پاکستانی لڑکی نے جسم فروشی کا دھندا اپنانے کے ایسے شرمناک ترین راز سے پردہ اٹھا دیا کہ جانکر ہر انسان توبہ پر مجبور ہو جائے

2017 ,اپریل 20



کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )مجبوراجسم فروشی کا کام کرنے والی پاکستانی لڑکی نے انکشاف کیا ہے کہ بچپن میں اس کے تایا زاد نے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جس کے بعد وہ اس مکرو کاروبا ر میں ملوث ہو گئی ۔ پاکستانی لڑکی نے اپنے گھر میں پیش آنے والے شرمناک ترین واقعے کا احوال بتاتے ہوئے کہا ایک روز شراب کے نشے میں دھت اس کے تایا زاد نے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا ،”میں چیختی چلاتی رہی مگر مجھے اس شیطان ( جو میرا حقیقی تایا زاد ہی تھا )سے بچانے کیلئے کوئی مدد کو نہ آیا “۔لڑکی نے اپنے بیان میں انکشاف کیا اس وقت میری عمرصرف 11سال تھی ، میرے والد نے میراہاتھ اس قدر زور سے پکڑا کہ اس میں سے خون بہنا شروع ہو گیا ۔ ”میں چلائی کہ میرے ساتھ ایسا نہ کریں ، آپ میرے بھائی ہیں “ مگر اس نے کہا کہ چیخنا چلانا بند کرو ”تم میری کچھ نہیں لگتی بلکہ غلاظت ہو “۔
متاثرہ لڑکی نے اپنی بے بسی کی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ جس نے میری حفاظت کرنی تھی اور مجھے تحفظ فراہم کرنا تھا اسی نے میری معصومیت چھین لی ۔میں نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی مگر وہ باز نہ آیا اور میں وہ بدنصیب ہوں جسے اس کے تایا زاد نے ہی اپنی حوس کا نشانہ بنا ڈالا ۔”وہ مجھے نرم مزاج کہتے تھے مگر میں نے ایسا کیا کیا تھا جو میرے ساتھ یہ سب کیا گیا ؟ بتایا جائے کہ مجھے وہ سال کون لوٹائے گا جو میں نے کھیلنے کودنے کی بجائے روتے ہوئے گزاردیے؟“۔ 
اس کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں سب کچھ اچھے انجام کیلئے رونما ہوتا ہے مگر اس میں میرے لیے کیا اچھا تھا ؟ لوگ مجھے ایسے دیکھتے ہیں جسے میں غلاظت کا ٹکڑا ہوں جو جسم فروشی سے پیسے کماتی ہے ۔
لوگ مجھے سے پوچھتے ہیں کہ میں نے جسم فروشی کا کام کیوں اختیار کیا جبکہ میرے پاس پیسہ کمانے کے جائز ذرائع بھی موجود تھے مگر میں بس اتنا جانتی ہوں کہ جب میرے نام نہاد نے میرا ریپ کیا تو اس کے بعد میر ا دل پتھر کا ہو گیا اور اب مجھے پرواہ نہیں کہ لوگ کیا سوچتے ہیں ۔ اور نہ ہی میں لوگوں کے سامنے اچھا بننے کے لیے کو روپ اپنے اوپر اوڑھوں گی۔

متعلقہ خبریں