جعلی جنرل شجاع پاشاکی دھواں دار انٹری

2022 ,جون 25



سابق ڈی جی آئی ایس آئی ایک بار پھر عمران خان کی حمایت میں کھل کر میڈیا میں سامنے آئے ہیں۔ وہ جرنیلوں خصوصی طور پر جنرل قمر جاوید باجوہ پر برق کی طرح گر رہے ہیں۔ گرج رہے ہیں برس رہے ہیں۔ عمران خان کو نجات دہندہ اور جنرل باجوہ کو راندہ درگاہ قرار دے رہے ہیں۔ ویسے آج اکثرپاکستانیوں کا یہی مؤقف ہے ان کاتعلق خواہ کسی بھی شعبے سے ہو۔ ایکس سروس مین یا حاضر سرور مین ۔ شجاع پاشا اس دور میں شدید تنقید کی زد میں آئے جب 30اکتوبر2011ء کو مینار پاکستان پر عمران خان کا جلسہ ہوا تھا جس سے پوری سیاسی گیم بدل گئی تھی۔ مسلم لیگ ن کی طرف سے شجاع پاشا پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے عمران خان کی سپورٹ کی ہے ۔جنرل اشفاق پرویز کیانی کو 3سال کی توسیع دی گئی۔ جنرل شجاع پاشا ان کے دست راست تھے مگر ن لیگ کی مخالفت کی وجہ سے ان کی ملازمت میں توسیع نہ ہو سکی۔ عمران خان کی حکومت کے دوران شاید جنرل پاشا پس منظر میں رہ کر کوئی کردار ادا کرتے رہے ہوں مگر کھل کر اب سامنے آئے ہیں۔ یوٹیوب پر روزانہ ایک وی لاگ ڈالتے ہیں۔ مگر یہ وی لاگ والے وہ شجاع پاشا نہیں۔ اس وی لاگر کی طرف سے تاثر یہی دیا جاتا ہے۔ ان کی گفتگو اور کانٹنٹ سے پی ٹی آئی والے بڑے خوش ہیں۔ مگر یہ اصل والے پاشا نہیں ہیں ان کے ہم شکل ہونے کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اپنے ایک ویلاگ میں انہوں نے خود کہا کہ میرے بیچ میٹ اب میجر جنرل ہیں ۔آئندہ وہ آرمی چیف بننے کی دوڑ میں شامل ہوں گے تو اندازہ کریں کہ جنرل شجاع پاشا کئی سال پہلے ریٹائر ہوئے ان کے بیچ میٹ بھی ہو چکے ہیں اس سے خود ان صاحب نے ثابت کردیا کہ یہ اصل شجاع پاشا نہیں ہے لیکن اصل شجاع پاشا کیوں خاموش ہیں کیا وہ ان سے سے کوئی حصہ وصول کر رہے ہیں۔ بہرحال جعلی والے جو بات کر رہے ہیں وہ بالکل درست کر رہے ہیں اور یہ ریٹائرڈ فوجی ضرور ہیں۔

متعلقہ خبریں