موت سے زندگی کی طرف

2019 ,اکتوبر 1



پہلا حصہ

عرض مصنف
اس کتاب کی تخلیق کی وجہ ایک مضمون میں دو بچوں سے منسوب واقعات تھے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ ان بچوں کا دوسرا جنم ہے۔ بچوں نے کہا تھا کہ وہ پہلے بھی دنیا میں آچکے ہیں۔ انہوں نے دہائیوں قبل کے واقعات خود سے منسوب کرکے بتائے۔ ان کی تحقیق اور تصدیق کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے جو کچھ کہا تھا وہ درست پایا گیا۔

بعض مذاہب  میں چونکہ آواگون اور تناسخ کا عقیدہ یعنی دو سے بھی زیادہ بار جنم لینے کا عقیدہ اور تصورموجود  ہے، اس لئے ان بچوں کی بیان کردہ کہانی کے پیش نظر کہا گیا کہ یہ ان کا دوسرا جنم ہے۔ ان دو بچوں کی کہانی پڑھنے کے بعد مزید ریسرچ کی جس میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے۔ واقعات پڑھتے ہوئے ”دوسرا جنم، دوسراجنم“کی تکرار ہوئی تو ذہن میں بجلی سی کوندی کہ ہم بھی عمومی زندگی میں دوسرے جنم کی بات کرتے ہیں، جس کا اس دوسرے جنم سے کوئی تعلق نہیں جسے کچھ مذاہب  عقیدہ تناسخ، آواگون (Reincarnated) کہتے ہیں۔ ہم کسی سبب موت کی دہلیز سے جاکر لوٹ آئیں تو عموماً کہہ دیتے ہیں، اللہ نے موت سے محفوظ رکھا،یہ میری نئی زندگی ہے، یہ میرا دوسرا جنم ہے۔ اس حوالے سے کتاب لکھنے کا خیال آیا۔ 
جو واقعات اس کتاب کامحرک بنے، ان میں سے متعدد کوعوامی دلچسپی کے لئے کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ان واقعات کے بعد فلسفہ آواگون پر مختصر سی بحث کی گئی ہے۔ عقیدہ تناسخ میں روحوں کا ذکر ہے تو روحوں کو بھی ڈسکس کیا گیا ہے، جہاں ایسے لوگوں کے چند واقعات بھی درج کئے گئے ہیں، جن کو مردہ سمجھ لیا گیا تھا مگر ان کی سانس بحال ہوگئی، بعض نے  اس دوران بہت کچھ عجیب اور ناقابل یقین مشاہدات بیان کئے۔ روحوں کے ساتھ ہمزاد بھی نتھی ہے، ہمزاد کو بھی مختصراً موضوع بنایا گیا۔ آواگون، روح اور ہمزاد پر کوئی علمی بحث مقصود نہیں۔ ”دوسرا جنم“ کتاب کا محرک، روح اور ہمزاد کڑی سے کڑی ملنے کے باعث کتاب کے مختصر اور دلچسپ موضوعات بنے ہیں۔ مختصراً ہمزاد کو تسخیر کرنے کے طریقے بھی بتا دیئے ہیں۔ کتاب مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو پیش آنے والے واقعات پر مشتمل ہے، جن میں یہ  لوگ موت کو گلے مل کے واپس آگئے۔ یہ کسی کے ساتھ پیش آنے والا کوئی واقعہ، حادثہ، بیماری یا ایسا احساس  ہوسکتا جس کی بنا پروہ خود کو موت کے روبرو سمجھتا ہے، جس کے دوران یا بعد میں انسان بے ساختہ کہہ اُٹھتاہے”اللہ نے مجھے نئی زندگی دی ہے“۔ یہ واقعات دوسروں کے لئے سبق، رہنمائی، حوصلہ افزائی اور ہمت و جرأت کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان میں ایمان افروز، سبق آموز، دلچسپ اور سنسنی خیز واقعات موجود ہیں۔

میں نے اپنے ساتھیوں، جاننے، ملنے والوں اور جن لوگوں سے آسانی سے رابطہ ہوسکتا تھا ان سے بات کی. اتفاق سے کسی کے ساتھ ملاقات ہوئی تو اس سے بھی پوچھ لیا۔ بہت زیادہ مشکل جدید ٹیکنالوجی: موبائل فون اور کمپیوٹر کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ ہر تیسرے نہیں تو چوتھے انسان کے ساتھ ایسا کچھ ضرور گزرا ہوتا ہے جس پر وہ کہتا ہے”موت سے پہلے یہ میری دوسری زندگی ہے۔“ سفر ناموں، آب بیتیوں، بائیو گرافیز اور دیگر کتب میں ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں، ان کو کتاب کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ اس موضوع پر سیکڑوں کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ میرا نئے واقعات پر مشتمل بشرطِ زندگی مزید ایک کتاب لانے کا ارادہ ہے۔ قارئین! آپ اپنے ساتھ  پیش آنے والے ایسے واقعات ذیل کی ای میل، موبائل نمبر کے وٹس ایپ اور ایڈریس پر خط کے ذریعے بھجوا سکتے ہیں۔
فضل حسین اعوان
03334215368
awan368@yahoo.com
216 رحمان پارک ابو صادق بلاک جوہرٹاؤن لاہور
10 دسمبر 2017ء 

 

پیش لفظ
قریش مکہ نے اپنے دو آدمیوں کو مدینے کے یہودیوں کے پاس بھیجا کہ”یہودی اہل کتاب ہیں اس لئے ان سے محمدؐ کی بابت دریافت کرو کہ وہ کیا کہتے ہیں؟“ یہ دونوں افراد مدینے کے یہودی علما ء سے ملے اور نبی اکرمؐ کے حالات و اوصاف اور تعلیمات بیان کر کے آپؐ کے متعلق انکی رائے معلوم کی۔ اس کے جواب میں یہودیوں نے ان کوبتایا کہ تم محمدؐ سے یہ تین سوالات کرنا، 1۔ اگلے زمانے کے ان نوجوانوں (اصحاب الکہف) کا کیا قصہ تھا؟ 2۔اس شخص کے بارے میں معلوم کرو جس نے پوری دنیا کا چکر لگایا تھا اور مشرق و مغرب سے ہو آیا تھا۔ 3۔تیسرا سوال روح کی ماہیت سے متعلق تھا۔ (بعض علماء کے مطابق تیسرا سوال حضرت موسیٰ و خضر علیہ السلام  سے متعلق تھا۔ اور سورہ کے مطالعہ سے بھی یہی بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔ یہودیوں نے قریش مکہ کے نمائندوں کو یہ بھی کہا کہ یہ ایسی باتیں ہیں جو صرف اللہ کا ایک نبی ہی ان کے متعلق جانتا ہے اگر وہ سچے ہونگے تو ان کے جواب دیں گے۔ قریش مکہ نے واپس آکر یہی سوالات نبی اکرمؐ سے دریافت کئے، جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورہ کہف  نازل فرمائی۔
 اس کتاب میں موت سے زندگی کی طرف لوٹنے کو موضوع بنایا گیا ہے، ایسے واقعات  کا مجموعہ ہے  جن سے واضح ہوتا ہے کہ لوگ کس طرح موت کی دہلیز سے واپس آئے۔ قرآن پاک میں ایسے واقعات بھی ہیں کہ انسان موت کی وادی میں پہنچ کر بھی واپس آئے ان میں عزیر ؑ کا قصہ اہم ترین ہے، اصحابِ کہف بھی کئی سوسال نیندکی آغوش میں رہے۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ اصحابِ کہف کا واقعہ ایشیا کوچک میں رومیو کے مشہور ساحلی شہر ”افسس یا افسوس“ میں پیش آیا تھا جبکہ آج کے دور میں موجودہ ٹرکی کے شہر سمرنا میں اس کے کھنڈرات پائے جاتے ہیں۔ یہ واقعہ قیصر ”ڈیسس یا دقیانوس“ کے دور میں پیش آیا جس نے سن 229 ء تا سن 251ء روم پر فرمانروائی کی تھی۔ قیصر دقیانوس ایک بت پرست اور ظالم بادشاہ تھا اور اس نے اپنے دور حکومت میں اہل ایمان نصاریٰ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ چند صاحبِ ایمان اور روشن ضمیر نوجوان تھے اور یہ اپنے باپ داداؤں کے ساتھ عید منانے کے لئے شہر کے ایک میلے میں گئے تھے۔ وہ شہر اس وقت شرک اور بت پرستی کا بہت بڑا مرکز تھا اور وہاں ڈائنا نامی دیوتا کا مندر تھا جس کی پوجا کرنے کے لئے شام، مصر، فلسطین وغیرہ سے بھی لوگ وہاں آتے تھے۔ ان نوجوانوں نے وہاں شرک و بت پرستی کے جو نظارے دیکھے تو ان کا دل کھٹا ہوگیا اور ان کے دل میں خیال آیا کہ عبادت تو ایک اللہ کی ہونی چاہئے، ذبیحے وغیرہ تو ایک اللہ کے نام پر ہونے چاہئیں، پس یہ سوچ کر یہ لوگ انفرادی طور پر اس میلے سے الگ ہوکر ایک درخت کے نیچے آکر بیٹھنے لگے، پہلے ایک آیا، پھر دوسرا، پھر تیسرا، اس طرح یہ لوگ ایک جگہ جمع ہوگئے۔
 اگرچہ ان لوگوں میں کوئی تعارف نہ تھا لیکن ایمان کی روشنی کے باعث یہ لوگ ایک جگہ مل گئے اور ابتداء  میں تو یہ سارے ایک دوسرے سے ڈر رہے تھے کہ ایسا نہیں کہ میں ان کے سامنے اپنے دل کی بات رکھوں اور وہ کسی کو بتا دیں، بالآخر ان میں سے ایک  نے کہا کہ دوستو! کوئی تو بات ہے کہ ہم اس سارے میلے ٹھیلے اور فضولیات کو چھوڑ کر یہاں آ بیٹھے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہر ایک اپنے دل کی بات بتائے کہ کس چیز کے باعث اس نے باپ داد ا اور قوم کے اس میلے اور رواج کو چھوڑ کر یہاں آنے میں عافیت سمجھی؟ اس کے جواب میں ایک نے کہا ”مجھے تو اپنی قوم کی یہ رسم بالکل نہیں بھاتی۔ جب ہمارا، تمہارا خالق ایک اللہ ہے تو ہم اس کو چھوڑ کر ان دوسرے معبودوں کی پوجا کیوں کریں؟ دوسرے نے کہا یہی بات مجھے بھی یہاں لیکر آئی ہے، پھر تیسرے نے اس کی تائید کی اور پھر چوتھے نے، اس طرح ان لوگوں نے اپنے دل کی بات ایک دوسرے سے کی۔ اب چونکہ یہ سب لوگ مذہبی، نظریاتی، اور روحانی طور پر ایک تھے اس لئے فطرتی طور پر ان میں ایک تعلق قائم ہوگیا اور ایک محبت پیدا ہوگئی۔


اب ان لوگوں نے ایک جگہ مقرر کرلی اور وہاں آکر یہ لوگ ایک دوسرے سے ملنے اور ایک اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ آہستہ آہستہ لوگوں کو ان کے بارے میں پتہ چلتا گیا اور پھر ایک دن لوگوں نے ان کو پکڑ لیا اور بادشاہ کے سامنے پیش کردیا۔ بادشاہ کو شکایت پیش کی کہ ”ان لوگوں نے باپ دادا کا دین چھوڑدیا ہے اور گمراہ ہوگئے ہیں“ بادشاہ نے جب ان سے اس بابت دریافت کیا تو انہوں نے بڑی دلیری اور صاف گوئی سے اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا اور کہا ”ہمارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا مالک و خالق ہے۔ ناممکن ہے کہ ہم اس کے سوا کسی کو اپنا معبود بنائیں۔ اب ہم سے یہ نہ ہوسکے گا کہ اس کے سوا کسی اور کو پکاریں یہ نہایت باطل چیز ہے۔ ہم اس کام کو کبھی نہیں کرنے کے۔ یہ نہایت بے جا بات اور لغو حرکت اور جھوٹی راہ ہے۔“ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بادشاہ اور تمام اہل دربار و شہر والوں کو ایمان کی دعوت دے ڈالی۔ان کی اس صاف گوئی اور دلیری سے بادشاہ بہت غضب ناک ہوا اور کہا کہ اگر یہ باز نہ آئے تو میں انہیں سخت سزا دونگا۔ انہوں نے جب یہ محسوس کرلیا کہ ہم یہاں رہ کر اپنے دین پر قائم نہیں رہ سکتے تو پھر انہوں اپنے، ماں باپ، رشتے داروں اور دوست احباب کو چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا اور ایک روز یہ لوگ موقع پا کر اس بستی سے بھاگ نکلے اور پہاڑ ی غار میں چھپ رہے۔
بادشاہ اور ان کی قوم نے ان کو بہت ڈھونڈا لیکن ان کو کہیں نہ پاسکے۔ ادھر ان نوجوانوں کا معاملہ یہ ہوا کہ جب یہ بستی سے نکلے تو ایک کتا بھی ان کے ساتھ ہولیا۔ یہ چھپتے چھپاتے ایک پہاڑ کے ایک غار میں چھپ کر بیٹھ گئے جبکہ وہ کتا غار کے منہ پر بیٹھ گیا۔ تھکن کے باعث وہ اس غار میں لیٹ گئے اور یہاں اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک طویل نیند طاری کردی۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ان سے دور رکھنے کے لئے دو انتظامات کئے، ایک تو یہ کہ جو کتا انکے ساتھ آیا تھا اور غار کے دہانے پر بیٹھ گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس پر بھی نیند طاری کردی لیکن وہ ایسی پوزیشن بھی بیٹھا ہوا تھا کہ دور سے دیکھنے پر لگتا کہ گویا کہ وہ کتا بالکل چوکس و چاق و چوبند ہے اور کسی چیز کی نگرانی پر بیٹھا ہے اس طرح لوگوں پر ایسا تاثر قائم ہوا کہ شائد اس غار میں کوئی خطرناک ڈاکو ہیں اور یہ ان کا کتا ہے اس خوف سے کوئی اس غار کے نزدیک نہ جاتا تھا اس کے ساتھ دوسرا انتظام یہ کیا گیا کہ انہوں نے جس غار کا انتخاب کیا وہ شمالاً جنوباً واقع ہوا تھا اس طرح اس غار میں کسی بھی موسم میں سورج کی روشنی نہ پہنچی تھی اور غار میں اندھیرا ہی رہتا اس طرح اگر کوئی فرد بھولے بھٹکے سے غار تک پہنچ بھی جاتا تو اس کو غار میں جھانکنے پر کچھ بھی نظر نہ آتا۔
ایک خاص مدت کے بعد جس کا شمار اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن کم بیش یہ تین سو نو سال کے لگ بھگ ہے اللہ نے ان کو بیدار کیا، انہیں بالکل بھی اندازہ نہ تھا کہ وہ کتنی دیر تک سوتے رہے ہیں۔ بیدار ہونے کے بعد انہوں نے ایک دوسرے سے پوچھا کہ ہم کتنی دیر تک سوئے رہے ہونگے؟ان کا خیال تھا کہ ایک دن یا اس سے بھی کچھ کم۔ بہرحال اب ان کو بھوک محسوس ہورہی تھی اس لئے انہوں نے بازار سے کچھ کھانے پینے کا سامان منگوانے کا ارادہ کیا۔ ان کے پاس کچھ درہم تھے، انہوں نے وہ اپنے ایک ہوشیار ساتھی کو دیتے ہوئے کہا کہ وہ جاکر بازار سے کچھ لے آئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ نصیحت بھی کی ”دیکھو ذرا احتیاط سے جانا ایسا نہ ہو کہ بادشاہ کے لوگ تمہیں دیکھ لیں اور ہم لوگ پھر پکڑیں جائیں اور اس طرح وہ لوگ ہمیں دوبارہ اپنے دین میں داخل کردیں“۔

 

یہ نوجوان جب سکے لیکر بستی میں داخل ہوا تو اسے سب کچھ بدلا بدلا محسوس ہوا، گھر بار اگرچہ ویسے ہی تھے لیکن شہر کا نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ کیا ماجرا ہے کیوں کہ اپنے تئیں تو یہ لوگ ایک دن سے بھی کم مدت سوئے رہے تھے۔ اس نوجوان نے سمجھا کہ شائد میری ہی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور مجھے جلد از جلد خریداری کرکے شہر سے نکل جانا چاہئے۔ ایک دکان پر جاکر جب اس نے  سامان لیا اور وہ سکے دام میں دیئے۔ قدیم سکے دیکھ کر دکان دار حیران رہ گیا اور وہ سمجھا کہ اس کے پاس کوئی پوشیدہ خزانہ ہے۔اس نوجوان نے استعجاب سے جواب دیا کہ یہ سکے تو ہمارے ہی ہیں اور ہم کل شام کو تو  یہاں سے گئے ہیں۔ یہاں کا بادشاہ دقیانوس ہے نا؟ یہ سن کر تمام لوگ ہنسنے لگے اور اس نوجوان کو پاگل سمجھنے لگے کہ دقیانوس کو تو مرے ہوئے بھی سیکڑوں سال گزر گئے، بالآخر اس کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ مفسرین و مورخین کے مطابق اس بادشاہ کا نام تیندوسس تھا اور یہ ایک مسلمان بادشاہ تھا۔ اس نوجوان نے اپنا سارا قصہ ان کو کہہ سنایا۔
بادشاہ اور درباریوں نے انتہائی حیرت کا اظہار کیا اور پھر ان کو پتہ چلا کہ یہ تو وہی چند نوجوان ہیں جن کے بارے میں ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا تھا کہ وہ اپنا ایمان بچانے کے لئے کہیں روپوش ہوگئے ہیں۔ آناً فاناً یہ خبر سارے شہر میں پھیل گئی کہ دقیانوس کے دور میں جو پیروان مسیح روپوش ہوگئے تھے وہ اب ظاہر ہوئے ہیں۔ بادشاہ نے اس نوجوان سے کہا کہ مجھے اپنے ساتھیوں کے پاس لے چلو، وہ نوجوان بادشاہ کو وہاں لیکر گیا جبکہ بادشاہ کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑا مجمع بھی ان نوجوانوں کو دیکھنے کے لئے ساتھ چل پڑا، غار کے پاس پہنچ کر اس نوجوان نے اپنے ساتھیوں کو سارا قصہ بتایا اور جب ان نوجوانوں کو یہ معلوم ہوا کہ وہ اتنے طویل عرصے تک سوتے رہے ہیں تو انہوں نے اپنے دینی بھائیوں کو سلام کیا اور دوبارہ لیٹ گئے اور ان کی روح جسدِ خاکی سے پرواز کر گئی۔اب لوگوں میں دو گروہ بن گئے ایک کہتا تھا کہ اس غار کا منہ بند کردو اور ان لوگوں کے ان کے حال پر چھوڑ دو اللہ ہی ان کا معاملہ بہتر جانتا ہے، جبکہ جو لوگ اس قوم کے معاملات میں غالب تھے انہوں نے کہا کہ ہم تو ان کی قبر پر ایک عبادتگاہ بنائیں گے۔ یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ اس سورہ کے بارے میں مفسرین کے مطابق جو فرد بھی سورہ کہف کی ابتدائی و آخری دس آیات حفظ کر لے گا وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا۔
سب سے پہلی بات جو کہ سورہ کی وجہ نزول ہے اور اصحاب کہف کے قصے کے فوراً بعد ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ”ہرگز ہرگز کسی کام پر یوں نہ کہنا کہ میں اسے کل کرونگا۔ مگر ساتھ ہی انشاء اللہ کہہ لینا اور جب بھی بھولے اپنے پروردگار کو یاد کرلینا مجھے پوری امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے زیادہ ہدایت کے قریب کی بات کی رہبری کرے۔“ (سورہ کہف آیت 23-24) اس آیت کی شان نزول یہ بتائی جاتی ہے کہ جب قریشِ مکہ نے نبی اکرمؐ سے یہ سوالات پوچھے تو آپؐ نے فرمایا کہ ”میں کل ان کے جوابات دیدوں گا“ لیکن انشاء  اللہ کہنا بھول گئے پھر ایسا اتفاق ہوا کہ کچھ دنوں تک آپؐپر وحی کا نزول نہ ہوا۔اب مشرکین کو ایک بہانہ ہاتھ آگیا کہ دیکھا اگر یہ سچے نبی ہوتے تو ہماری باتوں کا جواب دیتے،اس طرح نبی اکرمؐ کو دُہری تکلیف محسوس ہوئی اول تو یہ کہ وحی کا سلسلہ نامعلوم وجہ سے منقطع ہوگیا اور دوم مشرکین کے طنز کے باعث آپؐ رنج و غم محسوس کر رہے تھے۔ بالآخر حضرت جبرئیل علیہ السلام،اللہ کے اذن سے ان سوالوں کے جواب لیکر حاضر ہوئے اور ساتھ ہی اس طرف اشارہ کیا کہ کسی بھی کام کا ارادہ کرو تو انشاء اللہ ضرور کہہ لیا کرو۔ یہاں کسی فرد کو یہ غلط فہمی نہ ہونے چاہئے کہ نبی اکرمؐ انشاء اللہ کہنا بھول گئے تھے بلکہ یہ سوچنا چاہئے کہ انبیا کرام کا ہر عمل اللہ تعالیٰ کی مرضی اور منشا کے مطابق ہوتا ہے، اس لئے آپؐ کا بھولنا بھی اللہ کی مرضی کے مطابق تھا اور اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس کی طرف اشارہ کر کے رہتی دنیا تک اہل ایمان کو ایک سبق دیدیا کہ کوئی بھی کام کرتے وقت انشاء  اللہ ضرور کہہ لیا کریں کیوں کہ انسان کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ 
اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کی کروٹیں بدلنے کا بھی ذکر کیا ہے اور اس طرح انسان کو یہ بات سمجھائی کہ اگر کوئی فرد خدانخواستہ معذو رو مفلوج ہوجائے اور صرف بستر پر ہی پڑا رہ جائے تو اس کو ایک ہی رخ پر نہیں رہنا چاہئے بلکہ اس کی کروٹ بدلنے کا انتظام کرنا چاہئے تاکہ ایک ہی کروٹ پر رہنے سے انسان کا جسم گل نہ جائے، اس میں کیڑے نہ پڑ جائیں۔ یہی کچھ آج کی میڈیکل سائنس کہتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات ساڑھے چودہ سو سال قبل ہی مسلمانوں کو سمجھا دی تھی۔
اس قصے کے ذریعے حیات بعد الموت کا عملی ثبوت فراہم کیا گیا ہے۔ جس دور میں یہ سورہ نازل ہوئی اور جس دور میں اصحاب الکہف دوبارہ نیند سے بیدار ہوئے، دونوں میں ایک حیرت انگیز مماثلث یہ ہے کہ اصحاب کہف کی بیداری کے وقت ان کی بستی میں اور سورہ کے نزول کے وقت مکہ میں مشرکین کے درمیان یہ بات موضوع بحث ہوتی تھی  ”یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک انسان مرنے کے بعد خاک میں مل جائے، اس کی ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں، حتیٰ کہ وہ ہڈیا ں بھی گل جائیں اور اس کے بعد انسان دوبارہ پیدا کیا جائے اور اس سے اس کے اعمال کی باز پرس کی جائیگی۔ اصحاب کہف کی ہی طرح کا ایک واقعے کا اجمالی ذکر اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں فرمایا ہے ”یا پھر اس مثال کے طور پر اس شخص کو دیکھو جس کا گزر ایک بستی پر ہوا، جو اپنی چھتوں پر اوندھی گری پڑی تھی۔ اْس نے کہا ”یہ آبادی جو ہلاک ہوچکی ہے اسے اللہ کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا؟“ اس پر اللہ نے اس کی رُوح قبض کرلی اور وہ سو برس تک مردہ پڑا رہا۔ پھر اللہ نے اسے دوبارہ زندگی بخشی اور اس سے پوچھا ”بتاؤ کتنی مدت پڑے رہے ہو؟‘‘ اس نے کہا ”ایک دن یا چند گھنٹے رہا ہوں گا“ فرمایا ”تم پر سو سال اسی حالت میں گزر چکے ہیں اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو اس میں ذرا تغیّر نہیں آیا۔ دوسری طرف اپنے گدھے کو بھی دیکھو (کہ اس کا پنجر تک بوسیدہ ہورہا ہے) اور یہ ہم نے اس لئے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دینا چاہتے ہیں۔ پھر دیکھو کہ ہڈیوں کے اس پنجر کو کس طرح اْٹھا کر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں“ اس طرح جب حقیقت اس کے سامنے بالکل نمایاں ہوگئی تو اس نے کہا ”میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز ہر قادر ہے‘‘ حضرت عزیر اور انکے گدھے کا قصہ بخت نصر نے شام پر حملہ کر کے بیت المقدس کو ویران کیا اور بہت سے اسرائیلیوں کو قید کر کے اپنے ہاں بابل لے گیا تو ان میں حضرت عزیر علیہ السلام بھی تھے۔ کچھ مدت بعد رہائی ہوئی اور واپس اپنے وطن آ رہے تھے کہ راہ میں ایک اجڑا ہوا شہر دیکھا جو بخت نصر کے حملہ کے نتیجہ میں ہی ویران ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر دل ہی میں یہ خیال آیا کہ اللہ اب اس بستی کو کب اور کیسے آباد کرے گا؟ اس وقت آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور خور و نوش کا سامان ساتھ تھا۔ اس خیال کے آتے ہی اللہ نے آپ کی روح قبض کر لی۔
اور پورے سو سال موت کی نیند سلا کر پھر انہیں زندہ کر کے پوچھا: ”بتلاؤ کتنی مدت اس حال میں پڑے رہے؟”اب عزیر علیہ السلام کے پاس ماسوائے سورج کے، وقت معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا جب جا رہے تھے تو پہلا پہر تھا اور اب دوسرا پہر کہنے لگے: ”یہی بس دن کا کچھ حصہ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دوسرا دن ہو”۔ کیونکہ اس سے زیادہ انسان کبھی نہیں سوتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دیکھو تم سو سال یہاں پڑے رہے ہو جب عزیر علیہ السلام نے اپنے بدن اور جسمانی حالت کی طرف اور اپنے سامان خور و نوش کی طرف دیکھا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ وہی دن ہے جب ان پر نیند طاری ہوئی تھی۔ پھر جب اپنے گدھے کی طرف دیکھا کہ اس کی ہڈیاں تک بوسیدہ ہو گئی ہیں تو سمجھے کہ واقعی سو سال گزر چکے ہوں گے۔ ان کے دیکھتے ہی دیکھتے ہڈیوں میں حرکت پیدا ہوئی، پھر وہ جڑنے لگیں۔ پھر ہڈیوں کے اس پنجر پر گوشت پوست چڑھا اور ان کے دیکھتے ہی دیکھتے گدھا زندہ ہو کر کھڑا ہو گیا۔ پھر اس بستی کی طرف نظر دوڑائی جسے دیکھ کر ایسا خیال آیا تھا تو وہ بھی آباد ہو چکی تھی۔ حضرت عزیر خود بھی ان کا گدھا بھی اور وہ بستی بھی مرنے کے بعد زندہ ہوئے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر کے  سوال کا تین طریقوں سے جواب دیا۔ جس سے آپ کو عین الیقین حاصل ہو گیا۔
 اس سو سال کی مدت کا نہ آپ کی ذات پر کچھ اثر ہوا، نہ آپ کے سامان خور و نوش پر،چنانچہ جب آپ واپس اپنے گھر پہنچے تو آپ کے بیٹے اور پوتے تو بوڑھے ہو چکے تھے اور آپ خود ان کی نسبت جوان تھے۔ اس طرح آپ کی ذات بھی تمام لوگوں کے لیے ایک معجزہ بن گئی۔ غالباً اسی وجہ سے یہودیوں کا ایک فرقہ انہیں ابن اللہ کہنے لگا۔ لیکن گدھے پر سو سال کا عرصہ گزرنے کے جملہ اثرات موجود تھے۔ یہ تضاد زمانی بھی ایک بہت بڑا حیران کن معاملہ اور معجزہ تھا۔ آپ کی آنکھوں کے سامنے گدھے کی ہڈیوں کا جڑنا، اس کا پنجر مکمل ہونا، اس پر گوشت پوست چڑھنا پھر اس کا زندہ ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر بہت بڑی دلیل ہے۔
حضرت عزیر علیہ السلام سو سال کے بعد زندہ ہونے کے بعد شہر کا دورہ فرماتے ہوئے اس جگہ پہنچ گئے جہاں ایک سو برس پہلے آپ کا مکان تھا۔ تو نہ کسی نے آپ کو پہچانا نہ آپ نے کسی کو پہچانا۔ ہاں البتہ یہ دیکھا کہ ایک بہت بوڑھی اور اپاہج عورت مکان کے پاس بیٹھی ہے جس نے اپنے بچپن میں حضرت عزیر علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ کیا یہی عزیر کا مکان ہے تو اس نے جواب دیا کہ جی ہاں۔ پھر بڑھیا نے کہا کہ عزیر کا کیا ذکر ہے؟ ان کو تو سو برس ہو گئے کہ وہ بالکل ہی لاپتہ ہو چکے ہیں یہ کہہ کر بڑھیا رونے لگی تو آپ نے فرمایا کہ اے بڑھیا! میں ہی عزیر ہوں تو بڑھیا نے کہا کہ سبحان اللہ! آپ کیسے عزیر ہو سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اے بڑھیا! مجھ کو اللہ تعالیٰ نے ایک سو برس مردہ رکھا۔ پھر مجھ کو زندہ فرما دیا اور میں اپنے گھر آگیا ہوں تو بڑھیا نے کہا کہ حضرت عزیر علیہ السلام تو ایسے با کمال تھے کہ ان کی ہر دعاء مقبول ہوتی تھی اگر آپ واقعی حضرت عزیر علیہ السلام ہیں تو میرے لئے دعا کیجئے کہ میری آنکھوں میں روشنی آ جائے اور میرا فالج اچھا ہو جائے۔ حضرت عزیر علیہ السلام نے دعاء کر دی تو بڑھیا کی آنکھیں ٹھیک ہو گئیں اور اس کا فالج بھی اچھا ہو گیا۔ پھر اس نے غور سے آپ کو دیکھا تو پہچان لیا اور بول اٹھی کہ میں شہادت دیتی ہوں کہ آپ یقیناً حضرت عزیر علیہ السلام ہی ہیں پھر وہ بڑھیا آپ کو لیکر بنی اسرائیل کے محلہ میں گئی۔ اتفاق سے وہ سب لوگ ایک مجلس میں جمع تھے اور اسی مجلس میں آپ کا لڑکا بھی موجود تھا جو ایک سو اٹھارہ برس کا ہو چکا تھا اور آپ کے چند پوتے بھی تھے جو سب بوڑھے ہو چکے تھے۔ بڑھیا نے مجلس میں شہادت دی اور اعلان کیا کہ اے لوگو! بلا شبہ یہ حضرت عزیر علیہ السلام ہی ہیں مگر کسی نے بڑھیا کی بات کو صحیح نہیں مانا۔ اتنے میں ان کے لڑکے نے کہا کہ میرے باپ کے دونوں کندھوں کے درمیان ایک کالے رنگ کا مسہ تھا جو چاند کی شکل کا تھا۔ چنانچہ آپ نے اپنا کرتا اتار کر دکھایا تو وہ مسہ موجود تھا۔ پھر لوگوں نے کہا کہ حضرت عزیر کو توریت  زبانی یاد تھی اگر آپ عزیر ہیں تو زبانی توریت پڑھ کر سنائیے۔ آپ نے بغیر کسی جھجک کے فوراً پوری توریت پڑھ کر سنا دی۔ بخت نصر بادشاہ نے بیت المقدس کو تباہ کرتے وقت چالیس ہزار توریت کے عالموں کو چن چن کر قتل کر دیا تھا اور توریت کی کوئی جلد بھی اس نے زمین پر باقی نہیں چھوڑی تھی۔ اب یہ سوال پیدا ہوا کہ حضرت عزیر نے توریت صحیح پڑھی یا نہیں؟ تو ایک آدمی نے کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا ہے کہ جس دن ہم لوگوں کو بخت نصر نے گرفتار کیا تھا اس دن ایک ویرانے میں ایک انگور کی جڑ میں توریت کی ایک جلد دفن کر دی گئی تھی اگر تم لوگ میرے دادا کے انگور کی جگہ کی نشان دہی کر دو تو میں تورایت کی ایک جلد برآمد کر دوں گا۔ اس وقت پتا چل جائے گا کہ حضرت عزیر نے جو توریت پڑھی وہ صحیح ہے یا نہیں؟ چنانچہ لوگوں نے تلاش کر کے اور زمین کھود کر توریت کی جلد نکال لی تو وہ حرف بہ حرف حضرت عزیر کی زبانی یاد کی ہوئی توریت کے مطابق تھی۔ یہ عجیب و غریب اور حیرت انگیز ماجرا دیکھ کر سب لوگوں نے ایک زبان ہو کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ بے شک حضرت عزیر یہی ہیں اور یقیناً یہ خدا کے بیٹے ہیں۔ چنانچہ اسی دن سے یہ غلط اور مشرکانہ عقیدہ یہودیوں میں پھیل گیا کہ معاذاللہ حضرت عزیر علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔
اس واقعہ کے بعد کیا کوئی شخص اور بھی اسی طرح موت سے ہمکنار ہوکر واپس آسکتاہے؟ اس پر شرعی اعتبار سے تو علما کرام ہی روشنی ڈال سکتے ہیں تاہم کئی لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ موت کی آغوش میں چلے گئے تھے تاہم جلد واپسی ہوگئی۔کچھ لوگوں کی زبانی سنا اور جرائد وکتب میں پڑھا کہ فلاں شخص فوت ہوا اور پھر زندہ ہوگیا اس نے کہا کہ فرشتہ کسی اور کے بجائے میری روح قبض کرکے لے گیا تھا،وہ صحیح صورتحال سامنے آئی تو مجھے واپس بھیج دیا گیا۔ہمارا ہمارا ایمان ہے کہ فرشتہ بھول نہیں سکتا ایسے واقعات اللہ کی طرف سے انسانوں کی اصلاح کیلئے علامتیں ہیں۔
سید محمد مہدی المعروف رئیس امروہوی نے روحوں کے حوالے سے کئی کتابیں لکھیں،ان میں عالم ارواح،حاضرات ارواح،عالم برزخ اورلے سانس بھی آہتہ اہم ہیں۔ ان کتابوں کا زیادہ ترمواد عوام الناس کے اپنے ساتھ پیش آمدہ واقعات پر مشتمل ہے۔”صرف ترش لسی“ کے عنوان سے ایک واقعہ کچھ یوں ہے:۔
”غلام رسول، کالج چوک راولپنڈی، لکھتے ہیں 
مردوں کے جی اٹھنے کے بارے میں ایک واقعہ عرض خدمت ہے یہ روایت میں نے اپنے والد سے سنی تھی ان کی وفات 1949ء میں ہوئی ہے میں جو واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں وہ تقریباً 1890ء میں پیش آیا تھا۔ ہمارا گاؤں پنڈی سے شمال و مغرب میں بیس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس گاؤں کی آبادی پندرہ سو نفوس پر مشتمل ہے۔ ہمارے گاؤں میں مستریوں کے پانچ گھر تھے چار آباد ایک غیر آباد! جب میں نے اپنے والد سے اس گھر کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ گھر بھی ایک مستری کا تھا جس کے بیوی بچے نقل مکانی کر کے چلے گئے ہیں۔ والد صاحب بیان کرتے تھے کہ مستری ادھیڑ عمر میں فوت ہو گیا تھا گاؤں کے لوگ اکٹھے ہوئے مستری کے اعزاء بھی جمع ہوئے عورتیں رونے دھونے میں مصروف تھیں جب غسل کی تیاری کی جا رہی تھی تو مردہ اٹھ کر بیٹھ گیا کلمہ طیبہ پڑھا وصیت کی، لیٹ گیا اور پھر نہ اٹھا۔ سب گاؤں کے لوگ اکٹھے ہو گئے، ایک دیہاتی حکیم کو بلایا، اس نے بھی موت کا فتویٰ صادر کر دیا۔ لہٰذا مرحوم کو دفن کر دیا گیا۔

دوبارہ موت وارد ہونے سے پہلے اس مستری نے جو کچھ کہا تھا اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو کچھ میرا مال و اسباب اس گھر میں موجود ہے وہ سب خدا کے نام پر بانٹ دو۔ میری بیوی اور بچوں کیلئے اس گھر میں کچھ نہیں ہے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ تو اس نے کہا میں اگلے جہاں سے صرف وصیت کرنے واپس آیا ہوں وہاں سب لوگ اچھے اچھے کھانے پھل اور میوہ جات کھا رہے تھے جب مجھے بھوک لگی تو مجھے باسی لسی پینے کو ملی۔ جس میں چیونٹیاں پڑی ہوئی تھیں۔ جب میں نے شکوہ کیا کہ میرے لئے صرف کھٹی (ترش) لسی رہ گئی ہے حالانکہ لوگ بڑے اچھے اچھے کھانے کھا رہے ہیں آخر ایسا کیوں ہے؟ توجواب ملا کہ تم نے ساری زندگی میں صرف یہی چیز (لسی) اللہ کی راہ میں دی تھی۔ لہٰذا یہی چیز تمہیں ملی۔(عالم برزخ صفحہ150)


 

متعلقہ خبریں