جنرل جاوید اقبال: قید رہائی اوراٹک سازش

2023 ,جنوری 12



فضل حسین اعوان
لیفٹیننٹ جنرل(ر) جاوید اقبال ملک کو جاسوسی کے الزام میں فوجی عدالت کی طرف سے14سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان کو 6دسمبر2018ءکو گرفتار کیا گیا۔ 3مئی 2019ءکو سزا سنائی گئی ۔ اپیل پر ان کی سزا سات سال کر دی گئی۔اب جنرل جاوید کو ان کی بقیہ رہ جانے والی سزا ختم کر کے رہا کر دیا گیا ہے۔ ان کی رہائی کا حکم 29نومبر کو پاک فوج کے نئے سپہ سالار جنرل عاصم منیر نے دیا۔یہ ان کا فرمانِ امروز یعنی پہلے روز کے احکامات میں سے ایک تھا۔ یہ خبر بھی سامنے آئی کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہی ان کی سزا کی توثیق کی بلکہ ان کے حکم پر ہی کورٹ مارشل ہوا تھا۔ انہوں نے ہی سزا میں7سال تخفیف کی اور اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل23نومبر کو مزیدتخفیف کرتے ہوئے باقی سزا چھ ماہ کر دی تھی۔ ان پر الزامات لگائے گئے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعدامریکہ کے لیے کام کرتے رہے۔ کچھ آرٹیکلز لکھ کر دیئے۔ اپنی سی وی شیئر کی۔ SPDکے بارے میں بتایا کہ یہ شعبہ ایٹمی پروگرام کے تحفظ پر کام کرتا ہے۔ آرمی چیف کی تعیناتی کیسے ہوتی ہے۔ یہ اور ایسے دیگر الزامات میں جن کو کچھ لوگ جرم کے زمرے میں نہیں لاتے۔ یہ سب جنرل جاوید اقبال سے پوچھا گیا تو انہوں نے ان کو تسلیم کر لیا۔ ان کے نزدیک یہ جرم نہیں تھا۔ اسے اعترافِ جرم کہ دیا گیا۔فوجی عدالت سے سزا سنائے جانے کے بعد وہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ لے گئے۔ ان کے کیس کو وہاں بریکیں لگتی رہیں مگر بہت سے شواہد اور حقائق کھلنے لگے۔ ان کے وکیل عمر آدم ہیں۔ انہوں نے کچھ صحافیوں کو بتایا کہ جنرل جاوید نے جنرل باجوہ کی توسیع پر تنقید کی تھی۔ کیا یہ سب کچھ اس کے ردِ عمل میں ہوا؟ ۔ جنرل عاصم منیر ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی بھی رہے۔ ان سے زیادہ کس کو علم ہو سکتا ہے کہ اس معاملے کی تہہ میں کیا تھا؟۔ لہٰذا ان کی رہائی کا حکم دے دیا ۔جنرل جاوید اقبال کا کیس ابھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہے۔ وہ کورٹ سے خود کو مکمل کلیئر کرانا چاہتے ہیں جس کا اب امکان بھی نظر آ رہا ہے ان کے وکیل عمر آدم ہیں جو میجر آدم فاروق کے بیٹے ہیں۔ میجر آدم فاروق کا بھی کورٹ مارشل ہواتھا۔ ان پر اور کئی دیگر افسروں پر بغاوت کے الزام میں کیس چلا۔ جسے اٹک سازش کیس کے نام سے شہرت ملی ۔ آئیے ذرا اُس جونیئر فوجی افسروں کی کچی بغاوت اورکیس پر نظر ڈالتے ہیں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ
مارچ 1973ءمیں کینٹ ایریاز اور ایئربیسز سے کچھ افسروں کو گرفتار کیا گیا۔ان پر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا الزام تھا۔ الزام کی زد میں آنے والے آفیسرز کو سول وکلا کی خدمات حاصل کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی جبکہ عدالت فوجی تھی۔ میجر جنرل ضیاءالحق اس فوجی عدالت کے سربراہ تھے۔فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی اس عدالت کے دیگر ممبران میں بریگیڈیئر جہانداد خان اور بریگیڈیئر رحمت شاہ بخاری بھی شامل تھے۔ملزمان کے وکلاءمیں شیخ منظور قادر، ایس ایم ظفر، وسیم سجاد، اعجاز بٹالوی اور اعتزاز احسن پیش ہوتے رہے۔
نوجوان افسروں کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں ذوالفقار علی بھٹو کا کردار نظر آتا تھا۔وہ بھٹو کو اقتدار سے الگ کرنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کچھ سینئر افسروں کو بھی اپنے ساتھ شامل بلکہ ملوث کر لیا۔ نوجوان افسروں میں کچھ وہ افسر بھی تھے جو 71 کی جنگ میں بھارت میں جنگی قیدی رہے۔ اہم ملزم میجر سعید اختر ملک اور پرویز مشرف دور میں احتساب کے چیف پراسیکیوٹر سابق میجر فاروق آدم خان تھے۔ اٹک سازش کیس 1973 کے دیگر ملزمان کی فہرست کچھ اس طرح سے تھی: میجر رینک کے آصف شفیع، اشتیاق آصف، فارق نواز جنجوعہ، راجہ نادر پرویز ، نصراللہ خان، ایاز سپرا۔کیپٹن سطح کی رینک کے سرور محمود اظہر، نوید رسول مرزا اور کرنل سطح کے افسران میں علیم آفریدی (جو ایئر مارشل اصغر خان کے برادر نسبتی تھے)، مظفر ہمدانی، افتخار احمد، افضل مرزا، تنویر تھے۔سازش میں دو برگیڈئیرز واجد علی شاہ اور برگیڈیئر عتیق احمد کا نام بھی تھا۔ پاک فضائیہ سے سکواڈرن لیڈر غوث، ونگ کمانڈر ہاشمی ، گروپ کیپٹن سکندر مسعود شامل تھے۔ سابق برگیڈیئر ایف بی علی یا فرخ بی علی جو جنرل گل حسن اور ایئر مارشل اے رحیم کو پیغام بھیجنے کے حوالے سے مشہور تھے وہ بھی اٹک سازش کیس میں اس طرح ملوث کر دیے گئے تھے کہ باغی نوجوان افسران میں سے کسی نے ان سے ملاقات کی اور انہیں منصوبے کا بتایا۔ جس پر برگیڈیئر ایف بی علی نے ان سے کہا تھا کہ یہ ان کا منصوبہ ناممکن ہے۔ لیکن اب انہوں نے ملاقات کر کے ان کو ملوث کر ہی لیا ہے۔ برگیڈیئر ایف بی علی نے مقدمے کے دوران فوجی ٹربیونل کے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا تھا۔
 کچھ نوجوان فوجی افسران نے پکڑے جانے سے قبل ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان سے بھی یہ کہہ کر ملاقات کی تھی کہ ان کے ایسے منصوبے میں ان کے برادر نسبتی کرنل علیم آفریدی بھی شامل ہیں۔ اس پر اصغر خان نے منصوبے کو خام خیال قرار دیا اور کہا کہ یہ پاکستان ہے اور یہاں چھاؤنی میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پر جیپ بھی جائے تو اس کی حرکت سینیئر افسر کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہوتی آپ لوگ ایک بٹالین کی نقل حرکت کرانا چاہتے ہیں۔ 

ضیاءالحق کی موت حادثہ یا سازش، برسوں بعد بھی معمہ | Urdu News – اردو نیوز
آرمی چیف جنرل ٹکہ خان تک اس بغاوت کی پلاننگ کی ابتداءہی میں اطلاع پہنچ چکی تھی۔ انہون نے آئی ایس آئی کو نگرانی پر لگا دیا۔ ملٹری اینٹلی کے لوگ بھی باغیوں میں شامل کرادیئے۔ لیفٹیننٹ کرنل طارق رفیع نے حکام کو مخبری کر دی تھی۔ جنرل ٹکہ خان نے انہیں بدستور گروپ میں کام جاری رکھنے کی تھپکی دی۔ 30مارچ 1973ء کو جب یہ لوگ گرفتار کئے گئے تو بھٹو سرکار نے سرکاری میڈیا کے ذریعے یہ کہانی پھیلائی کہ باغی افسرسول اور فوجی قیادت کوہٹانے کے بعد ایئر مارشل اصغر خان کی سربراہی میں حکومت قائم کرنا چاہتے تھے۔ اصغر خان اُس وقت اپوزیشن پارٹی تحریک استقلال کے سربراہ تھے۔
 میجر جنرل ضیاءالحق نے ملزموں کو سوائے راجہ نادرپرویز کے طویل سزائیں سنائیں۔ نادر پرویز کو بری کردیا گیا تھا۔ سب سے زیادہ سزا فاروق آدم کو سنائی گئی جو جنرل پرویز مشرف کے دور میں پراسیکیوٹر جنرل بنے۔ ان کا بیٹا عمر آدم آج پاکستان کے بہترین وکلامیں شامل ہے۔
جی ہاں! یہ وہی میجر جنرل ضیاءالحق تھے جنہوں نے باغی افسروں کو سزائیں دے کر بھٹو کا دل جیت لیا۔غالباً اسی لئے انہیں آرمی چیف بنا دیا اور پھرضیاءصاحب نے بھٹو صاحب کی حکومت کا تختہ الٹ کر انہیں پھانسی گھاٹ تک پہنچایا۔ جن مجروں کو ضیاءالحق نے سزاسنائی تھی۔ان کو اقتدار میں آنے کے بعد رہاکر دیا ۔

ذوالفقار علی بھٹو کا موت کی کوٹھری سے آخری خط | Independent Urdu
اٹک سازش کیس اور ناکام بغاوت کے کئی پہلوماضی کے غبار سے دُھندھلے ہو چکے ہیں۔بہت مخفی ہیں۔ایک پہلو رﺅف کلاسرا سامنے لائے ہیں۔وہ کہتے ہیں:سابق پراسیکیوٹر جنرل فاروق آدم خان کا بیٹا عمر آدم جب تین چار سال کا تھا تو اس کاباپ اور دیگر فوجی دوستوں کے ساتھ بغاوت پر کام کررہے تھے۔ دونوں بھائی آرمی میں میجر تھے اور مشرقی پاکستان میں شکست کے بعد وہ مشتعل تھے۔ ا±س وقت ان فوجی افسران‘ جو اکیس کے قریب تھے‘ نے بغاوت کا سوچا اور کر ڈالی۔
میرے ساتھ 45 سال پہلے کے واقعات پر بات کرتے ہوئے میجر فاروق آدم کے بیٹے کا کہنا تھا کہ وہ تین چار برس کے تھے جب وہ اپنی ماں کے ساتھ جیل میں باپ سے ملنے جاتے تھے۔ جب یہ بغاوت کا منصوبہ بن رہا تھا تو ان کی والدہ نے ایک دن ان کے باپ سے پوچھا کہ آپ جو کچھ کرنے جارہے ہیں اس میں کچھ بھی ہوسکتا ہے، آپ کی اپنی جان بھی جاسکتی ہے، کچھ سوچا ہے میرا اور بچوں کا کیا ہوگا؟لیکن اس وقت ان 21 افسروں کے سر پر اپنے خاندان اور بچوں سے زیادہ پاکستان کو ہونے والی شکست اور دیگر ایشوز کی اہمیت سوار تھی۔ بیوی‘ بچے بہت پیچھے رہ گئے تھے۔ اس وقت جوان افسروں کا خون جوش مار رہا تھا‘ بلکہ جس رات میجر فاروق آدم کو لاہور سے رات گئے گرفتار کیا گیا تو ان کی بیگم فوراً اس کمرے کی طرف بھاگیں جہاں ان کے شوہر بیٹھ کر کام کرتے تھے کہ کہیں وہاں ایسی دستاویزات نہ رکھی ہوں جو اِن کے ملٹری ٹرائل کورٹ میں ان کے خلاف استعمال ہوں۔ وہ سب کاغذ اٹھا کر انہوں نے کموڈ میں بہا دیے۔ اس وقت ایک بیوی کو اپنے خاوند کے خلاف ہونے والے ٹرائل کی فکر پڑ گئی تھی۔ باہر فوج بڑی تعداد میں گرفتار کرنے کے لیے موجود تھی لیکن انہیں فکر ان دستاویزات کی تھی۔ اس وقت وہ اپنے بچوں‘ خاوند اور باہر موجود فوجیوں کو بھولی ہوئی تھیں۔

چند ماہ تک تو پورے خاندان کو کچھ علم نہ تھا کہ میجر فاروق آدم کو کہاں لے گئے ہیں، کہاں رکھا گیا ہے اور ان کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے۔ جب چند ماہ بعد پتا چلا اور فاروق آدم کی بیگم صاحبہ اپنے بچوں کے ساتھ ان سے ملنے گئیں تو اپنے خاوند کی جیل میں خیرخیریت دریافت کرنے کے بجائے انہوں نے پہلا سوال یہی کیا آپ نے اپنے دوستوں کے نام تو نہیں بتا دیے کہ آپ کے ساتھ اور کون کون اس سازش میں شریک تھا؟ آپ کو انہوں نے اس دوران توڑ تو نہیں لیا؟

متعلقہ خبریں