ٹرافی ہنٹنگ

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع اکتوبر 23, 2016 | 05:18 صبح

 
 
 
 

 

 

 

 

میاں بیوی گھر پہنچے تو دونوں پسینے میں شرابور تھے‘ حیرانی اس ل

ئے ہوئی کہ موسم گرم نہیں معتدل اور خوشگوار تھا اور دونوں موٹر بائیک پر آئے تھے۔ حالت زار بیان کرتے ہوئے بتایا کہ پٹرول ختم ہونے پر پمپ تک پیدل آنا پڑا‘ راستے میں کسی نے مدد نہیں کی۔ کچھ عرصہ بعد ایک دوسرے دوست گھر آئے اتفاق سے انکی بائیک میں بھی پٹرول ختم ہو گیا تھا۔ وہ جیسے ہی بائیک سے اترے‘ ابھی سوچ رہے تھے کیا کریں‘ اتنے میں ایک گاڑی قریب آ کر رکی۔ نوجوان گاڑی سے اتر کر انکے قریب آیا اور پوچھا "Any help" تیل ختم ہونے کا اسے بتایا تو اس نے کہا ’’کوئی بوتل وغیرہ ہے تو گاڑی سے نکال لیں‘‘ مگر بوتل دونوں کے پاس نہیں تھی۔ یہ نوجوان چلا گیا۔ دوسرے ثانیے میں ایک اور گاڑی رکی۔ اس میں پانی والی بوتل تھی۔ اس شخص نے پانی انڈیل کے ڈیڑھ لٹر کی بوتل فل کر دی۔ ہمارے مہمان انسانیت اور احساس کا ذکر کر رہے تھے۔

سوئے اتفاق پہلا جوڑا نوجوان اور خاتون کی شکل واجبی تھی‘ حسن اتفاق جن کو بلاتردد بائیک کیلئے پٹرول میسر آ گیا‘ میاں ذرا عمر رسیدہ‘ اہلیہ جوان‘ خوبرو اور حسین تھی۔ اس جوڑے نے بعدازاں گاڑی لے لی اور پٹرول سوئے اتفاق ختم ہو جاتا تو حسن اتفاق سے گاڑی سے نکلتے ہی ان کو پیشکش ہو جاتی تھی۔ گیلن اور پائپ انکی گاڑی میں اس بزنس کیلئے موجود ہوتا تھا۔ اس نے محض گاڑی میں تیل ڈلوانے کیلئے بیوی کو استعمال کیا کئی تو بیگم کے حسن و جمال کے صدقے ’’تیل کے کنوؤں‘‘ کے مالک بن گئے۔ کئی اقتدار کے ایوانوں میں جا پہنچے۔ ایسی کام کی اہلیہ کو ٹرافی وائف کہا جاتا ہے۔ ٹرافی ہسبنڈ اور ٹرافی فرینڈ کی اصطلاح بھی استعمال ہوتی ہے مگر ہمارا موضوع ٹرافی ہنٹنگ ہے۔ اسے سودمند یا منافع بخش شکار کہا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں کچھ جانوروں اور پرندوں کی بہتات اور کچھ کم یاب ہیں۔ کچھ کی تو نسل ہی ناپید ہو رہی ہے۔ جن جانوروں کی بہتات ہے ان کا شکار کثرت سے بھی ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر جو جانور ناپید ہو رہے ہیں ان کا شکار ظلم ہے اور یہ ظلم پاکستان میں روا رکھا جا رہا تھا جس کا اب کچھ مداوا ہو رہا ہے۔ متعلقہ محکمے نے کچھ قانون سازی کی اور سخت اقدامات کئے ہیں۔ ایسے اقدامات کئے جن سے جانوروں کی نسلیں بچ گئیں اور شکاریوں کا شوق بھی پورا ہو رہا ہے۔ مزیدبرآں جن علاقوں میں ایسا ہو رہا ہے وہاں خوشحالی اور ترقی کے راستے بھی کھل رہے ہیں۔

گذشتہ دنوں خبر پڑھی کہ چولستان میں کالا ہرن اور چنکارہ سفاری ٹرافی کا انعقاد ہوا۔ اس علاقے سے ہرن کی نسل ناپید ہو گئی تھی۔ ابوظہبی کے حکمرانوں نے یہاں ہرنوں کی افزائش کی۔ اب ان کا محدود شکار بھاری رقم کے عوض لائسنس جاری کر کے کرایا جاتا ہے۔ عرب حکمرانوں کو ہرن کے شکار سے دلچسپی نہیں ہے۔ وہ باز کے ذریعے تلور کا شکار کرتے ہیں۔ اس کیلئے لائسنس حاصل کرنا پڑتا اور ان شہزادوں کیلئے بھی شکار کے ایام اور پرندوں کی تعداد مختص ہے۔ وہ سال میں جتنے تلور شکار کرتے ہیں اس سے کئی گنا زیادہ کی پاکستان میں افزائش کے انتظامات بھی کر رکھے ہیں۔

چنکارہ کے شکار کی خبر میں بتایا گیا کہ ایسے چنکارہ کے شکار کی اجازت دی گئی جو اپنی عمر پوری کر چکے ہیں۔ انتظامیہ کی طرف سے بتایا گیا کہ کالے ہرن کی ٹرافی ہنٹنگ کیلئے قیمت دو لاکھ‘ چنکارہ کیلئے 75 ہزار رکھی گئی تھی۔ ایسے شکار کو جس سے نسل پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ Sustainable Hunting کہا جاتا ہے۔ شمالی علاقہ جات میں ٹرافی ہنٹنگ کے حوالے سے دلچسپ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ ان علاقوں میں مارخور‘ نیلی بکری اور ہرن کیلئے ٹرافی ہنٹنگ ہوتی ہے۔ ان جانوروں کی نسل تیزی سے ختم ہو رہی تھی۔ شکاری حضرات مقامی لوگوں سے مل کر ان جانوروں کا بے دردی سے شکار کرتے تھے۔ سول سرونٹس اپنے افسروں اور تعلق داروں کے شوق کی بجاآوری کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے‘ اس سے پہلے کہ یہ جانور شکاریوں کے شوق کی بھینٹ چڑھ کر نابود ہو جاتے۔ حکومت کو ان جانوروں کی بقا کا خیال آ گیا۔ سخت اقدامات کا فیصلہ کر کے قانون سازی کر دی گئی۔

مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے اور ملک کی اکثریتی آبادی نے اس کو دیکھا تک بھی نہیں ۔ یہ بکرے اور بارہ سنگھے کی درمیانی نسل ہے۔ طویل اور خوبصورت سینگ اسکی انفرادیت اور خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ اسکے سینگوں کی لمبائی تین فٹ تک ہوتی ہے۔ شوقین حضرات کھال اور سینگوںکو گھروں میں سجاتے ہیں۔ پاکستان میں مارخور زیادہ تر چترال اور بلوچستان میں پائے جاتے ہیں۔ ہزار گنجی پارک میں انکی افزائش نسل بھی رہو رہی ہے۔ میں پائے جاتے ہیں۔ شاید یہ واحد جانور ہے جو سانپ کو کھا جاتا ہے۔

اسکے شکار کی بین الاقوامی بولی لگائی جاتی ہے۔ شکاریوں کا عموماً تعلق امریکہ روس سویڈن جرمنی اور ترکی جیسے ممالک کے امیر لوگوں سے ہوتا ہے۔ گذشتہ سال ایک پرمٹ ایک لاکھ ڈالر میں جاری ہوا۔ پرمٹ کے باوجود شکاری کو بہت سے قوانین پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ ضابطہ کار کے مطابق ایسے نر مارخور کو شکار کرنے کی اجازت ہے جو طبعی عمر کو پہنچ رہا ہو۔ یہ بھی ضروری ہے کہ شکار اس وقت کیا جائے جب وہ اکیلا نظر آئے۔ دو سو فٹ یا زیادہ دوری لازم ہے۔ ایک شکاری صرف ایک جانور کو ہی شکار کر سکتا ہے۔ جانور زخمی ہو کر بھاگ جائے تو بھی شکاری کے پیسے پورے ہو گئے۔

ٹرافی ہنٹنگ سے ملنے والی رقم کا 80 فیصد علاقے کے لوگوں کی بہبود تعلیمی اداروں‘ صحت وغیرہ کی سہولتوں اور پانی کی فراہمی جیسے کاموں پر خرچ کی جاتی ہے جس سے علاقے کے لوگ متعلقہ محکموں سے تعاون کرتے ہیں۔ غیر قانونی شکار کی راہ میں یہ لوگ اب بہت بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ کئی لوگ بھارت کے ایما پر ٹرافی ہنٹنگ کے خلاف بھی بے بنیاد اور لغو پراپیگنڈہ کر کے پاکستان کو ایک بڑے سرمائے اور عرب ممالک جیسے دوستوں سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔