"باپ ہوں مجرم نہیں" ۔ باپ ہوں " ملاقاتی" نہیں۔ تمہارے بغیر ۔ محروم و نامکمل بچوں اور والدین کی ادھوری زندگیاں قانون و عدالت کے ہاتھوں سسکتے باپوں کی فریاد

2022 ,جولائی 26



تحریر: محمد عاصم حفیظ

جہاں ہمہ وقت سیاسی گہما گہمی ہو ۔ ہر وقت ہر کوئی انگارے برسا رہا ہو وہاں ان انسانی جذبات پر مشتمل صداؤں کی کیا اہمیت ہو گی ۔ یہ لاہور ایوان عدل کے سامنے ہونیوالا ایک چھوٹا سا مظاہرہ ہے جس کے بارے میں آپ نے کہیں بھی سنا نہیں ہو گا ۔ دراصل ایسے باپ اکھٹے ہو کر صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں کہ کسی وجہ سے ان کی بیوی سے علیحدگی ہو گئی ۔ قصور کس کا تھا وجہ کیا بنی اس سے ہٹ کر اب یہ سارے باپ اپنے بچوں کا خرچہ اٹھا رہے ہیں ۔ عدالت کے حکم پر بروقت رقم پہنچا دیتے ہیں ۔ لیکن انہیں اپنے بچوں سے ملنے کی اجازت نہیں ۔ اگر ملنا ہو تو عدالت میں درخواست دیتے ہیں ۔ عدالت نوٹس بھیجتی ہے ۔ اگلی پارٹی کا وکیل چاہے تو ملاقات کرا دیتا ہے اور اکثر نہیں ہو پاتی ۔ بعض اوقات سال بھر میں بھی نہیں ۔۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ طلاق کیوں دی تھی ؟؟ لیکن کیا پتہ وجوہات کیا تھیں ۔؟؟ خیر ان کے درد سے اتنا تو پتہ چلتا ہے کہ یہ اپنی طلاق کو انجوائے نہیں کر رہے بلکہ اپنی اولاد کی محبت میں تڑپ رہے ہیں ۔ یہ سب بچوں کو بروقت خرچہ بھی پہنچاتے ہیں ۔ مطالبہ صرف اتنا ہے کہ اپنے بچوں کو باعزت ملاقات کا حق دے دیا جائے ۔ یہ کوئی مجرم نہیں ۔ بدمعاش نہیں ۔ طاقتور نہیں اگر ہوتے تو شائد چھین بھی چکے ہوتے ۔ طلاق ایک المیہ ہے ۔ میاں بیوی سے بھی کہیں زیادہ اولاد کے لیے ۔ یہ بچے محروم رہ جاتے ہیں ۔ نامکمل رہ جاتے ہیں ۔ ان کے ماں باپ بھی محروم اور نامکمل اگر سیاست اور دیگر معاملات کی گرما گرمی سے وقت ملے تو معاشرے کو اس بارے سوچنا چاہیے ۔ ان کے بھی جذبات ہیں اور احساسات ۔ ان میں بوڑھے دادا دادی بھی ہیں ۔۔ طلاق سے بچاؤ کے لیے سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جناب انوار الحق نے تحریک شروع کی ہے ۔ "آؤ صلح کریں" ۔ اس پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہر گلی محلے میں اس تحریک کی ضرورت ہے ۔ معاشرے کا ہر طبقہ ۔ مسجد ۔ سکول ۔ یونین کونسل ۔ مقامی عدالت ۔ پنجائیت ۔ خاندان کے بڑے ۔ ہر کوئی عزم کرلے کہ طلاق کو روکنا ہے ۔ یہ زندگیاں اجاڑ دیتی ہے ۔ خاندان تباہ ہو جاتے ہیں اور ننھے منے بچے بھی ۔۔ اگر اس کی تباہ کاریاں دیکھنی ہو تو کسی دن کسٹوڈرین عدالتنکا چکر لگائیں ۔ آپ کے اگلے کئی دن غم و جذبات میں ڈوب جائیں گے ۔ طلاق کی وجوہات اب صرف سادہ پہلی والی نہیں رہیں ۔ اب تو ایک " عورت مارچ" بریگیڈ طلاق کو قابل فخر بنانے پر تلا ہوا ہے ۔ طلاق کو سلیبریٹ کرنے اسکو منانے کا اہتمام کرتی ہیں ۔ ملک میں طلاق کے بڑھتے رجحان کو روکنا ہو گا نہیں تو یہ معاشرہ بھی محروم و نامکمل بچوں اور والدین سے بھر جائے گا

متعلقہ خبریں