ہمزاد

2019 ,اکتوبر 7




 ایک دلچسپ تحریر نظر سے گزری، اس میں جو کہا گیا، ہے تو ناقابل یقین تاہم دلچسپ ضرور ہے۔ ایسی تحریروں اور تقریروں سے متاثر بلکہ گمراہ ہو کرکچھ لوگ جنات کو قابو یا ہمزاد کو تسخیر کرنے کی خواہش لے کر بھٹکتے اور خوار ہوتے ہوئے گھر کے رہتے ہیں اور نہ کھاٹ کے شاید کوئی اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوجاتا ہو بہرحال ہمزاد کے فضائل سے معمورتحریر حاضر خدمت ہے۔
 اللہ تعالیٰ نے انسان میں اپنی قدرت کاملہ سے اپنی طرف سے روح پھونکی اور اس روح کے ایک جزو کو انسان کا ساتھی بنا کے دنیا میں اس کے ساتھ لگا دیا، چونکہ یہ انسان کی اپنی ہی روح کا ایک جزو ہے اس لئے یہ بعینہٖ اس انسان کی مانند ہوتا ہے جس کی روح کا یہ جزو ہوتا ہے، اس کی شکل و صورت، اس کی آواز حتیٰ کہ اس کا لباس تک انسان کے عین مطابق نظر آتا ہے۔ اس حد تک مشابہت ہے کہ کسی طرح بھی یہ ممکن نہیں کہ انسان اور اسکے جسم لطیف کو ایک ساتھ دیکھ کر یہ بتایا جاسکے کہ ان میں انسان کون سا ہے اور جسم لطیف کون سا۔ خدا نے اس مخفی مخلوق میں بے انتہا قوتیں پنہاں کی ہیں مثلاً وقت اور فاصلہ اس کے لئے بے معنی ہیں۔

یہ خیال کی رفتار سے سفر کرتا ہے، ایک پل میں اگر یہ پاکستان میں ہے تو دوسرے پل امریکا یا کسی اور دور دراز ملک جا کر کوئی کام نمٹا کر واپس آسکتا ہے، حتیٰ کہ روشنی بھی اسکی رفتار کے آگے بے بس ہے، چنانچہ پہاڑ و بیاباں، دریا و سمندر اس کے آگے کچھ اہمیت نہیں رکھتے، اکیلا ہمزاد سیکڑوں، ہزاروں انسانوں اورخطرناک ترین جانوروں کو موت کی وادی میں دھکیل سکتا ہے، غضب کا مصور ہے، کسی بھی جگہ یا شخص کی تصویر بنا لاتا ہے، انتہائی زبردست علوم پردسترس رکھتا ہے فلسفہ، طب، نجوم، ریاضی، طبیعات، کیمیاء وغیرہ کا بے انتہا ماہر ہے۔ سخت مہلک اور جان لیوا امراض کا علاج تجویز کر سکتا ہے, سپر کمپیوٹر تک جن مسائل کے حل سے عاجز ہو چٹکی بجاتے میں حل کر سکتا ہے، کوئی دیوار اس کا رستہ نہیں روک سکتی، لوہے اور پتھر کی دیواروں، چٹانوں اوردیوہیکل عمارتوں سے یوں گزر جاتا ہے جیسے روشنی شیشے سے گزر جاتی ہے، لاکھوں کروڑوں ٹن وزنی اشیاء اکیلا کہیں سے بھی اٹھا لاتا ہے۔ بے موسم کی اشیاء لمحوں میں مہیاء کرسکتا ہے، کسی جگہ، علاقہ، یا شہر میں جنگ و جدل برپا کر سکتا ہے، لوگوں کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا سکتا ہے، جزب و طرب پہ قدرت رکھتا ہے انسانوں کے دلوں میں سخت ترین نفرت یا انتہائی شدید محبت پیدا کرنا اسکے نزدیک انتہائی معمولی کام ہے۔ گزرے ہوئے زمانوں، ہزاروں برس پہلے کے واقعات من و عن بتا سکتا ہے، زمین میں چھپے خزانوں اور دفینوں کا نہ صرف پتہ بتا سکتا ہے بلکہ حاصل بھی کرا دیتا ہے، موسم کی پیشگوئی تو کیا، کسی بھی جگہ بارش یا اولے بھی برسا سکتا ہے۔ گمشدہ لوگوں اور اشیاء کا پتہ دے سکتا ہے، اس کے علاوہ بھی کئی ماورائی طاقتوں کا حامل ہے مثلاً کسی پر بیماری مسلط کرنا، چلتے کاروبار کو سرد کرنا، باغات اور کھیتیوں کو ویرانوں میں بدلنا، کسی شخص کے خیالات کو پڑھنا، کسی پر مسلط ہو کہ مرضی کا کام لینا وغیرہ۔ المختصر دنیا کے تمام تر وسائل اور ٹیکنالوجی استعمال کر کے بھی کوئی چیز اتنی جلد مہیا نہیں کی جا سکتی جو ہمزاد لمحوں میں مہیا کرسکتا ہے اور یہ جسم کثیف کے مر جانے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔

جنات، ہمزاد اور فرشتوں میں فرق یہ ہے کہ جنات آگ سے تخلیق ہوئے، فرشتے نور سے بنائے گئے اور جسم لطیف کی تخلیق کا ما خذ روحِ انسانی ہے، اپنی تمام تر قوتوں کے باوجود ہمزاد  انسان کی عظمت کے آگے سر جھکانے پر مجبور ہو جاتا ہے، جس طرح باقی ساری کائنات انسان کے مسخر کرنے کے لئے بنی ہے ویسے ہی قدرت نے انسان کو ہمزاد کے تسخیر کرنے کی بھی قدرت بخشی ہے لیکن اسے غلام بنانے اور اس کی قوتوں سے کام لینے کیلئے بہت سخت مجاہدے اور ریاضت کی ضرورت ہے۔

اس کے لئے مختلف قسم کی ریاضتوں، عملیات اور چلہ کشی کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ انتہائی دشوار مراحل سے گزرنے کے بعد ہی کوئی شخص قوت و اقتدار کی اس دولت کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو پاتا ہے۔ کائنات میں خیر و شر کی دو متضاد قوتیں پیدا کی گئی ہیں اسلئے اس منزل کو پانے کے بھی دو رستے ہیں، ایک خیر کا قرآنی اور نوری راستہ اور دوسرا شر کا شیطانی اور سفلی راستہ، انتخاب انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔
 

تسخیر ہمزاد
 

کتابوں میں ہمزاد کو تسخیر کرنے کے کئی طریقے لکھے گئے ہیں لیکن یہاں ایک طریقہ قارئین کی دلچسپی کے لئے درج کرتے ہیں جو انٹر نیٹ سے لیا گیا ہے۔ اگر کسی نے اس طریقے سے ہمزاد تسخیر کرنا ہے تو بھی کسی عامل سے رہنمائی ضرور لے۔ 
            عمل ہمزاد سورۃ رحمن
یہ عمل بابر سلطان قادری کو عبدالرحمن سر ہندی صاحب کا عطا کردہ ہے میں خود بھی قادری ہوں اور ان کی بڑی عزّت ہے میرے دل میں۔
طریقہ: عامل ایک بڑا شیشہ جو اندازاً ڈیڑھ یا دوفٹ لمبائی چوڑائی میں ہو، اپنے روبرو رکھیں، آئینہ میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے سورۃ رحمن پڑھیں جو زبانی یاد ہونی چاہئے کیونکہ آپ کی نگاہ آئینہ میں ہو گی اور ایک پیالہ پانی کا بھر کر اپنے پاس رکھیں، جب سورۃ پڑھتے ہوئے مندرجہ ذیل آیت پر پہنچیں تو اس کو ایک سو ایک مرتبہ پڑھیں اور باقی سورۃ کو پڑھ کر ختم کر لیں، اور پانی پر دم کر لیں اور اپنے اوپر چھینٹے ماریں اور بقیہ پانی کو پی لیں یا کسی دیوار پر ڈال دیں زمین پر نہ پھینکیں۔ انشاء اللہ اکیس دن میں ہمزاد تابع ہو گا، چند یوم میں اثرات شروع ہوں گے، جوآپ کی قابلیت کے حساب سے کم یازیادہ ہو سکتے ہیں۔ ہمزاد کے عمل میں قوّت متخیلہ بہت اہم کردار ادا کرتی ہے یعنی آپ کی یکسوئی یا ارتکاز کی طاقت، ایک جگہ ذہن کو لگا کر رکھنا کوئی اور خیال ذہن میں نہ آئے یہ جتنی زبردست ہو گی اتنی ہی جلدی ہمزاد تسخیر ہوگا اس کی مشق بھی کر سکتے ہیں۔
آیت یہ ہے۔
”یمعشر الجن و الانس ان استطعتم ان تنفذو من اقطار السموت والارض فانفذو اط لا تنفذون الابسلطن“
نوٹ:حصار کریں، کمرہ تنہا ہو یعنی جتنے دن آپ عمل کریں کوئی اور اس میں داخل نہ ہو ورنہ کامیاب نہ ہو گا۔
پرہیز: گوشت، انڈہ، مچھلی، لہسن، پیاز، عمل زوجیت، نشہ آور اشیاء یعنی مین پوڑی گٹکا ان سب سے
شرائط: روز نہا کر با وضو عمل شروع کرے، عمل کے وقت شک پیدا نہ ہونے دیں روز ایک ہی وقت اور ایک ہی جگہ عمل کریں، عمل سے پہلے اور دوران عمل کسی سے تذکرہ نہ کریں کہ آپ عمل کر رہے ہیں چاہے وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو۔ لوگوں سے ملنا اور بات چیت کم کردیں، ہلکی غذا کھائیں، دوران عمل اچھی خوشبو لگائیں اور دوران عمل چندن اور لوبان کی اگر بتی جلائیں یا ویسے ہی انگیٹھی پر جلائیں جبکہ پنجگانہ نماز کی پابندی کریں۔
               دوران عمل تجربات
مختلف قسم کے اعمال میں مختلف قسم کے اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔آپ کی اپنی روحانی قابلیت پر بہت کچھ منحصر ہوتا ہے۔ اچھے اعمال کے کرنے سے طبیعت میں سرور و انبساط کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور عمل کو پورا کرنے کا جوش بڑھتا ہے لیکن اکثر اعمال جیسے ہمزاد کو لے لیں آپ کو عمل شروع کرتے ہی ایک یا دو دن میں بیزاری محسوس ہونے لگ جائے گی، کچھ دن بعد انتہا کی بیزاری ہوگی دل کرے گا چھوڑو سب کچھ، کیوں اتنی محنت کر رہا ہوں! آپ عمل کی پابندی سے بھاگنا چاہیں گے کہ کیا روز رات کالی کروں یہ بیزاری زیادہ اس لئے ہوتی ہے کہ یہ عمل کے اثرات ہوتے ہیں۔ شروع کے دنوں میں کچھ مافوق الفطرت واقعات بھی ظہور پذیر نہیں ہوتے اس لئے ہمارا جوش بھی نہیں بڑھتا اور بعض مرتبہ تو ایسا ہوتا ہے کہ ہمزاد عمل کے آخر تک سامنے نہیں آتا جس سے ہمیں یہ لگتا ہے اتنے دن ہو گئے شاید عمل کامیاب نہیں جا رہا اسی لئے کچھ نظر ہی نہیں آرہا۔ عامل کو چاہئے جس جذبے سے پہلے دن عمل شروع کرے اسی ذوق و شوق سے عمل کا اختتام کرے اور جب عجیب و غریب واقعات شروع ہوتے ہیں تو ہوش و ہواس اڑ جاتے ہیں جو آپ کے تصوّر میں بھی نہیں ہوتا وہ سامنے آتا ہے، بس یہی وقت ہوتا ہے جو امتحانی گھڑی ثابت ہوتی ہے۔

 

آپ عمل کر رہے ہیں دیکھتے ہی دیکھتے ایک سانپ آپ کی جانب چلا آرہا ہے اب آپ سوچیں گے یہ اصلی آرہا ہے یا نظر کا دھوکا ہے۔ ایک عجیب تجربہ سناتا ہوں ایک مرتبہ ایک عمل کے دوران ہوا یوں کہ تمام منظر ہی بدل گیا نہ وہ کمرہ نہ وہ چھت بلکہ ایک سٹیشن کا منظر بن گیا، میں ایک پٹڑی کے درمیان بیٹھا ہوں اور سامنے سے ٹرین آرہی ہے، اتنا بڑا دھوکا پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اب میں بھی گڑبڑا گیا کہ واقعی میں یہاں تو نہیں ہوں بہرحال ہمزاد کے عمل کے دوران خاص طور پر وہ چیزیں سامنے آئیں گی جن سے آپ کو زیادہ ڈر لگتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوران عمل آپ کا سب سے پیارا چاہے وہ ماں ہو بیوی یا اولاد آپ کو آواز دے رہی ہیں جیسے سخت تکلیف میں ہوں آپ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گئے اور دیکھا سب کچھ نارمل ہے۔ ایسے بہت سے واقعات ہیں جو آپ کو دوران عمل کے تجربات سے آگاہ کریں گے۔ لیکن یہ تب ہی نظر آئیں گے جب آپ شرائط و ضوابط کے ساتھ عمل کریں، ایسا نہ ہو کہ عمل کرتے ہیں اور شرائط کو پس پشت ڈال دیں تو جیسا پہلے دن بیٹھیں گے ویسے ہی آخری دن مایوس اٹھ جائیں گے۔ 
 حاضرات ہمزاد عمل
یہ عمل عملیات کے شائقین اور ہمزاد کے متوالوں کے لئے ہے جو بڑا عمل نہ کر سکیں اور جن کی خواہش ہوتی ہے کہ کم از کم ہمزاد کو ایک مرتبہ دیکھ تو لیں، اس سے گفتگو اور کام لے سکیں۔
طریقہ: پتھر کے کوئلہ کے سات ٹکڑے لے کر اسے خوب جلائیں اور ساتھ ساتھ لوبان بھی ڈالتے جائیں۔ جب اس کا دھواں اٹھے گا تو روحانیات نظر آئیں گی اور اس میں جو آپ کا ہم شکل ہے وہی کام کا ہے۔ اب ”یا علیم، یا خبیر“ ایک سو اکیس بار پڑھیں، پڑھائی کے دوران آپ کا ہم شکل بار بار دھوئیں میں نظر آئے گا لیکن پڑھائی ختم کرنے پر صرف آپ کا ہمزاد نظر آئے گا۔ آپ لوبان برابر ڈالتے رہیں، اب جو معلوم کرنا ہو آپ معلوم کر سکتے ہیں۔ 
نوٹ:اول و آخر درود شریف اور حصار ضرور کریں، ڈریں مت۔
یہ عمل خلوت میں پاک صاف جگہ کریں۔
یٰسین وٹو کی ہمزاد تسخیر کرنے کی کوشش
معروف ستارہ شناس، ماہر علم الاعداد، اسم الاسماء اور پامسٹ یٰسین وٹو نے بتایا کہ انہوں نے جوانی میں ہمزاد کو تسخیر کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ کہتے ہیں انہوں نے ایک عامل سے رابطہ کیا جس نے کہا اس میں لاتعداد مصائب آتے ہیں، خوف، ہیبت اور دہشت و وحشت کی فضا طاری ہوتی ہے، ماورائی قوتیں خوفناک جانوروں کا روپ دھار کر سامنے آتے ہیں، زمین لرزتی محسوس ہوتی ہے۔ یٰسین وٹو کہتے ہیں مجھے ہمزاد تسخیر کرنے کا اتنا اشتیاق تھا کہ میں ہر خطرہ مول لینے پر کمر بستہ تھا۔ عامل نے کہا کہ رات کے پچھلے پہر تنہائی میں دیا جلاؤ اور اس کی طرف پیٹھ کر کے کھڑے ہو جاؤ۔ دیوار پر آپ کا سایہ نمودار ہو گا جس کی گردن پر نظریں جمانی ہیں۔ 11 سو مرتبہ آیت کریمہ اول و آخر گیارہ مرتبہ درود پاک کا ورد کرنا ہے۔ میں نے یہ عمل شروع کیا جس کے بعد چند دن تو کوئی غیر معمولی صورت حال درپیش نہیں آئی پھر معمولی سا خوف محسوس ہونے لگا۔ 41 دن میں ہمزاد تسخیر ہونا تھا تاہم پندرہ دن کے بعد خوفناک مناظر دیکھنے میں آئے لیکن 18 ویں دن تو انتہا ہوگئی۔ اس دن ہمت جواب دے رہی تھی مگر دل ہارماننے پر آمادہ نہیں تھا، 19 ویں روزتو اخیر ہوگئی، ایسا خوف طاری ہوا کہ بڑی مشکل سے اس دن کا عمل مکمل کیا، کسی بھی روز عمل کے دوران بھاگنے سے جان جانے کے خطرے سے بھی عامل نے آگاہ کیا تھا اس کے باوجود 20 ویں دن جانے کی ہمت نہ ہو سکی۔ یٰسین وٹو اس عمل سے کشف القبور ہوگئے، ایک او رآسان چلے میں انہوں نے جن نکالنے پر عبور حاصل کر لیا۔
خدائی صفات حاصل کرنے کا عمل
مکمل عامل کے درجے پر پہنچنے کے لئے کچھ لوگ ماورائی قوتوں پر دسترس رکھنے والے بہت بڑے عامل کے پاس حاضر ہوئے۔ اپنے اپنے طور پر یہ لوگ بغیر رہنما اور مرشد کے عامل بننے کی کوشش کر رہے تھے، منزل پانے کے لئے ان کی نظر ان باباجی پر پڑی۔ عامل بننے کا ان کا مقصد اپنا نام بنانے کے ساتھ ساتھ روٹی روزی کمانا بھی تھا، اس عامل کو روحانی کے ساتھ جدید علوم پر بھی دسترس حاصل تھی، کوئی ان کو بابا جی کہتا، کوئی پروفیسر صاحب کہہ کر مخاطب کرتا، بابا جی ان کا مقصد سمجھ گئے، مستقبل تابناک بنانے کی آرزو اور حسرت لے کر آنے والوں سے باباجی کا پہلا سوال تھا ”آپ میں سے پوائنٹزم کون سیکھنا چاہتا ہے؟“ باباجی یا پروفیسر کا سوال سن کر ماورائی قوتوں کے حصول کی خواہش لے کر آنے والے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ایک نے حیرانی سے پوچھا۔”جناب پوائنٹزم ہے کیا؟“ پروفیسر صاحب نے بتانا شروع کیا، ”یہ وہ علم ہے جس کے ذریعے عامل کسی کی تصویر دیوار سے چپکا کے یا لٹکا کے عمل کرتا ہے، جب اسے عمل کی تکمیل کا اشارہ ملتا ہے تو تصویر پر پسٹل سے فائر کرتا ہے، جس کی تصویر پر عمل کیا گیا ہو وہ دنیا میں جہاں کہیں بھی ہو گولی اس کے سینے میں اتر جاتی ہے۔

یہ طریقہ عموماً امریکہ میں کرائے کے قتل کے لئے استعمال ہوتا ہے“۔ اس وضاحت کے بعد پھر پروفیسر نے اپنا سوال دہرایا مگر پوائنٹزم میں مستقبل کے ممکنہ اَجل عاملوں نے زیادہ دلچسپی ظاہر نہ کی اور پوائنٹزم کا موضوع یہیں ختم ہو گیا۔
 پروفیسر کو حاضرین کے اشتیاق کا بخوبی اندازہ تھا، انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ”راہ چلتے نوجوان کے ہاتھ الہ دین کا چراغ آگیا اتفاقاً اس پر ہاتھ رگڑا گیا جن نے حاضر ہو کر عرض کیا ”کیا حکم ہے میرے آقا!“ نوجوان جن کو دیکھ کر گھبرا گیا مگر جن کی باتوں سے اسے معلوم ہوا کہ وہ اس کا غلام ہے اور وہ دنیا کا ہر کام اس سے لے سکتا ہے۔ نوجوان نے اسے ایک خوبصورت محل بنانے، اس سے بہترین آرائش و زیبائش سے مزین اور اس میں زندگی کی ہر نعمت اور سہولت مہیا کرنے کا حکم دیا۔ جن حکم کی تعمیل کر کے حاضر ہوا اور مزید خدمت کی ہاتھ سینے پر رکھتے ہوئے سر جھکا کر درخواست کی۔ نوجوان نے کہا کہ وہ محل کے ایک کونے میں سرونٹ کوارٹر بنا دے، اس کی بھی تعمیل ہو گئی۔ پھر نوجوان نے ایک بندوق منگوائی اور گیٹ کے باہر پہرے پر کھڑا ہوگیا۔ جن کو کہا کہ اب وہ جائے اور شاید اس کی دوبارہ ضرورت نہ پڑے جن غائب ہوا ہی چاہتا تھا کہ نوجوان نے اسے کہا ”سنو جاتے ہوئے میرے موبائل میں پانچ سو کا بیلنس ڈلوا دینا“۔ اس پر کہانی پر شرکاء مجلس اپنی دانست میں اس نوجوان کو احمق قرار دے رہے تھے جس نے الہ دین کے چراغ سے خاطر خواہ استفادہ نہیں کیا۔ 
پروفیسر نے حاضرین کی کُھسر پُھسر کے دوران اپنی بات جاری رکھتے ہوئے نیا واقعہ سنانا شروع کردیا۔ ”پرانے مکان کی کھدائی کرتے ہوئے ایک مزدور کو بھی ایسا ہی چراغ ملا تھا وہ اپنی قمیض کے ساتھ اسے صاف کرنے لگا تو جن حاضر ہو گیا۔  اس نے مزدور کو اپنی طاقت اور صلاحیت سے آگاہ کیا تو مزدور نے اپنی عقل اور ضرورت کے مطابق اسے حکم دیا۔ ”میرے لئے چائے اور سگریٹ لے کر آؤ۔“ اس نے حکم کی تعمیل کی اور مزید حکم کیلئے سر جھکا دیا، مزدور نے کہا ادھر ایک سائیڈ پر بیٹھ جاؤ اور شام تک اپنا کام جاری رکھا۔ شام کو بیلچہ کندھے پر رکھا اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا، جن ساتھ تھا۔ اس نے کہا ”میرے آقا! بیلچہ مجھے پکڑا دو“ مزدور بولا ”نہیں نہیں تم بیلچہ لے کر بھاگ جاؤ گے“۔ مزدور اپنا کام کرتا رہا جن سے بس چائے سگریٹ منگواتا یا پاؤں دبوا لیتا ایک دن مزدور کو پرانے دشمنوں کی یاد آئی تو جن کے ذریعے ان کی خبر لینے کی ٹھانی جن کو حکم دیا وہ اپنے آقا کے دشمنوں سے انتقام لینے کیلئے لپکا مگر تھوڑی دیر بعد زخموں سے چوراور لنگڑاتا ہوا واپس آ گیا۔ ”آقا“ نے درگت بنی دیکھی تو پوچھنے پر جن نے بتایا کہ وہ آرام پرست ہو کر اپنی طاقت سے محروم ہو گیا تھا۔ اس واقعہ پر شرکاء کی طرف سے مزدور پر باقاعدہ لعن طعن کی 

گئی جس نے نہ صرف جن سے کوئی بڑا کام نہیں لیا بلکہ اسے فارغ رکھ کر نکما،  نکھٹو اور ناکارہ بنا دیا تھا۔ پروفیسر نے ایک اور واقعہ سنایا۔ ”راہ چلتے کسان کو بھی ایک بارالہ دین کا چراغ مل گیا اس نے جن سے اپنے کھیتوں میں کاشتکاری کرائی، نیا ٹریکٹر منگوایا، ٹیوب ویل لگوایا، دنیا کی ہر نسل کی گائے، بھینس اور گھوڑیاں منگوائیں، محل تعمیر کرایا، اس میں جدید ماڈل کی گاڑیاں کھڑی کرائیں جس میں دل کرتا سفر کرتا۔ پروفیسر کی بات جاری تھی کہ حاضرین عش عش کر اٹھے وہ کسان کو خراج تحسین پیش کرنے لگے جس نے چراغ کے استعمال کا حق ادا کر دیا۔ پروفیسر نے جن کی مزید خدمات ذکر کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ۔”الہ دین کا چراغ تو آپ کی دسترس میں نہیں آسکتا البتہ جن کو غلام ضرور بنایا جا سکتا ہے جس کیلئے سخت محنت کی ضرورت ہے۔ سب پرجوش اور یک زبان ہو کر بولے ”ہمیں منظور ہے“ پروفیسر نے کہا کہ جن کی قوت کی بھی ایک حد ہے، اس سے بھی طاقتور تو ہمزاد ہے۔
 ہمزاد کے بارے میں پروفیسر نے بتایا کہ انسان جسم، روح اور ہمزاد کا مجموعہ ہے۔
اب آپ بتائیں کہ جن کو قابو کرنا چاہتے ہو یا ہمزاد کو تسخیر کرنے کا ارادہ ہے۔ ان لوگوں نے مزید جوش جذبے اور ولولے سے ہمزاد کی تسخیر کی خواہش کا اظہار کیا۔ پروفیسر نے یہاں چند لمحے توقف کیا اور پھر گویا ہوئے، اگر میں کہوں کہ ایک عمل کے ذریعے تم میں خدا کی صفات پیدا ہو سکتی ہیں تم کون و مکان تک سفر کر سکو گے لوح وقلم تمہاری دسترس میں ہونگے کیوں نہ تمہیں ایسی طاقت سے آشنا کر دوں؟ اب تو شرکاء مجلس کے تجسس، اشتیاق اور جستجو کی حد نہیں رہی تھی ان میں سے ہر ایک  جلد از جلد اس عمل پر دسترس حاصل کرنا چاہتا تھا۔ پروفیسر نے پوچھا مگر اس میں محنت زیادہ کرنا پڑے گی۔ عاشق نامراد کی طرح ان شرکاء میں سے کئی چلے کاٹ چکے تھے کئی ادھورے چھوڑ کر بھاگے تھے اس لیے انہیں عمل پر عبور کی مشکلات کا اندازہ تھا۔ ان میں سے اکثر نے کہا کہ شدید سردیوں کی راتوں میں ان کو دریا میں کھڑا رہنا پڑے یا گھپ اندھیرے میں رات کے پچھلے پہر قبرستان میں بیٹھنا پڑے، وہ اس کیلئے بھی تیار ہیں۔

پروفیسر نے کہا ”تم لوگوں کو جان پر نہیں کھیلنا پڑے گا چھ ماہ کا عمل ہے اپنے اوراپنے بچوں کیلئے حلال روزی کمانی اور کھانی ہو گی۔ سب نے کہا قبول ہے۔ تہجد گزار ہونا پڑے گا جواب آیا ”قبول ہے“۔ نمازیں با جماعت ادا کرنا ہوں گی، قرآن اور حدیث کو ترجمے کے ساتھ پڑھنا ہو گا، سب نے یک زبان ہو کر یہ عہد بھی کر لیا۔ پروفیسر نے کہا جاؤ ایک سال بعد آنا جو اس پر عمل نہ کر سکے وہ نہ آئے۔ ایک نے سب کی نمائندگی کرتے ہوئے پوچھا جناب! ”عمل کیا ہے اور کس نماز کے بعد پڑھنا ہے۔ پروفیسر نے کہا وہ جب تم لوگ معینہ مدت کے بعد واپس آؤ گے تو بتاؤں گا جو ایک ہی بار پڑھنا ہو گا۔ اولین شرط ایک سال کی ریاضت ہے۔ ایک سال تک چند ایک ہی ریاضت کر سکے اور وہ اس درجے پر پہنچ چکے تھے۔ ”جب انسان اللہ کے احکامات کی پابندی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ اور پاؤں بن جاتا ہے“۔
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں 
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں 
وہ اس طرح سے دین میں داخل ہوئے کہ ان کی جنات کو قابو، ہمزاد کو تسخیر کرنے کی خواہش رہی نہ ضرورت رہی وہ دوسروں کیلئے آئیڈیل مسلمان بن چکے تھے۔

متعلقہ خبریں