دو گدھ۔ اور ہمارا معاشرہ۔

2019 ,نومبر 5



اس تصویر کو کون بھول سکتا ہے۔۔۔۔
اس تصویر میں صاف پتہ چل رھا ھے۔۔۔کہ ایک بچہ بھوک سے بے حال ہے ۔۔
اور اس بھوک پیاس سے مرتے اس انسان کے بچے کا مرنے کا انتظار ایک بھوکا گدھ کر رھا ہے۔۔۔۔
یہ تصویر سائوتھ افریقہ کے علاقےسوڈان کی 1993۔کے قحط
زادہ علاقے کی ہے۔۔۔
اور تصویر لینے والا ۔ایک فوٹو گرافر۔ جرنلیسٹ۔ .kevin.caeretr....شدید۔قحط کے متاثر علاقے میں یہ تصویر لی ۔۔۔۔
یہ تصویر اتنی مشہور ھوئی۔۔۔
کہ اس کیمرا مین یا جرنلیسٹ۔صحافی ۔کو
دنیائے جرنلیسٹ۔یا صحافت کا سب سے بڑا ۔ ایوارڈ صحافت سے نوازہ گیا.........
Pulitzer.prize..
لیکن کارٹر زیادہ دن اس ایوارڈ کے ملنے کے مزے نہ لے سکا۔۔۔۔کیونکہ کچھ دن باد کارٹر کیمرا میں نے خودکشی کر لی۔۔۔۔۔
اب دنیا پھر کے نیوز چینل اور اخبار کی برکینگ نیوز۔تھی ۔۔۔کارٹر نے خودکشی کر لی ۔۔عالمی ایوارڈ یافتہ جرنلسٹ نے خودکشی کر لی۔۔۔
اور ساتھ میں ایک سوال تھا کے کارٹر نے خودکشی کیوں کی ؟؟؟؟؟؟؟
کارٹر جب اس سب سے بڑے ایواڑ ملنے کی خوشی میں جشن منا رھا تھا۔۔۔تو ایک با ضمیر انسان نے کارٹر سے سوال کیا۔۔؟؟
تم نے بہت زبردست تصویر بنائی۔۔۔مگر میرا سوال ھے کہ اس بچے کا کچھ پتہ ھے اس کے ساتھ گدھ نے کیا حشر کیا ۔۔۔؟؟؟
کارٹر ایک لمحہ کے لیے پریشان ھو کر خاموش ھوگیا۔۔
پھر کچھ وقفے کے باد جواب دیا نہی مجھے نہی پتہ میں جلدی میں تھا تصویر لیکر میں یہ سب کچھ دیکھنے کو میں وھاں نہی رک سکا۔۔۔۔کیونکہ میرے واپسی کی فلائٹ تھی۔۔۔۔
اس با ضمیر انسان نے کارٹر سے کہا دراصل اس دن وھاں دو گدھ تھے ۔۔۔۔۔
ایک کے ھاتھ میں کیمرا تھا اور شہرت کا بھوکا تھا۔۔۔

اور دوسرے کی آنکھ میں میں بھوک تھی ۔۔اور وہ اس معصوم بھوکے پیاسے بچے کے مرنے کا انتظار کر رھا تھا کہ اس کے مرنے پر اس بچے کو کوچ نوچ کر کھا جاو۔۔۔۔

باضمیر انسان نے کارٹر سے کہا کے تم اگر اس بچے کو تصویر بنانے سے پہلے یا باد میں کیسی قریب UNO.فوڈ کیمپ پر پہنچا دیتے تو شاید وہ بچہ وہ انسان ۔گدھ کے نوچنے سے اور مرنے سے بچ جاتا۔۔۔۔بس یہ بات سن کر کارٹر وھاں سے اٹھا۔۔ اور اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔
اور اس جملے نے کارٹر کے ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ۔۔کارٹر نے اسی رات خودکشی کر لی۔۔۔۔۔۔
۔یہ تو تھا کارٹر ۔۔
کا قصہ ۔۔
آج ھمارے معاشرے میں بھی ھم اکثر جگہ اس گدھ کا کردار ادا کرتے ھیں ۔۔جس کے ھاتھ میں کیمرا تھا۔۔۔
اور کیسی انسان کی کیسی مظلوم کی مدد کرنے کے بجائے۔

۔ھم اکثر کمیرے والے گدھ بن جاتے ھیں اور اپنے موبائیل سے تصویر ویڈیو بنانے کو اچھا سمجھتے ھیں اور اس مظلوم کی یا پریشان انسان کی مدد نہی کرتے ۔۔
یا ظالم کا ھاتھ نہی روکتے ۔۔۔جو کیسی بھی طرح کا کیسی مظلوم بھوک پیاس ۔ایکسیڈنٹ ۔کی صورت میں جب اس کو ھمارے کمیرے سے زیادہ ھماری مدد کی ضرورت ھوتی ہے۔۔۔۔
میرا مجھ سمیت تمام صحافی جرنلسٹ ۔عوام اور دستوں کو پیغام ھے کہ ۔۔کمیرے والے گدھ بنے سے بہتر ہے

۔۔مظلوم کی مدد کرنے والے انسان بنو ۔۔۔۔۔۔جو اللہ کو اور ضمیر کو جواب دینے میں آسانی رہے۔۔۔۔
طالب دعا

متعلقہ خبریں