یہ آ دھے ادھورے ملبوسات ۔۔۔

2019 ,ستمبر 12



ٹیلیویژن دیکھنا میری ترجیحات میں کبھی شامل نہیں رہا ۔ سرسری نظر میں کوئی خبر ،کوئی چیختا چنگھاڑتا ڈائیلاگ یا کوئی حواس باختہ سین گرفت میں آجائے تو دماغ میں خطرے کی ٹن ٹن ٹن بجنے لگتی ہے ۔ اس سہم یا فریسٹریشن کا سارا بخار یا غبارکاغذ قلم کے حوالے کر دیتی ہوں دوسرا کوئی آپشن نہیں ہوتا میرے پاس ۔ چند روز قبل بھی ٹی وی پر چلنے والے ایک فیشن شو نے قدم اور نگاہیں روک لیں ۔ شو تھا یا قطار اندر قطار پریاں تھیں جو بڑی خوبصورتی سے پھڑ پھڑاتے لبادوں میں عالمِ وجد میں محوِ رقص تھیں ۔انتہائی منظم طریقے سے ایک میکانکی انداز میں گردن اکڑائے ہائی ہیلز پہ کھٹا کھٹ چلتی ہوئی آ تیں اور انداز دلبری سے دونوں اطراف بیٹھے ہوئےسوٹڈ بوٹڈ شرفاء کے دلوں میں آ نِ واحد میں ترازو ہوجاتیں ۔ جو گُرسنگی سے اپنی زبانیں لپلپا رہے تھے ۔ اس کیٹ واک کےدوران دھڑ دھڑاتے جسم کے اچھلتے اجزاء عجیب منظر پیش کر رہے تھے ۔ بیک لیس اور مِنی ٹاپ میں مقابلہ جاری تھا ۔ بوٹی بوٹی چمکنے کی اصطلاح صحیح معنوں میں سمجھ میں آئی ۔ فلیش لائٹس مزید معاون تھیں ۔
بہت سے لوگوں نے اسے معمول کے طور پر لیا ہوگا کہ یہ معمول 2000ء کی دہائی میں زیادہ بے حیائی اور بےشرمی سےمعاشرے کی رگوں میں جدید فیشن انڈسٹری کے نام فروغ سے پا رہا ہے اور بظاہر کوئی انت نظر نہیں آ رہا ۔ یہ سلسلہ کہاں جاکر رکے گا کوئی قیاس تک نہیں کر سکتا ۔ چلیے آ پ اس پر غور کیجیے میں کچھ اور بھی دکھانے کی کوشش کرتی ہوں ۔
اکثر لوگ مجھے ماضی پرست اور دقیانوس ہونے کا طعنہ دیتے ہیں ۔ جبکہ میں اپنے تئیں خود کو کافی حد تک ماڈرن خیالات کا سمجھتی ہوں ۔ جدت اور قدامت کا یہ تصور ہم اپنی زندگی کے ہر پہلو پر اپلائی کر سکتے ہیں ۔ کچن سے لیکر گھر کی آ رائش تک ، عبایا سے لیکر بغیر دوپٹہ بے پردہ گھومنے تک اور مکمل لباس سے چار گرہ کپڑے تک ۔
انسان کی شخصیت کا پہلا تعارف اسکا لباس ہوتا ہے ۔ مہذب معاشروں میں مکمل لباس کو ہی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ جو اچھی سلائی کے ساتھ ساتھ تن ڈھانپنے کے تقاضے بھی کماحقہ طور پر پورے کرے ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم لباس کیوں پہنتے ہیں ؟
1 عریانی ڈھانپنے کو
2 فیشن کے طور پر
3 دولت کے اظہار کے لیئے
یہ تینوں الگ الگ ٹرمز ہیں مگر مقصد ایک ہی یعنی تن پوشی ہے ۔ بہت سے لوگ فیشنی پہناوں کے شوقین ہوتے ہیں ، بہت سوں کو اپنی دولت ٹھکانے لگانا ہوتی ہے اور اس مقصد کے لیے وہ حد سے گزر جاتے ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ہم ان تینوں وجوہات کو یکجا کر کے اپنی عریانی کو جدّت اپناتے ہوئے باوقار اور قیمتی لباس سے ڈھانپ لیں تو بیک وقت تینوں مقاصد حاصل کر سکتے ہیں ۔ کسی زمانے میں متوسّط طبقے کی گھریلو خواتین عام طور پر پوری فیملی کے کپڑے بڑی مہارت اور نفاست سے گھر پر تیار کر لیا کرتی تھیں ۔ بچے ہوئے کپڑے چھوٹے بچوں کے لباس یا ڈیزائنگ و پائپن کے کام آ تے اور کم خرچ بالا نشین والا مزا آ تا ۔ کترنوں سے ٹین ایجر لڑکیاں گڑیا گڈوں کے کپڑے سیتے سیتے کھیل ہی کھیل میں مہارت اور نفاست حاصل کر لیتیں ۔ درزیوں کے پاس جانے کا وقت تھا نا پیسہ ۔ فیشن کے نام پر لمبی ، چھوٹی قمیضیں ادل بدل کے ساتھ رائج رہیتں ۔ اسی لحاظ سے کھلی اور تنگ موری کی شلواریں تیار کر لی جاتیں ۔ اگر فیشن بدل جاتا تو لمبی قمیض کو نیچے سے بیونت کر جدید شکل دے کر دل مطمئن ہو جاتا اور لمبی قمیض آ نے پر پیچ یا رنگ برنگی لیسز لہرا لی جاتیں ۔ کچھ اور فیشن کرنا مقصود ہوتا تو رنگ برنگے بٹن ٹانک لیئے جاتے بٹن بنانے والوں کی چاندی ہوجاتی ۔ اسی حساب سے لیسِز اور ڈوریاں لباس کا حصہ بن جاتیں مگر قمیض کا بنیادی پیٹرن ایک ہی رہتا یعنی سیدھی مکمل قمیض ، مناسب ڈیزائن کا گلا یا پٹی ، فل آ ستین سائیڈوں پر چاکس ۔ کسی نے بہت تیر مارا تو اوپن فرنٹ بنوا لیا لیکن اصولاً سائیڈز کے چاکس کا منہ بند کر دیا ۔۔۔ اللہ اللہ خیر صلّا ۔ اگر کسی کی ہاف آ ستین نظر آ رہی ہیں تو بغیر بتائے سب کو پتہ ہوتا کہ کپڑے کی کمی وجہ رہی ہوگی ۔ ہاف آ ستین والی خاتون یا لڑکی اپنے بازو دوپٹے تلے چھپا کر رکھتیں ۔ یہ کوئی بیسویں صدی کا ذکر نہیں ایک ڈیڑھ عشرہ قبل کی بات ہے ۔ مگر اچانک زمانے نے ایک کوڑیالے سانپ والی شر انگیز کینچلی بدلی ۔ فیشن انڈسٹری کے نام پر مختلف انسٹیٹیوٹس اور یونیورسٹیوں میں ڈپلومہ اور ڈگریز کے اجراء ہونے لگے ۔ رفتہ رفتہ انڈسٹری نے اتنی ترقی یا تنزّلی اختیار کر لی کہ پاکستان میں ہونے والے شوز دیکھ کر عقل اور مذہب دنگ رہ گئے کہ کیا یہ پاکستان ہے ۔ چلئیے ماڈل خواتین کو ان کے پیشے کی چھوٹ دیتے ہوئے آ نکھیں بند کر بھی لی جائیں تو عام لڑکیوں اور خواتین کے لباس ( یاد رہے ہائی کلاس کو ٹچ کیئے بغیر مڈل کلاس میرا موضوع ہے ) کب سکڑتے سکڑتے عجیب وغریب نامکمل ادھوری شکلیں اختیار کر گئے ۔ ہر دور میں قبولِ عام کا درجہ رکھنے والی شلوار انتہائی بےہودہ ٹائٹس میں بدل گئیں ۔ عریانی اس خاموشی سے معاشرے کے رگ و ریشے میں سرایت کر گئی کہ کسی کو معلوم ہی نہیں ہوسکا ۔ لباس خریدنے مارکیٹ چلے جائیں تو کہیں بھی مکمل لباس نہیں ملتا ۔ حتیٰ کہ ایک چھوٹے سے اسٹال پر بھی نہیں ۔ مکمل لباس خریدنے کی جُو میں بڑی تگ و دو کے بعد وہ لباس ہاتھ آ تا ہے جسکی آ ستین ندارد ہوتی ہیں اور ایک چھوٹی سی دھجی آ ستین کے نام پر شرٹ کے اندر ملفوف ہوتی ہے ۔ جس سے باضابطہ آ ستین تو قطعی طور پر نہیں بن سکتیں سو ایسے ہی پہن لیا جاتا یے ۔ اونچے اونچے گھٹنوں سے کچھ ہی نیچے پاجامے ہر عمر کی خواتین پہنے نظر آ تی ہیں ۔ جینز اور سیگریٹ پینٹس تو بڑی معقولیت لیئے ہوئے ہیں ٹائیٹس کا جو طوفان اٹھا وہ تو سارے حجابات کو لے اڑا ۔ جی یہ وہی ٹائٹس ہیں جو کبھی خواتین ٹھنڈ سے بچاؤ کے لیئے زیر جامے کے طور پر پہنا کرتی تھیں ۔ مگر مذکورہ ٹائٹس اپنی تنگی میں اس پہ بھی یوں سبقت رکھتی ہے کہ پہننے والی کی رگ رگ اور ہڈی بوٹی الگ ا لگ گنی جا سکتی ہے بلکہ یوں لگتا ہے کسی ماہر مجسمہ ساز نے عریاں ٹانگیں گھڑ کر داد کا سامان کر رکھا ہے اور شرٹ جو شرنک ہونا شروع ہوئی تو سمٹ کر کمر تک رہ گئی ۔
دو تین سال پہلے کسی کام کے تحت اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی کا وزٹ کرنا پڑا اتفاق سے پچھلے کچھ عرصے سے کسی بڑے شہر جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا ( میرے ارد گرد کا ماحول بیہودہ فیشن کے معاملے میں بہت جدید نہیں ہے ) یونی کی حدود کے اندر مطلوبہ ہاسٹل کے سامنے گاڑی رکوائی میرے ساتھ ڈرائیور تھا ۔ سامنے سے دو چار لڑکیاں آ رہی تھیں ۔ مگر حلیے سے اسٹوڈنٹس معلوم نہیں ہو رہی تھیں بلکہ کوئی ٹاپ کلاس ماڈلز نظر آ تی تھیں دوپٹے سے بے نیاز ہوا میں اوپری لبادے پھڑ پھڑا رہے تھے اور ڈرائیور کو لبھا رہے تھے ۔ زیریں جامے بنام ٹائٹس اتنے تنگ تھے کہ پہلی نظر میں اسکن کا حصہ ۔۔۔۔۔ نہیں بلکہ اسکن ہی معلوم ہوتے تھے انہیں پہننے کا ناحق تکلف کر کے خریداری اور لانڈری کا خرچہ ہی بڑھایا گیا تھا ۔ بہت غور کرنے پر اس بیہودہ جامے کے انتہائی سِرے کو تُرپ کر مجھ جیسے دقیانوسوں کی توبہ استغفار سے بچنے کا جواز موجود تھا ۔
یقینا یہ ماڈل گرلز ہیں اور میری طرح کسی کام کے سلسلے میں آ ئی ہیں میں اپنی دقیانوس سوچ کو بہلانے میں کامیاب رہی ۔ مگر پھر چند خوش فکر لڑکیوں کی ایک اور ٹولی گزری دوپٹے کے تکلف سے بے نیاز گہرے گلے اور ہپ سے اونچی شرٹس ۔ ابھی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش میں تھی کہ بے فکرے لڑکے لڑکیوں کی ٹولی خوبصورت ذیلی سڑک سے منظر میں داخل ہوئی اورگھنے درختوں کے سائے تلے دھری بینچوں پر آ ج کے لیئے گیے لیکچر اور لیکچرر پر اظہارِ خیال کرنے لگے تو اندازہ ہوا کہ سب اسٹوڈنٹس ہیں ۔ میرا دل چاہنے لگا کہ ان لڑکیوں کو ڈرائیور کی نگاہوں سے اوجھل کر دوں ۔ وہ لڑکیاں مجھے اپنی بہن بیٹیاں ہی معلوم ہو رہی تھیں ۔ مگر یہ میرے بس میں نہیں تھا اور اگر ہوتا بھی تو انکے ساتھی بھی ویسے ہی مرد تھے اور یہ اہتمام شاید انہیں کی لیۓ کیا گیا تھا ۔ اگر یہ سب جدیدیت اور اعلی تعلیم کے نام پر کیا گیاتھا تو کیا دقیانوسیت اور جہالت بہتر نہیں ۔ جِدت کے نام پر لباس کی حرمت قربان کر دینا کتنا آ سان قرار پایا ۔
ہمیں کچھ انتظار کرنا تھا سو راستے میں کھڑے ہونے پر کیفے میں بیٹھنے کو ترجیح دی ۔ ڈرائیور بھی گم سم سا ایک کونے میں ٹیبل پر جا بیٹھا ۔ مگر یہ دیکھ کر شدید حیرت ہوئی کہ وہ کسی اعلی تعلیمی ادارے کا کیفے نہیں کسی فلم کا سیٹ معلوم ہو رہا تھا ۔ کیفے میں رنگ و نور کا ایک سیلاب آ یا ہوا تھا ۔ بہت تلاش کے بعد بمشکل ہی کسی لڑکی کے گلے میں رسی نما دوپٹہ جھولتا نظر آ یا ۔ بے فکرے اسٹوڈنٹس کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ انصاف کرتے سر جوڑنے جانے کون سی تعلیمی گھتیاں سلجھا رہے تھے جو ہر تھوڑی دیر بعد کسی ٹیبل سے ایک فلک شگاف قہقہہ ابل پڑتا ۔فکرِ فردا سے بے پرواہ بچے ۔۔۔ مگر اتنے بے پروا ۔۔۔ کہ مہذب لباس کا تصور ہی مٹ گیا تھا ۔ مقابلتاً لڑکے قدرے ڈھنگ کے کپڑوں میں ملبوس بلکہ ملفوف و مستور تھے ۔ میں نےکج نگاہی سے ڈرائیور کی طرف دیکھا بے چارہ ضبط کی انتہائی منزل پر تھا ۔
اف خدایا ۔۔۔۔ اتنا اندھیر ۔۔۔۔۔ مگر نہیں کچھ لڑکیاں عبایا اور کچھ کچھ مکمل اسکارف میں بھی نظر آ ئیں ۔ گویا کچھ گھرانوں میں ابھی بھی لباس کو فیشن نہیں بلکہ پردے کے تحت ہی پہنا جاتا ہے ۔ آ خر یہ لڑکیاں بھی تو حصول تعلیم کےلئے ہی آ تی ہیں اور علم و سیکھ کے موتی سمیٹ کر لے جاتی ہیں ۔
ہم والدین کو کبھی یہ خیال کیوں نہیں آ تا کہ ہم بچوں یا بچیوں کے پیچھے ان کے تعلیمی اداروں تک جایا کریں بلکہ اچانک جا کر دیکھا کریں کہ بجے ، بچیاں کس لباس میں یونیورسٹی جا رہے ہیں ۔ یہ ہم والدین کی ذمہ داری ہے ۔ اور سب سے بڑھ کر والدہ کی کہ اپنی بچی کے لباس پر نظر رکھے ۔ ممکن ہو تواپنی نگرانی میں لباس تیار کروائے یا خریداری میں مدد دے ۔ ایسے لباس کو ترجیح دیں جو فیشن کے ساتھ پردے کے بھی تقاضے پورے کرے ۔ مگر اس سے پہلے گھر میں بچی کو اپنے عمل اور فکر سے تعلیم دے اور احساس پیدا کرے کہ عورت مستور رہنے کی چیز ہے میلی نگاہوں سے تابناکی اور وقعت میں بے قدری آ تی ہے ۔ عورت بازار میں رکھی چیز نہیں کہ ہر خاص و عام اسے نظروں سے تولتا پھرے ۔ ہم اپنی مادی مہنگی اشیاء کو چھپا کر تجوری تالوں میں رکھتے ہیں اور عزت کو سرِ عام نمائش اور ڈاکے کے لیئے چھوڑ دیتے ہیں ۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مستور خواتین یا بچیوں کی عزت ہر کوئی مقدم رکھتا ہے ۔ جوڑے کے ساتھ شال یا دوپٹہ لازماً ڈیزائن کروائیے تاکہ لباس رِدا کے بغیر ادھورا لگے ۔ ورنہ دعوتِ نظاہ دیتے یہ آ دھے ادھورے لباس اترنے میں کتنی دیر لگتی ہے

متعلقہ خبریں