فرقہ بندی

2019 ,ستمبر 26



کبھی کسی بریلوی دکان دار نے کہا ہے،
میں کسی دیوبندی ،اہل حدیث یا شیعہ کو اپنی دوکان سےخریداری نہیں کرنے دونگا؟
اتنا تو دور کبھی کسی نے اپنی دکان کے نام کے ساتھ لفظ بریلوی ہی لکھوایا ہو؟
کہ فلاں کریانہ سٹور (حنفی بریلوی) کیونکہ کسی کو اشارتاً بھی منع نہیں کرنا ہوتا۔
کبھی کسی اہلِ حدیث ڈاکڑ نے کہا ہے ،
میں کسی بریلوی ،دیوبندی یا شیعہ مریض کو اپنے کلینک چِک نہیں کرونگا؟
یا کبھی اپنی ڈسپنسری کے نام کے ساتھ لفظ اہل حدیث ہھی لکھوایا ہو؟
کہ فلاں ڈاکڑ MBBS (اہل حدیث) کیونکہ کسی کو اشارتاً بھی منع نہیں کرنا ہوتا۔
کبھی کسی دیوبندی بس ٹرانسپوٹر نے یہ کہا ہے،
مین اپنی بس میں کسی بریلوی ، اہل حدیث یا شیعہ کو سفر کرنے نہیں دوگا؟
یا کبھی بس سروس کے نام کے ساتھ دیوبندی کا لفظ لکھوایا ہو؟
کہ فلاں بس سروس (حنفی دیوبندی) کیونکہ کسی کو اشارتاً بھی منع نہیں کرنا ہوتا۔
کبھی کسی شیعہ دودھ والے نے کہا ہے ،
میں کسی بریلوی ، دیوبندی یا اہلِ حدیث کے گھروں کو دودھ نہیں فرخت کرو گا؟
یا کبھی اپنی دودھ شاپ کے نام کے ساتھ شیعہ کا لفظ لکھوایا ہو؟
کہ فلاں دودھ شاپ (جعفری شیعہ) کیونکہ کسی کو اشارتاً بھی منع نہیں کرنا ہوتا۔
یونیورسٹی میں دنیاوی ڈگری لینے گئے تو نہیں کہا کہ شیعہ استاد سے نہ پڑھوں گا کیونکہ علم ہے کہ ڈگری میں دنیاوی نفع ہے'
آخر کیوں ؟ آخر کیوں ؟
اپنے اپنے کاروباروں کیلیے کیسے یہ سب ایک امت کی طرح ہیں ۔
مگر جونہی آذان کی آواز آتی ہے اور مسجد جانے کی باری آتی ہے۔
تو سب اپنی اپنی مسجد کی طرف چل پڑتے ہیں ۔ چاہے وہ کچھ دور ہی کیوں نہ ہو ۔سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ؟
کیونکہ اگر ہم اپنے اپنے کاروباروں میں فرقہ بندی کریں گے تو کاروبار کو نقصان ہونے کا ڈر ہے
اور ہر کسی کو اپنا کاروبار پیارا ہے۔
جتنی اپنائیت امت کو اپنے کاروبار کے ساتھ ہے کاش یہ اپنائیت اُمت کو دین کے ساتھ بھی ہوتی تو آج دین کا یہ حال نہ ہوتا ۔
آج اُمت فرقوں میں نہ بٹی ہوتی ۔
اصل میں دین کو ہم نے اپنا سمجھا ہی نہیں ۔
ہم مسلمان ضرور ہیں مگر دین بیگانہ ہے اگر اپنا ہوتا تو ہم کاروبار کی طرح اس کو بھی فرقہ بندی سے بچاتے ۔
فرقہ بندی سے اپنے کاروبار کا نقصان ہوتا توسب کو سمجھ آتا ہے!
فرقہ بندی سے اپنے دین کا نقصان ہوتا سمجھ کیوں نہیں آرہا ؟
*ذرا سوچئے* 

متعلقہ خبریں