فالس فلیگ: ٹریپ اور گیم

2020 ,جون 27



پہلی جنگ عظیم میں ماتاہری نے جاسوسی میں بڑی شہرت پائی۔ جاسوسی کیلئے اپنے سراپا، حسن وجمال اور ادائوں کو بھی استعمال کرتی تھی۔وہ ڈبل ایجنٹ تھی،بالآخر پکڑی گئی۔ 1917ء میں فرانس میں اسے گولیوں سے چھلنی کردیا گیا۔دوسری جنگ عظیم میں ایک اور جاسوسہ نے بھی تہلکہ مچایا۔ورجینیا ہال سفارتکار بننا چاہتی تھی مگر امریکہ میں اُن دنوں سفارتکاری کے مواقع عورتوں کیلئے مسدود تھے۔ 1906ء میں میری لینڈ میں پیدا ہونے والی یہ خاتون فرانس میں جنگ کے دوران فوجی ایمبولینس چلاتی رہی۔سفارتکاری کے میدان میں آنے کیلئے بھی کوشاں رہی مگر اس کا یہ خواب اس وقت چکنا چور ہوگیا جب شکار کے دوران ٹانگ پر گولی لگی اور ٹانگ کاٹنا پڑی۔اس نے لکڑی کی ٹانگ لگا لی جس کا وزن تین کلو تھا۔ سپین میں اس پر برطانوی خفیہ ایجنٹ کی نظر جس نے اسے برطانیہ آنے کو کہا۔برطانیہ آکر وہ سپیشل آپریشنز ایگزیکیٹو یعنی (ایس او ای) میں شامل ہوگئی۔ ورجینا نے نازیوں کے ناقابل یقین راز اڑائے۔ اسے نازی لیمنگ لیڈی یعنی لنگڑی خاتون کہتے تھے مگر ایسی لاکھوں میں ایک عورت جاسوسہ کو پکڑا نہ جاسکا۔ اس نے بعدازاں سی آئی اے ایجنٹ کے طور پر بھی کام کیا۔ 80 کی دہائی میں امریکہ طبی موت سے ہمکنار ہونے والی ورجینیا ہال کے جاسوسی کے کارنامے اس کی موت کے بعد سامنے آئے۔ ورجینیا ہال ان لوگوں کے لئے آئیڈیل ہے جو معذوری اور مجبوری کا جواز تراش کر منزل کی طرف قدم اٹھانے سے قبل سرنڈر کر دیتے ہیں۔

امریکہ اور روس کے مابین کبھی جنگ نہیں ہوئی مگر دونوں نے سرد جنگ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ روس اور امریکہ کے مابین سرد جنگ بدستور جاری ہے۔روس نے 2013ء میں امریکی مفرور سنوڈن کو پناہ دی۔ وہ امریکی فوج میں ٹانگیں تڑوا بیٹھا تھا۔ اس کے بعد قومی سلامتی کے محکمہ میں بھرتی ہوا اور یہ راز چرا کر فرار ہوگیا کہ امریکہ میں سفارتکاروں کی کیسے جاسوسی کی جاتی ہے۔ ایڈورڈ سنوڈن آج بھی امریکہ کو مطلوب ہے۔ اسی طرح روس کو بھی ایک شخص مطلوب ہے مگر اس کی اہمیت سنوڈن سے کہیں زیادہ اور اس کی واپسی کیلئے روس نے جو کچھ کیا وہ بھی حیران کن ہے۔

2012ء میں سوویت یونین کی فضائیہ کے سابق افسر وکٹر بوٹ کو امریکیوں کے قتل‘ دنیا بھر میں امریکہ کے خلاف سرگرم گروہوں کو مسلح کرنے الزامات پر 25سال قید سنائی تھی۔ وکٹر کو 2008ء میں تھائی لینڈ سے گرفتار کرکے امریکہ لایا گیا، بنکاک میں اسے کچھ امریکی کولمبیائی باغیوں کے بھیس میں ملے جو ایک ٹریپ تھا۔روس نے وکٹر بوٹ کو چھڑانے کی بڑی کوشش کی مگر لاحاصل لیکن اب جو کچھ کیا کارگر نظر آتا ہے۔

کچھ روز قبل وسط جون میں سابق امریکی فوجی پال ویلن کو جاسوسی کے الزام میں 16سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اسے 18ماہ قبل ماسکو کے ہوٹل سے روسی رازوں کی فلیش ڈرائیو برآمد کرکے گرفتار کیا گیا۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو مشتعل ہو کر روس کو دھمکاتے نظر آئے۔ پال کیس میں روسی وکیل نے اب کہا ہے’’ ہم پال ویلن اور وکٹر بوٹ کا تبادلہ کرسکتے ہیں‘‘۔ وکٹر کی باقی سزا بھی اتنی ہی رہ گئی ہے جتنی اب پال کو دی گئی ہے۔کیاپال کو ٹریپ کیا گیا؟؟۔

افضل گورو کو بھی ٹریپ کرکے بھارتی پارلیمنٹ پر حملے میں ملوث کیا گیا تھا جس کا اظہار افضل گورو نے 2013ء میں پھانسی کی سزا کے موقع پر اپنے وکیل کو خط میں کیا تھا۔ افضل گورو نے کہا تھا۔’’پولیس انسپکٹر دیوندر سنگھ نے مجھے ایک غیرملکی عسکریت پسند کو دہلی لے جانے‘ وہاں ٹھہرانے اور ایک گاڑی خریدنے پر ’’مجبور‘‘ کیا تھا‘‘ یہاں مجبور کو آپ آمادہ یا ورغلایا بھی کہہ سکتے ہیں۔ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ 2001ء میں ہوا۔ اس حملے کا الزام بھی بعد میں ممبئی ،پٹھان کوٹ اور پلوامہ حملوں کی طرح پاکستان پر لگایا گیا تھا۔ دیوندر سنگھ اب ڈی ایس پی ہے‘ اس کی سکھ کے طور پر پہچان داڑھی اور وردی پر پگڑی سے ہوجاتی ہے۔ کشمیری حریت پسند اس کے ٹریپ میں آسانی سے اسے خالصتان کا حامی سمجھ کر آجاتے ہیں۔ دیوندر سنگھ کو رواں سال جنوری میں گرفتار کیاگیا۔ پلوامہ حملہ کے دوران اس کی ڈیوٹی پلوامہ پولیس ہیڈ کوارٹر میں تھی۔ پولیس کو اطلاع ملی کہ حزب المجاہدین کے کمانڈر سید نوید عرف بابو آصف سری نگر سے جموں جارہے ہیں۔ یہ چونکہ بڑا ہدف تھا تو راستے میں قاضی گنڈ شہر کی چیک پوائنٹ پر ڈی آئی جی اٹل گوئل بہ نفس نفیس آپریشن میں شریک ہوئے۔ بی بی سی کے مطابق گاڑی روکی گئی تو اس میں سے ایک نے اپنا تعارف ڈی ایس پی دیوندر سنگھ اور ساتھیوں کا باڈی گارڈز کے طور پر کرایا۔مگر اٹل گوئل نے گرفتاری کا حکم دیدیا۔ اس پر دیوندر نے کہا ’’سر یہ گیم ہے آپ گیم کو خراب مت کرو۔‘‘ مگر ڈی آئی جی نے تھپڑ رسید کر تے ہوئے وین میں بیٹھنے کا حکم دیا۔ پولیس ریکارڈمیںدیوندر مجاہدین (بھارت کی نظر میں دہشتگردوں)کو ایک سے دوسری جگہ منتقل کرتا اور پاکستان سے دراندازوں کو سہولیات فراہم کرتا تھا جوقاضی گنڈ میں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔

انڈین ناردرن کمانڈ چیف کا خانساماں ایک پاکستانی مبینہ جاسوس کے طورپکڑا گیاتھا ۔جسے حکام نے اشتعال میں آکر،کریشر میں پیسنے کا حکم دیدیا۔؎

اے راہ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو

تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

دیوندر سنگھ بظاہرجو کچھ کر رہا تھا وہ بھارت کے مفادات پر کاری ضرب اور مودی سرکارکی نظر میں کریشرمیں پیسے جانے کی سزا کا مستوجب تھا مگر اس کی 20جون کو ضمانت ہوگئی۔ مجاہدین دیوندر سنگھ کے ٹریپ میں آتے رہے اور وہ واقعی ایک گیم تھی جو ڈی آئی جی گوئل نے لاعلمی میں خراب کردی۔ مگر اب کوئی اور دیوندر فالس فلیگ آپریشن کا جواز پیدا کرنے کیلئے سازش بُن رہا اور ٹریپ تیار کر رہا ہوگا۔

متعلقہ خبریں