حکمرانوں کے منہ پر ایک اور تھپڑ: جرمنی سے ڈسکہ کے خزیمہ نصیر کے بعد کھاریاں کے محمد افضال کی خبر آگئی

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع نومبر 25, 2016 | 10:32 صبح

لاہور(شیر سلطان ملک)  وطن عزیز میں غربت بے روزگاری  اور ابتر سیاسی حالات نے ملک کی نوجوان نسل کو مایوسی کی وادیوں میں دھکیل رکھا ہے لیکن اسکے باوجود اس ملک کے نوجوان جو ہمت اور قابلیت کے حوالے سے کسی سے کم نہیں، اپنے مستقبل کو شاندار بنانے اور کچھ کر گزرنے کے جنون میں بڑے سے بڑا خطرہ مول لے لیتے ہیں۔

کچھ اسی طرح کے حالات  ایک سال قبل ڈسکہ کے رہائشی نوجوان خزیمہ نصیر  کے ساتھ پیش آئے  وہ روشن مستقبل کا خواب لیے ڈسکہ پاکستان سے نکل پڑا اور کئی ماہ کے سفر کے بعد

ایک سیاسی پناہ کے متلاشی کے طور پر جرمنی  پہنچ گیا مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور خزیمہ نصیر ایک اذیت ناک موت کا شکار ہوا اور تابوت میں بند ہو کر اپنی وفات کے ایک ہفتہ بعد چند روز قبل پاکستان پہنچایا گیا۔ جہاں نماز جنازہ کے بعد اسے دیس کی مٹی نے اپنی آغوش میں لے لیا۔

 اب ایک اور خبر جرمنی ہی سے کھاریاں کے رہائشی 20 سالہ نوجوان محمد افضال کے بارے میں آئی ہے  ۔

یہ خبر جہاں   پڑھنے والوں کے لیے خوش کن ہے وہیں پاکستان کے حکمرانوں کو شرمندہ کر دینے کے لیے کافی ہے۔

کھاریاں کے میٹرک پاس نوجوان  محمد افضال کو جب پاکستان میں کچھ نظر نہ آٰیا اور اس نے سوچا کہ یہاں تو ایم اے، ایم ایس سی پاس نوجوان دھکے کھا رہے ہیں تو اس نے بھی خزیمہ نصیر کی طرح سیاسی پناہ کا بہانہ بنا کر جرمنی پہنچ کر دم لیا ۔

 لیکن وہاں پہنچ کر اس نوجوان محمد افضال نے اپنی لگن اور ہمت  سے ثابت کر دکھایا کہ  وہ اگرچہ پاکستان میں کچھ نہیں کر سکا مگر جرمنی کے لیے اثاثہ ثابت ہو سکتا ہے۔

 محمد افضال نے جرمنی پہنچتے ہی  فنی تربیت کے ایک انٹرن شپ پروگرام میں داخلہ لے لیا جو جرمنی کا ایک معروف کاروباری ادارہ کروا رہا تھا۔

 6 ماہ کے اس انٹرن شپ پروگرام میں محمد افضال نے مسلسل 12 ، 12 گھنٹے تک فنی تربیت کے کالج میں کام کیا اور اپنی محنت اور جذبے سے  اپنے اساتذہ اور اعلیٰ حکام کا دل جیت لیا۔ جب یہ پروگرام ختم ہوا تو محمد افضال نے اسی نوع کی فنی تربیت کے  اس تین سالہ کورس میں داخلہ کے لیے درخواست دے دی  جس  کا ایک امیدوار پر جرمن حکومت کا خرچہ 60 ہزار یورو ( 70 لاکھ پاکستانی روپے کے برابر) آتا ہے۔

جرمنی میں یہ کورس ایک بہت بڑا کاروباری ادارہ ڈوئچے بان کروا رہا ہے جس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ  شام اریٹریا افغانسان اوردیگر ممالک سے ہجرت کرکے آنے والے نوجوانوں کو  ایسی راہ پر لگا دیا جائے کہ وہ چند ماہ یا چند سال میں جرمنی کا اثاثہ بن جائیں تاکہ انہیں بوجھ نہ سمجھا جائے۔

 محمد افضال  کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اسے فنی تربیت کے اس تین سالہ کورس میں داخلہ مل گیا ہے  اور اب اس کا مقصد یہ ہے کہ نہ صرف اپنا مستقبل روشن کرنے کے لیے پوری لگن کے ساتھ یہ تین سال کا کورس مکمل کرے بلکہ جرمنی جس نے انہیں سیاسی پناہ کے ساتھ ساتھ یہ شاندار موقع فراہم کیا  اس ملک کے لیے بھی خدمات انجام دے۔

ذرا تصور کیجیے کہ جرمنی کی حکومت دوسرے ممالک کے پناہ گزینوں  کو بھی قیمتی اثاثہ سمجھ کر ان پر انوسٹ کر رہی ہے اور ہمارے  ملک میں حکومت کا اولین مقصد لوٹ مار اقرباء پروری  اور بندر بانٹ کے سوا  کچھ نہیں ۔