موت سے زندگی کی  طرف

2019 ,اکتوبر 9



دوسرا حصہ
کتاب لکھنے کے فیصلے کے بعد عموماً جس سے بھی ملاقات ہوئی، اس سے کتاب کی غرض و غایت بیان کر کے اس سے اس کی زندگی میں پیش آنے والے   نازک لمحات اور زندگی کا دھارا بدل دینے والے واقعات کے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی۔ ٹرین میں سفر کے دوران بھی کچھ اجنبی، دوست بنے۔ فیس بک کا استعمال بھی اس مقصد کیلئے کیا۔ دنیاوی لحاظ سے بڑے لوگوں سے لے کر خاکروب اور قاصد تک سے اپنا مدعا بیان کیا۔ اس دوران جہاں ایمان افروز، سبق آموز، دلچسپ اور سننی خیز واقعات سننے کو ملے وہیں کچھ تلخ تجربات بھی ہوئے, کئی لوگوں نے آج بھجواتا ہوں، کل بتاؤں گا، کہہ کے 6 ماہ گزار دیئے۔ کئی بزرگوں تک نے کہا ان کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جس پر کہا جا سکے، اللہ نے نئی زندگی دی ہے۔

ایسے واقعات تو خال خال لوگوں کے ساتھ پیش آئے، جن کے بعد زندگی کا دھارا بدل گیا ہوالبتہ موت سے بہت سے لوگوں کو گلے ملنے  ملنے کا اتفاق ہوا، کتاب کے اس دوسرے حصے میں ایسے واقعات شامل کئے گئے ہیں۔ جس صاحب نے دو سطری واقعہ بھی بیان کیا اس کیلئے یہ کتاب اس کی مختصر بائیو گرافی ہے۔ ہر واقعہ کی اپنی اپنی اہمیت ہے، کوئی ایک واقعہ بھی اپنی نوعیت کے لحاظ سے بے مقصد نہیں، ہر واقعہ میں کسی نہ کسی کیلئے کچھ نہ کچھ دلچسپی کا پہلو ضرور موجود ہے، کم از کم ایک واقعہ کے ساتھ جس کا نام آگیا اس کیلئے تو یہ اہم ہو گا ہی، مختلف لوگوں سے بالمشافہ، فون، فیس بک اور ای میل  کے ذریعے  ملاقاتوں کے دوران جہاں کام کی باتیں ہوئیں وہیں مایوسی ہوئی اور خوش کن گفتگو سے محفوظ بھی ہونے کا موقع ملا میں اپنا مدعا اپنی دانست میں سامنے والی شخصیت  سے بیان کرنے کی کوشش کرتا۔ بے تکلف دوستوں اور ساتھیوں سے بلا تمہید پوچھ لیتا، زندگی میں کبھی موت کو قریب سے دیکھا؟ دفتر کے آفس بوائے سے پوچھا۔ زندگی میں کبھی موت نظر آئی۔ تو اس 55 سالہ آفس بوائے کا بڑا دلکش اور بے ساختہ جواب تھا۔ ”جب آپ مجھے کوئی کام کہتے ہیں تو مجھے موت ہی نظر آتی ہے“؟ ایک سٹوڈنٹ نے کہا۔”امتحانات سے بڑی موت کیا ہو سکتی ہے“۔ جہاں سابق صوبائی وزیر عابد چٹھہ کا سنایا ہوا واقعہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ بچپن میں والد صاحب نعیم چٹھہ کے ساتھ ہم خاندان کے لوگ گاڑی میں جا رہے تھے۔ والدہ فرنٹ سیٹ پر تھیں۔ والد گاڑی چلا رہے تھے۔ میں پچھلی سیٹ پر بائیں طرف اپنی دو بہنوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ میری طرف کا شیشہ کھلا، دوسری طرف کا بند تھا۔ گاڑی 80 سے 100 کی سپیڈ پر جاری تھی۔ اچانک کوئی چیز میری طرف والے کھلے شیشے سے اندر آکر سامنے والے شیشے سے ٹکرائی گاڑی خون میں لت پت ہوگئی  پہلی نظر میں گاڑی میں چھوٹی چھوٹی بوٹیاں دکھائی دیں تاہم غور سے دیکھا تو یہ کہیں سے اور کسی طرح  تربوز گاڑی کے اندر آکر پھٹا تھا۔ ہمارے کپڑے بھی تربوز کے پانی اور گودے سے لتھر گئے مگر یہ اندر جس سپیڈ سے آیا ہمارے لئے سوال چھوڑ گیا اور اس سے بھی بڑا سوال تھا کہ تربوز آیا کہاں سے؟
کتاب کے اس  دوسرے حصے میں ان لوگوں کو پیش آنیوالے واقعات کو شامل کیا ہے، جن سے میرا بلاواسطہ یا جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے رابطہ ہوا۔ انٹرنیٹ یا کتابوں سے واقعات نہیں لئے گئے تاہم ایسے کچھ اہمیت کے حامل واقعات کو مختصراً کتاب کا حصہ دوسرے حصے کے ابتدائیہ میں شامل کیا گیا ہے۔
 یوسف اسلام 
یوسف اسلام،  یورپ اور امریکہ کے نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن،سپرسٹار، ایسا گلوکار جس کے گیتوں کے البم چھ کروڑ سے زیادہ فروخت ہوئے، تب اس کا نام کیٹ سٹیونز تھا۔ ایک بار چھٹیوں کے دوران سمندر میں پیراکی کے لئے اترا اور ایک بڑی لہر اسے اچھال کر گہرے پانیوں میں لے گئی اور وہ تقریباً ڈوب گیا تھا۔ ڈوبتے ہوئے پانیوں کے اندر صرف ایک سانس کے لئے جدوجہد کرتا کیٹ سٹیونز پکارتا ہے ”اے خدا! اگر تو ہے تو مجھے بچا لے، میری مدد کر، اگر میں بچ گیا تو پوری زندگی تیرے لئے وقف کردوں گا۔ اور اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اسلام قبول کر کے درویشی اختیار کرلی۔ برطانیہ میں اس نے ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کی، عدالتوں میں اسلام کا نقطئ نظر پیش کیا۔ آج برطانیہ میں درجنوں اسلامی سکول قائم ہیں جو باریش ایک چوغے میں ملبوس یوسف اسلام کی سربراہی میں دنیا بھر سے آئے ہوئے برطانوی مسلمانوں کے بچوں کو اپنے مذہب کی بنیادی اقدار سے روشناس کروا رہے ہیں۔
٭٭٭
اے آررحمٰن
اے آررحمٰن اللہ رکھا رحمان جنہیں عام طور پر اے آر رحمان کے طور پر جانا جاتا ہے ہندوستان کے معروف موسیقار و گلوکار ہیں، جنوبی ہندستان کے شہر چینئی میں  ایک متوسط ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام دلیپ کمار رکھا گیا دلیپ کے والد آر کے شنکر کیرلہ فلم انڈسٹری میں تمل اور دیگر زبان کی فلموں میں موسیقار تھے۔ دلیپ اس وقت نو سال کے تھے جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ان کی والدہ نے اپنے شوہر کے موسیقی کے آلات کو کرایہ پر دے کر گزر بسر شروع کی۔ باپ کے انتقال کے بعد دلیپ کمار کی طبیعت جب خراب رہنے لگی تو ماں نے لوگوں کے کہنے پر ایک پیر کے مزار پر حاضری دی اور منت مانی جس کے بعد دلیپ کی طبیعت ٹھیک اور ماں کا عقیدہ پختہ ہوگیا، اسکے بعد وہ اپنے پورے گھر کے ساتھ مشرف بہ اسلام ہوگئیں اور دلیپ کا نام اللہ رکھا رحمان رکھا گیا۔

 

گھر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے رحمان نے کم عمری میں ہی کام کرنا شروع کر دیا۔ وہ کی بورڈ پلیئر بنے لیکن انہیں پتہ تھا ان کی منزل یہ نہیں ہے اس لیے انہوں نے پہلے پیانو اور پھرگٹار بجانا سیکھا۔ اس دوران چنئی کے چند نوجوانوں کے ساتھ مل کر انہوں نے اپنا ایک مقامی بینڈ’نمی سیس ایونیو‘ بنایا۔
رحمان کی زندگی کا سفر آسان نہیں تھا گھر کی ذمہ داری اور ساتھ میں موسیقی سیکھنے کا جنون۔ انہیں تیلگو میوزک ڈائریکٹر کے ساتھ ورلڈ ٹور پر جانے کا موقع ملا۔ یہاں ان کا فن دنیا کے سامنے آیا اور پھر انہیں آکسفورڈ کی ٹرینیٹی کالج کی سکالر شپ ملی جس نے رحمان کی موسیقی کی تشنگی کو پورا کرنے کا بھر پور موقع فراہم کیا اور انہوں نے موسیقی میں گریجویشن کیا۔ رحمن صوفی ازم پر یقین رکھتے ہیں اور اسی لیے پیروں اور ولیوں کے مزاروں پر حاضری دینا نہیں بھولتے۔ ایک مرتبہ انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ان کی موسیقی میں روحانیت ولیوں کی دین ہے۔رحمان کی موسیقی کسی ایوارڈ کی محتاج نہیں لیکن انہیں جتنے ایوارڈز ملے ہیں وہ کسی بھی ہندستانی موسیقار کو آج تک نہیں مل سکے۔  ان کو سلم ڈاگ فلم کے لیے بہترین موسیقی دینے پر آسکرایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی موسیقار تھے۔

جب امیتابھ بچن نے موت کو قریب سے دیکھا
 2 اگست 1983ء کو بالی ووڈ فلم ”قلی“ کے ایک منظر کی شوٹنگ کی جا رہی ہے۔ فلم کے ہیرو امیتابھ بچن ہیں، پونیت ایسار فلم کے ولن ہیں، لڑائی کے ایک منظر میں پونیت اور امیتابھ بچن شامل ہیں۔ فلم کے سین کے مطابق پونیت امیتابھ بچن کو اٹھا کر ایک طرف پھینکیں گے اور جب امیتابھ بچن پلٹ کر واپس آئیں گے تو پونیت ان کے پیٹ میں گھونسا ماریں گے، اس سین کے لئے پانچ بار ریہرسل کی گئی اور سب کچھ ٹھیک رہا لیکن جب اصل منظر کی عکسبندی شروع ہوئی تو سب کچھ گڑ بڑ ہو گیا، امیتابھ بچن کے پیٹ میں گہری چوٹ آئی اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔ ان کی انتڑیاں اندر سے شدید زخمی ہو گئی تھی، ڈاکٹروں نے ان کی فوری سرجری کی اور پھر انہیں ایئر ایمبولینس کے ذریعے ممبئی منتقل کر دیا گیا۔امیتابھ بچن کئی دن تک کوما میں رہے، ان کے دوست اور بھارتی رہنما راجیو گاندھی اپنا دورہ امریکہ ادھورا چھوڑ کر امیتابھ کے پاس پہنچ گئے، جہاں جہاں امیتابھ کے چاہنے والے تھے ان کی زندگی کیلئے دعائیں مانگنے  لگے۔

تین ہفتے کے بعد امتیابھ بچن بہترہو کر ہسپتال سے گھر منتقل ہو گئے تاہم مکمل طور پر بحال ہونے میں انہیں کئی مہینے لگے۔ امیتابھ بچن نے اس واقعہ کے کئی سال گزرنے کے بعد اس لمحے کو یاد کیا، ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ انجری اتنی سنجیدہ نوعیت کی تھی کہ چند لمحوں کے لئے انہیں مردہ قرار دے دیا گیا تھا لیکن پھرہسپتال کے ڈاکٹر واڈیا نے انہیں لگاتار 40 کارٹی سون کے انجیکشن لگائے، تب جا کر وہ زندگی کی طرف واپس لوٹنا شروع ہوئے۔ اگرچہ امیتابھ بچن نے اسے ایک حادثہ قرار دیا اور تندرست ہونے کے بعد بتایا کہ وہ اپنی غلطی سے زخمی ہوئے تھے لیکن ان کے پرستاروں نے پونیت ایسار کو ایک ولن کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔ امیتابھ بچن کے لاکھوں پرستاروں کا موقف تھا کہ پونیت نے امیتابھ بچن کی کامیابیوں سے حسد کھا کر انہیں جان سے مارنے کی کوشش کی تھی اور جان بوجھ کر ان کے پیٹ میں زور دار گھونسہ مارا تھا۔ پونیت ایسار کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد ان پر بالی ووڈ کے دروازے بند ہو گئے، انہیں اصل میں ایک ولن بنا دیا گیا، پانچ چھ فلموں سے انہیں نکال دیا گیا کیونکہ پروڈیوسرز کو یقین تھا کہ جس فلم میں وہ شامل ہوں گے وہ فلم فلاپ ثابت ہوگی۔
٭٭٭
 زندگی کی رنگینیاں، سنگینیاں بہاریں اور خزائیں روزمرہ کے معمولات اور احساسات سے عبارت ہیں، کچھ سے تو خوشبوئیں اٹھتی اور بکھرتی ہیں توکئی سے خون بھی ٹپکتا اور رستا ہوا محسوس ہوتا ہے اور کچھ دل و دماغ پر گہرے اور انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ کتاب کے اس حصے میں ایسے ہی واقعات، حادثات اور احساسات اکٹھے کئے گئے ہیں جن سے گزر کر انسان کہتا ہے ”اللہ کا شکر ہے اس نے مجھے نئی زندگی دی، یہ میرا نیا جنم ہے۔ یہ میری پہلی زندگی میں دوسری زندگی ہے، میری موت کی دہلیز سے واپسی ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں