تجویز دی کہ پلان کا اردو میں ترجمہ بھی ہونا چاہئے تاکہ اسے وسیع پیمانے پر سمجھا جا سکے۔