پاکستان کے اقدامات پر ایف اے ٹی ایف کا اظہارِ اطمینان

2020 ,فروری 17



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک): فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) نے دہشتگردی کی فنانسنگ روکنے کے لیے پاکستانی اقدامات پراطمینان کا اظہار کیا ہے تاہم منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت میں ملوث افراد کو سزائیں دلوانے کے لیے قوانین کو موثر بنانے اور سزاؤں پرعمل درآمد میں تیزی لانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ گرے لسٹ میں پاکستان کو شامل رکھنے یا نہ رکھنے پر غور کے لیے پیرس میں جاری ایف ٹی ایف کے اجلاس کے پہلے دور میں آج پاکستانی حکام نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کو ہونے والی سزاؤں، جرمانوں اور اب تک کی کارروائیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان میں عدالتی نظام مکمل طورپرآزاد ہے اورعدالتی سزاؤں پر فوری عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ وفد نے  حافظ سعید کی  عدالتی سزا کے بارے میں بھی ایف اے ٹٰ ایف کو آگاہ کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیرس میں 21فروری تک جاری رہنے والے اجلاس میں پاکستان کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ پہلے دن  پاکستانی حکام نے ایف ٹی ایف کے اجلاس کوبتایا کہ ایکشن پلان پر ٹھوس پیش رفت کرکے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے خطرات پر قابو پالیا گیا ہے۔ 27 میں سے  14پر مکمل اور 11 نکات پر جزوی طور پر عمل درآمد کرلیا گیا ہے، صرف دو نکتوں پرعمل نہیں کیاجاسکتا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پراسیکیوشن کو مزید تیز و موثر بنانے کیلئے ایف ٹی ایف کی سفارشات کے مطابق قوانین میں ترامیم لائی جارہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے پہلے دور میں دہشتگردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے  پاکستان کے  اقدامات پراطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔پاکستانی وفد منگل کے روز بھی اجلاس کو بریفنگ اورسوالات کے جواب دے گا۔

متعلقہ خبریں