گاڑیاں چلے گی اور بجلی بنے گی

2016 ,دسمبر 24



فرانس (شفق ڈیسک) فرانس میں دنیا کے پہلے سولر ہائی وے کی تعمیر کا افتتاح کردیا گیا، یہ ایک ایسی سڑک ہوگی جہاں سولر پینلز لگائے جائیں گے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سولر ہائی وے سے فرانس کے گاؤں ٹورورا کی تمام سٹریٹ لائٹس کو بجلی فراہم کی جاسکے گی۔ایک کلومیٹر کے اس ہائی وے پر 30 ہزار اسکائر فٹ سولر پینلز لگائے گئے ہیں۔ ان پینلز کی تیاری اور سڑکوں کی تنصیب وزیر ماحولیات سیگولین رائل کی سرپرستی میں کی جائے گی۔ سیگولین رائل کیمطابق شمسی توانائی کا یہ نیا استعمال کافی فائدہ مند ہوگا، اسکے ذریعے بغیر کسی نئے خرچے کے بجلی پیدا کی جاسکے گی۔ وزیر ماحولیات نے اس سولر ہائی وے کی ڈیولپمنٹ کیلئے 4 سالہ منصوبے کا اعلان بھی کردیا، جس کے کچھ پراجیکٹس مغربی کوائف اور جنوبی مارسیل میں بھی موجود ہوں گے۔ ان شمسی پینلز کی ٹیسٹنگ کیلئے ٹورورا میں روزانہ کم از کم 2 ہزار گاڑیاں استعمال کی جارہی ہیں، اس پروجیکٹ کو فرانس کے سول انجینیئر فرم کولاس نے تیار کیا۔سولر ہائی وے کے خیال کا آغاز جرمنی، امریکا اور نیدرلینڈز میں بھی ہوچکا ہے، جہاں گاڑیاں کچھ اس طرح سے سڑکوں پر چلائی جائیں گی جس سے سورج کی روشنی کو سولر پینلز تک آنے میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔ فرم کولاس کے مطابق ایک سوچ کیمطابق فرانس اپنی سڑکوں کا کچھ حصہ سولر پینلز کو دے کر توانائی کے حصول میں خود کفیل بن سکتا ہے۔کئی افراد اس بات کا بھی انتظار کررہے ہیں کہ یہ سولر پینلز وقت گزرنے اور موسم کے ساتھ کس طرح کام کریں گے، اس کے علاوہ انہیں ٹرک نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں