گُڈ خان

2019 ,اکتوبر 17



فضل حسین اعوان

گُڈ خان 
”گُڈ خان اغوا ہونے کے چھ ماہ بعد بازیاب ہوئے۔“ یہ فقرہ کوزے میں سمندر بند کرنے کے مصداق ہے۔ سمندر میں طلاطم، طوفان، جوار بھاٹا، مدوجزر سب کچھ ہوتا ہے, یہ کہنا کتنا آسان ”حضرت یوسف اپنے باپ سے بچھڑے اورپھر مل گئے“۔ ان برسوں میں جو باپ پر بیتی وہ ایک الم ناک باب ہے، چھ ماہ کے عرصے کا ایک ایک لمحہ گُڈ خان اور انکے خاندان پر کرب، عذاب اور قیامت سے کم نہیں تھا۔ جمیل حسن خان عرف گُڈ خان کو 13 مئی 2014ء کو موٹروے سے اغوا کیا گیا، یہ اغوا برائے تاوان تھا۔

انکو بلاتاخیر خیبر ایجنسی منتقل کر دیا گیا، اہلیہ نے پولیس کو اطلاع دی۔ میڈیا میں معاملہ آ گی، ایم پی اے کا اغوا حکومت کی رسوائی بھی تھی، شہباز شریف نے سخت نوٹس لیا تو حکومتی مشینری کے کل پرزوں کو متحرک ہونا پڑا، اغوا کار حکومت کی فعالیت پر پریشان ہوگئے، طالبان انکے پشت پناہ نہیں تھے، مغوی کے خاندان اور اغوا کاروں کے مابین عیسیٰ خان رابطہ کار کا کام کرتا تھا، عیسیٰ خان پختونخوا ملی عوامی پارٹی (محمود اچکزئی) کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ چکا ہے، وہ 7 سو ووٹوں سے ہارا تھا۔ عیسیٰ خان سے رابطہ کیا گیا اس دوران حکومت کے دباؤ پر قانون نافذ کرنیوالے ادارے بھی اغوا کاروں کے تعاقب میں تھے، دو کو پکڑا بھی گیا، یہ ادارے گُڈ خان تک پہنچنے والے تھے، خطرے کا ادراک کرکے اغوا کاروں نے جمیل حسن کو پاکستانی طالبان کے حوالے کر دیا۔
عیسیٰ خان پر گُڈ خان کو بازیاب  کرانے کیلئے حکومت کا  سخت دباؤ تھا۔ گُڈ خان طالبان کے حوالے کیے گئے تو عیسیٰ خان نے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔

اس پر عیسیٰ خان کے خاندان کو پولیس نے اٹھا کر غائب اور ان کی رہائی کو گُڈ خان کی بازیابی سے مشروط کر دیا، یہاں ذرا رُکیں۔ سوچیں ہمارا بچہ، بھائی، باپ یا خاندان کا کوئی فرد لاپتہ ہو جائے تو دل و دماغ پر کیا گزرتی ہے! گُڈ خان کی فیملی پر چھ ماہ یہی کیفیت رہی۔ اب عیسیٰ خان کو قیامت کا سامنا تھا۔ اس نے گُڈ خان کی بازیابی کیلئے طالبان سے رابطہ کیا۔ انہوں نے اڑھائی کروڑ پر رہائی پر رضامندی ظاہر کی، عیسیٰ خان کو اپنے خاندان کی رہائی مقصود تھی اس نے اڑھائی کروڑ کا بندوبست کیا اور رقم خود طالبان کو دینے اور گُڈ خان کو لینے چلا گیا۔ اس پر بھی خاندان کی جدائی کا ہر لمحہ بھاری پڑ رہا تھا، وہ فوری طور پر اپنے پیاروں کو مصیبت سے نکال کر پُر آسائش گھر میں لانا چاہتا تھا۔ طالبان نے اس سے رقم وصول کی اور رقم کے ساتھ اسے بھی وہیں رکھ لیا۔ ایک کمرے میں گُڈ خان پابہ زنجیر تو دوسرے میں عیسیٰ خان بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا۔
پاکستانی طالبان کی جیل پاکستان افغان سرحد پر دریا کے دوسری طرف تھی، اُدھر طالبان بیٹھے اِدھر پاک فوج تعینات ہے، درمیان میں دریا بہتا ہے۔ فاصلہ ایک کلومیٹر سے بھی کم ہونے کے باعث ایک دوسرے کی نقل و حرکت نظر آتی ہے۔ طالبان قیدیوں پر سختی نہیں کرتے تھے، یہاں تنہائی اور انجانا خوف موت بن کر سایہ فگن رہتا ہے، طالبان کی اس جیل کے بارہ کمرے تھے۔ 10 بائی 12 کا کمرہ اسی میں ایک طرف 6 انچ اونچا کُھراتھا۔ امریکہ کو اس جیل کا نقشہ ملا تو ایک روز شیلنگ شروع کر دی۔ گُڈ خان دیوار کے ساتھ کُھرے کی آڑ لے کر لیٹ گئے چہرے کے سامنے پانی کا ڈبہ رکھ لیا۔ پاؤں میں بیڑی۔ ٹانگ کو زنجیر (سنگل) کے ذریعے چھت سے باندھا گیا تھا۔ گولیاں مسلسل چھ گھنٹے برستی رہیں۔ ہزاروں گولیاں کمرے کے اندر گریں بارود کی بو کمرے میں بری طرح پھیل گئی۔ قیدی گولیوں سے محفوظ رہا تو اسے دھواں اور بو نگل رہی تھی، سانس بند ہونے لگا، موت پہلے ہی سامنے تھی جو اب شہ رگ سے بھی قریب محسوس ہونے لگی۔ اسی دوران ایک گولہ چھت کو پھاڑتے ہوئے فرش پر گرا۔

یہ گولہ موت کے بجائے حیات افروزثابت ہوا سارا دھواں اور بو گولے سے ہونیوالے سوراخ سے باہر نکل گئی۔ بمباری کرنیوالوں نے سمجھ لیا کہ ہر ذی روح بے روح ہو گیا ہے تو اس خدشے کے پیش نظر کہ دوبارہ اس عمارت کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ عمارت مسمارکرنے کیلئے ڈرون سے میزائل داغے گئے۔ ایک میزائل گُڈ خان کے کمرے کی دیوار پر 4 فٹ اونچا آ کے لگا جس کا ملبہ ان پر گرا۔ جب ہوش آیا تو طالبان آوازیں دے رہے تھے، جیل میں 10قیدیوں کی نگرانی پر 4 طالبان تعینات تھے۔ 6 قیدی اور دو طالبان حملے میں مارے گئے۔ عیسیٰ خان بھی بچ گیا تاہم اگلے حملے میں ہلاک ہوا اسکے بعد قیدیوں کو افغان طالبان کے زیر کنٹرول علاقے میں منتقل کر دیا گیا۔
گُڈ خان کوایک دن پیغام ملا:کل امیر کے سامنے پیش ہونا ہے۔ بڑے ہال میں امیر اور ارد گرد طالبان بیٹھے تھے، ماحول کشیدہ اور ناخوشگوار تھا۔ امیر خالد عمر خراسانی نے کھڑے ہو کر ہاتھ ملا کر گُڈ خان کو اپنے ساتھ بٹھایا۔ دو گلاس جوس منگوا کر خود پیا اور قیدی کو دیا۔ پھر گویا ہوئے۔”آپکے اور میرے لیے اچھی خبر نہیں ہے‘۔‘ ساتھ ایک لکیروں والی کاپی کا ورقہ ان کی طرف بڑھا دیا جس پر چند دستخط تھے۔ یہ جرگے کا فیصلہ تھا۔ ”جمیل حسن خان کو سزائے موت کا حکم سنایا جاتا ہے۔ اس لئے کہ حکومت پاکستان نے ہزاروں طالبان کو قتل کیا اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ جمیل حسن اس حکومت کا حصہ ہیں۔“ ان کو یہ بھی بتا دیا گیاکہ سر قلم کرنے کی ویڈیو بنا کر میڈیا کو جاری کی جائیگی۔ امیر نے گُڈ خان سے پوچھا۔ ”آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہہ سکتے ہیں۔“ جمیل حسن نے پوچھا۔”طالبان کا پاکستان میں کہاں کہاں نیٹ ورک ہے۔“ امیر نے دیگر شہروں کے ساتھ شیخوپورہ اور فیصل آباد کا نام بھی لیا تو گُڈ خان نے کہا۔ ”میں شراب نہیں پیتا۔ زانی نہیں ہوں۔ حکومت یا کسی بھی فرد کا ایک پیسہ تک نہیں کھایا۔ آپ تصدیق کرا لیں اگر یہ درست ہے تو میں ایک ادنیٰ سا مسلمان تو ہوں۔“ اس پر امیر نے کہا۔”دیکھ لو اگر ایسا نہ ہوا تو سر اتار دینگے “ گُڈخان نے کہا۔”پھر مجھے مرنے پر دکھ نہیں ہو گا۔“امیرخالد عمر خراسانی نے 20 دن کی تاریخ دی اس دوران رپورٹ آگئی، گڈخان نے جو کہاتھا درست ثابت ہوا۔ اس رپورٹ میں انکے خاندان، کاروبار سمیت الیکشن لڑنے کی تفصیل بھی تھی۔گڈ خان کے کردار کی تصدیق ہو گئی تھی۔ امیر نے کہا ”تمہارا اور ہمارا دشمن ایک ہے۔ ہم تمہیں رہا کرتے ہیں“۔ چند دن بعد انکوکشتی کے ذریعے دوسرے کنارے پہنچا دیا گیا۔ گڈخان کہتے ہیں ”مجھے دریاتک طالبان الوداع کہنے ا?ئے توان میں سے دو رو رہے تھے۔ طالبان نے الوداع کہتے ہوئے کہا کہ انکے ساتھ جوکچھ ہوا وہ ضرور بیان کریں مگر ایسی بات نہ کریں جو ہوئی نہیں۔ دوسرا یہ کہ اپنے اغواء  کرنیوالوں کو کسی صورت نہ چھوڑنا“ گُڈ خان موت کے منہ سے بچ کر آئے حرام کی کمائی عیسیٰ خان کے کسی کے کام نہ آئی۔ گُڈ خان کی اغوا سے پہلے بھی شہرت شریف اور اچھے انسان کی تھی، بازیابی کے بعد مزید اپ رائٹ ہو گئے۔ انہوں نے ضرورت کے تحت پراڈو بیچ دی تھی۔ سکیورٹی کیلئے حکومت نے چار پولیس اہلکار دیئے تھے۔ گُڈ خان پولیس کے ڈالے میں سفر کرتے رہے۔گڈ خان نے یہ تفصیلات ایک ملاقات میں بتائیں۔اندر کے لوگ کہتے ہیں کہ ان کی رہائی پانچ کروڑکی ادائیگی کے بعد ہوئی اور یہ رقم صوبائی وزیرکرنل شجاع خانزادہ  نے اغوا کاروں تک پہنچائی۔شجاع خانزادہبعد ازاں ایک خود کش دھماکے میں اپنے ڈیرے پرجاں بحق ہوگئے تھے۔
٭٭٭
ڈپٹی ایڈیٹر نوائے وقت سعیدآسی کہتے ہیں بے شمار ایسے مواقع آئے جب خود کو موت کے روبرو پایا۔ سب سے پہلے تو 23 مارچ 1977ء کو جی پی او چوک میں اس وقت زندگی ہاتھ سے جاتی ہوئی نظر آئی جب ایئر مارشل اصغر خان کی زیر قیادت نکلنے والے پی این اے کے جلوس کو روکنے کیلئے وہاں تعینات پولیس کی بھاری نفری نے اچانک میری جانب بندوقوں کا رخ کر کے حکم دیا۔”اگر یہاں سے ہلنے کی کوشش کی تو گولی سے اڑا دیا جائے گا۔ پھر مجھے لاتوں گھونسوں کی زد میں لا کر پولیس اہلکاروں نے ایک پولیس وین میں ڈال دیا جس میں راؤ مہروز اختر کے صاحبزادے مسعود اختر پہلے ہی خون میں لت پت موجود تھے۔ انہیں طبی امداد دینے کی بجائے تھانہ سول لائنز پہنچا دیا گیا۔ اس روز گرفتار کئے گئے پی این اے کے تمام کارکنوں کو جن میں میں ایک صحافی بھی شامل تھا۔ تھانہ سول لائنز کے ننگے فرش پر پوری رات کھڑے کئے رکھا گیا اور ایک باریش پولیس افسر جن کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اصغر خان (ہلاکو خان) تھے، پوری رات ان گرفتار کارکنوں کی غلیظ گالیوں سے تواضع کرتے رہے۔ اگلے روز ان سب کو کیمپ جیل منتقل کر دیا گیا۔ وہیں پر 9 اپریل کے سانحے کی خبر ملی کہ جی پی او چوک میں پی این اے کے 9 کارکن پولیس فائرنگ سے شہید ہو گئے ہیں۔ 23 مارچ کو جس طرح بندوقیں میری طرف تانی گئیں۔ یہ سانحہ میرے ساتھ بھی ہو سکتا تھا۔ پی این اے کے دیگر کارکنوں کی طرح میرے خلاف بھی ڈکیتی بلوے اور دیگر سنگین جرائم کے  مقدمات درج ہوئے۔ میرے خلاف درج ان مقدمات کی فہرست میرے دوست حاجی نور جمال نے جماعت اسلامی لاہور کے دفتر سے حاصل کی اور پھر دو ہفتے بعد میری ضمانت پر رہائی عمل میں آگئی۔ میرے خلاف درج ان مقدمات کا بعد ازاں کیا ہوا۔ مجھے آج تک اس بارے میں علم نہیں ہو سکا۔ اسی طرح 1986ء میں بیرون لوہاری گیٹ پر پولیس نے جلوس نکالنے کیلئے آنے والے ایم آر ڈی کے کارکنوں پر سیدھی فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں ایم آر ڈی کے 9 کارکن شہید ہوئے۔ اس جلوس کی کوریج کیلئے میں اس وقت وہیں پر موجود تھا اور پولیس کی جانب سے چلائی جانے والی گولیاں میرے بالکل قریب سے گزر رہی تھیں۔ کوئی گولی مجھے بھی لگ سکتی تھی مگر خدا تعالیٰ نے اس سانحہ میں بھی مجھے محفوظ رکھا۔ ایک موقع پر باغ بیرون موچی گیٹ میں ایم آر ڈی کے ایک بڑے جلسہ عام کے دوران مرحوم ملک محمد قاسم نے اپنے جوش خطابت میں میری زندگی کیلئے خطرہ پیدا کر دیا۔ اس جلسے میں ایم آر ڈی کارکن خاصے مشتعل تھے۔ پریس کی نشستیں پنڈال کے سامنے سٹیج سے تھوڑا سا ہٹ کر لگائی گئی تھیں ملک قاسم

 تقریر کیلئے آئے تو ایم آر ڈی کے کارکنوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا ہجوم دیکھ کر جوش خطابت میں مجھ سے مخاطب ہوئے ”سعید آسی! اپنی آنکھوں سے دیکھو، آج ایم آر ڈی کے کارکنوں کی کتنی تعداد یہاں موجود ہے تم لکھتے ہو ایم آر ڈی کے کارکن نہیں آتے۔“ ان کے تخاطب کا انداز ایسا تھا کہ پنڈال میں موجود ایم آر ڈی کے مشتعل کارکنوں میں مزید اشتعال پیدا ہو گیا۔ ایک لمحہ کو تو مجھے یوں لگا جیسے ایم آر ڈی کے یہ کارکن ابھی مجھ پر حملہ آور ہو کر میری تکہ بوٹی کر دیں گے مگر پھر ملک قاسم نے صورتحال کو بھانپ کر خود ہی ایم آر ڈی کے مشتعل کارکنوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے کا کام بھی کیا اور اس طرح میری زندگی کو اچانک لاحق ہونے والا خطرہ ٹل گیا۔ ایم آر ڈی کی احتجاجی تحریک کے دوران حکومت کی انگیخت پر کبھی کبھار لوگوں کی جانب سے بھی ایم آر ڈی کے قائدین کے ساتھ ان کی نفرت کا عملی اظہار سامنے آ جاتا تھا۔ ایک روز مسجد نیلہ گنبد لاہور سے ایم آر ڈی کے احتجاجی جلوس کا پروگرام بنا اس روز جمعۃ المبارک کا دن تھا۔ ملک قاسم اور میاں خورشید محمود قصوری نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ پہلے مسجد نیلا گنبد میں آنے کا پروگرام بنایا اور انہوں نے مجھے بھی ساتھ لے لیا۔ اس وقت تک اکا دکا پولیس اہلکار مسجد کے باہر پہنچے تھے۔ چانچہ ہم آسانی کیساتھ مسجد کے اندر داخل ہوئے، وضو کے بعد نمازیوں کی صفوں میں آ کر بیٹھ گئے۔ اسی دوران وہاں موجود نمازیوں میں ملک قاسم اور میاں خورشید محمود قصوری کو دیکھ کر اشتعال پیدا ہو گیا اور انہوں نے ایم آر ڈی کے ان دونوں قائدین کے ساتھ تلخ لہجے میں گفتگو اور پھر ہاتھا پائی شروع کر دی۔ بالآخر انہوں نے خطبہ جمعہ کے دوران ہی ملک قاسم اور میاں خورشید محمود قصوری کو دھکیل کر مسجد سے باہر نکال دیا۔ میں بھی ان کے ساتھ ہی مسجد سے باہر آ گیا۔باہر نکلتے ہی پولیس نے ملک قاسم اور میاں خورشید قصوری کو دبوچ لیا اور انہیں پولیس گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔ ان کے جانے کے ساتھ ہی کونوں کھدروں میں چھپے ہوئے ایم آر ڈی کے کارکن نعرے لگاتے ہوئے نکل آئے جن پر پولیس نے لاٹھی چارج کی انتہاء کر دی۔ ایم آر ڈی کے بیشتر کارکن اس واقعہ میں شدید زخمی ہوئے۔خداتعالیٰ نے مجھے محفوظ رکھا۔ اسی طرح ایک بار ہائیکورٹ سے نکلنے والے ایم آر ڈی کے جلوس پر چوک فین روڈ پر لوگوں نے پتھراؤ شروع کر دیا۔ ایم آر ڈی کے قائدین اور کارکن اپنی جان بچانے کیلئے بھاگ کر دیال سنگھ مینشن کے ساتھ فضل دین اینڈ سنز والی بلڈنگ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس بلڈنگ کے فرسٹ فلور میں آ گئے۔ میں بھی پتھراؤ سے بچنے کیلئے یہاں تک بھاگ کر آنے والوں میں شامل تھا۔ حنیف رامے نے بھی بھاگ کر اسی بلڈنگ میں پناہ لی۔ لوگوں کا اشتعال بڑھتا ہی گیا چنانچہ انہوں نے پتھراؤ کے ساتھ ساتھ بڑی بڑی لکڑیوں کو آگ لگا کر بلڈنگ کے اس حصے میں پھینکنا شروع کر دیا جہاں پر ایم آر ڈی کے قائدین اور کارکن پناہ حاصل کئے ہوئے تھے۔اس دن بھی پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران زندگی داؤ پر لگتی ہوئی محسوس ہوئی تھی اس طرح کے اور بھی کئی واقعات جن میں زندگی کیلئے خطرات لاحق ہوئے۔
٭٭٭
ہمارے گاؤں میں بگا جٹ اور ارشد مسلم شیخ ٹیوب ویل کاکنواں گہرا کر رہے تھے۔ ایک دو ساتھی باہر تھے کہ کنویں میں مٹی گرنے لگی۔ خطرے کو بھانپ کر دونوں نے سیڑھی کے ذریعے باہر نکلنے کی کوشش کی۔ارشد چند سیڑھیاں چڑھا، بگا تو پہلی دوسری پر ہی تھا کنواں اوپر سے نیچے تک بند ہو گیا۔ باہر موجود لوگوں نے اپنی حد تک جو ممکن تھا شور مچایا۔ گاؤں تک اطلاع پہنچی، سپیکر پر اعلان ہوا،بدقسمتی سے ساتھ ہی بارش بھی شروع ہو گئی۔ لوگ امدادی سامان کے ساتھ بھاگے چلے آئے۔ جیسے ہی یہ دونوں نوجوان کنویں میں پھنسے۔ بگے نے ارشد سے کہا ”فکر نہ کریں ودھی نوں کوئی ڈر نئیں“ اندازہ کریں، یہ بات کس حوصلے سے گھپ اندھیرے میں اکھڑی سانس کے ساتھ کی ہو گی۔ بڑی تگ و دو کے بعد شدید بارش میں ارشد کو کئی گھنٹے بعد زندہ نکال لیا گیا تاہم بگا خالق حقیقی سے جا ملا تھا۔ اس کے چند دن بعد گاؤں کے قریب میرا چھوٹا بھائی اختر حسین اور دو ساتھی بھی ٹیوب ویل کا کنواں گہرا کر رہے تھے ان کو بھی کنواں بند ہونے کا خطرہ محسوس ہوا تو اختر حسین نے مٹی اوپر کھینچنے کیلئے بالٹی سے باندھے رسے کو چھلانگ لگا کر پکڑ لیا جو اتفاقاً کنویں سے باہر مضبوطی سے بندھا ہوا تھا۔ جان پر بنی ہو تو انسان قدرت کی ودیعت کردہ طاقت کا آخری قطرہ بھی جان بچانے پر صرف کر دیتا ہے۔ اختر رسے کے ذریعے اوپر آ رہا تھا نیچے سے دونوں نے اس کی ایک ایک ٹانگ پکڑ لی۔ ٹانگ پکڑنے کا مقصد اسے اپنے ساتھ نیچے کھینچنا نہیں تھا۔ ان کے لئے یہی ایک سہارا اپنی جان بچانے کا تھا تاہم کنویں کے بند ہونے کا عمل جلد رک گیا اور یہ لوگ سیڑھی کے ذریعے باہر آ گئے۔
٭٭٭
میجر (ر) شبیر نے 65 اور 71ء کی جنگیں لڑیں۔ دونوں جنگوں کے دوران میدان جنگ میں ہونے کے باوجود وہ معمولی زخمی بھی نہیں ہوئے۔”جنگ کے دوران موت کا خوف نہیں شہادت کا جذبہ موجزن رہتاہے۔ مشرقی پاکستان میں مورچے میں بیٹھے تھے، انڈین فائٹر کو انٹی ائرکرافٹ گن سے ایک فوجی نے نشانہ بنایا۔ جہاز کو یونہی گولہ لگا ایک سپاہی نے خوشی سے جھومتے ہوئے مورچے سے باہر چھلانگ لگائی اور بھنگڑا ڈالنا شروع کر دیا۔ شاید اس کا دوسرے بھارتی طیارے نے نوٹس لیاتھا۔چند منٹ بعد اس جگہ پر بھارتی طیاروں نے بموں کی برسات کر دی۔ بم کے اوپر سے زمین تک آنے کی وسل نما گونج اعصاب شکن ہوتی ہے۔ بم پھٹنے کا دھماکہ انسان تو کیازمین کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ میں مورچے کے باہر رہا، لگاتار بم ہمارے اوپر گر رہے ہیں۔ایک بار لگا سیٹی یا سورِ اسرافیل جیسی آواز تو کانوں کے اندر سیسہ بن کر گزر گئی ہے۔ اردگرد دلدلی علاقہ تھا۔ مسلسل بمباری سے وہ خشک ہو گیا۔ اللہ کی قدرت، ایک بھی فوجی زخمی تک نہیں ہوا۔ اس بمباری میں ایک بم مورچے کے قریب گرا،اس سے  مٹی سے مورچہ بند ہو گیا جس کے اندر جوان موجود تھا، ساتھیوں نے فوری طورمٹی ہٹاکر نکال لیا۔ اس کوخراش تک نہیں آئی تھی۔ایک دفعہ بمباری کے دوان چھوٹی سی مسجد میں بنگالی امام نے حسب معمول چھت پر جاکر اذان دی اور جماعت کرائی۔ میدان جنگ میں موت کا خوف ہرگز نہیں ہوتا تاہم روزمرہ زندگی میں فوجی بھی عام انسان ہوتا ہے۔ مشرقی پاکستان میں اُن دنوں حالات انتہائی مخدوش تھے۔ مقامی لوگوں کا دشمن کی طرح کا رویہ تھا۔ حکومت کی رٹ صرف چھاؤنیوں تک تھی میری فیملی فوجی یونٹ سے تھوڑے فاصلے پرمقیم تھی۔ کسی کو بھی یونٹ سے باہر رہنے یا جانے کی اجازت نہیں تھی۔ میں نے برگیڈ کمانڈر سے خصوصی اجازت لے رکھی تھی۔ صبح یونٹ جاتا رات کو گھر واپس آ جاتا۔ راستے میں ایک جگہ سے روزانہ پتھراؤ ہوتا تاہم جیپ اور میں اس سے محفوظ رہتے۔ ایک دن گولی کی آواز آئی میں نے اس کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔ اگلی گولی کان کے قریب سے گزری توجسم میں سنسنی کی لہر دوڑ گئی۔ اس سے اگلی ہٹ کر سکتی تھی لیکن اللہ نے محفوظ رکھا۔ 
ایک دن دریا میں ایک باڈی بہتی آ رہی تھی۔ اسے باہر نکالا تو گولی کے گردن کے دائیں لگ کے بائیں نکلنے کا نشان تھا تاہم اس کی سانس چل رہی تھی۔ اسے ہسپتال پہنچایا گیا وہ نوجوان بچ گیا۔ یہ نائک شریف تھا جو شاید آج بھی زندہ ہے۔
٭٭٭
لیفٹیننٹ نذیر احمدفاروق کی لاہور سے گلگت ٹرانسفر ہوئی تو سامان باندھ کر راولپنڈی چلے گئے۔ یہ 1968ء جولائی کا مہینہ ہے۔ گلگت تک سڑک کا وجود نہیں تھا۔ پی آئی اے کے فوکر یا پاک فضائیہ کے سی 130 کے ذریعے ہی گلگت جا یاسکتاتھا۔ نذیر صاحب اگلے روزائیرپورٹ جا پہنچے۔ پتہ چلا کہ موسم خراب ہے۔ فوکر آج نہیں جا سکتا۔ اگلے روز آنے کو کہا گیا۔ اگلے روز بھی موسم خراب تھا۔ لفٹیننٹ اور دوسرے مسافر پھر واپس چلے گئے۔ ان مسافروں میں چین سے آیا ہوا ایک وفد بھی تھا۔ ان دنوں شاہراہ ریشم کی تعمیر جاری تھی۔ چینی اس سلسلے میں مشاورت کے لئے اسلام آباد آئے تھے۔ موسم کچھ زیادہ ہی بگڑ گیا یا ناراض ہو گیا تھا۔ مسافر پندرہ دن آتے اور جاتے رہے۔ اس دوران روز کی ملاقات سے مسافروں کی آپس میں علیک سلیک ہو گئی۔ 
نذیر فاروق کہتے ہیں کہ پندرہ دن میں میرے پاس جو پیسے تھے ختم ہو گئے۔ فوجی میس میں قرض بڑھتا جا رہا تھا۔ فارغ بیٹھنا فطرت میں نہیں تھا۔ دل کرتا تھا کہ اڑ کر ڈیوٹی کی جگہ پہنچ جاؤں۔ فوکر کی طرح سی 130 کی پرواز کے لئے سازگار موسم کی ضرورت نہیں ہوتی۔یہ جہاز آل ویدر یعنی موسم کا دھنی جہاز ہے۔ فوجی کے لئے سی 130 میں سفر کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔کسی نے سی 130کے ذریعے گلگت جانے مشورہ دیا۔اگلے روزفضائیہ کے جہاز کا گلگت جانے کا شیڈول تھا۔میں اگلے روزائیر بیس سے رابطہ کر کے وردی پہن کر وہاں جا پہنچا۔ اس دن جہاز میں ایف ڈبلیو او کے فوجی گلگت جا رہے تھے۔مجھے بھی سیٹ مل گئی۔ جسے میں نے اپنی خوش بختی قرار دے کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ 15 دن جس طرح کاٹے وہ عذاب نظر آ رہے تھے۔ جہاز ٹیکسی کرتے ہوئے ٹارمک سے رن وے کی طرف رواں تھا، میں نے خود کو محو پرواز محسوس کرنا شروع کر دیا۔ پنڈی کے پسینہ پسینہ کر دینے والے موسم، تنہائی اور بڑھتے ہوئے قرض سے تنگ آیا ہوا تھا۔ فضائیہ کے جہاز میں سیٹ ملنے پر اپنی قسمت پر نازاں تھا اور اس وقت یہ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی تھی۔ میں تصورات اور خیالات میں محو پرواز تھا۔کیا دیکھتا ہوں جہاز توقعات کے برعکس اچانک رک گیا۔ گیٹ کھلا اور فضائیہ کے دو افسرداخل ہو گئے۔ جہاز میں اکثر FWO کے لوگ سوار تھے۔ ان کو ہی لے کر جہاز گلگت جا رہا تھا۔فضائیہ کے یہ افسرگلگت میں موجود ہیلی کاپٹر کے پائلٹ تھے۔وہ بھی اپنی آفیشل ڈیوٹی پر جارہے تھے۔جہاز انتظامیہ نے مجھے اور ایک دوسرے میرے جیسے مسافر کو اترنے کے لئے کہا۔میں نے درخواست کی، اپنی بپتا سنانے کی کوشش کی مگر بے سود۔ جہاز کے عملے نے میرا اور دوسرے مسافر کا سامان جہاز کے باہرکھ دیا اور ہمیں باہر کا راستہ دکھایا۔ افسوس سا افسوس ہوا!۔۔۔
واپسی پر ٹیکسی میں فوجی یونٹ آرہا تھا۔یہ وہ دور تھا جب ایوب خان کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے۔ راستے میں مظاہرین نے وردی میں دیکھ کر گھیر لیا۔کہنے لگے ایوب کے خلاف نعرے لگاؤ ”ایوب کتا“ کہو۔میں نے ایسا کہنے سے انکار کردیا۔ان دنوں مظاہرین کے سروں پر شاید خون سوار نہیں، ایوب خان کو صدارت سے ہٹانے کا جنون تھا۔ اس لئے مجھے جانے دیا۔ چینی وفد کے لوگوں کو بھی مظاہروں کی نوعیت کا پتہ چلا تو وہ بڑے افسردہ ہوئے۔ وہ ایوب خان کے خلاف مظاہروں کوپاکستان کی بدقسمتی سے تعبیر کر رہے تھے۔ وہ مظاہرین کو نادان قرار دیتے۔ انہوں نے  ایک روز مجھے کہا ایوب خان ماؤزے تنگ کی سطح کا لیڈر ہے۔ یہ لوگ ایوب خان کو اقتدارسے اتار کر روئیں گے مگر ایوب ان کو دوبارہ نہیں ملے گا۔ 
جلوس کے  چنگل سے نکل کر میں نے میس پہنچ کر غسل کیا کھانا کھایااور ریڈیوآن کیا اور یہ خبر سن کر سکتے میں آگیا، بری اور بدترین خبر نشر ہو رہی تھی۔”پنڈی سے گلگت جانیوالا فضائیہ کا جہاز کریش ہو گیا“۔مجھے لگا کہ موت نے مجھے خود سے الگ کرکے زندگی کی طرف دھکیل دیا تھا۔اب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔اس کے بعد میں نے زندگی اللہ ربّ العزت کی امانت سمجھ کر گزاری۔
میجر نذیراحمدفاروق نے ایک اور حیرت انگیز واقعہ سنایا ”ڈیفنس اسلام آبادمیں شفٹ ہونے سے قبل ہم گلستان کالونی راولپنڈی میں رہتے تھے۔ ایک روز محلے میں ڈکیتی ہو گئی۔ ڈاکوؤں نے دن دیہاڑے گھر والوں کو یرغمال بنا کر لوٹ مار کی اور فرار ہو گئے۔ اس کے بعد کہرام اور ہو ہو کار تو مچنی تھی۔ شام کوہم لوگ افسوس کے لئے گئے۔ جن کے گھر ڈاکہ پڑا ان سے پوچھا۔ ”آپ کے گھر میں کیا اسلحہ نہیں ہے؟ ان کا جواب تھا کہ پسٹل گھر میں موجود ہے جو کپڑوں والی الماری میں پڑا تھا۔ سوچا ایسے اسلحہ کا کیا فائدہ جو بوقت ضرورت کام نہ آئے۔ اسلحہ اپنی حفاظت کیلئے رکھا جاتا ہے، لوگ عموماً اس کی حفاظت کیلئے کمر بستہ دیکھے گئے ہیں۔ میرے پاس جرمنی کا پسٹل آر لنگٹن ہے جو میں نے بھی الماری میں رکھا ہوا تھا۔ میں نے گھر آ کر اسے الماری سے نکالا، اسے صاف کیااور گھر والوں کو چلانے کے بارے میں بتایا، اسے پلیٹ میں رکھا۔اوپر رومال دیدیا اور کامن روم کی میز پر رکھ دیا۔ گھر میں اہلیہ ان کی دوسٹوڈنٹ بھتیجیاں اور ایک تیرہ چودہ سال کا ملازم رہتے تھے۔ محلے میں ڈکیتی کے بعد ہر وقت ایسی واردات کا خطرہ رہتا تھا۔ ایک دن میں کسی کام کے سلسلے میں گھر سے باہر گیامگر نجانے کیوں میں راستے سے لوٹ آیا۔ گھر کے قریب گاڑی کھڑی کی، اس دوران میں نے ایک نوجوان کو اپنے گھر سے نکلتے دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں پستول پکڑاہواتھا اور اس کی انگلی ٹریگر پر تھی۔میں نے اسے دیکھ کراندازہ کیا کہ میرا گھراور گھرانہ لُٹ گیاہے،میں اسے للکارنے کی کوشش کی تو اس نے پسٹل کا رخ میری طرف کر لیا،میں اس کے سامنے اور غیر محسوس طریقے سے اپنا رُخ دیوار کی طرف کر لیااور یقین ہوچکا تھاکہ وہ مجھے گولی ماردیگا،مجھے اس موقع پر اپنی موت سامنے نظر آئی تاہم وہ قریب سے گزر کر چلا گیا۔ اس کے بعد میں نے شور مچا دیااور اس کا تعاقب شروع کردیا۔ اس کے ہاتھ میں پسٹل دیکھ کر کوئی اس کی طرف بڑھ رہا تھا نہ للکار رہا تھا۔ ساتھ والی گلی میں راج مزدور کام کر رہے تھے مگر ان کو بھی اپنی جان عزیز تھی۔ اس دوران پستول بردار تیز تیز چلتے ہوئے آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ وہاں سے ایک پک اپ سوزوکی گزر رہی تھی۔ میں نے جلدی سے ڈرائیورکو صورت حال بتائی۔ اس نے مجھے ساتھ بٹھایا اور سوزوکی مین روڈ پر لے آیا۔

میرا اندازہ تھا، ڈاکواسی طرف گیا ہو گا۔ مین روڈ سے متصل فٹ پاتھ پر واقعی وہ ٹہلتا ہوا جا رہا تھا۔ میں نے اس کے قریب گاڑی رکوائی اور سڑک سے اینٹ اٹھا کر اس کے سر پر دے ماری مگر وہ تیزی سے نیچے جھکا اوربچ گیا۔ میں نے ڈاکو ڈاکو کا پھر شور مچانا شروع کر دیا۔وہاں سے  کسی افسر کا بیٹ میں وردی استری کرا کے گزر رہا تھا۔ جوان نے اس کے ہاتھ پستول دیکھا اور میرا شور سنا تو اس نے ایک ہی ایکشن میں وردی پھینکی اور ڈاکو کو پیچھے سے پوری طاقت سے جھپا ڈال کرجکڑا اور اس کا بازو مروڑ کر پسٹل چھین لیا۔  اس جوان اور پک اپ ڈرائیور نے اس کے ہاتھ  باندھے اور پک اپ میں ڈال کر گھر لے آئے گھر میں تعجب خیز اور خوفناک منظر تھا۔
ہوا یہ کہ گھنٹی بجنے پرملازم عابد نے گیٹ کھولا تو دو ڈاکو اسے دھکیل کر اندر داخل ہونے لگے۔ اہلیہ گیٹ کی طرف اس خیال آنے لگیں کہ عابدباہر نکلا ہے اور گیٹ بند کرنا بھول گیا ہے۔ اس دوران عابد نے ڈاکو ڈاکو چور چور کی دہائی مچا دی۔ ایک ڈاکو نے اسے پکڑا اور اس کے سر پر پستول کی ضربیں لگانے لگا۔ مگر وہ چلاتا رہا۔عابد اور ڈاکو گتھم گتھا ہو گئے۔ اس دوران دوسرا ڈاکو آگے بڑھا تو بیگم صاحبہ سامنے آ چکی تھیں۔ بیگم کو اس ڈاکو نے ایک ہاتھ سے ایک طرف کرنا چاہا تو انہوں نے  ایک  ہاتھ  بڑی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈاکو کے گریبان پر ڈال دیا اور دوسرا ہاتھ اس  کی جیکٹ کے دائیں بازوکے کف میں ڈال کر اس بازو اور ہاتھ کو مفلوج نہیں تو ساکت ضرور کردیا تھا۔ ڈاکو نے ان کو پیچھے  کی طرف دھکیلتے ہوئے کمرے  کی طرف بڑھ رہا تھا۔جہاں  نیچے کی طرف تین سیڑھیاں تھیں۔جہاں خاتون گر گئیں لیکن انہوں نے گریبان چھوڑا نہ بازو کے کف سے ہاتھ باہر نکالا۔گرفت سے  سے چھڑانے  کے لئے ڈاکو نے بائیں ہاتھ بائیں بازو میں اَڑّسا ہوا سکیبٹ نکال لیا اس دور محترمہ نے اس کے بازو پر پوری قوت سے  اس کے بازو پر پاؤں مارا جس سے ڈاکو کے ہاتھ سے پسٹل گر کر دور جا پڑااس دوران کمرے کے اندر بیٹھی ایف ایس سی کی طالبہ میز سے پسٹل اٹھا کر نمودار ہوئی جبکہ دوسری لڑکی خوف سے بیڈ کے نیچے چھپ گئی تھی۔

سعدیہ کے ہاتھ میں پسٹل دیکھ کر عابد سے مڈبھیر کرتے ڈاکو نے سعدیہ پر فائر کر دیا، خوش بختی سے نشانہ خطا ہو گیا۔ دوسرے فائر کی اس کی کوشش کامیاب نہ ہو سکی کیونکہ گولی چیمبر میں پھنس گئی تھی۔ سعدیہ نے اس ڈاکو پر دو فائر کئے۔ایک مس ہوگیا دوسرا عابد سے لڑنے والے ڈاکو کے بازو میں جا لگا۔اس کے بعد سعدیہ نے بے دھڑک ہو کر اپنی پھوپھی سے گتھم گتھا ڈاکو کی پسلیوں کے ساتھ پسٹل کی نالی لگا کر یکے بعد دیگر ے  پانچ فائر کر دیئے۔ میں گھر آیا تو اس ڈاکو کی لاش پڑی تھی۔ بیگم کے چہرے پر خوف نمایاں تھا۔ پولیس کو اطلاع دی گئی وہ مردہ ڈاکو کو پوسٹمارٹم کے لئے ہسپتال اور دوسرے کو تھانے لے گئی۔ میری اہلیہ دس سال بعد اس صدمے اورخوف سے نکل سکی تھیں۔زخمی ڈاکو کو دس سال قید ہوئی تھی۔
٭٭٭ 
بریگیڈیئر(ر) محمود الحسن سید کہتے ہیں کہ
راقم نے جنگ ستمبر 65 اور 71 میں بھرپور حصہ لیا جہاں موت ہر طرف نظر آتی تھی کیونکہ میرے رفقا میرے سامنے شہید اور زخمی ہوتے رہے تھے۔ نیز میدان جنگ میں پہلے چند گھنٹوں کے بعد دل سے موت کا ڈر نکل جاتا ہے۔موت کا ایک دن معین ہے اور بطور مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے۔ جب میں اپنی زندگی پر نظر ٖڈالتا ہوں تو یہ بات حرف بہ حرف صحیح ثابت ہو جاتی ہے کیونکہ فوج میں نوکری کے دوران مجھے چند ایسے واقعات پیش آئے جب میں نے موت کو بہت ہی قریب سے دیکھا۔
یہ واقعہ 1982ء کا ہے جب راقم کوئٹہ میں ایک فوجی تربیتی ادارے کے افسران کی فوجی تربیت پر مامور تھا۔ جون میں ماہ رمضان کے روزے چل رہے تھے۔ گرمی اپنے عروج پر تھی۔ کوئٹہ کا موسم بہت خشک ہے اور دھوپ کی تپش بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ کوئٹہ میں میرا تیسرا سال تھا۔ خشک موسم کی وجہ سے مجھے ہر سال رمضان کے مہینے میں گردوں میں تکلیف ہو جاتی تھی اور خاص طور پر رمضان میں روزے رکھنے سے اس میں شدت پیدا ہوجاتی۔ پہلے سال رمضان کی تقریبا 21ویں کو میر ی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی اور ڈاکٹر کے مشورے سے مجھے روزے رکھنا ترک کرنا پڑا۔ دوسرے سال پھر جب رمضان کے روزے رکھے تو صرف 10روزوں کے بعد گردوں کی تکلیف شدت اختیار کر گئی اور مجھے دوبارہ روزے چھوڑنے پڑے۔ تیسر ے سال میں نے رمضان میں پھر روزے رکھنے شروع کئے۔ اُن دنوں افسران کا کورس چل رہا تھا اور مجھے اُن کے ساتھ فوجی سکیم کے لیے کوئٹہ سے باہر جانا پڑا۔ میری زوجہ نے مجھے باربار روزے رکھنے سے منع کیا کیونکہ سکیم کے دوران مجھے گرمی میں کام کرنا تھا جس سے گردوں کی تکلیف میں بہت  زیادہ اضافہ ہو جانے کے خدشات موجود تھے۔ بہر حال میں نے روزے ترک نہ کئے اور سوچا کہ اگر تکلیف بڑھے گی تو روزے رکھنا بند کر دونگا۔ ایکسرسائز کے پہلے ہی روز صبح سے تقریباً 1 بجے تک میں دھوپ میں ٹریننگ کے سلسلے میں مصروف رہا۔ زیادہ وقت ایک پہاڑ کی چوٹی پر صرف ہوا۔ شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑا۔ تقریباً2 بجے کے قریب ہم تمام افسران اپنے میس میں جو سیب کے باغ میں لگایا گیا تھا، واپس آ گئے۔ اُس دن میرے علاوہ اور کسی افسر کا روزہ نہ تھا۔ ہر ایک نے مجھے کہا کہ تم نے غلطی کی ہے سکیم کے دوران تو روزے ویسے بھی معاف ہیں اورتم کو گردوں کی تکلیف بھی ہے۔ بہر حال میں واپس اپنے ٹینٹ میں آگیا گرمی اور پیا س سے میرا حال خراب ہو رہا تھا۔ گرمی بہت زیادہ لگتی تو مرا معمول یہ تھا کہ میں اپنے ٹینٹ کے فرش پر پانی چھڑک کرایک دری پر لیٹ کر آرام کیا کرتا تھا۔ ٹینٹ میں آکر میں نے وردی اتاری اور صرف ایک SHORTS یعنی نیکر میں دری پر لیٹ گیا لیکن مجھے لگاتار اس بات کا احساس ہو رہا تھا کہ میں نے باوجود بیماری کے روزہ بھی رکھا ہے اور اگر میں سو گیا تو میری ظہر کی نماز قضا ہو جائے گی۔ اسی کشمکش میں میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک معجزہ ہوا کہ تقریباً20 منٹ سونے کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میں نے باوجود گردے کے درد کے روزہ بھی رکھا ہے جبکہ مجھے ایسا کرنے سے منع کیا ہے اور اگر میری نماز قضا ہو گئی تو میری ساری نیکی برباد ہو جائے گی۔ میں ایک بات واضح کر دوں کہ اس وقت تک میں نماز کا بہت سختی سے پابند نہیں تھا۔ کئی دفعہ نما ز قضا ہو جاتی تھی۔ بہر حال مجھے خداتعالیٰ نے اُٹھادیا۔ میں نے کپڑے زیب تن کئے اور واش روم کے ٹینٹ جو ساتھ ہی لگا ہوا تھا۔ چلا گیا۔ وضو کیا تاکہ ظہر کی نماز ادا کر سکوں جس کا ابھی وقت باقی تھا۔
قارئین! جب میں وضو سے فارغ ہو کر اپنے ٹینٹ میں داخل ہونے کے لیے ٹینٹ کا پردہ اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ ٹینٹ کی دوسری جانب سے ایک COBRA سانپ اندر داخل ہو رہا تھا وہ مجھے دیکھ کر ایک دم رک گیا اور اُس نے اپنا پھن پھیلا لیا۔ یہ دیکھ کر جیسے میرے جسم سے جان ہی نکل گئی اور میں سکتے کی حالت میں وہیں کھڑا رہ گیا کیونکہ سانپ میرے تکیے سے صرف چند انچ کے فاصلے پر تھا۔ مجھے خیال آیا کہ اگر اللہ تعالیٰ نماز کے لیے نہ اٹھاتا تو سانپ نے میرے سر یا گردن پر وار کرنا تھا۔ یہاں یہ بات بتانا چاہوں گا کہ ہمارا کیمپ کوئٹہ سے 4 گھنٹے کی مسافت 

پر تھا اور مجھے کسی قسم کی طبی امداد نہیں مل سکتی تھی۔یہ صرف اللہ پاک کا کرم، روزے اور نمازکی برکت تھی کہ میں یقینی موت سے بچ گیا اور اُس دن میں نے موت کو بہت ہی قریب سے دیکھا۔ موت کی صورت میں میری جوان بیوی اور چار بچے جن میں سب سے چھوٹی بچی کی عمر صرف چند ماہ تھی یتیم اور بے سہارا ہو جاتے۔
٭٭٭
گوجرانوالہ کے صدا بہار پولیس افسرڈی ایس پی غلام عباس جو نوائے وقت سمیت اخبارات میں لاٹھی چارج کے نام سے کالم لکھتے ہیں وہ کہتے ہیں ”موت ایسی حقیقت ہے جس پر سبھی متفق ہیں‘جو دنیا میں آیا اس نے ایک روز مرنا ہے‘کوئی حادثہ کی نذر ہو جاتا ہے کسی کو بیماری اگلے جہاں پہنچا دیتی ہے۔ بعض دشمنی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں کئی ٹینشن کی لپیٹ میں آکر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ موت آپ کے قریب سے ہو کر گزر جاتی ہے۔ ناچیز کیساتھ کئی بار ایسا ہوا کہ موت کے منہ میں جاتے جاتے بچ گیا۔ حضرت علی علیہ اسلام کا فرمان ہے، موت زندگی کی بہترین محافظ ہے۔دل تھام کے سنیئے کہ راقم الحروف کس طرح موت سے بال بال بچا‘تیز ہوا چل رہی تھی‘گرمیوں کا موسم تھا‘ہوا اچھی لگ رہی تھی۔ ایس ایس پی آفس سائیکل پر جا رہا تھا۔ اب بھی سائیکل پر ہی جاتا ہوں۔ لاکھوں روپے کی سرکاری گاڑی پر بھی جاتا ہوں مگر جو لطف بائیسکل پر آتا ہے کسی اور سواری پر کہاں‘بتا رہا تھا کہ ایس ایس پی آفس جا رہا تھا جونہی گیٹ پار کیا تو لمحہ بھر کے بعد بھاری درخت گر گیا۔

مڑ کر دیکھا تو اللہ کا شکر ادا کیا کہ اگر چند سیکنڈ تاخیر ہو جاتی تو جان کی بازی ہار جاتا۔
فاروق آباد پنجاب کنسٹیبلری میں ایک سال ڈیوٹی کی۔ فاروق آباد کے قریب ہی بڑی نہر کیو بی لنک ہے۔ سخت گرمی میں جی چاہا کہ نہر میں نہاؤں‘تیرنا چونکہ آتا ہے اس لئے بے دھڑک نہر میں کود گیا۔ یوں لگا جیسے گرم کوئلوں پر کسی نے ٹھنڈا پانی گرا دیا۔ نہر کے پل کے نیچے سے تیرتے ہوئے جا رہا تھا کہ اچانک دریا میں بہتی ہوئیں جھاڑیوں میں الجھ گیا۔ ڈبکیاں لینے لگا۔ کلمہ شہادت پڑھا۔ غوطے کھا رہا تھا کہ اللہ کے فضل و کرم سے پانی کا ریلہ آیا جس نے جھاڑیوں سے چھٹکارا دلایا۔ خدا خدا کر کے نہر کنارے تک پہنچ گیا۔ کافی دیر تک سوچتا رہا کہ میری لاش کو مچھلیوں نے کھا جانا تھا۔ مگر رب کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ رنگ برنگی مچھلیاں کبھی کھاتا ہوں تو نہر یاد آ جاتی ہے۔
والدہ مرحومہ مغفورہ بتلاتی تھیں کہ میں ایک سال کا تھا کہ کمپوڈر کی غلطی سے ستر سالہ بابے کی دوائی مجھے کھلا دی گئی۔ بہت تھوڑے وقت میں پیٹ غبارے کی طرح پھول گیا۔ فوری ہسپتال لیجایا گیا۔ ایمرجنسی وارڈ میں علاج معالج کے بعد جان میں جان آئی۔دو سال پہلے سیلاب کی دوران وزیر آباد ڈیوٹی چیک کرنے گیا۔ سرکاری گاڑی ڈبل کیبن عملہ کے ہمراہ پھلکو پل کراس کیا تو سیلاب کے ریلا میں پھنس گئے۔ چاروں طرف پانی ہی پانی تھا۔ ہمارے قریب ہی ایک بس ڈوبی ہوئی تھی۔گن مین فوری گاڑی سے نیچے اترے اور سڑک کے درمیان گاڑی کے آگے آگے چلتے جاتے اور ڈرائیور کلمہ پڑھتے پڑھتے ان کے پیچھے گاڑی چلاتا گیا۔ خدا خدا کر کے محفوظ جگہ پہنچ گئے۔ اگر چند انچ بھی گاڑی دائیں‘بائیں ہو جاتی تو ہم گاڑی سمیت ڈوب جاتے۔
 کنسٹیبل تھا، تھانیدار کا امتحان دیا‘اللہ تعالی کے فضل و کرم سے کاندھے پر پھول لگ گیا۔ شوق چرایا کہ موٹر سائیکل چلانے کا طریقہ سیکھا جائے۔ یہ واقعہ 1984 ء کا ہے جب بہت لوگوں کے پاس موٹر سائیکل ہوتی تھی۔ دوست سے موٹر سائیکل حاصل کی۔ عالم چوک بائی پاس کی طرف تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جانیکی ٹھانی‘موٹر سائیکل کے آگے بس نے بریک لگائی۔ بوجہ تیز رفتاری سنبھل نہ سکا۔ موٹر سائیکل بس کیساتھ زور سے ٹکرا گئی۔ میں بے ہوش ہو گیا۔ گھٹنے کے پاس سے ٹانگ ٹوٹ گئی۔ بائیاں بازو تین جگہ سے فریکچرا ہوا۔ دماغ میں چوٹ لگنے سے کئی گھنٹے بیہوش رہا۔موٹر سائیکل ٹوٹ پھوٹ گئی۔ چھ ماہ تک علاج معالجہ کے بعد چلنے پھرنے کے قابل ہو سکا۔ سسرال حافظ آباد سے ونیکے تارڑ بس پر جا رہا تھا کہ بس خراب ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے کھیتوں میں الٹ گئی۔ میرے ساتھ والے دو مسافر جان کی بازی ہار گئے۔ کئی ایک شدید زخمی ہوئے۔ خاکسار محفوظ رہا۔ 
اب یہ ہے کہ مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے“
٭٭٭
غلام مصطفےٰ عابدی الیکٹرانکس انجینئر ہیں۔ پشاور میں پی ٹی سی ایل میں شیخ بابر حمید سے ان کی دعا سلام دوستی میں بدل گئی تو دونوں نے سیر کیلئے لنڈی کوتل جانے کا پروگرام بنایا۔ مصطفیٰ عابدی کہتے ہیں  ”بابر حمید اکثر تبلیغی جماعت کے ساتھ جاتے رہتے تھے۔ لنڈی کوتل بس میں جا رہے تھے۔ اردگرد کے مناظر بڑے خوبصورت حسیں اور دلنشیں تھے۔ ان سے پوری طرح لطف اندوز ہونے کیلئے ہم دونوں نے مشورہ کیا، کیوں نہ چھت پر سفر کیا جائے۔ چھت پرپہلے سے بھی چند مسافر بیٹھے تھے۔ہم بھی ان کے ساتھ جا بیٹھے۔ نظارے واقعی بے مثال تھے۔ علاقے کی خوبصورتی روح میں اترتی محسوس ہوئی۔ ہم لوگ دلکش مناظر میں کھو کر حمد باری تعالیٰ بھی بیان کر رہے تھے۔ اس دوران بس ایک برساتی نالے پر پہنچی جہاں موڑ بھی تھا۔ اس دوران تیز رفتار کار نے بس کو اوورٹیک کیا۔ تیز رفتاری کے باعث کار بے قابو ہو کر بس سے ٹکرائی۔بس سڑک کے کنارے پر تھی جو الٹ گئی۔ ہم چھت پر بیٹھے لوگ تیس فٹ نیچے آ گرے۔ بس کی چھت سے زمین پر آنے میں تین چار سیکنڈ لگے ہونگے۔ اس دوران خوف سے جو کیفیت ہوئی وہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی۔ زمین پر گرے تو محسوس ہوا موت کی وادی میں آگئے ہیں۔ اوسان بحال ہوئے تو خود کو بالکل محفوظ پایا۔بابر حمید کو معمولی خراشیں آئیں جبکہ کئی مسافر شدید زخمی ہوئے۔ہم نے زخمی مسافروں کو بس سے نکال کر ہسپتال پہنچانے کی کوشش کی۔ اتنی اونچائی سے گر کر بالکل محفوظ رہنا معجزے سے کم نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم اللہ کے ذکر کی برکت سے محفوظ رہے۔
ایک اور خوفناک سانحے کا سامنا زیمبیامیں کرنا پڑا جہاں میں آر ای الیکٹرانکس کمپنی کا کنٹری ہیڈ تھا۔ لبنانی نژاد کینیڈین صالح مداوا  چیف ریجنل افسر زیمبیا آئے تو اکاؤنٹس کیلئے انہوں نے بینک جانا تھا۔ میں بھی ساتھ تھا۔ تیسرا مقامی ڈرائیور تھا۔ بینک سے فارغ ہو کر ہم ائیرپورٹ جانے لگے۔ صالح نے واپس جانا تھا میں انہیں ائیرپورٹ چھوڑنے جا رہا تھا۔ لوگاس شہر سے گزر رہے تھے، ایک ٹرننگ پر تنگ سڑک تھی۔ اس جگہ اگلی کار نے بریک لگائی تو ہمیں  بھی رکنا پڑا۔ اس سے تین  نقاب پوش گنیں لہراتے ہوئے ہماری طرف آئے۔ ہمیں ہر لمحہ موت اپنی طرف بڑھتی محسوس ہو رہی تھی۔ زیمبیامیں ڈکیتیوں کے دوران قتل اور غیر ملکیوں کے اغواء کی اکثر وارداتیں ہوتی ہیں۔ ہمارا انجام کیا ہو گا! یہ سوچ کر خون خشک ہو گیا۔ نقاب پوشوں نے قریب آ کر دروازے کھولنے کا اشارہ۔دروازے ہم نے بغیر مزاحمت کے کھول دیئے۔ انہوں نے بیگ حوالے کرنے کو کہا جو ہم نے کر دیئے وہ شاید بینک سے ہماری نگرانی کر رہے تھے۔ موقع پاتے ہی انہوں نے ہماری گاڑی کو کراس کیا اور شہر کی پررونق سڑک پر روک لیا۔ میرے بیگ میں لیپ ٹاپ اور صالح کے بیگ میں کمپنی کے کچھ کاغذات،اس کا پاسپورٹ اور کریڈٹ کارڈ وغیرہ تھے۔ اس خوف سے بھرپور واردات کا حیران کن پہلو یہ ہے کہ کینیڈین شہری کو سفر کیلئے ان کے ملک کے سفارت خانے  نے اگلے روز ایمرجنسی پاسپورٹ  جاری کر دیا۔ ان کی یہ فلائٹ تو مس ہو گئی تاہم وہ اگلے روز واپس چلے گئے۔ اس مشکل میں کوئی پاکستانی گرفتار ہو جائے تو ہمارے سفارتکار مصیبت کو عذاب بنا دیتے ہیں۔ نئے پاسپورٹ کے حصول میں مہینے نہیں تو کئی ہفتے ضرور لگ جاتے ہیں۔
٭٭٭
نوائے وقت میں سینئر آرٹ ایڈیٹر چودھری رمضان نے اپنی جوانی کے دور کا قصہ سنایا ”میرے بڑے بھائی کی شادی تھی۔بارات دوسرے دس بارہ کلو میٹ دور گاؤں گئی۔بارات واپس  آنے لگی تو مہمانوں کی تعداد توقع سے زیادہ ہوگئی۔دادا جی نے مجھے کہا کہ میں اپنے گاؤں جاکر گھر والوں کو زیادہ مہمانوں کا کھانا تیار کرنے کو کہوں۔ان دنوں موٹر سائیکلوں کی آج جیسی بھرمار نہیں تھی۔ایک بھی باراتی موٹر سائیکل پر نہیں تھا۔دادا جی نے مجھے اپنی گھوڑی دیتے ہوئے اس پر جانے کو کہا۔میرے ساتھ میرا ہم عمر کزن بھی ہولیا۔ یہ گھوڑی پر میری پہلی مرتبہ سواری تھی۔ گاؤں سے بڑے آرام سے نکلے۔ گھوڑی خراماں خراماں جا رہی تھی۔دوسرے گاؤں سے گزر رہے تھے، اچانک کزن نے گھوڑی کو ڈنڈا دے مارا۔ گھوڑی بے قابو ہو گئی۔ اس نے پہلی دوسری زقند بھری تھی کہ کزن نے چھلانگ لگا دی۔ اس کی تیزرفتاری اور سوار کی بے چارگی پر لوگ چلا رہے تھے۔”او یہ مر گیا۔ بچاؤ بچاؤ“ کہہ رہے تھے مگر کوئی کیسے بچاتا۔ گھوڑی گاؤں سے نکل کر کھیتوں میں پوری سپیڈ سے بھاگ رہی تھی۔ میں نے ریتلی زمین دیکھ کر کودنے کی کوشش کی۔ دایاں پاؤں رکاب سے نکالا اور بائیں پر ابھی دباؤ ڈالاہی تھاکہ پاؤں پھسلا اور رکاب کے اندر پھنس گیا۔ اب میں گھوڑی کی بائیں طرف لٹک گیا تھا۔ گھوڑی کی سپیڈ کم نہ ہوئی۔ میرا سر ریتلی زمین سے ہلکے سے ٹکرا بھی جاتا تھا۔ گھوڑی اپنی طرف سے مجھے ٹانگ مار رہی تھی جو میرے قریب سے گزر جاتی۔ میں واضح طور پرگھوڑی کی لات زنی دیکھ رہا تھا۔ میں حواس میں تو تھا مگر کر کچھ بھی نہیں سکتا تھا۔ آگے ایک پانی کا چھوٹا سا نالہ  تھا۔ اس کے کنارے پر آکڑے کا کافی بڑا پودا تھا۔ گھوڑی اس کے قریب سے گزری تو ہمت کر کے اس پودے کو پوری طاقت سے میں نے جپھے کے انداز میں پکڑ لیا۔ اس سے گھوڑی کی کاٹھی کا بکل کھل گیا یا ٹوٹ گیا۔ کاٹھی زمین پر آگری۔ آگے کھیت گھوڑی کی ایک چھلانگ پر تھا۔ جس سے تازہ تازہ گنا کاٹا گیا تھا۔ گنا جس طرح سے کاٹا جاتا ہے اس کی قلموں کی تیزی تیر اور نیزے سے کم نہیں ہوتی۔ دو چار مرتبہ سر ٹکرانے سے پھر سر سر نہیں رہتا۔ اللہ نے مجھے بالکل محفوظ رکھا۔ میں نے زین سر پر اٹھائی اور گھر کی طرف اللہ کو یاد کرتا ہوا چل پڑا۔ 
٭٭٭
براہِ راست کے عنوان سے کلام لکھنے والے اسرار بخاری کہتے ہیں۔”زندگی میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو بھلائے نہیں بھولتے۔تب میری عمر آٹھ نو سال تھی۔ میرے پیارے نانا جان سید عارف حسین شاہ بخاری داؤد خیل میں کالا باغ شہر سے پانچ میل کے فاصلے پر واقع جناح بیراج کالونی میں رہتے تھے۔ جناح بیراج کی ایک چھوٹی نہر میں آنے والا پانی کالونی سے دو ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلے پر داؤد خیل سے جناح بیراج جانے والی ریلوے لائن پھاٹک کے دائیں جانب مٹی کے پہاڑی تودہ کی طرح گیارہ بارہ فٹ بلند پشتے سے رس رس کرتقریباً سترہ اٹھارہ فٹ چوڑے اور بیس بائیس لمبے جوہڑ کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ گہرائی نہ جانے کتنی تھی۔ اس کا سخت کائی آلود پانی اس پہاڑی نما پشتے تک پھیلا ہوا تھا۔ میری والدہ محترمہ بھکر سے داؤد خیل تشریف لائیں۔میں اپنے نانا اور نانی کے پاس رہتا تھا۔ والدہ کے ساتھ آنے والے چھوٹے بھائی خالد بخاری جس کی عمر ڈھائی سال تھی، کو گود میں اٹھا کر گھر سے باہر پھرا کرتا۔ ایک روز دل میں نہ جانے کیا سمائی کہ اسے گود میں لے کر اس جوہڑ کے پاس چلا گیا اور پھر اس پشتے اور پانی کے درمیان چھ سات انچ کی اونچی نیچی خشک جگہ پر پاؤں رکھتا ہوا نو دس فٹ تک چلا گیا۔ اس کے بعد جھاڑیوں کا ایسا سلسلہ تھا کہ آگے بڑھنا ممکن نہیں تھا واپس مڑنا چاہا تو دن میں تارے نظر آ گئے کیونکہ واپس آتے ہوئے پھسل کر جوہڑ میں گرنے کا خوف غالب آگیا اور پھر احمقانہ فیصلہ کیا اس پشتے کے اوپر چڑھ کر دوسری جانب ریلوے لائن کے ساتھ خشک جگہ پر اتر جاؤں گا۔ کسی نہ کسی طرح آٹھ نو فٹ تک جانے کے بعد ایسی جگہ نہ رہی کہ پاؤں رکھے جا سکیں اور ہاتھ سے پکڑا جا سکے۔ اب واپسی ہی واحد صورت نظر آئی اور جب واپسی کا سفر شروع کیا تو دن میں تارے ہی نہیں چاند سورج بھی نظر آ گئے۔ کیونکہ اترنا نا ممکن نظر آ رہا تھا اور یہ سوچ کہ اب میں اور گود میں چھوٹا بھائی دونوں اس جوہڑ میں گر کر ڈوب مریں گے اور کسی کو پتہ نہیں چلے گا اس خیال سے خوفزدہ ہو کر میں نے رونا شروع کر دیا۔ مجھے روتا دیکھ کر چھوٹے بھائی نے جو کافی دیر سے شاید سہما ہوا خاموش تھا وہ بھی رونے لگا۔ اگرچہ اس جوہڑ کے ساتھ سڑک تھی مگر اس زمانے میں آمدروفت بہت کم تھی۔ دو ڈھائی گھنٹے بعد کالا باغ سے میانوالی جانے والی بس یا ٹرک تیزی سے گزر جاتا شور مچاتے تب بھی کوئی آواز نہ سن پاتا کیونکہ ہم جس جگہ پر تھے وہ سڑک سے اوٹ میں تھی۔ ادھر کافی دیر سے لاپتہ ہونے پر نانا، نانی اور والدہ سخت پریشان تھے۔ کالونی کے سب چھوٹے بڑے تلاش کرنے لگے مگر کسی کا دھیان اس جوہڑ کی طرف نہ گیا اور اگر کوئی آ بھی جاتا وہ ہمیں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ نانا، نانی اور والدہ سخت پریشانی کے عالم میں دعائیں کر رہے تھے۔ ادھر میں رینگ رینگ کر نیچے اترنے کی کوشش کر رہا تھا۔ چڑھنا جتنا آسان لگا تھا اترنا اتنا ہی مشکل لگ رہا تھا۔یہ نو دس فٹ کا فاصلہ تقریباً دو ڈھائی گھنٹے میں طے ہوا۔ اب دوسری مشکل یہ درپیش تھی کہ پشتے کی جڑ میں پہنچ کر جن جگہوں پر پاؤں رکھا جا سکتا تھا وہ کائی آمیز پانی کے باعث سخت پھسلن زدہ تھیں۔ بہر حال زندگی تھی دوسرے نانا نانی اور والدہ کی دعاؤں کے طفیل یہ تقریباً دس فٹ کا فاصلہ ایک گھنٹے سے زائد میں طے ہوا اور یوں میں صحیح سلامت ملحقہ سڑک پر پہنچ گیا۔ یہ مغرب سے کچھ پہلے کا وقت تھا۔ اگر سورج غروب ہو جاتا تو پھر سڑک پر پہنچنا یقیناً ممکن نہ ہوتا۔ ساری رات اس خطرناک صورتحال میں چھوٹے بھائی کو گود میں لے کر گزارنے کے تصور سے بھی جسم میں جھرجھری آ جاتی ہے۔ میں کالونی کے نزدیک پہنچا تو سب سے پہلے ہم عمر دوست غلام رسول کی نظر مجھ پر پڑی اور وہ زور سے چلایا ”او آندا پیا اے“ بہرحال میں اپنی حماقت کے باعث کئی گھنٹے جس خوف اور پریشانی کی کیفیت کا شکار رہا اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔اب بھی خیال آتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں یہ زندگی اور نانا نانی اور والدہ کی دعائیں تھیں جو مجھے اور چھوٹے بھائی کو موت کے منہ سے واپس لے آئیں۔
اس کے علاوہ بھی ناقابل فراموش واقعہ پیش آیا
اکثر و بیشتر میں جو خبریں شائع کرتا رہتا تھا خود وہی خبر بنتے بنتے رہ گیا۔واپڈا کی جانب سے میڈیا ٹیم کو تربیلا ڈیم لے جایا گیا اس میں اے پی پی کے فاروق نثار۔ مارننگ نیوز کے سجاد کرمانی، جنگ کے فاروق شاہ، نوائے وقت کے عارف نظامی، مشرق کے ”حیا اسلام انصاری اور دیگر ممتاز صحافی شامل تھے۔ تربیلا ڈیم پر واقع ریسٹ ہاؤس میں مجھے جو کمرہ ملا اس کی کھڑکی جھیل کی جانب کھلتی تھی۔ رات کو کھانے کے بعد میں کھڑکی کھول کر اور سیلنگ فین چلا کر بیڈ پر لیٹ گیا۔ جون کے شدت کی گرمی کے دن تھے۔کھڑکی سے آنے والی خنکی آمیز ہوا پنکھے کی ہوا سے مل کر کمرے میں فرحت بخش ٹھنڈک کا احساس دلا رہی تھی۔ جلد ہی نیند کی وادی میں گم ہو گیا۔ نصف شب کے قریب شدید اذیت کے احساس سے آنکھ کھلی تو یواں لگا جیسے کوئی غیر مرئی قوت اپنے آہنی ہاتھوں سے پیٹ اور سینے کے درمیانی حصے کو پکڑ کر مروڑے دے رہی ہے جو لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جا رہی ہے۔ اس دوران بازو اور ٹانگیں بالکل مفلوج ہو کر رہ گئیں۔ پوری قوت سے بازؤ اور ٹانگیں ہلانے کی کوشش کرتا مگر بے سود۔ لیکن ذہن جاگ رہا تھا۔خیال آیا یہ کھڑکی سے آنے والی ٹھنڈی ہوا ہے جو سیلنگ فین کی ہوا سے مل کر حشر سامان بنی ہوئی ہے۔ اب پوری کوشش تھی کہ کسی طرح بستر سے اٹھ کر کھڑکی اور پنکھا بند کردوں۔ اس دوران شدید اذیت ناک انداز سے پیٹ کے بالائی حصے کو مروڑے دینے کا عمل جاری تھا۔ ادھر میں بازو اور ٹانگیں ہلانے کی کوشش کر رہا تھا اور مجھے یوں محسوس ہوا، جس طرح خبریں چھپتی ہیں، نامعلوم شخص سردی سے ٹھٹھر کر مر گیا میرا بھی یہ حشر ہونے والا ہے۔ خیر کافی دیر شاید ایک گھنٹہ یا زائد بازو اور ٹانگیں ہلانے کی جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں خود کو بیڈ سے فرش پر گرانے میں کامیاب ہو گیا۔ تقریباً پندرہ سولہ منٹ پیٹ کے بل فرش پر پڑے رہنے کے بعد اٹھ کر کھڑا ہونے کے قابل ہوا مگر ٹانگیں بری طرح لڑکھڑا رہی تھیں بمشکل کھڑے ہو کر پنکھا بند کیا۔ اس سے سردی کی شدت میں بہت تھوڑا سا فرق محسوس ہوا۔اس کے باعث دیوار کا سہارا لے کر گھسٹتا ہوا کھڑکی تک پہنچا اور بڑی مشکل سے اسے بند کیا۔ اس دوران یخ بستہ ہوا کے تھپیڑے جسم کو بے جان رکھنے کیلئے حملہ آور ہوتے رہے کیونکہ جون کا مہینہ تھا۔ کپڑے بھی ٹھنڈے تھے اور کمرے میں کمبل یا موٹی چادر نہیں تھی جسے اوڑھا جا سکے چنانچہ بیڈ کی بجائے زمین پر بیٹھ کر بقیہ ساری رات ٹھٹھرتے ہوئے گزاری اور ہر پندرہ بیس منٹ کے بعد شدت سے پیشاب نے چین سے نہ رہنے دیا جو تربیلا سے راولپنڈی تک واپسی میں بڑی اذیت کا باعث بنا رہا۔ راستے میں دو مرتبہ بس رکوا کر پھر ہوائی جہاز میں راولپنڈی سے لاہور تک یہ اذیت جاری رہی۔ لاہور ائرپورٹ کے واش رومز میں یہ سلسلہ چلتا رہا۔ واپسی پر میڈیا ٹیم کیلئے واپڈا ہاؤس میں  ظہرانے کا اہتمام کیا گیا تھا مگر میں نے فوری طور پر گھر پہنچانے پر اصرار کیا۔ گھر پہنچ کر اپنی مرحومہ اہلیہ کو اس صورتحال سے باخبر کیا تو انہوں نے فوری طور پر مٹی کے تیل کا چولہا جلا کر کپڑے سے کافی دیر پیٹ کی سکائی کی تب تھوڑا آرام ملا۔تربیلا ریسٹ ہاؤس کے کمرے میں کافی دیر تک ٹھنڈی ہوا نے جس طرح پیٹ میں مروڑیاں دیں اور جس اذیت میں مبتلا کیا اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ برس ہا برس گزر گئے اب بھی سردی شدت اختیار کرے تو میرے پیٹ میں درد اٹھنے لگتا ہے اور یہ اس ٹھنڈک کے اثرات ہیں ہر سردی میں ہزار احتیاط کے باوجود مجھے نزلہ، زکام ضرور ہوتا ہے۔
٭٭٭
غلام نبی بھٹ کہتے ہیں 
یہ 2009ء کی بات ہے میں ایک کام کے سلسلے میں الفلاح چوک تک آیا ہوا تھا، اس دوران مجھے سینے میں ہلکے ہلکے درد کا احساس ہوا جو رکشہ میں گھر جاتے ہوئے کچھ زیادہ ہو گیا۔ میں 25 منٹ میں گھر پہنچا تو بقول فیض دل وحشی اس زور سے دھڑکا کہ قیامت کر دی والی حالت تھی۔ میں نے اپنے بیٹے سے کہا مجھے زیفینول بلڈ پریشر کی گولی اور ایک ڈسپرین دیدے،وہ کھا کے بھی آرام نہ آیا تو بیٹے نے اپنی والدہ کو فون کر کے آفس سے بلایا اور اس کے ساتھ 1122 پر کال کر دی۔ میری اہلیہ اس سے پہلے پہنچیں، انہوں نے فوراً مجھے گاڑی میں بٹھایا اور بیٹے کو ساتھ لے کر میو ہسپتال قریب تھا روانہ ہوئیں۔ میں سینے کے درد سے جو عین وسط میں سینے کے حلقے سے لے کر معدے تک الف کی شکل میں ادھم مچا رہا تھا، کی شدت سے تڑپ رہا تھا اور بار بار سینے پر ہاتھ مارنے لگا۔ 1122 والوں کی ایمبولینس آ نہ سکی تھی انہوں نے بھی فوری طور پر قریبی ہسپتال کا مشورہ دیا۔ جونہی ہسپتال پہنچا ایمرجنسی وارڈ میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے شاید میری حالت یا کیفیت دیکھ کر فوراً مجھے چیئر پر بٹھا دیا اور ای سی جی کرائی تو کنفرم ہوا مجھے انتہائی شدید دل کا دورہ پڑا ہے اور میرے بچنے کی امید بہت کم ہے۔ اب انہوں نے مجھے حرکت سے سختی سے منع کر کے سٹریچر پر ڈال کر آئی سی یو وارڈ میں منتقل کر دیا جہاں سرعت کے ساتھ ڈاکٹروں نے ڈرپ لگائی اور فوری طبی امداد شروع کر دی۔ دل کی دوائیاں اور انجکشن اپنی جگہ، میں تابوت نما چاروں طرف سے جنگلے والے بیڈ پر لیٹا تھا۔ سینہ درد سے پھٹا جا رہا تھا۔ 10 بجے تکلیف شروع ہوئی۔ گیارہ بجے کے قریب میں ہسپتال میں تھا۔ ایک بجے تک حالت انتہائی خراب ہو چکی تھی۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، یہ کیا ہو رہا ہے، درد کے سوا کچھ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ کوئی رشتہ دار آ کر درود شریف پڑھ کر مجھے پھونک مارتا۔ کوئی تیسرا کلمہ، کوئی تسبیح پڑھ کر،کوئی سورۃ پڑھ کر پھونکیں مارتا رہا۔ اتنے میں ایک خاتون ڈاکٹر نے آ کر مجھے کہا آپ سینے پر ہاتھ نہ رکھیں، اس وقت آپ کے اور اللہ کے درمیان کوئی تیسرا نہیں ہے، اسے یاد کریں وہی سب کی سنتا ہے۔ میرے گھر والوں سے کوئی مجھے کلمہ کی تلقین کرتا کوئی درود شریف کی مگر نجانے کیوں یہ میری زبان پر نہیں چڑھ رہے تھے۔ سانسیں اوپر نیچے ہو رہی تھیں۔ کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کیا کروں یا پڑھوں، بس خود بخود زبان پر آیت کریمہ چلنا شروع ہو جاتی اور کلمہ و درود شریف یاد کرنے پر پڑھنے کی خواہش کے باوجود میں ”لاالہ الا انت……“ ہی پڑھتا اور کچھ یاد نہیں آتا۔ صرف سیدنا حضرت یونسؑ کے مچھلی کے پیٹ سے صحیح و سلامت نکلنے کا واقعہ ذہن سے چپک گیا تھا اور میرا ایمان پختہ ہو رہا تھا کہ میں بھی اس خطرناک درد سے بچ نکلوں گا۔ شام 4 بجے مجھے خصوصی طور پر پنجاب کارڈیالوجی شفٹ کیا گیا حالانکہ میو ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ایمبولینس میں سفر تو کجا سٹریچر پر لے جانے کی بھی اجازت دینے سے انکار کیا تھا مگر اوپر کے احکامات پر مجبوراً انہوں نے اجازت دی۔ کارڈیالوجی والے ڈاکٹرز میں سے ڈاکٹر پرکاش کا نام اس لئے یاد ہے کہ انکا تعلق مجھ سے بلوچستان سے تھا۔انہوں نے حیرانگی کا اظہار کیا کہ اتنے شدید درد کے بعد مریض بچ کیسے گیا۔ میو ہسپتال والوں نے اسے اتنی زبردست اور بہتر ٹریٹمنٹ کیسے دی۔ کارڈیالوجی کا حال ہی جدا تھا۔ ہر لمحے کوئی نہ کوئی دل کا مریض جاں سے گزر جاتا تو اہلخانہ میرے چہرے پر کپڑا رکھ دیتے کہ میں نہ دیکھوں۔ مجھے مشینوں پر منتقل کیاگیا۔ شام 7 بجے آیت کریمہ اور میرے دل کے دورے میں مقابلہ جاری رہا۔ میں زندگی اور موت کے درمیان میں معلق اپنی زندگی کے فیصلے کا منتظر بیڈ پر پڑا اپنے اہلخانہ اور ڈاکٹروں کی محبتوں اور چاہتوں کو محسوس کر رہاتھا۔8 بجے ڈاکٹروں نے دورہ مکمل یا ختم ہونے کی خبر دی اور گھر والوں سے کہا کہ آپ کا مریض بچ گیا ہے۔ یہ 8 یا نو گھنٹے کا وقت صدیوں کا سفر لگتا تھا۔ جب زندگی نے دعاؤں نے بھرپور جنگ لڑ کر مجھے دست قضا سے اچک لیا میں آج تک اسے آیت کریمہ کا معجزہ ہی کہتا ہو کہ آج بھی دورے کے ہاتھوں 60 فیصد ناکارہ دل کے ساتھ میں ایک سٹنٹ لگا کر خدا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔ 
دوسراہولناک واقعہ بھی ملاحظہ فرمائیے۔1992ء میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما امان اللہ خان نے کنٹرول لائن توڑ کر کشمیر چلو لانگ مارچ کی کال دی۔ میں اس وقت راولپنڈی میں اپنی اہلیہ کے ساتھ آیا ہوا تھا۔ 11 فروری کا دن مقرر تھا۔ میں خاموشی سے 9 فروری کو مظفر آباد میں ضروری کام کا کہہ کر روانہ ہوا۔ مری سے آگے عجب حال تھا۔ کوہالہ جانے والوں کی جگہ جگہ تلاشی ہو رہی تھی۔ میرا شناختی کارڈ کوئٹہ بلوچستان کا ہے۔میں سرکاری کام کا بہانہ بنا کر بچتا رہا۔ کوہالہ پل عبور کرنا مشکل ترین مرحلہ بن گیا۔بس چھت تک بھری ہوئی تھی کیونکہ 9 فروری کے بعد سے ہی آزاد کشمیر جانے والی ٹریفک بند کی جا چکی تھی۔ کوہالہ پار سڑک تنگ ہے۔ ایک طرف دریائے جہلم کی گہری کھائیاں اوپر سے سردی اور بارش سے لینڈ سلائیڈنگ۔خدا خدا کر کے شام کو 3 گھنٹے کا سفر 12 گھنٹے میں طے کر کے اپنے دوست اور مہربان چک صاحب کے گھر پہنچا رات بسر کی، صبح جلسہ ہوا۔ اپر اڈا مظفر آباد میں امان خان کے خطاب کے بعد چل سو چل۔ ہزاروں کشمیری بزرگ و جواں نعرے لگاتے حکومتی رکاوٹیں عبور کرتے، بلاسٹ شدہ سڑکوں کو پھلانگتے آگے بڑھ رہے تھے۔ گڑھی ڈوپٹہ اور چکوٹھی تک پیدل سفر جاری رہا، نہ بھوک نہ پیاس کا احساس۔ لبریشن فرنٹ کے کئی دوست راستے میں ملتے رہے۔ رات کو چکوٹھی پہنچے جہاں قائد اعظم کے تاریخی ریسٹ ہاؤس میں قیام کیا۔ صبح آگے بڑھے تو پولیس نے فائرنگ کر کے جلوس روکنے کی کوشش کی۔ بپھرے ہوئے کشمیری پہاڑوں پر چڑھ گئے اور کئی مقامات پر پولیس کو بھگادیا۔ اس دوران ایک طرف گولیاں چل رہی تھیں اوپر سے پتھراؤ بھی ہو رہا تھا۔ میرے ساتھ ایک نوجوان چل رہا تھا۔ میں پہاڑ ی سائیڈ کی اوٹ لے کر آگے چل رہا تھا مگر وہ دیوانہ وار سامنے ڈھوک سیداں موڑ پر جانے کیلئے بے چین تھا۔ آگے جہاں بڑھنا ممکن نہیں تھا اچانک میرے سامنے ایک گولی اس کے سینے میں لگی اور درد کی شکن اس کے ماتھے پر ابھری تو میں نے بھاگ کر اسے سنبھالا۔اس کے چہرے پر ایک ابدی سکون ابھرا۔ آنکھوں میں ان گنت سوالات تھے مگر لب ہلانے کی اجازت سلب ہو چکی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کا وجود سفید پڑ گیا اور میرے چاروں طرف جیسے وقت تھم کر رہ گیا۔ اس سے میری ریڑھ کی ہڈی میں سردی کی شدید لہر دوڑ گئی۔ وقت کی احساس تھم گیا وہ نوجوان میرے ہاتھ میں اطمینان کے ساتھ بنا کسی دکھ درد شور یا واویلے کے جان جان آفرین کے سپرد کر گیا۔ اتنی خاموشی سے موت آتی ہے مجھے آج تک اس کا یقین نہیں آ رہا مگر اس کی موت نے مجھے کسی قدر موت کے خوف سے آزاد کردیا۔ اسے فوراً دستیاب جگہ پر ایمبولنس کے ذریعہ چکوٹھی ڈی ایچ اے میں ساتھ آیا۔وہاں ایک کشمیری لڑکی نرس تھی اور سارے زخمیوں کو سنبھال رہی تھی۔ اس دوران ایک دو اور نعشیں بھی آئیں میں خود ان کے سینوں میں گولیاں پیوست دیکھیں۔ ان کے جسم لہولہان تھے جسم سفید پڑ چکے تھے۔ آنکھیں اور دل موت کے خوف سے بے نیاز تھے۔ اس دن مجھے موت اور مردے کے خوف سے نجات حاصل ہوئی اور پتہ چلا کہ جو لوگ اپنے مقاصد کیلئے جان قربان کرتے ہیں وہ نہایت تسلی سے بے خوف ہو کر موت کو گلے لگاتے ہیں ……
ایک اور واقعہ بھی ملاحظہ کیجیے؛1980ء میں مجھے میو ہسپتال کے سرجیکل یونٹ میں والد صاحب زبردستی پکڑ کر لائے جہاں ڈاکٹر شمیم نے میری ریڑھ کی ہڈی کے قریب بار بار نکلنے والے پھوڑے (پینڈل سیکسن) کو دیکھ کر فوری سرجری کا مشورہ دیا۔ اس سے قبل انہوں نے والد صاحب کے کہنے پر تین ماہ ادویات بھی استعمال کرائیں مگر آرام نہیں آیا۔ یہ پھوڑا عرصہ تین سال سے وقفے وقفے بعد بنتا پکتا اور پھٹ جاتا تھا جس سے زخم میں سے خون اور پانی بہتا رہتا تھا۔
    ڈاکٹر شمیم نے کہہ دیا تھا کہ سو برس بھی علاج کرائیں بالآخر اس کی سرجری ہی کرناہو گی جتنی تاخیر کریں گے اتنا ہی نقصان زیادہ ہو گا۔ میں اور والد صاحب پریشان تھے کہ خطرناک سلسلہ نہ ہو جائے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا بس معمولی آپریشن سے آدھ گھنٹے میں فارغ ہوں گے۔
    مقررہ دن میو ہسپتال امرتسر وارڈ میں صبح پہنچا۔ وہاں سے 10 بجے آپریشن تھیڑ لایا گیا۔ آپریشن تھیٹر میں میرے سامنے دو یا تین اور بھی مریضوں کے آپریشن ہو رہے تھے۔ دو اور مریض میرے ساتھ باری کے انتظار میں تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے بکرے ذبح ہونے کے انتظار میں ہیں۔ ایک مریض تو بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ دوسرے کی حالت بھی غیر ہو رہی تھی۔ میں صبر و ضبط کیے بیٹھا تھا 21,20 سال کی عمر میں ویسے ہی حوصلے بلند ہوتے ہیں۔ میری باری آئی تو صحت مند ہونے کی وجہ سے بے ہوشی کے انجکشن نے زیادہ کام نہ کیا تو میری کمر کی ہڈی میں الیکٹرک شاک لگا کر نچلا دھڑا سن کر دیا گیا۔ جھٹکا اتنا شدید تھا کہ میں دہل کر رہ گیا۔ اس کے بعد اوندھے منہ لٹایا گیا تو صرف میرا دماغ اور آنکھیں زندہ محسوس ہوئیں باقی جسم مردہ ہو چکا تھا۔ ڈرپ لگی ہوئی تھی تین ڈاکٹر آپریشن میں مصروف تھے۔ ایک نرس سرہانے کھڑی مجھ سے حال پوچھتی رہی۔ ذرا سی مد ہوشی پر ڈرپ تیز کر دیتی۔ مجھے یوں لگ رہا تھا کہ میری کمر کوئی کدال مار مار کر کھود رہا ہے۔ زندگی دور کھڑی مسکراتی اور موت سر پہ کھڑی مجھے آہستہ آہستہ سلاتی محسوس ہو رہی تھی۔ وقت، ادراک، احساس اور لمس یہ سب مجھ سے دور جا چکے تھے۔ لمحات صدیوں کی شکل اختیار کر گئے۔ سانسوں کا زیروبم مدہم ہوتا پھر ابھرتا…… یہ کشمکش جاری تھی کہ آپریشن ختم کرکے مجھے سیدھا لٹایا گیا تو ڈاکٹر شمیم نے باہر لے جانے کا حکم دیا اور مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا تو میں نے غنودگی کے عالم میں ان سے کہا ڈاکٹر صاحب پلیز میرا پاجامہ اوپر کر دیں باہر والد صاحب کھڑے ہیں۔ یہ سن کر وہ باقاعدہ ہنس پڑے۔ باہر لایا گیا تو والد صاحب پریشانی کے عالم میں مجھے پکارتے محسوس ہوئے مگر مجھے زیادہ ہوش نہیں تھا۔ اتنے میں ہمارے ایک کشمیری بزرگ ماھدو (محمود کا مخفف کشمیری میں) جو ایک آنکھ سے نابینا تھے۔ نے آ کر میری آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور آواز دی تو مارے خوف کے یوں جان نکل گئی کیونکہ میں سمجھا یہ موت کا فرشتہ ہے۔ پھر خیال آیا وہ ایک آنکھ والا نہیں ہوگا۔ کہیں یہ دجال تو ظاہر نہیں ہو گیا۔ مگر میں کچھ نہیں کر سکا بے، سدھ ہی رہا۔ بعد میں پتہ چلا کون کون آیا تھا۔ آپریشن تین بجے ختم ہوا یعنی پانچ گھنٹے جاری رہا۔ یوں ذرا سی غفلت اور ڈاکٹر کو بروقت نہ بتانے پر یہ خطرناک پینڈل سکسن جان بھی لے سکتا تھا۔ پانچ سنٹی میٹر گہرا اور اتنا کمر کے ہی ارد گرد سے گوشت کاٹ کر نکالا گیا جو بعد ازاں کینسر بھی بن سکتا تھا۔ اس سے میں بچ نکلا۔ مگر تین ماہ بستر پہ رہا۔ زندگی نے پہلی مرتبہ مجھے موت کے چنگل سے اچک لیا۔ 
٭٭٭
یسین وٹو کہتے ہیں کہ انہوں نے ویسپا سکوٹر نیا لیا اور ابھی چلانا سیکھنے کے مراحل میں تھا۔ ایک روز اہلیہ کو ساتھ بٹھا کر لے جا رہے تھے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ بائیں مڑنے کیلئے ہاتھ سے اشارہ کرنا پڑتا ہے۔میں بے دھیانی میں دائیں مڑ گیا۔ پیچھے سے ٹرک آ رہا تھا۔ اس کی ٹکر سے ہم کہاں اور سکوٹر کہاں۔ سکوٹر کا تو ستیاناس ہو گیا۔ اس کے دو تو بڑے ٹکڑے ہوئے۔ کئی چھوٹے ٹکڑے بھی بکھرے ہوئے تھے۔ جہاں میں نے اہلیہ نے خود کو زندگی اور موت کے دروازے پر پایا تاہم ہم دونوں زخموں سے بالکل محفوظ رہے۔ میں اسے آیت الکرسی کا اعجاز سمجھتا ہوں۔ میں پچاس سال سے روزانہ 170 بار آیت الکرسی کا ورد کرتا ہوں۔ اس کی برکت سے ہر آزمائش سے سرخرو ہوتا ہوں اور ایسے حادثات میں محفوظ رہتا ہوں۔ 
کچھ لوگوں سے سنا ہے کہ یاحی یا قیوم کہنے سے بھی انسان کئی ابتلاؤ اور بلاؤں سے محفوظ رہتا ہے۔ ایک عالم دین بتا رہے تھے کہ پانچ وقت نماز کے لئے وضو کرتے ہوئے مسواک کی عادت اور مسواک جیب میں ہو تو انسان حادثات میں محفوظ رہتا ہے۔ حادثات سے بچنے کیلئے سوار ہونے سے قبل سورہ الزمر کی آیت 67 پڑھ لی جائے تو انسان کسی بھی حادثے سے دو چار ہونے سے بچ جاتا ہے۔ یہ آیت وما قدرواللہ حقاقدری سے شروع ہوتی ہے۔
٭٭٭
 معظم شفیع کا تعلق پنجاب کی تحصیل نوشہرہ ورکاں سے ہے۔اپنے انٹر ویو میں وہ بتاتے ہیں کہ کیسے سمندری لہروں کی محفوظ رہ سکے”پاکستان میں جائیداد کے معاملے پر ہماری دیرینہ دشمنی چل رہی تھی۔ کئی مہینے پہلے میرے بہنوئی کو قتل کر دیا گیا تھا۔ مخالفین مجھے بھی قتل کرنا چاہتے تھے۔ ہمارے مخالفین کا تعلق حکومتی جماعت سے تھا۔ پاکستان میں پولیس بھی اُسی کی ہوتی ہے جو اقتدار میں ہوتا ہے۔ پولیس بذات خود میرے لیے خطرہ تھی۔اس صورت میں میرے لیے روپوش ہو جانے یا پھر پاکستان چھوڑنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔
 میرے ایک جاننے والے نے کہا کہ وہ مجھے دبئی، سعودی عرب یا لیبیا بھیج سکتا ہے لیکن سب سے جلد ویزا لیبیا کا ملتا ہے۔ میں نے فوراً لیبیا جانے کے لیے ہاں کہہ دی۔ مجھے نہیں پتہ کہ اُس کے انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے کن لوگوں کے ساتھ رابطے تھے لیکن میں نے اُسے تقریبا تین ہزار یورو کی رقم دی اور ایک ہفتے کے اندر اندر اس نے بزنس ویزا لگوا کر میرا پاسپورٹ مجھے واپس کر دیا۔ پہلے میں دبئی پہنچا اور دبئی سے لیبیا جہاں ہمارے علاقے کے پہلے ہی درجنوں لڑکے موجود تھے۔ لیبیا پہنچ کر میں سب سے پہلے اپنے علاقے کے جاننے والوں کے پاس گیا۔ وہاں کے حالات میری توقع سے بھی زیادہ خراب تھے۔ میرے وہاں پہنچنے کے کچھ روز بعد ہی لیبیا کے چند مسلح لڑکے ہمارے فلیٹ میں گھس آئے۔ انہوں نے ہم سب سے جتنے بھی پیسے تھے، چھین لیے۔ ہمارے پاسپورٹ، موبائل فون، سبھی قیمتی سامان وہ ساتھ لے گئے۔ یہاں بیٹھ کر لیبیا کے حالات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ وہاں کے بچے بھی آپ کو جس وقت چاہتے مارنا شروع کر دیتے  اور آپ یہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتے۔ وہاں کے مسلح گروپ ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے تھے۔ جس کو چاہتے تھے قتل کر دیتے۔ قیمتی سامان کی چوری کے بعد میرے ذہن میں سب سے پہلا خیال یہی آیا کہ میں موت سے ڈر کر لیبیا آیا تھا اور ادھر بھی موت ہی کا سامنا ہے۔
 لیبیا ہی میں موجود ایک پاکستانی لڑکے نے کہا کہ وہ شامی پناہ گزینوں کے ہمراہ ہمیں بھی اٹلی بھجوا سکتا ہے۔ اس نے مجھ سے تقریباً ایک ہزار یورو مانگے۔ پاکستان میں میرے گھر والوں نے اس کے پاکستان میں موجود بھائی کو پیسے دیئے اور وہ ہمیں لیبیا کے (ساحلی شہر) زوارہ اُن ایجنٹوں کے پاس چھوڑ گیا۔ جو لوگوں کو اٹلی پہنچاتے تھے۔
جہاں سے کشتی پرسفر کیا۔کشتی پر سوار زیادہ تر افراد کا تعلق شام سے تھا۔ ان میں بچے بھی تھے۔ بوڑھے بھی اور خواتین بھی۔ ان کی مجموعی تعداد تقریباً اسّی کے قریب ہوگی۔ بیس کے قریب مردوں کا تعلق افریقی ملکوں سے تھا جبکہ ہم چوالیس لڑکوں کا تعلق پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے تھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ ہمارا سفر رات تین بجے کے قریب شروع ہوگا۔ لکڑی کی کشتی تھی۔ جو راستے میں دو مرتبہ خراب ہوئی اور ہمیں یوں لگتا تھا کہ چند ہی منٹوں بعد ہم سمندر میں ڈوب جائیں گے۔ دونوں مرتبہ ہم نے ہوا میں سفید کپڑے لہراتے ہوئے راستے میں آتے جاتے بحری جہازوں سے مدد طلب کی۔ ہماری قسمت اچھی تھی کہ دونوں مرتبہ ہمیں مدد مل گئی ورنہ ہم سب نے وہیں ڈوب کر مر جانا تھا۔ بچے اور خواتین کشتی کے اوپر والے حصے میں تھے جبکہ زیادہ تر مرد کشتی کے نچلے حصے میں تھے۔ جونہی بڑی بڑی لہریں آتیں۔ نچلے حصے میں پانی بھرنا شروع ہو جاتا۔ کشتی کا انجن بھی اُسی جگہ رکھا ہوا تھا۔ دھوئیں اور گرمی کی وجہ سے سانس لینا مشکل  تھا۔ جگہ تنگ تھی۔ لوگ زیادہ تھے۔ جب آپ کو سولہ گھنٹے اسی طرح گزارنا پڑیں تو آپ کو زندہ بچ جانے کی امید ہی زندہ رکھ سکتی ہے اور کبھی کبھار وہ بھی ختم ہو جاتی تھی۔ دوسری مرتبہ کشتی خراب ہوئی تو انجن میں تیل ہی ختم ہو چکا تھا۔ بڑی بڑی لہریں آتی تھیں اور آپ کی کشتی ہچکولے کھاتی ہوا کی سمت میں جانا شروع ہو جاتی تھی۔ میں نے موت کو اتنے قریب سے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ لہریں بہت بڑی تھیں اور یوں لگتا تھا کہ ابھی کشتی ڈوب جائے گی۔ بچے بھی رو رہے تھے۔ خواتین بھی اور بوڑھوں کے بھی آنسو نکل رہے تھے۔ شاید سبھی یہی سمجھ رہے تھے کہ ہم ڈوب جائیں گے۔
 تب میں نے پہلی مرتبہ سوچا تھا کہ کہاں مرنا بہتر ہوتا؟ پاکستان میں یا وہاں سمندر میں؟ میں سوچ رہا تھا کہ شاید آج کے بعد میں اپنے بچوں کو نہیں دیکھ پاؤں گا اور وہ ہمیشہ میری تصویر ہی دیکھا کریں گے۔ ابھی بہت چھوٹے ہیں۔ میں نے پہلی مرتبہ سوچا کہ اگر مرنا ہی تھا تو میں اپنے بیوی بچوں اور والدین کے پاس مرتا۔ کم از کم وہ میری لاش تو دیکھ سکتے تھے۔ یہاں تو میری لاش بھی مچھلیاں کھا جائیں گی۔
تقریباً سولہ گھنٹے کے سفر کے بعد اٹلی کی بحریہ کے ایک جہاز نے ہمیں بچایا۔ ہم تین دن تک اس اطالوی بحری جہاز پر رہے۔ وہ ہمیں کھانے پینے کے لیے کچھ نہ کچھ دے دیتے تھے اور جب ہم اٹلی پہنچے تو اس وقت تک ہمارے چہروں کی جلد تک پھٹ چکی تھی اور یوں لگتا تھا کہ نمک ہماری آنتوں تک میں پہنچ چکا ہے۔ میں چند دن اٹلی میں ٹھہرا اور پھر بذریعہ ریل گاڑی جرمنی پہنچ گیا۔ مجھے پتہ چلا تھا کہ جرمنی میں تارکین وطن کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ میری جان کو اب کوئی خطرہ نہیں لیکن انسان کو یہاں آ کر پتہ چلتا ہے کہ یہاں کے اپنے مسائل ہیں۔ میں ایک مخصوص علاقے سے باہر نہیں جا سکتا۔ مجھے کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ میں کوئی اچھی رہائش کرائے پر نہیں لے سکتا۔ پاکستان میں میرے پاس رقم ہے لیکن میں یہاں سرمایہ کاری نہیں کر سکتا۔ میں جس جگہ رہتا ہوں۔ وہ شہر سے ستّرہ کلومیٹر دور ہے اور شہر کے لیے دن بھر میں صرف ایک مرتبہ بس چلتی ہے۔ مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ جرمنی میں مقامی باشندے ہم جیسوں کے مقابلے میں اپنے کتوں کی زیادہ قدر کرتے ہیں۔“
٭٭٭
لاہور چیمبر آف کامرس کے راشد یعقوب کہتے ہیں ”یہ اُس وقت کی بات ہے جب میری عمر 20-21سال کے لگ بھگ ہوگی۔ شام کا وقت تھا مجھے 102کے لگ بھگ بخار تھا۔ گھر والوں نے چچا کے گھر کسی تقریب میں جانا تھا۔ اگرچہ امی نہیں جارہی تھیں مگر میں نے ضد کرکے انہیں بھی بھیج دیا۔ بستر میں لیٹا اور تھوڑی ہی دیر بعد بخار کی شدت مزید تیز ہوگئی۔ اگرچہ نیم بے ہوشی کی سی کیفیت تھی مگر میں نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ چار آدمی جنہوں نے سروں پر سفید پگڑیاں پہنی تھیں اور لمبی سیاہ داڑھیاں تھیں اُن میں سے دو نے میری ٹانگیں اور دو نے بازو پکڑ رکھے تھے۔ کوشش کرنے کے باوجود میں ہلنے جلنے سے بالکل قاصر تھا۔ تب میں نے سوچا کہ میرا آخری وقت آن پہنچا ہے اور شاید یہ فرشتے میری روح قبض کرنے والے ہیں۔ مجھے اللہ تعالیٰ کے نام۔ کلمہ مبارک اور جو کچھ بھی یاد تھا میں نے پڑھنا شروع کردیا۔ یہ کیفیت پندرہ سے بیس منٹ تک رہی ہوگی اور اس عرصہ کے دوران میں کوشش کرنے کے باوجود بالکل بھی نہیں ہل پایا۔ پندرہ بیس منٹ بعد اچانک میری نظروں کے سامنے سے وہ لوگ غائب اور جسم آزاد ہوگیااور تھوڑی دیر بعد میں اس قابل ہوگیا کہ خود اُٹھ کر ڈاکٹر کے پاس جاسکوں۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ میں نے کھلی آنکھوں کے ساتھ اُن چار اشخاص کو جو پتہ نہیں کون تھے اپنی ٹانگیں اور بازو دبوچے اور پھر کھلی آنکھوں کے ساتھ غائب ہوتے دیکھا تھا۔“ 

٭٭٭
سن رکھا تھا کہ رحمت شاہ آفریدی کے دو بیٹے جہاز سے گر گئے تھے جو بالکل محفوظ رہے۔ پرواز کے دوران ان دو کی جڑواں سیٹ گری تھی۔ جلیل آفریدی نے ایک ملاقات میں اس حادثے کی تصدیق کی۔ ایڈیٹر سلیم بخاری صاحب سے عموماً روزانہ مینجنگ ڈائریکٹر سے میٹنگ کے دوران ملاقات ہوتی ہے۔ اس میٹنگ کے بعد ہم نوائے ایڈیٹوریل کے ممبر سعید آسی،  راقم فضل حسین اعوان، غلام نبی بھٹ اور امتیازاحمد تارڑ عموماً بخاری صاحب کے آفس چلے جاتے یا وہ سعید آسی صاحب کے آفس آجاتے۔ جہاں ایڈیٹوریل کے موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوتی۔ دیگر متعلقہ اور غیر متعلقہ معاملات بھی زیر بحث آتے۔ بخاری صاحب رحمت شاہ آفریدی کا کبھی کبھی تذکرہ کرتے۔ دونوں کے مابین اچھے تعلقات رہے ہیں۔ میں نے زیر نظر کتاب کے سلسلے میں رحمت شاہ آفریدی سے ملنے کے لئے بخاری صاحب سے بات کی۔انہوں نے ہم سب کی موجودگی میں آفریدی صاحب کو فون کیا۔ جس سے دونوں میں بے تکلفی کا اظہار ہوتا تھا۔ آفریدی صاحب نے کہا جب بھی چاہیں چلے آئیں۔ بخاری صاحب نے کہا فضل اعوان آپ کے پاس آئیں گے میں بھی ساتھ آنے کی کوشش کروں گا۔ اگلے روز 4 اپریل 2016ء کو میں کام سے فارغ ہو کر بخاری صاحب کے آفس گیا تاکہ ان کے پاس وقت ہو تو آفریدی صاحب کے پاس چلے جائیں۔ 

بخاری صاحب آفس میں نہیں تھے اس لئے میں اکیلا ہی چل پڑا۔ آفریدی صاحب کا آفس بھی شاہراہ فاطمہ جناح پر سید عنایت شاہ قادری(بابا بلھے شاہ کے مرشد) کے مزار کے ساتھ ہی ہے۔ میں چند منٹ میں وہاں پہنچ گیا۔ آفریدی صاحب بڑے تپاک سے ملے۔ میں نے جہاز سے ان کے بیٹوں کے گرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا ”جہاز پشاور ائیرپورٹ پر لینڈ کرنے کی بجائے اس سے 5۔ 6 کلومیٹر کے فاصلے پر پرانے رن وے پر اترنے کے دوران کریش ہو گیا۔ جس میں صرف 6 مسافر بچ پائے ان میں میرا بڑابیٹا 12 سالہ محمود اور تیسرا 3 سال کا بلال بھی شامل تھا۔ دونوں بالکل محفوظ رہے۔
رحمت شاہ آفریدی سے پوچھا کہ کیا ان کے ساتھ کبھی ایسا ہوا کہ موت سامنے نظر آئی ہو۔ انہوں نے بتایا”کئی بار ایسا ہوا۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے اس لئے میں اس سے کبھی خائف نہیں ہوا۔ انسان کے مرنے اور زندہ رہنے کا انحصار اس کے اپنے کردار پر ہے۔ کئی کا کردار مرنے کے بعد بھی ان کو زندہ رکھتا ہے کئی زندہ ہوتے ہوئے بھی مردار ہوتے ہیں۔ میں نے افغان جہاد میں حصہ لیا۔ روسی ہیلی کاپٹر اور جہاز بمباری کرتے تھے۔ گلبدین حکمت کے والد اور ایک بھائی میرے سامنے بمباری کا نشانہ بنے۔ دونوں نے میرے ہاتھوں میں دم توڑا۔ مجھے بھی زخم آئے ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی۔ اب بھی سیدھا نہیں بیٹھ سکتا۔ اس کے علاوہ بھی موت کو شہہ رگ کے قریب محسوس کیا۔ مجھے 20 کلو منشیات کے کیس میں سزائے موت ہوئی۔ میں نے رحم کی اپیل نہیں کی۔ بے نظیر بھٹو مجھ پر اعتماد کرتی تھیں۔ 90ء میں ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی جو میں نے ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 17 ایم این ایز کی ضرورت تھی۔ فاٹا کے 8 میں سے 7 میں نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ کھڑے کر دیئے۔ بے نظیر بھٹو پریشان تھیں۔ خاص الخاص لیڈروں سے بات کی تو مایوسی ہوئی۔ میری طرف محترمہ نے دیکھا تو میں نے کہا فکر نہ کریں۔ نواز شریف ممبران کو خرید نہیں سکیں گے۔ یہ پیسہ لگانے والے نہیں۔ پیسہ بنانے والے ہیں۔ آپ پیسوں کی فکر نہ کریں۔ بالآخر تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی۔میں نے بیظیر بھٹو کا ساتھ محض ان کو مظلوم سمجھ کر دیا۔ نواز شریف اقتدار میں آئے تو مجھ سے کہا گیا کہ میں بیان دوں کہ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری ڈرگ کے کاروبار میں میرے پارٹنر ہیں۔ میں نے صاف انکار کر دیا۔ ان کی طرف سے 50 کروڑ روپے اور چار پلاٹوں کی آفر کی گئی مگر میں جھوٹ بولنے پر تیار نہ ہوا تو ایجنسی کے لوگ گھر چلے آئے۔ بیان کیلئے دباؤ ڈالا۔ میرے انکار پر کہا گیا انکار کرتے ہو تو مرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ غسل کر کے کپڑے بدلنے کیلئے آدھا گھنٹہ دیا۔اس وقت بھی میرے سامنے 25کروڑ روپے رکھے ہوئے تھے۔ تیار ہونے پر مجھے گاڑی میں بٹھا یا۔ آنکھوں میں پٹی باندھ کرلے گئے۔ کہیں گاڑی کھڑی کر کے ہوائی فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ انہوں نے باور کرایا آخری بار سوچ لو۔ میں سچ کی خاطر مرنے کیلئے تیار تھا تاہم یہ لوگ مجھے واپس لے آئے۔
 منشیات کیس میں سزائے موت ہوئی۔ سزا سنانے والی عدالت نے مجھے سنا ہی نہیں۔ اپیل پر سزائے موت عمر قید میں بدل گئی اور بعد میں رہا کردیا گیا۔ میں کیمپ جیل میں تھا۔ مجھے زیادہ سے زیادہ اذیت دینا مقصد تھا۔ مجھے قید تنہائی میں رکھا گیا۔ اپنی دانست میں مزید اذیت کیلئے سپاہ محمد سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کے ساتھ دن کو بند کر دیاجاتاتھا۔ اس لئے کہ میں سنی ہوں اور شیعہ مجھے برداشت نہیں کر سکیں گے۔ مگر جہاں میرے ساتھ سلوک اس کے برعکس ہوا۔ انہوں نے مجھے ایسے رکھا جیسے ہم ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں۔ میرے لئے کاغذ اور قلم رکھنے کی پابندی تھی۔ ایک روز میرے سیل میں ایک تہہ شدہ کاغذ ملا۔ کھول کر دیکھا تو لکھا تھا ”میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ آپ کو پولیس مقابلے میں مارنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔اس پر ۵ ستمبرکو عمل ہوگا“ میں نے اس رقعے کو سنجیدہ نہیں لیا تاہم ایک دن سرسری انداز میں سپاہ محمدکے شاکر نقوی سے تذکرہ کر دیا۔ وہ بڑے پریشان ہوئے۔ انہوں نے کہا”تم سیل نمبر 11میں بند ہو یہاں سے کوئی زندہ واپس نہیں گیا۔ اس رقعے کو سنجیدہ لو اور اپنے بچاؤ کی تدبیر کرو۔“ میں نے کہا ”یہاں کیا تدبیر کر سکتا ہوں“۔
”آپ خط میں اپنے بیٹے یا کسی رشتہ دار کو عدالت سے رجوع کرنے کا کہو کہ جیل حکام کسی صورت آپ کو ایجنسیوں کے حوالے نہ کریں۔“
 ان کے اس مشورے پر میں نے کہا ”میرا خط ان تک کیسے پہنچے گا۔“
”آپ فکر نہ کریں آپ لکھیں پہنچا ہم دینگے۔“
 میرے خط پر جسٹس افتخار حسین نے نوٹس لیاان کے بھائی الطاف حسین سابق گورنرپنجاب تھے۔یوں میں یقینی مقابلے میں مارے جانے سے بچ گیا۔
میں لشکر طیبہ کے ساتھ کشمیر جہاد میں بھی حصہ لے چکا ہوں۔ جہاں میں بھوک سے مرتے مرتے بچا تھا۔ ہم مجاہدین کو ایک گاؤں میں محصور ہونا پڑا۔ تین دن تک کھانے پینے کو کچھ نہ ملا۔ پھر یوں سمجھیں خدا کی طرف سے مدد آ گئی۔ یہ گاؤں ہزاروں فٹ کی بلندی پر تھا۔ جہاں آنے سے پہلے چھ سات کلومیٹر دور اور نیچے ایک گھر میں ٹھہرے تھے۔ ان کی ایک بیٹی پلواشہ تھی۔ اسے کشمیر کاز سے محبت اور دلچسپی تھی۔ گھر میں ہمارے محصور ہونے کی باتیں ہوتی تھیں۔ پلواشہ نے یہ باتیں سن کر کسی کو بتائے بغیر گھر میں کھانے پینے کی جو بھی چیز یں تھیں اپنے کتے کے گلے میں باندھیں اور خطرہ مول لیتے ہوئے ہمارے پاس پہنچ گئی۔ اس کی آمد رحمت کے فرشتے کی آمد سے کم نہ تھی۔ وہ کھانے کا سامان نہ لاتی تو ہم لوگ جو نقاہت اور کمزوری کی آخری حدوں کو چھو رہے تھے۔جلد خالق حقیقی سے جا ملتے۔ وہ اگلی صبح تک وہاں رہی۔ واپسی پر بھارتی فوج نے پکڑ لیا۔میں بعد میں اس کے والدین سے ملا۔ان کے مطابق بھارتی فوجیوں نے اس سے پوچھا کہاں گئی اور کیوں گئی تھی۔اس نے کہا بکریاں گم ہوگئی تھیں ان کو تلاش کررہی تھی۔ اسے بدترین اور انسانیت سوزتشدد کا نشانہ بنایا گیا مگر وہ پلواشہ سے کچھ بھی نہ اگلوا سکے۔ اسے 7 سفاک فوجیوں نے ریپ کیا مگر بے سود بالآخر اسے شہید کر دیا گیا۔ پلواشہ میری زندگی کا سب سے بڑا کردار ہے۔ اس کا کردار اس ملالہ سے کسی طور پر کم نہیں جس نے پٹھانوں کو متحد کر کے انگریزوں کے خلاف لڑنے پر آمادہ کیا اور فتح حاصل کی۔ میں اسے فلسطین کی لیلیٰ خالد جیسی حریت پسند سمجھتا ہوں۔جس نے کشمیر کاز کی خاطرجہاد کے لئے آنیوالوں کو بچانے 

کے لئے اپنی جان اور ناموس قربان کرنا پڑی۔ میں اس پر فلم بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔“
 رحمت شاہ آفریدی کی حب الوطنی کے بارے میں سلیم بخاری نے بتایا تھا۔ جس کی آفریدی صاحب نے تصدیق کی۔ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو امریکہ کے دورے پر تھیں۔ امریکہ نے دفاعی سامان کی فراہمی سے انکار کر دیاتھا۔ لابیسٹ نے مشورہ دیا بلیک مارکیٹ سے یہ اسلحہ مل سکتا ہے۔ اسرائیل ایسا ملک ہے جو اس ملک کو بھی اسلحہ فروخت کر دیتا جو خواہ اس کے خلاف ہی استعمال کرنے پر کمر بستہ کیوں نہ ہو۔ بلیک مارکیٹ سے اسلحہ کی خریداری طے پا گئی۔ جہاں ادھار نہیں ہوتا۔ بینظیر بھٹو نے رحمت شاہ آفریدی کو فون کیا ”آفریدی بھائی سوا دو ارب روپے کی ضرورت ہے“۔ آفریدی کا جواب تھا آج اتوار ہے کل پیسے مل جائیں گے۔ اگلے روز سوا دو ارب روپے مالیت کے برابر ڈالر امریکہ پہنچا دیئے گئے۔ یہ نوے کی دہائی کی بات ہے۔ بے نظیر بھٹو نے وطن واپسی پر قومی خزانے سے رحمت شاہ آفریدی کو یہ رقم لوٹانا تھی مگر تھوڑے دنوں بعد ان کی حکومت توڑ دی گئی۔ اسلحہ پاکستان پہنچ گیا مگر پیسوں کا نہ کبھی آفریدی نے مطالبہ کیا نہ کسی نے دینے کی کوشش کی۔
رحمت شاہ آفریدی نے ایک اور واقعہ بیان کیا۔ کہتے ہیں۔؛”1995ء میں جنرل جہانگیر کرامت آرمی چیف اور جنرل محمود ڈی جی، ایم آئی تھے۔جنرل محمود کی طرف مجھے ملنے کو کہا گیا مگر میں نے ملنے سے معذرت کر لی۔ میرے ایک عزیز آئی ایس آئی میں کرنل تھے۔ ان کے ذریعے جنرل محمود سے ملنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی تو میں ملنے چلا گیا۔ ان دنوں پاکستان کا یوکرائن سے 400 ٹی 80 ٹینک خریدنے کا معاہدہ ہوا جو بھارت نے روس کے ذریعے یوکرائن پر دباؤ ڈلوا کر کینسل کرا دیا۔ یہ بہترین کارکردگی کے حامل ٹینک ہیں۔ پانی، کیچڑ،برف اور برفباری میں بھی دشمن کی صفوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ مجھے کہا کہ میں یوکرائن سے ٹینکوں کی درآمد میں اپنا کردار ادا کروں۔ یہ قوم و ملک کی ضرورت تھی اس لئے میں سرگرم ہو گیا۔ یوکرائن کی اوپن مارکیٹ سے خفیہ طریقے سے ٹینک خریدنے کی ڈیل پر دن رات کام کیا۔ پاکستان میں ان ٹینکوں کے لئے یوکرائن کی نمائندگی کرنل (ر) محمود کر رہے تھے۔ ان کو فوج میں کرنل مودے کے نام سے زیادہ جانا جاتا تھا۔ یہ آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کے کورس میٹ اور دوست تھے۔ میں اپنے مشن میں اپنے تعلقات اور رابطوں کے باعث کامیاب رہا۔ یوکرائن میں ٹینکوں یا اسلحہ کی ڈیل کرنیوالوں کو ایڈمرل کہتے ہیں۔ ان کی بیگمات کو میں نے 55 لاکھ روپے کے تحفے دیئے۔ ایڈمرلز سے میرے تعلقات اور دوستی کے باعث انہوں نے جو قیمت معاہدے میں طے ہوئی تھی اس میں دس فیصد کمی کر دی۔ طے یہ پایا کہ اس ڈیل میں پاکستان کا ذکر نہیں ہو گا۔ پاکستان کے بجائے کسی اور ملک سے ڈیل ظاہر کی جائے گی۔ یہ بندوبست بھی ہو گیا۔ طے پایا کہ ٹینک سمندر میں پاکستان کے حوالے کئے جائیں گے اوراَن اسمبلڈ ہونگے۔ اسمبلنگ کیلئے یوکرائن سے ماہر آئیں گے۔ جو پاکستانیوں کے سامنے کچھ ٹینک اسمبل کریں گے تاکہ پاکستانیوں کو اسمبلنگ کا تجربہ ہو جو ان کیلئے ٹینک سازی میں کام آئے۔ مجھے اس ڈیل کیلئے 6 ماہ مسلسل ملک سے باہر رہنا پڑا۔ ان دنوں ڈی جی۔ سی ڈی CombinedDivision جنرل خواجہ ضیاء الدین تھے۔ جو شفاف کردار کے مالک اور ایماندار آدمی ہیں۔ فوج کیلئے اسلحہ کی خریداری کا آڈٹ ڈیفنس منسٹری کرتی ہے ایسی خریداری CD کے ذریعے ہوتی ہے جس کا آڈٹ نہیں ہوتا۔ ڈیل فائنل ہو گئی مگر۔۔۔ یہ کبھی سرے نہ چڑھ سکی۔ جن لوگوں نے مجھے یہ مشن سونپا تھا۔ میں ان کے پاس پہنچا۔ میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ مگر یہ معمہ کوئی بھی حل کرنے پر مائل نہیں تھا۔ آج تک سمجھ نہیں آ سکی کہ ڈیل کیوں کینسل ہوئی! شاہد جنرل ضیاء الدین اس راز سے پردہ اٹھا سکیں۔
 جنرل ضیاء الدین بٹ سے ان کے گھر ڈیفنس میں ملاقات ہوئی۔ ان سے ایسے واقعات کے حوالے سے ہی ملاقات طے تھی جو اس کتاب کا موضوع ہے۔میں بدر سعید کو بھی ساتھ لے گیاتھا۔ بدر سعید فیملی میگزین میں ہوتے تھے۔ انر جیٹک نوجوان ہے۔ ہم جنرل ضیاء کے گھر پہنچے تو اندر صحن میں آٹو رکشہ کھڑا تھا۔ انہی دنوں ایک ریٹائر میجر اور کرنل کے گھر جانے کا اتفاق ہوا تو ایک گھر میں دو تیسرے میں تین گاڑیاں کھڑی تھیں۔ گفتگو کے دوران پوچھا۔”جناب! ایک (ر) میجر کے گھر تین گاڑیاں تھیں جرنیل کے گھر صرف رکشہ کھڑا ہے۔“ جنرل صاحب نے لائٹ موڈ میں کئے گئے سوال کا جواب بھی ہلکے پھلکے انداز میں دیا۔”یہ رکشہ ملازم کا ہے۔“
 میں نے کہا۔”آپ کے پاس رکشہ بھی نہیں ہے۔“
”ہاں میرے پاس رکشہ بھی نہیں ہے۔“ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا۔ تاہم واپسی پر صحن میں گاڑی کھڑی تھی۔
 جنرل صاحب کو رحمت شاہ آفریدی کی بیان کردہ رو داد سنائی تو انہوں نے کہا ایسی کسی ڈیل سے لاعلمی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا۔”ٹی 80 یوڈی بہترین قسم کا ٹینک ہے جو یوکرائن سے معاہدے کے مطابق پاکستان کو مل گئے تھے۔ ساتھ سپیئر پارٹس بھی وافر مقدار میں تھے۔ یہ دو ملکوں کے مابین ڈیل کے نتیجے میں پاکستان کو ملے۔ اس دور کے وی سی جی ایس اس معاملے میں آگے تھے۔ اس میں کک بیکس لئے گئے۔اس کی انکوائری ہوتی رہی اس میں وی سی جی ایس کا نام بھی آتا تھا۔کرنل محمود (مودے)کی انوالومنٹ منٹ کا فوج نے نوٹس ضرورلیامگر یوکرائن نے اسے اپنا ایجنٹ مقرر کیاتھا۔اسے پاکستان میں اپنا دفتر کھول کر دیا تھا۔ اس کے ذریعے کمشن اور کک بیکس طے ہوتے رہے۔
جنرل ضیاء الدین نے بتایا میں 65ء جنگ میں لفیٹن تھا۔کور آف انجینئر سے تعلق ہے۔ محاذ جنگ پر کور آف انجینئر سب سے پہلے جاتی اور سب سے آخر میں لوٹتی ہے۔ دشمن کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنا اور دشمن کے راستے میں سرنگیں بچھانا اس کور کی ذمہ داری ہے۔پلاں والا میں ہم لوگ سرنگیں ناکارہ بنا رہے تھے۔ سپاہی نذرنے کوڈر ماراتو سرنگ بلاسٹ ہوگئی۔ اس کا بارود اور مٹی میرے اور نذر کے چہرے پر پڑی۔ وہ زیادہ قریب تھا اس لئے زیادہ متاثر ہوا۔ میں نے اسے فوراً کمر سے پکڑ لیا تاکہ وہ ڈگمگا کر اگلی سرنگ پرنہ گر جائے۔ وہ پکار رہا تھا لفٹین صاحب کدھر ہیں۔ لفٹین صاحب کدھر ہیں۔ اس کو خود سے زیادہ اپنے افسر کی فکر تھی۔ میں نے اسے کہا میں تمہارے ساتھ ہوں۔مگر وہ سن نہیں پارہا تھا۔اس کے کان پھٹ گئے تھے۔مجھے بھی کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وفاداری فوج میں ڈسپلن کا شہکار ہے۔ ہم دونوں کو عارضی ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ میں دو دن بعد ٹھیک ہو کر اپنی ڈیوٹی پر پھر پہنچ گیا تاہم نذر کی بینائی جاتی رہی۔میں فوج ایڈ جوئنٹ بنا تو نذر کا خیال آگیا۔ اس کا پتہ کرایا تو معلوم ہوا کہ جی ایچ کیو میں بید کی کرسیاں بناتا ہے۔ میں نے اسے بلوایا وہ لاٹھی ٹیکتا ہوا آگیا۔ اس کی بینائی کبھی لوٹ نہیں سکی تھی۔ مجھ سے مل کر وہ بہت خوش ہوا۔ اس نے بتایا کہ وہ مجھے ٹریک کرتا رہا۔ اسے میری پوسٹنگ اور پرموشن سے آگاہی تھی۔ ایڈجوٹنٹ کے طور پر میرے پاس فوجیوں کے فلاح و بہبود کے فنڈز تھے۔میں اس کی مدد کرنے کی پوزیشن میں تھا۔ اس سے پوچھا۔”کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہے“ نذر نے کہا۔”مجھے کوئی مدد نہیں چاہیے۔میرے چھ پتر ہیں۔ چھ کے چھ فوج میں ہیں۔
ایک طرف آپ جوانوں کی طرف سے اپنے افسر سے محبت اور وفاداری کو دیکھیں دوسری طرف یہ دیکھیں آرمی چیف پر جوان قاتلانہ حملہ کرتے ہیں۔ پرویز مشرف پر فوج کے اندر سے حملے ان کے کردار کے باعث ہوئے۔
اسی جنگ میں دوسری جگہ ہم سرنگیں بچھا رہے تھے۔دشمن ہم پر گولہ باری کررہاتھا۔ ایک صوبیدار صاحب خوفزدہ ہوکر واپس آگئے۔ان کو تلاش کیا گیا۔ میں نے وہاں سے واپس آنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ میں نے اسے آرمی ایکٹ بتایا جس کے تحت بزدلی پروہیں شوٹ کرنے کا حکم ہے۔ میرے ہاتھ میں پسٹل تھا۔ میں نے کہا بتاؤ۔ ابھی شوٹ کروں یا لڑائی میں شہید ہونا چاہتے ہو۔ اس کے بعد وہ ایسا سیدھا ہوا کہ وہ سب سے آگے ہوتا تھا۔ایسے موقعوں پر خوف پر قابو پالیا جائے تو پھر لگتا ہے موت آپ کی حفاظت کررہی ہے۔
”12 اکتوبر 1999ء کو مشرف اور ان کے ساتھی جرنیلوں نے جمہوری حکومت کے خلاف بغاوت کی۔ وزیر اعظم ہاؤس میں مجھے آئین اور قانون کے مطابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے رینک اوربیج لگانے سے قبل ایوان صدر سے سمری پر دستخطوں کو یقینی بنایا۔ میں ڈی جی۔ آئی ایس آئی تھا۔ مجھے جنرل محمود، جنرل عزیز اور جنرل شاہد عزیز کے گٹھ جوڑ کا علم تھا۔ میں وزیر اعظم کے سامنے انکارکر سکتا تھا۔ مگر میں نے جمہوریت کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا۔ میں شروع سے جمہوریت پر یقین رکھتا تھا۔ اس کا جنرل مشرف اور دوسرے جرنیلوں کو علم تھا۔ ساڑھے چار بجے میرے آرمی چیف بننے کا اعلان ہو گیا۔ رینک اوربیج لگ گئے۔ اس کے بعد پری پلاننگ کے تحت وزیر اعظم ہاؤس کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ دیواریں پھلانگ کردستے وزیر اعظم ہاؤس میں داخل ہو گئے۔   آخری حد جانا بھی ایسے پلان اور بغاوت کا حصہ ہوتا ہے۔ان کی گنیں لوڈ ہمارے اوپر تنی ہوئی تھیں۔ٹریگر پر انگلیاں اشارہئ ابروکی منتظر تھیں۔ اس موقع پر جب کچھ بھی ہو سکتا تھا تاہم وزیر اعظم نواز شریف کو میں نے نڈر اور جرات مند پایا۔
 جنرل محمود بزدل ہیں۔ رات ساڑھے دس بجے آئے۔وہ خوفزدہ تھے تاہم طاقت کا زعم تھا۔ ان لوگوں نے وزیر اعظم کے سامنے خالی کاغذ رکھ کر دستخط کرنے کو کہا۔ میاں صاحب نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ ان کو دھمکیاں دی گئیں مگر ان کے پائے استقلال میں لزرش نہیں آئی۔ گولی مارنے کی دھمکی دی گئی۔ میاں صاحب نے کہا ”جو کرنا ہے کرو۔ سائن نہیں کرونگا۔“ اس کے بعد وزیر اعظم اور مجھے الگ کر دیا گیا۔ بعد ازاں مجھے فوجی میس میں زیر حراست رکھا گیا۔ یہاں میں 660 دن قید رہا۔ اس دوران مجھ پر مشرف کا ساتھ دینے پر زور دیا جاتا رہا۔ ان کے الفاظ ہوتے آپ بھی آن بورڈ ہوں۔ جنرل اکرم وزیر اعظم ہاؤس میں میرے ساتھ تھے۔ قید تنہائی کے دوران مجھے بتایا گیا۔ ”جنرل اکرم ہمارے ساتھ آگئے ہیں۔ آپ بھی آ جائیں۔“ میری پاک فوج میں سپورٹ تھی۔ مشرف اور ان کے ساتھیوں کو فوج کے اندر سے نفرت کا سامنا تھا۔ میں نے کسی بھی لمحے فوج میں تفریق کی بات نہیں کی۔ کور کمانڈر میرے ساتھ بھی تھے۔ اگر میں ان کو متحرک ہونے کا کہتا توفوج تقسیم ہو جاتی۔ بنگلہ دیش جیسا حال ہوتا۔ جہاں جرنیلوں نے ایک دوسرے کا خون بہایا۔ مجھے فوج کو متحد رکھنے کے اپنے کردار پر اطمینان اور فخر ہے۔ میس میں مجھے حراست میں رکھے چند دن ہوئے تھے۔ میں تہجد کی نماز کیلئے اُٹھا کرتاتھا۔ ایک روز نہ جاگ سکا تو نگرانی پر مامور این سی او نے کھڑکی پر دستک دی جواب نہ پا کر اس نے زور زورسے ہاتھ مارا۔ میں غنودگی میں تھا۔اس سے پوچھا۔”کیا ہوا بھئی“ اس نے بتایا”آپ تہجد پڑھتے ہیں،اب فجر ہونیوالی ہے۔“ مجھے اٹھنے میں دقت ہو رہی تھی۔ بہر حال اٹھ کر بیٹھا تو گیس کی بو (smell) آئی۔میری جان لینے کے لئے رات کو چولہے کی گیس کھول دی گئی تھی۔ میں نے ایگزاسٹ فین اور اے سی چلا کر گیس کا اخراج کیا۔ 12 اکتوبر 99ء کی طرح اس موقع پر بھی موت قریب سے ہو کر گزر گئی۔
٭٭٭
ایم ڈی نوائے وقت کے پرسنل سکرٹری چودھری شفیق سلطان نے بتایا۔پیر طریقت رہبر شریعت علامہ منیر احمد یوسفی فرماتے ہیں کہ وہ اپنے پیر و مرشد حاجی یوسف علی نگینہؒ صاحب آف پیلے گوجراں شریف۔ سمندری ضلع فیصل آباد کے ساتھ تبلیغی امور کی انجام دہی کے لیے سیالکوٹ گئے ہوئے تھے۔ اُن دنوں سیالکوٹ میں سیلاب آیا ہوا تھا۔ اسی دوران تبلیغی مصروفیات اور درس و تدریس سے فارغ ہو کراونچے ٹیلے پر نماز پڑھنے میں مشغول تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب میں سجدے سے اُٹھ کر تشہد پر بیٹھا تو اچانک دیکھا کہ کچھ انچ کی دوری پر ایک بڑا سانپ سامنے پھن پھیلائے بیٹھا ہے۔ دل میں خیال آیا کہ یہی مشیئت ایزدی ہے کہ پیر و مرشد کا ساتھ اور نماز میں مشغولیت ہی وقت آخری ثابت ہو۔ کیا دیکھتا ہوں کہ اچانک سانپ سامنے سے ہٹ گیا اور راستہ بدل کر نکل گیا۔ نماز مکمل کی اور سلام پھیرنے کے بعد کافی دیر اس حیرت میں گم رہا کہ یہ کیا واقعہ ہوا ہے۔ آج بھی جب کبھی اُس وقت کو سوچتا ہوں تو ایک ہی خیال آتا ہے کہ یہ پیر و مرشد کی کرامت ہے کہ آنکھوں کے سامنے آئی موت ٹل گئی۔ 

میگزین نوائے وقت کے جی آر اعوان کہتے ہیں۔”یہ 1962ء کی بات ہے۔ اس وقت ہم بھیرہ میں تھے۔ تب سکولوں میں ملیشئے کی یونیفارم ہوا کرتی تھی۔ اس کپڑے میں ایک سقم تھا کہ سکڑتا بہت تھا۔ اس لئے سلائی سے قبل اسے شرنک کرنا ناگزیر ہوتا تھا۔ میری والدہ نے میری یونیفارم کیلئے شرنک کیا ہوا ملیشا گھر کی چھت پر بنی منڈھیر پر ڈال رکھا تھا۔ میں عین اس جگہ بیٹھ کر تختی لکھ رہا تھا۔ اس دوران میرا تایا زاد علی نواز آیا۔ وہ مجذوب تھا کبھی ہوش میں ہوتا، کبھی بالکل انبارمل ہو جاتا۔ اسے نہ جانے کیا سوجھی اس نے منڈیر سوکھنے والا ملیشیا نیچے کھینچا اس پر پڑی بڑی سی اینٹ میرے سر میں آلگی۔ عجیب بات تھی مرا سر پٹھا نہ خون نکلا لیکن میں بے ہوش ہو گیا۔ کئی گھنٹے گزر گئے ہوش آنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ ڈاکٹر اپنے تئیں پوری کوشش کر رہے تھے۔ کافی مدت دیر کے بعد مجھے قے ہونا شروع ہوئی تو مسلسل جاری رہی پھر آہستہ آہستہ مجھے ہوش آیا۔ مجھے یوں لگتا ہے اس زندگی میں موت کی وادی سے چکر لگا کر لوٹا ہوں۔“
ملک وال میں موت
میرے خالو ریلوے ملازم تھے۔ وہ چھک چھک کرنے والے سٹیم انجن کے ڈرائیور تھے۔ ملک وال میں ریلوے کے کوارٹروں میں ان کی رہائش تھی۔ میں اپنی والدہ اور بہن کے ہمراہ ملک وال گیا ہوا تھا۔ شرارتیں تو ہر بچے کی طرح میرے سر پر بھی سوار رہتی تھیں۔ میں خالو کے کوارٹر کی ایک دیوار سے چھت کی طرف گیا۔ وہاں سے دوسری دیوار پر اترا دیوار زیادہ چوڑی نہیں تھی مگر اونچی خاصی تھی۔ میرا پاؤں دیوار سے پھسلا اور میں نیچے فرش پرآگرا۔ سر میں شدید چوٹ لگی۔ میری وہی کیفیت ہو گئی جو اس سے قبل اینٹ گرنے والے واقعہ میں ہوئی۔کئی گھنٹے ہوش نہ آیا۔ میری والدہ تو مایوس ہو گئیں کہ یہ شاید دنیا میں نہیں رہا۔ لیکن پھر وہ الٹیوں کا عمل شروع ہوا اور مجھے رفتہ رفتہ ہوش آنی شروع ہوئی۔ یہ میرا وادی موت کا دوسرا چکر تھا۔ جس کے بارے میں سوچ کر وجود آج بھی خوف آلود جھرجھری سے کانپ جاتا ہے۔
فیقا چابک دستی نہ د کھاتا تو
چنیوٹ کے لاریوں کے پرانے اڈے پر ایک سائیکلوں والے کی دکان تھی۔ نام تو اس کا رفیق تھا۔ لیکن سب سے 

اسے فیقا کہتے تھے۔ بظاہر وہ بڑے ہی کھردرے مزاج کا آدمی تھا لیکن حقیقت میں یاروں کا یار تھا۔ جسے ایک دفعہ جگر جان بنا لیتا بس اس پر مر مٹنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ میرا اس کی دکان پر دن میں دو تین بار جانا لازمی ہوتا تھا۔ یہ 1978ء کی شدید سردیوں کی ایک سہ پہر کی بات ہے۔ زناٹے کی سردی سے بدن کپکپا اور ہاتھ سن ہو رہے تھے۔ فیقا کوئلوں سے انگیٹھی بھر رہا تھا تاکہ اس کی گرمائش سے سردی کو پرے دھکیلنے کا کام لے سکے۔ اس لمحے میں اس کی دکان میں داخل ہوا۔ اس نے انگیٹھی کے کوئلے پر پٹرول ڈالا۔ اسے علم تھا مجھ سگریٹ نوش کے پاس ماچس یقینا ہو گی چنانچہ اس نے مجھے ماچس سلگا کر کوئلوں کو آگ دہکانے کیلئے کہا۔ جیسے ہی میں نے ماچس جلائی اس نے مجھے کالرسے پکڑکر پیچھے کھینچ لیا۔ اِدھر اس نے ایسا کیا اُدھر شعلہ چھت تک بلند ہوا۔اگر فیقاچابک دستی کا مظاہرہ نہ کرتا تو میرا منہ بلکہ جسم جھلس اور جل چکا ہوتا۔ آج بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو میری جان نکل جاتی ہے یوں لگتا ہے جیسے یہ سب کچھ ابھی ابھی ہوا ہے۔ یہ میری وادی موت سے تیسری واپسی ہے۔
عزرائیل میرے سامنے کھڑا تھا یہ کس برس کے کس مہینے کی کون سے رات تھی۔ مجھے یہ یاد نہیں اتنا یاد ہے اسی رات خواب میں نے جو دیکھا اس کا خوف آج بھی لرزا دیتا ہے۔ ہوا یہ کہ میں نے خواب دیکھا لوگ بھاگے جا رہے جیسے ان کے پیچھے کوئی انہیں قتل کرنے کیلئے آ رہا ہے۔ خواب میں جو منظر میرے سامنے تھا۔ وہ کسی گاؤں کا لگتا تھا۔ دیواروں میں محراب کی شکل والی جگہ بنی ہوئی تھی۔ جہاں میں لوگوں کو بھاگتے دیکھ کر چھپنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اچانک ایک شخص جس کی قامت معمول سے زیادہ تھی۔ یقیناً چھ منٹ سے کافی زیادہ تھی۔ اس نے تہبند پر بشرٹ پہنی ہوئی تھی اور اس کے ہاتھ میں بڑا سا تیز دھار خنجر تھا۔ وہ میرے سامنے تھا اور میں موت کے سامنے تھا۔ وہ نہ جانے کتنے لمحے میرے سامنے کھڑا رہا۔ مجھے یاد نہیں لیکن اتنا یاد ہے اس نے مجھے صرف دیکھا کہا کچھ نہیں۔ میری آنکھ کھلی تو میں پسینے میں نہایا ہوا تھا۔ خوف سے کانپ رہا تھا اور سوچ رہا تھا یقیناً یہ عزرائیل ہے۔ آج برسوں بعد بھی میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر اور اس خنجر بردار کا چہرہ محفوظ ہے۔ اگر کوئی مجھ سے عزرائیل کی شکل کے متعلق پوچھے تو میں خواب میں آئے خنجر بردار کا حلیہ بتا دوں۔ یہ موت کی وادی سے میری چوتھی واپسی ہے۔
موٹر سائیکل چلا تو نہیں سکا یہ اپریل 1979ء کی ایک شام کا واقعہ ہے۔ اس روز اجیت سنگھ اور انوکی میں فری سٹائل کشتی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کی خوب ٹھکائی کر رہے تھے۔ میں ان دنوں نیا نیا لاہور آیا تھا۔ میرے بہنوئی نے بھی نئی نئی ہونڈا سیونٹی خریدی تھی۔ شام کو روزانہ میں اپنے بہنوئی کے بھانجے کے ساتھ موٹر سائیکل پر سیر کرنے نکلتا۔ وہ مجھے موٹر سائیکل چلانے کی مشق بھی کراتا تھا لیکن کافی دنوں بعد بھی میں موٹر سائیکل چلانے کی ابجد سے بھی آگے نہ جا سکا۔ جس روز کا یہاں ذکر ہے۔ اس روز ہم گلبرگ کی طرف سے نہر کا پل کراس کر کے مزنگ چونگی کی طرف آ رہے تھے۔ سروسز ہسپتال کے سامنے ایک موٹر سائیکل اچانک برق رفتاری سے نہ جانے کدھر سے آنکلی۔ وہ انتہائی سپیڈ میں تھے۔ ہم بھی فل سپیڈ میں، ایک دھماکے سے اس میں جا لگے۔ ان کا کیا بنا مجھے علم نہیں۔ میں خود اپنی موٹر سائیکل کو چلانے والے سے اوپر اڑتا ہوا چالیس پچاس فٹ دور جا گرا۔ کچھ خبر نہیں پھر کیاہوا۔ قدرت نے کرم کیا۔زیادہ نقصان نہیں ہوا تاہم میرا منہ سڑک پر زور سے لگنے کے باعث دو تین ہفتے ناقابل دید رہا۔ یہاں ایک بات اس حادثے کے حوالے سے بیان کرنی ناگزیر ہے جو مجھے کبھی نہیں بھولتی۔ میرے والد گرامی نے خواب میں ہو بہو یہی حادثہ دیکھا جس کا میں شکار ہوا تھا۔ ابا جان رجب شعبان اور رمضان کے روزوں کے علاوہ اعتکاف کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ ان دنوں وہ رجب کے روزوں میں مشغول تھے شدید گرمی کے دن تھے وہ ہانپتے کانپتے لاہور آئے اور مجھے شکستہ رو دیکھا تو رونے لگ گئے۔ یہ بھی موت کی وادی سے واپسی کا ایک اور واقعہ ہے۔
سیلنگ فین مجھ پر آ گرا یہ واقعہ اپریل 1982ء کا ہے۔ میری نیند کی ناپختگی کا یہ عالم ہے، میرے پاس سے کوئی گزرے تو بھی میں جاگ جاتا ہوں۔ اس رات میں اپنی بہن کے گھر برآمدے میں سویا ہوا تھا۔ چھت کا پنکھا اوپر سے گرا۔ میرے پلنگ کی پٹی سے پر آ لگا اور فرش پر گر گیا۔ دھماکے سے سارا گھر کیا محلہ جاگ گیا مگر میں گہری نیند سویا ہوا تھا۔ میرے بہنوئی نے مجھے اٹھایا اور پوچھا تمہیں کچھ پتہ نہیں، میں نے اٹھ کر پنکھا زمین سے اٹھا کر میز پر رکھا اور پھر جیسے ہی اسے اپنے اوپر گرنے کا تصور کرنے لگا تو میرے خوابیدہ اوسان اب خطا ہونے لگے۔ خوف سے ساری رات نیند نہیں آئی اور پھر میں ایک لمبا عرصہ چھت والے پنکھے کے نیچے سونے سے گریز کرتا رہا۔ موت نے ایک بار مجھے چھو کے چھوڑ دیا۔
پاؤں پھسلا اور میں 50 فٹ گہری کھائی میں تھا زندگی خود حادثات کے مجموعے کا نام ہے۔ بے شمار چھوٹے چھوٹے حادثے ہر ایک کے ساتھ ہوتے رہتے اکثر یاد بھی نہیں رہتے۔ بعض اپنے خوف کے باعث یادوں میں یاد رہ جاتے ہیں۔ اگست 2014ء کا کوئی دن تھا۔ تب میں روزنامہ جہان پاکستان میں کام کرتا تھا۔ رائے ونڈ کا لمبا سفر۔ طویل نائٹ ڈیوٹی کے بعد صبح سویرے سونے کا آغاز ہوتا اور ظہر کے قریب آنکھ کھلا کرتی تھی۔ مگر اس روز تقدیر مجھے اٹھا کر لے گئی۔ میری بیٹی نے مجھے کہاکہ کالج چھوڑ آؤں۔ میں اسے سمن آباد چھوڑنے نکلا۔ ان دنوں ایل او ایس سے ملتان روڈ تک گندے نالے پر کشادہ دو  رویہ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر ہو رہی تھی۔ میں جاتی دفعہ تو بیٹی کو سمن آباد کے پہلے گول چکر کی طرف سے چھوڑ آیا۔ واپسی میں نے رسول پارک کا راستہ اختیار کیا۔ مجھے کافی لمبا چکر کاٹ کر آنا تھا۔ میں نے گندے نالے کے کنارے لوگوں کے سر دیکھے تو سوچا۔ شاید ان لوگوں نے پیدل چلنے والوں کیلئے کچھ جگہ چھوڑی ہوئی ہے۔ بس پھر کیا تھا میری قضا مجھے اس طرف لے کر چلی آئی۔ میں نے دیکھا۔ ایک تو گندا نالہ اتھل شکل میں تھا اس کے ساتھ 40 پچاس فٹ گہری ایک اور کھائی تھی جس کے ساتھ پڑتی دیوار کے ساتھ پیدل چلنے کا کچھ راستہ تھا۔ میری بدنصیبی میں لمبے چکر سے بچنے کے لئے اس شارٹ کٹ کی راہ پر چل پڑا۔ کافی دیر تک ٹھیک چلتا رہا۔ آگے اس پگڈنڈی نما راستے میں تھوڑا سا خلا تھا۔ جسے عبور کرنا کوئی مشکل نہیں تھا۔ میں نے جمپ لگا کر اسے پار کرنے کی کوشش کی مگر اس سے پہلے کہ میں اسے پار کرتا میں اڑتا اڑتا گہری کھائی میں جا گرا انتہائی نشیب میں کشش ثقل کے زور پر نیچے آنے میں چند لمحے لگے لیکن اب اس سے نکلا جائے تو کیسے؟ ایک اور چیز جِسے میں نے دیکھا۔ اس کا تصور کرکے بھی ہول اٹھتے ہیں۔ وسیع و عریض اور گہری کھائی میں جگہ جگہ دیواروں سے نکلے ہوئے قاتل سریے جھانک رہے تھے۔ اگر ان سے ایک بھی میری بدن یاترا کر لیتا تو پھر کیا ہوتا۔ یہ سوچا ہی جا سکتا ہے۔ بہر کیف مجھے گرتے ہوئے کچھ لوگوں نے دیکھ لیا تھا وہ ساتھیوں کی مدد سے مجھ تک  پہنچے اورنیچے لمبی سیڑھیوں اور رسیوں کی مدد سے مجھے اوپر سطح زمین پر لے کر آئے۔ یاد رہے میں نے سویا سویا اٹھ کر بیٹی کے ساتھ چل پڑا تھا۔ گھر کے دیگر افراد کو تو یہ بھی علم نہیں تھا۔ میں سویا ہوا ہوں یا نالے میں گرا پڑا ہوں۔ یہ موت کی وادی سے میری ایک اور واپسی تھی۔ یہ اللہ کا فضل ہے موت کی وادی کی کئی بار یاترا ہوئی مگر ابھی اللہ کو منظور نہیں تھا تو آج زندہ موجود ہوں۔

٭٭٭
کوہ نور چینل پر ”کوشش جواد شمسی کے ساتھ“ پروگرام میں بیگم عابدہ حسین اور سابق صوبائی وزیر عابد چٹھہ مدعو تھے۔ عابدہ حسین سے اس موقع پر پوچھا کہ کبھی موت کو سامنے دیکھا تو انہوں نے کہا ”اب تک کوئی زیادہ سنجیدہ واقعہ تو پیش نہیں آیا تاہم چند سال قبل کبیر والا میں ہم لوگ ایک تعزیت سے واپس آ رہے تھے کہ سپاہ صحابہ کے شیخ حاکم علی کے وزیر بننے کی خوشی میں ایک جلوس نکل رہا تھا جس میں ہم پھنس گئے۔ جلوس میں شامل لوگوں نے ہمیں پہنچان کر ادھر بندوقیں سیدھی کر لیں۔ اس موقع پر محسوس ہوا کہ آخری وقت آگیا ہے تاہم ہماری گاڑی جلوس بہت بڑا نہ ہونے کے باعث اس سے نکل گئی۔
جواد شمسی کہتے ہیں کہ ”مشرف دور میں ہمارے اوپر 307 اور 16ایم پی اوکے تحت مقدمات درج ہوئے۔ ان مقدمات کی نوعیت سیاسی تھی۔ تاہم عدالتوں کے چکر تو لگنے ہی تھے۔میں، میرے دوست سعید اورافتخار چیمہ ان کیسوں کے سلسلے میں بوریوالہ کچہری گئے۔ عدالت کے باہر احاطے میں بیٹھے تھے۔ چیمہ نے سامنے ایک پٹھان کی ریڑھی دیکھ کر کہا۔”اس سے مونگ پھلی نہ لے کر آؤں“۔ ہمارے ہاں کہنے پر وہ بھنی ہوئی مونگ پھلی لے آیا۔ میرے سامنے بیٹھے ہوئے سعید کو مونگ پھلی کے دانوں والا شاپر پکڑا دیا۔ میں نے اس سے ایک دانہ اٹھایا۔ اس کے اوپرسے باریک چھلکا اتارنے لگاتھاکہ دانہ نیچے گر گیا۔ میں اسے اٹھانے کیلئے نیچے جھکا کہ گولی چلنے کی آواز آئی۔سر اوپر اٹھا کر دیکھا تو  سامنے بیٹھے سعیدکے ماتھے میں ایک سوراخ نظر آیا۔ دوتین سیکنڈ تک وہ ساکت رہا۔ اس کی آنکھیں کھلی تھیں اور پھر پیچھے کی طرف لُڑھک گیا۔ اس کی روح جسم کا ساتھ چھوڑ چکی تھی۔ قاتل کا ٹارگٹ میں تھا۔ اس نے میرے سر کا بیک سائیڈ سے نشانہ لیا تھا۔ اتفاقاً میرے مونگ پھلی کا دانہ اٹھانے کیلئے جھکنے پر فائر سعیدکو جا لگا۔ اس کے بعدموت پرمیرا یقین مزید پختہ ہو گیا۔ موت کا دن متعین ہے۔ حضرت علیؓ کا قول ہے، موت انسان کی حفاظت کرتی ہے۔ مجھے کرائے کے قاتل نے ٹارگٹ کیا تھا۔ ہم نے اصل مجرموں  کے خلاف کیس کرایاجو میرے سیاسی حریف تھے۔ انہوں نے ٹارگٹ کلر کو بھی قتل کرا دیا۔“میرے ایک کزن امریکہ میں ہوتے تھے۔ انہوں نے میرے والد سے کہا کہ وہ کراچی میں بھینسیں  رکھ کر ان کے دودھ کا کاروبار کرنا چاہتے ہیں ساہیوال سے ایسی بھینس خرید کر دیں۔ والد صاحب نے چیچہ وطنی سے 16 بھینس خرید دیں۔ کراچی اگلے دو تین روز میں پہنچانا تھیں۔ اس دوران ان کو ہم نے بورے والا کے قریب اپنی حویلی میں رکھا۔ رات ڈیڑھ دو بجے حویلی سے آ کر ملازم نے بتایا کہ ایک بھینس غائب ہے۔ میں اور میرا کزن اٹھے۔ ہاتھ میں ڈنڈے لئے اور اندھیرے میں حویلی کی طرف چل پڑے۔ حویلی سے تھوڑے فاصلے پر لکڑیوں کا ٹال تھا۔ اس کے قریب سے گزر رہے تھے کہ گولی کی گونجدار آواز کے ساتھ میری قمیض کا دائیں طرف کا کالر اڑ گیا۔ میں نے غصے میں گولی چلانے واے کو گالی 

دیتے ہوئے للکارا تو دوسری طرف سے آواز آئی اوہ شاہ جی یہ آپ تھے؟ ہم سمجھا کوئی ہمارا دشمن آ گیا ہے ہم اپنی بیوی کو  بھگا کے لایا ہوا ہے۔ اس کے وارثوں کے آنے اور اسے لے جانے کا ڈر رہتا ہے۔ یہ ٹال انہی خان صاحب کا تھا۔
 ایک اور روح پرور اور ایمان افروز واقعہ سنیے: میری والدہ شدید بیمارہوئیں تو ان کو نیازی ہسپتال داخل کرا دیا۔ دل کی دھڑکن سست ہونے سے پھیپھڑوں میں پانی پڑ گیا۔ ساتھ ہی نمونیے کا اٹیک ہو گیا۔ ہسپتال میں صحت تشویشناک ہونے پر ڈاکٹروں نے ان کو ونٹی لیٹر پر منتقل کر دیا۔ ایک دن کمرہ شفٹ کرنا تھا۔ ونٹی لیٹر اتار کر ابھی بیڈ کو دھکیل کر چند میٹر لے گئے تھے کہ والدہ کی گردن ڈھلک گئی۔ یہیں سے ان کو پھر ونٹی لیٹر پر منتقل کیا۔ ڈاکٹروں نے فوری طور پر معائنہ کیا اور کہا کہ مریضہ ختم ہو گئی ہے سانس ونٹی لیٹر کی وجہ سے جاری ہے۔ آپ اپنے عزیزوں کو بتا دیں کہ وہ کفن دفن کا انتظام کریں۔ آپ جب کہیں گے ونٹی لیٹر ہٹا کر میت آپ کے حوالے کر دیں گے۔ یہ روح فرسا اطلاع سن کر میں صدمے میں تھا۔ فون کرنے کیلئے باہر جا رہا تھا کہ ایک بزرگ نے روک لیا۔ وہ اپنی اہلیہ کو علاج کیلئے لائے ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھے کہا اپنی والدہ کے قریب بیٹھ کر آیت الکرسی پڑھ کر پھونکتے رہو اور آب زم زم پلاتے رہو۔ انہوں نے مجھے اپنے پاس سے آب زم زم دیدیا۔ میں نے کہا ونٹی لیٹر لگا ہوا ہے ویسے بھی وہ پانی پینے کے قابل نہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا آب زم زم وقفے وقفے سے ہونٹوں کو لگاتے رہو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ آیت الکرسی پڑھتا رہا اور آب زم زم ہونٹوں پر لگاتا رہا۔ ایک دو گھنٹے میں مجھے ان کے سانس میں بہتری محسوس ہوئی اور اگلے ایک گھنٹے کے بعد جو ہوا وہ تو یقیناً معجزہ تھا۔ والدہ صاحبہ ونٹی لیٹر سمیت اٹھ کر بیٹھ گئیں۔ اس پر ڈاکٹر اور عملہ انگشت بدندان تھا۔ اسی روز والدہ نے چلنا شروع کر دیا۔ اگلے روز گھر لے آئے جواد شمسی صاحب نے مجھے (فضل حسین اعوان کو) یہ واقعہ 12 مارچ 2016ء کو کوہ نور ٹی وی پر اپنے پروگرام سے قبل سنایا تھا۔ اس سے دو تین ماہ قبل ایسے ہی ایک پروگرام کے دوران انہوں نے اپنی والدہ کی صحت یابی کے لئے ہمیں دعا کے لئے کہا تھا۔ آج ا نہوں نے بتایا کہ ان کے بھائی کی چند دن میں شادی ہے۔ اس کے سارے انتظامات والدہ خود کر رہی ہیں۔ ہشاش بشاش ہیں کسی بیماری کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
جواد شمسی کہتے ہیں:جہاں مجھے حضرت امام جعفر صادق کا قول یاد آرہاہے،انسان کو پتہ ہی نہیں چلتا کی موت دن میں کتنی بار اس کے قریب سے گزر گئی ہے۔ اس کی کیاوجہ ہے کہ موت قریب آئی اور ٹل گئی؟ اس کی وجہ انسان کی اپنے عزیزواقارب اور انسانیت سے صلہ رحمی ہے۔
٭٭٭
معروف شاعرکالم نگار اور ماہر تعلیم سعداللہ شاہ صاحب لکھتے ہیں ”
    یادِدیرینہ معروف کالم نگار فضل حسین اعوان کا حکم ہے کہ ان کی آنے والی کتاب”نئی زندگی“ کے لیے اپنی زندگی کا کوئی ایسا واقعہ تحریر کر دوں جس میں مجھے محسوس ہوا ہو کہ اللہ پاک نے مجھے ایک اور زندگی عطا کردی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میرے ساتھ ایسا کئی مرتبہ ہو ا کہ میں جاگ رہا ہوں۔ آنکھیں دماغ اور احساس سب کچھ جاگ رہا ہے مگر میں خود کو جنبش دینے سے قاصر ہوں۔ بعض اوقات تو اپنی بے بسی ایک اذیت میں ڈھل جاتی ہے اور میرا ایک جھٹکے کے ساتھ جسم بحال ہو جاتا ہے اور زبان سے شکرانے کے الفاظ نکلتے ہیں۔
    لیکن مجھے تو کسی ایک واقعہ کا ذکر کرنے کو کہا گیا تو وہ ڈینگی بخار کی ساعتیں تھیں۔ بس کچھ نہ پوچھیے! انسان موت کو چھو کر آتاہے۔ ایک روز معلوم ہوا کہ سعید آسی کو ڈینگی نے آن لیا ہے۔ فضل حسین اعوان“ تنویر حسین اور میں میو ہسپتال پہنچے۔ ان کے ارد گرد جالیاں لٹک رہی تھیں۔ ایک عجیب سا موحول تھا۔ آسی صاحب ہمیں کسی ڈاکٹر کا بھیجا ہوا پپیتے کا شربت دکھا رہے تھے کہ یہی مجرب ہے۔ خاص بات یہ بتائی گئی کہ جالیاں اس لیے ہیں کہ اب کوئی مچھر بھی انہیں کاٹ گیا تو وہ ڈینگی کا درجہ حاصل کرلے گا۔ بس ایک خوف ہمیں بھی لاحق ہو گیا کہ کہیں ہم بھی اس موذی مرض میں پکڑے نہ جائیں۔ اگلے ہی روز مجھے بخارہوا اور معدہ خراب ہو گیا۔ میں نے کسی پہلو نہیں سوچا بلکہ میں سوچنا ہی نہیں چاہتا تھا کہ مجھے ڈینگی بخار بھی ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر کے پاس گیا تو اسے معدہ کی خرابی ہی کا بتایا میں یہ بھی پسند نہیں کرتا تھا کہ ڈاکٹر میرے بخار پر ڈینگی کا شک کرے۔ چنانچہ معدہ کی دوائی چلتی رہی۔ طبیعت کچھ زیادہ خراب ہوئی تو دوستوں نے مشورہ دیا کہ میو ہسپتال جا کر چیک کروانے میں کیا حرج ہے۔
    میں میو ہسپتال پہنچا تو مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ ڈاکٹر طیب اور اس کے دوست ڈاکٹر مجھے بڑے فخر سے اندر کیمپ میں لائے کہ میں ان کا پسندیدہ شاعر اور طیب کا استاد تھا۔ ڈاکٹر ز نے فوری میرا ٹیسٹ لیا اور بغیر کسی رو رعایت یا مصلحت کے بغیرفرینک انداز میں کہنے لگے“ سر کو ڈینگی کاٹ گیا ہے۔ ان کی بات میں ایک غیر اعلانیہ مسرت بھی تھی جو کہ کسی دریافت کے بعد آواز میں آجاتی ہے۔ ان کے منہ سے نکلنے والے بے وقت اور بے محل الفاظ میری روح میں اتر گئے اور روح کی پاتال میں۔ میں چکرا کر گرا۔ انہو نے مجھے سنبھالا۔ مگر وہ لمحہ گزر گیا وہ مجھے روکتے ہی رہ گئے۔ مگر میں نے گاڑی نکالی وہاں سے نکلا خود کو بحال کیا‘ نیلا گنبد سے سیب کا جوس پیااور گھر پہنچا۔ گھر پہنچنے پر سب کو علم ہو گیا کہ میں بھی وبائی مرض ڈینگی کا شکار ہو گیا ہوں۔ پہلے تو بیوی نے کچھ توقف کیا کچھ ہمدردی کی اور کچھ دانشمدانہ جملے بولے مگر تھوڑی دیر کے بعد اس کے تیور بدلے اور بولی آپ اوپر کے پورشن میں شفٹ ہو جائیے۔دیکھئے بچے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایک مچھر دانی اس نے اوپر لگوا دی۔ گویا ہمارے قریب نہ کوئی بچہ آئے اور نہ کوئی خطرہ پیدا ہو۔ دوسری طرف ہم مچھر گزیدہ تھے اور بقولِ غالب ”پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسد۔ ڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں“ میں تو مچھر کیا مکھی سے بھی ڈرنے لگا کہ اس پر بھی مچھر کا گمان لگتا تھا میں سوچنے لگا کہ مچھر بے آواز بھی ہو سکتا ہے خیر وہ سات آٹھ روز جیسے میں نے گزارے خدا جانتاہے۔
    یہ مرض تو ہے ہی خوفناک کہ اس میں سرخ اور سفید جرثوموں کو ملانے والے پلیٹ لیٹس کم ہو جاتے ہیں۔ زیادہ کم ہو جائیں تو ناک سے خون بہنے لگتا ہے۔ اصل میں ڈینگی بخار کچھ ایسا پھیلا کہ پوری پنجابِ حکومت ہل کر رہ گئی پس میاں برادران بہت بھاگے۔ مگر اس مرض کا آج تک کوئی علاج ہی نہیں صرف پینا ڈال ہے کہ بخار کو اتارے رکھے۔ ایک دہشت اور ایک خوف ہر طرف تھا۔ روزانہ ہلاکتیں ہو رہی تھیں۔ میڈیا والے ان خبروں میں اپنی سحر بیانی اور خوش کلامی آزما رہے تھے کہ آج اتنے سہاگ اجڑ گئے۔ آج پانچ دیئے بُجھ گئے۔ آج بارہ لوگ دوسری دنیا سدھار گئے۔ غرضیکہ اپنے اپنے انداز میں خبریں نشر ہو رہی تھیں۔ جو ٹی وی دیکھتے وہ زیادہ اذیت میں تھے۔آپ یقین کیجیئے جو شخص بھی فون کرتا تھا تو بڑی سفا کی سے ایک ہی سوال پوچھتا تھا۔ ”ہن کنے رہ گئے جے؟“ مطلب کتنے پلیٹ لیٹس رہ گئے ہیں۔ میں تو دل تھام کر بیٹھا تھا۔ میرے کلیگ فون کرتے کہ وہ مجھے جلد اپنے درمیان دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی ہمدردی مجھے کچھ اور پیغام دیتی۔ ڈاکٹر محمد اجمل نیازی کا فون آیا”یار! تم بہت قیمتی ہو۔ کچھ کرو اس ڈینگی کا۔“
    اس کے بعد مجھے نوائے وقت سے فون آیا کہ فضل حسین اعوان بھی اس بیماری میں مبتلا ہو گئے ہیں۔پھر اور خبریں آتی گئیں: 
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
سب اسی ڈینگی کے اسیر ہوئے
     اعوان صاحب کے کہنے پر میں نے بھی اپنے پڑوسی ریحان سے پپیتے کے پتے منگوائے اور ان کا جوس پینے لگا۔ پتا یہ چلا کہ پپیتے کا ایک ایک پتا 5 سو روپے میں بکنے لگا ہے۔ ہسپتالوں کے آگے لوگ پپیتے کے پتے لے آئے اور شہر کے ارد گرد بھی پپیتے کے پیڑ ٹنڈ منڈ ہو گئے۔ اگر یہ افوا ء پھیل جاتی کہ اس بخار میں گھاس بڑی مفید ہے تو یقین جانیئے جانوروں کے لئے گھا س کم پڑ جاتی۔ میں نے چھوٹے بھائی حافظ احسان اللہ شاہ کو بلایا کہ وہ مجھے قرآن پاک آیات تلاوت کر کے دم کرے۔ مجھے میو ہسپتال سے ڈاکٹر حفیظ کا فون آیا اور وہ چھو ٹتے ہی کہنے لگا ”سر! آپ نے گھبرانا نہیں۔ آپ کے پلیٹ لیٹس کم ہوتے ہوتے جب تیس ہزار اور چوبیس ہزار وہ جائیں تو آپ سیدھے ہمارے پاس آجائیں آپ کے لئے ہم نے علیحدہ سے کمرے کا انتظام کر رکھا ہے۔آپ کے لیے پلیٹ لیٹس کا میگا پیک بھی مل جائے گا۔ سر! آپ بالکل فکر نہ کریں میرے تو کانوں پر پسینہ آگیا تھا اور ڈاکٹر کی آواز یوں تھی جیسے جہنم کے داروغہ کا بلاوا۔یکا یک ایک فون نے مجھے بہت حوصلہ اور اعتماد دیا۔ وہ فون ڈاکٹر محمد امجد کا تھا میرے بچپن کے دوست اور کلاس فیلو۔ کہنے لگے“ آپ نے دو کام نہیں کرنے۔ نمبر ایک کسی کا بھی فون نہیں سننا۔ فوراََ بند کردیں۔ دوسری بات یہ کہ کوئی ٹیسٹ ویسٹ نہیں کروانا۔ دو دن بعد میں فون کروں گا۔ اللہ حافظ“
    ایسا مجر ب نسخہ میرے کام تو آیا کہ بس۔ طبیعت وہیں نہال ہو گئی۔ سات دن تو میں نے سامنے کھڑکی سے سورج کو طلوع اور غروب ہوتے ہوئے دیکھا۔ جاگنے اورسونے کی تمیز مٹ گئی تھی۔ وہی تو بہ تائب جوہم ایسے لمحات میں کرتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔میری بیٹی خدیجہ مجھے جوس بنا کر دیتی تھی وہ اب خود میڈیکل کالج میں پہنچ گئی ہے۔ سب سے چھوٹا بیٹا جو صرف چھ یا سات سال کا تھا۔ ماں سے چھپ کر آتا وہ کہتا۔ ابو! میں نے آپ کو دم کردیا ہے“ وہ سورۃ فاتحہ پڑھتا کہ اسے واحد صورت یاد تھی۔ اللہ پاک نے مجھے شفا دی۔ اس زمانے میں ڈینگی کے لوگوں کو یوں دیکھا گیا جیسے وہ جنگ کے بعد   بچ جانے والے ہوں۔لیجئے میں نے نئی زندگی کے 

حوالے سے اپنا واقعہ بیان کر دیالیکن میرا ایماں ہے کہ اللہ پاک ہر لمحے ہمیں نئی زندگی عطا کرتے ہیں۔ اگر سانس نہ آئے تو گئے اور اگر آکر باہر نہ نکلے تو پھر بھی گئے۔ روز ہم عارضی موت سے بیدار ہوتے ہیں۔ویسے توموت اصلی بیداری کا نام ہے۔غالب کے خوبصورت شعر سے بات ختم کرتا ہوں۔
        نوحہ ہائے غم کو بھی اے دل غنیمت جانیئے
        بے صدا ہو جائے گا یہ سازِہستی ایک دن
٭٭٭
میجر (ر) معین باری کہتے ہیں ”میری زندگی میں چند ایسے اوقات آئے جب موت بہت پاس سے ہو کر گزر گئی۔ ان دنوں میں گورنمنٹ کالج لاہور کا طالب علم تھا۔ گاؤں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے آیا تھا۔ کبھی کبھار نہر گوگیرہ برانچ جو گاؤں کے قریب بہتی،وہاں تیراکی کے لئے چلا جاتا، نہر بہت گہری اور پانی تیز رفتار تھا۔ اس دن میں نے سوئمنگ کا سٹیوم کے بجائے دھوتی کا لنگوٹ زیب تن کیا تھا۔ جونہی میں تیرتا ہوا نہر کے وسط میں پہنچا اس وقت تک لنگوٹ میں پانی بھر چکا تھا۔ بھاری وزن سے میری طاقت جواب دے رہی تھی۔ میرا سانس پھول گیا اور میں غوطے کھانے لگا۔ ڈوبتے ہوئے میں نے ساتھی کو آوازیں دیں۔ جو سنتے ہی نہر میں کود پڑا۔ تیز رفتاری سے تیرتا ہوا میرے قریب آیا اور زور دے کر دھکیلتا ہوا کنارے پر لے گیا۔ میرے اس دوست کا نام سردار علی تھا جسے ہم دار علی کہہ کر پکارتے وفات پا گئے اللہ اسے جنت فردوس میں جگہ دے۔
ان دنوں میں آرمی ایویشن چکلالہ میں پائلٹ بننے کی ٹریننگ لے رہا تھا۔ لاہور سے چکلالہ ٹرین کا سفر تھا۔ جہلم کے قریب سٹیشن پر ٹرین رکی میں پلیٹ فارم پر اتر گیا۔ آدھی رات کا وقت تھا۔ ٹرین چل پڑی میں بھاگا اور چلتی ٹرین کا ہینڈل پکڑکر پائیدان پر پاؤں جما کر کھڑا رہا۔ مسافروں نے اندر سے دروازے بند کر لئے۔ یہ فرسٹ کلاس کمپارٹمنٹ تھا۔ آدھ گھنٹہ گزرا میرے بازو شل ہونے لگے۔ ٹرین فل سپیڈ پر جا رہی تھی۔ ”میں پاک فوج میں لیفٹیننٹ ہوں۔“ لیکن مسافر مجھے ڈاکو چور سمجھتے ہوئے دروازہ نہیں کھول رہے تھے۔ 45 منٹ گزر گئے۔ بازوؤں میں طاقت نہ رہی کہ میں ٹرین ہینڈل کو تھام سکوں‘ قریب تھا کہ چلتی ٹرین سے میں کود جاتا۔ اسی وقت کسی رحمدل نے ٹرین کا دروازہ کھول دیا۔ ٹرین کے گارڈ نے مجھے بتایا کہ اسی ٹرین پر کل رات ایک میجر صاحب چلتی ٹرین پر دروازے کے ہینڈل کو پکڑ کر کھڑے رہے گرے اور وفات پا گئے۔
میں ان دنوں فیلڈ توپخانہ یونٹ میں تعینات تھا جو لاہور چھاؤنی میں تھی۔ بھارت نے فوجیں بارڈر پر لگا دیں۔ ہماری یونٹ بھی گنڈا سنگھ والا پہنچ کر مورچہ بند ہو گئی۔ یہ جگہ دریائے ستلج کے بہت قریب ہے۔ شام کو راقم اور میجر حیدر جنگ (بریگیڈیر بنے) دریا کنارے جنگل میں کالے تیتروں کے شکار پر نکل جاتے۔ ساتھ دو اردلی بھی ہوتے۔ میجر صاحب کا شکاری کتا ساتھ ہوتا جو جھاڑیوں سے تیتروں کو نکالتا۔ ایک جگہ تیتروں کو دیکھتے ہی میجر نے فائر کیا۔ اسی وقت ایک جنگلی سور پھنکارتا ہوا حملہ آور ہوا۔ میں نے اس پر فائر کیا۔ وہ ہٹ ہوا لیکن اس کی برق رفتاری میں کمی نہ آئی۔ کتے نے اسے دبوچنے کی کوشش کی لیکن وہ بھی زخمی ہو کر گرا۔ سور میرے ساتھ کھڑے اردلی پر جھپٹا اسکی ٹانگ پر گہرا زخم آیا اتنے میں میجر صاحب کی گولی نے اسے ٹھنڈا کر دیا۔ 
65ء کی پاک بھارت جنگ شروع ہو چکی تھی۔ راقم کی 4 فیلڈ رجمنٹ چوِنڈہ کے قریب دشمن پر گولے برسا رہی تھی۔ راقم اپنے یونٹ کمانڈر کرنل نظر کے ساتھ ہیڈ کوارٹر 101 انفنٹری بریگیڈ میں بیٹھا تھا۔ بریگیڈئر حسین کمانڈر 101 بریگیڈ مورچہ میں بیٹھے یونٹوں کو آپریشنل آرڈر دے رہے تھے۔ میرے پاس ایک انفنٹری افسر تشریف فرما تھے۔ وائرلیس پر اطلاع آئی، ایم ٹی پارک (گاڑیاں پارک ہونے کی جگہ) میں بھارتی گوریلے گھس آئے ہیں۔ بریگیڈئر حسین نے اپنے انفنٹری افسر کو حکم دیا، پلٹون کے ساتھ بھارتی گوریلوں کو نکالو۔ وہ جانے کے لئے اٹھا تو میں بھی اٹھ کھڑا ہوا اور انفنٹری افسر کے ساتھ جانے کی اجازت مانگی۔ میرے سی او کرنل نظر نے میرا ہاتھ پکڑ کر بٹھایا اور کہا ”بے وقوف بیٹھ جاؤ۔ تم نہیں جانتے جنگ کیا ہوتی ہے“ میں بیٹھ گیا 15 منٹ بعد وائر لیس پر اطلاع آئی کہ انفنٹری افسر شہید ہو گئے۔ مجھے افسوس ہے میں شہید میجر صاحب کا نام بھول گیا جو انفنٹری سکول کوئٹہ میں میرے استاد رہے۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہ تھا، ان کی لاش کو کفن پہنا سکیں، اسلئے کہ جنگ زوروں پر تھی۔ انہیں ایک کمبل میں لپیٹ کر بطور امانت وہیں دفنا دیا گیا۔
1965ء 7 ستمبر جنگ کی پہلی رات میں اپنے زمین دوز مورچے کے اوپر کھڑا تھا۔ میرے پیچھے پتھر کی 10 فٹ لمبی اور 7 فٹ اونچی دیوار تھی۔ رات کا وقت تھا اور گولیاں بارش کی طرح برس رہی تھیں۔ کچھ دیر تماشہ دیکھنے کے بعد میں زمین دوز مورچے میں چلا گیا۔ صبح ہوئی تو حوالدار نے مجھے کہا ”سر بکرا دیں“ پوچھا کیا ہوا۔ کہنے لگا ذرا پتھر کی دیوار کو دیکھیں۔ وہ گولیوں سے چھلنی تھی۔ یہ آگ و خون کا کھیل ہم 17 دن تک دیکھتے رہے۔
65ء جنگ کے چند دن بیت گئے۔ بریگیڈیئر اسماعیل کمانڈر 15 انفنٹری ڈویژن جس نے پاک فوج کو سمبڑیال تک پسپائی کے احکامات جاری کئے تھے، اسے فارغ کرکے جنرل ٹکا خاں کو بھیج دیا گیا جنہوں نے آتے ہی جوابی حملوں کا حکم جاری کر دیا۔ اس وقت تک بھارتی فوج کے ہراول دستے سیالکوٹ کے مضافات میں اونچے ٹیلوں پر پوزیشنیں سنبھال چکے تھے۔ بھارتی فوج ہم پر آگ برسا رہی تھی۔ جوابی حملوں میں میری یونٹ 4 فیلڈ رجمنٹ جو آجکل 4 میڈیم بن چکی ہے انفنٹری بٹالین کو فائر سپورٹ دے رہی تھی۔ میرے سامنے پاک فوج کے جوان و افسر اللہ اکبر اور یا علی کے نعرے لگاتے دشمن کے مورچوں پر یلغار کر رہے تھے۔ بعض گرتے ہوئے بڑھ رہے تھے۔ دشمن کو سیالکوٹ کے ٹیلوں سے نکالتے دو دن اور راتیں لگیں۔ 15 ڈویژن اور 5 آرمرڈ ڈویژن کا توپخانہ بھی فائر سپورٹ دے رہا تھا۔ فضائیہ میزائل برسا رہی تھی۔ اس فرنٹ کی لڑائی میں بھارتی ایک ہزار ہلاک اور پاکستانی دو سو سپوت شہید ہوئے۔ میری یونٹ کے چند جوان شہید اور زخمی ہوئے۔ جنگ کے بعد میں نے شہدا کی قبروں پر جا کر فاتحہ خوانی کی۔ وہ جہاں گرے تھے انہیں جلدی میں وہیں دفن کر دیا گیا تھا۔ میں نے یہاں چونڈہ لڑائی کا ذکر نہیں کیا جہاں دوسری عالمی جنگ کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی ہوئی تھی۔71ء پاک بھارت جنگ کے دوران راقم  اسلام آباد ملک کے سب سے بڑے خفیہ ادارے میں تعینات تھا۔ دفتر پر بھارتی لڑاکا طیاروں نے حملہ کر دیا۔پڑوس میں بجلی کے کھمبے اور چند عمارتیں تباہ ہو گئیں، راقم محفوظ رہا۔ ایک دن میں لاہور سے اسلام آباد کار پر اکیلا جا رہا تھا۔ راولپنڈی کے قریب جہاں کٹی پھٹی زمین اور مٹی کے ٹیلے شروع ہوتے ہیں۔ وہاں کار چلاتے مجھے نیند آگئی۔ میرا سر سٹیرنگ پر تھا اور کار سپیڈ پر جا رہی تھی۔ مجھے کسی چیز کے ٹکرانے کی آواز آئی۔ میں جاگا اور دیکھا کہ کار ایک سائیکل سوار سے ٹکرائی جس نے پیچھے صندوق باندھا ہوا تھا۔ سائیکل سوار گر گیا۔ کار کی فرنٹ سکرین تھوڑی سی کریک ہوئی لیکن جانیں بچ گئیں۔
10 اپریل1988ء اوجڑی کیمپ اسلام آباد نیٹو کا اسلحہ بلاسٹ ہوا۔ اسوقت میں فیملی کے ساتھ اسلام آباد فلیٹ میں تھا جو اوجڑی کیمپ سے ایک میل کے فاصلہ پر تھا۔ ہم Killing Zone میں آگئے۔ گھنٹوں میزائل زمین اور فضا میں پھٹتے رہے۔ ایسا بھی ہوا، وہ جگہیں جو میں چند منٹ پیشتر چھوڑ کے آیا تھا وہاں بم اور ائر برسٹ میزائلیں گریں اور درجنوں لوگ مارے گئے۔ پھر میں اور میری بیوی صنوبر ایک دیوار کی اوٹ میں بیٹھ گئے۔ میزائل کا ایک سپلنٹر موصوفہ کے بائیں کندھے میں پیوست ہو گیا۔ خون فوارہ کی طرح نکلنا شروع ہوا۔ یہ سپلنٹر آج بھی کندھے میں پیوست ہے۔ میں وہاں بھی محفوظ رہا۔
٭٭٭
قیوم نظامی وفاقی وزیر اورپاکستان پیپلز پارٹی کے سیکر ٹری اطلاعات رہے۔وہ اپنے اوپر ہونیوالے قاتلانہ حملے کی روداد سانتے ہیں۔”1977ء کے انتخابات کے بعد پی این اے نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کی بجائے دھاندلی کے الزامات لگا کر احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا۔ میں اس وقت پی پی پی پنجاب کا سیکرٹری اطلاعات اور پنجاب اسمبلی کا رکن تھا۔ میں نے پارٹی قیادت کو مشورہ دیا کہ سیاسی میدان پی این اے کے حوالے کرنے کے بجائے پی پی پی انتخابی فتح کا جشن منائے اور تمام بڑے شہروں میں جلوس نکالے۔ پی این اے کے کارکن جلاؤ گھیراؤ کر رہے تھے تاکہ پی پی پی کے جیالوں کو خوف زدہ اور بددل کیا جا سکے۔ اس خوف کو توڑنے کیلئے لاہور میں ناصر باغ سے پنجاب اسمبلی تک جلوس نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ میری قیادت میں سمن آباد سے جیالوں کا ایک جلوس پیدل ناصر باغ پہنچا۔ پی این اے کے لیڈروں کو میری جرأت اور دلیری کھٹکنے لگی۔ لاہور میں مختلف علاقوں میں پارٹی لیڈروں کے گھروں پر حملے ہوئے اور انہیں نذر آتش کیا گیا البتہ میرے گھر حملہ کرنے کی بجائے میری کار میں بم پھینک کر مجھے ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایاگیا۔ وقوعہ کے روز ایک نامعلوم شخص کا فون آیا۔ اس نے ملاقات کا وقت مانگا۔ میں نے اسے بتایا کہ میں چیف منسٹر ہاؤس جا رہا ہوں لہٰذا ملاقات دوپہر کے بعد ہو سکے گی۔ میں پروگرام کے مطابق اپنی گاڑی پر وزیر اعلیٰ سے ملاقات کیلئے جا رہا تھا۔ٹارگٹ کلر موٹر سائیکل پر میرا تعاقب کرنے لگے جب سمن آباد سے شادمان چوک پہنچا تو موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص نے میری کار کے اندر ہینڈ گرنینڈ پھینک دیا جو میری دونوں ٹانگوں کے درمیان آ کر گرا کیوں کہ دروازے کا شیشہ کھلا تھا۔ ہینڈ گرنیڈ کی صورت میں موت میرے سامنے تھی ہینڈ گرنیڈ کو اٹھا کر گاڑی سے باہر تو نہ پھینک سکا البتہ ڈرائیور کو فوری طور پر گاڑی روکنے اور باہر نکلنے کوکہا۔میں جوں ہی میں کار سے باہر نکلا ہینڈ گرنیڈ پھٹ گیا۔میں اور پی پی پی کے کارکن منظور فاطمی شدید زخمی ہو گئے۔ کار کی چھت اڑ گئی۔ ہم گنگا رام ہسپتال میں دو ہفتے زیر علاج رہے۔ قاتلانہ حملے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ کارکن ہسپتال میں جمع ہو گئے۔ وہ بڑے مشتعل تھے۔ میرے سیاسی حریف رانا نذر الرحمن کے گھر کو نذر آتش کرنا چاہتے تھے میں نے ان کو سختی سے منع کیا۔ اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طو رپر مجھے موت سے بچا لیا۔ قاتلانہ حملے میں ملوث افراد پکڑے گئے جن کو مارشل لاء کے نفاذ کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ میں چونکہ قاتلانہ حملے میں ملوث افراد اور منصوبہ سازوں کو معاف کر چکا ہوں اس لئے ان کے نام درج کرنا مناسب نہیں سمجھتا البتہ رانا نذر الرحمن نے اپنی خودنوشت میں یہ واقعہ تفصیل سے بیان کر دیا اور قاتلانہ حملے میں ملوث افراد کے نام بھی ظاہر کر دیئے۔ سیاست عوام کی خدمت کا نام ہے لہٰذا سیاست سے ہر قسم کی دہشت کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ معاشرے میں روا داری اور برداشت کے رویے پیدا ہو سکیں۔
رانا نذر الرحمن نے اپنی کتاب میں طارق چودھری کو اس حملے کی ذمہ دار قرار دیا۔ طارق چودھری کا تعلق فیصل آباد سے ہے جو بعد میں سینٹر بنے۔ میں نے ان سے قیوم نظامی صاحب پر حملے اور رانا نذرالرحمٰن کے ان پر الزام کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے سیاستدانوں کے روایتی رویے کے برعکس تردیدکرنے کے بجائے ایک طرح کا انکشاف کیا۔”اس دور میں بھٹو صاحب پی این اے کیساتھ مذاکرات کے دوران بیرونی دورے پر چلے گئے۔ ان کے بعد پیپلزپاٹی کے کارکنوں میں اسلحہ تقسیم کیا گیا۔ اس کو کاؤنٹر کرنے کیلئے دوسری طرف سے بھی یہ کام شروع ہوا۔ میں بھی یہArrange کرنیوالوں میں شامل تھا۔ دو نوں جوانوں نے ان کا (قیوم نظامی) کا پیچھا کیا تھا۔ نظامی صاحب اسلحہ تقسیم کرنیوالی ٹیم کا حصہ تھے۔ حافظ ذوالفقار ہمارے دوست یونیورسٹی میں ہوتے تھے، نے دوسرے ساتھی کو ساتھ لے کر حملہ کیا تھا۔ میں اس میں براہ راست شریک نہیں تھا۔ میں نے کبھی کسی کو تھپڑ بھی نہیں مارا۔ نذر الرحمن کو ہر چیز کا پتہ تھا۔ وہ سارے معاملے میں ساتھ تھے۔ تاہم مختلف گروپ تھے جوش میں آ کر نوجوان اپنی مرضی سے بھی ایسے کام کرتے تھے۔ فاروق مودودی  بوتل بم بناتے تھے۔ مولانا مودودی کے تو علم میں بھی نہیں تھا۔ اس پر مولانا کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اسی طرح نوجوان بہت کچھ اپنی مرضی سے کر رہے تھے۔وہ رانا نذر الرحمن یا کسی اور کو پوچھ کر نہیں کرتے تھے۔“
٭٭٭


صوبیدار ریٹائرڈ مختار احمد اعوان مرحوم ایک واقعہ سنایا کرتے تھے۔”میں 1945ء میں برٹش آرمی میں بھرتی ہوا۔ تقسیم ہند کی تکلیف دہ صورت حال میں سیالکوٹ چھاؤنی میں فرائض انجام دے رہا تھا۔ میں کوارٹر گارڈ ڈیوٹی پر کھڑا سوچ رہا تھا کہ میں سیالکوٹ میں اس یونٹ میں ہوں جبکہ میرے والدین بہن بھائی بھارتی پنجاب میں ضلع جالندھر کے گاؤں باجڑے میں نہ جانے سکھوں اور ہندوؤں کے کن کن مظالم کا سامنا کر رہے ہونگے۔ میں نے اپنی کٹ بمعہ رائفل اٹھائی اور وردی میں یونٹ سے چل دیا۔ ان دنوں کپڑے جوتے آج کی طرح نہیں۔ ایک دو جوڑے ہوتے تھے۔ مختصر سامان تھا جو ایک فوجی کٹ میں رکھا اور یونٹ کی کانٹے دار تار پھلانگ کر دوڑ لگا دی۔ سیدھا ریلوے سٹیشن پہنچا۔ سیالکوٹ سٹیشن پر ایک ٹرین کھڑی اور ایک آرمی یونٹ کی نفری ادھر ادھر حرکت کر رہی تھی۔ رات خاصی گزر چکی تھی۔ میں ایک مال گاڑی جو ایک پٹری پر کھڑی تھی، اس میں چھپ گیا۔ افراتفری کا عالم تھا۔ مجھے یقین تھا کہ یونٹ میں میری موجودگی نہ ہونے پر کیا گزر رہی ہو گی۔ مجھے ماں باپ بہن بھائی یاد آ رہے 

تھے۔ جو خبریں سن رہے تھے وہ محشر سے کم نہ تھیں۔ ہم پانچ بھائی اور سب سے چھوٹی ایک بہن تھی۔ ڈیڑھ دو سال ہو گی۔ میرے چچا تایا سبھی رشتے دار گاؤں میں تھے۔ مجھے میری یونٹ کی خاصی نفری نظر آئی جو یقیناً میری ہی تلاش میں آئی تھی۔ میں مال گاڑی میں کوئلے کی بوریوں کی آڑ میں چھپ گیا۔ میری یونٹ کے ساتھی میرے قریب قریب تھے مگر میں دبکا ہوا سانس بھی عجیب و غریب طریقے سے لے رہا تھا۔ قصہ مختصر میری یونٹ کے فوجیوں نے سمجھ لیا ہو گا کہ میں کسی اور سمت چلا گیا ہوں،تووہ واپس چلے گئے۔ صبح چار پانچ بجے کے دوران سٹیشن پر کھڑی فوجی گاڑی نے حرکت کی، میں بھاگ کراس پر سوار ہو گیا۔ ٹرین میں فوجی سوار تھے۔ مذکورہ ٹرین فوجی مقاصد کیلئے استعمال ہو رہی تھی۔ میں ٹرین میں سوار تھا اور ٹرین بھاگ رہی تھی۔ ٹرین لاہور پہنچی، جہاں 15 بیس منٹ رکی میں وہاں اتر گیا اور لاہور میں موجودہ فورٹریس سٹیڈیم  میں بھارتی پنجاب سے آئے مہاجرین خیمہ بستیوں میں موجود تھے۔ وہاں سے پتہ چلا کہ ابھی تک ضلع جالندھرسے تعلق رکھنے والے مہاجرین جالندھر ہی میں کیمپ میں ہیں۔میں پھر  پلیٹ فارم کی طرف گیا۔ تھوڑی دیر میں مجھے براستہ امرتسر جالندھر جانے والی ٹرین مل گئی۔ میں بمعہ وردی اور اسلحہ جالندھر مہاجر کیمپ میں پہنچ گیا۔ وہاں پہنچتے ہی بھارتی فوج نے مجھے گرفتار کر لیا،یہ زیادہ تر سکھ تھے۔انہوں نے میرا اسلحہ اپنی تحویل میں لے کر چارپائی پر لٹا کر مضبوطی سے باندھ دیا۔اسی اثناء میں  میراچچا زاد بھائی وہاں سے گزرا جس نے مجھے دیکھتے ہی خاندان والوں اور میرے والدین کو اطلاع دی کہ مختار احمد کو سکھ فوج نے پکڑ لیا ہے۔ میرا قبیلہ فوراًوہاں پہنچ گیا۔ سکھ میجر ہمارے ساتھ والے گاؤں سے تھا۔ اس کے بزرگوں کا ہمارے بزرگوں سے تھوڑا بہت تعلق تھا۔ سکھ فوجی مجھے مارنے کی پلاننگ کر رہے تھے۔ پنجاب میں سکھوں کی طرف سے پاکستان کی طرف قافلوں کی قتل و غارت کی گئی۔ سکھ فوجیوں کی گفتگو سے یہی ذہنیت واضح ہو رہی تھی۔مجھے اب اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی تاہم سکھ میجر نے بزرگوں کی دوستی کا حیا کرتے ہوئے مجھے کھولنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ سکھ میجر نے ایک نوازش کی: ایک ٹرک سکھ گارڈز کی حفاظت میں میرے حوالے کیا تاکہ میں اپنے خاندان کو پاکستان لے جاؤں یوں یہ ٹرک ہمیں بحفاظت لاہور چھوڑ گیا۔
صوبیدار احمد نے اپنی وفات سے ڈیڑھ دو سال قبل اپنے پوتے عمر فاروق کو فوج میں بھرتی کرایا۔ عمر فاروق کی ضرب عضب سے قبل پوسٹنگ شمالی وزیرستان میں ہوئی۔ جہاں ہر طرف شدت پسندوں کو آغوش میں لئے پہاڑ ہیں یا موت کے سائے ہیں۔ فاروق نے بتایا۔”ہمیں کہا گیا: انٹیلی جنس ہے کہ شہر میں کسی جگہ شدت پسندوں نے مائن بچھا دی ہے۔ اس کی تلاش میں جیپ پر میجر صاحب کی کمانڈ ہم تین جوان نکلے۔ اسلحہ اور مائن ڈیٹکٹر ساتھ لیا۔ چلتے ہوئے ڈرائیور نے کہا جیب کی ٹیونگ اور سروس آج ہی کرائی ہے۔ اب یہ دو سال بھی سٹارٹ رہ سکتی ہے۔ ہم نے پورے علاقے کا راؤنڈ لگایا۔ جہاں شبہ ہوا مائن ڈِیٹکٹر آن کر کے سرچ کرتے رہے۔ میجر صاحب نے اکتا کرکہا انٹیلی جنس والے ایسے ہی غلط انفارمیشن دے دیتے ہیں، چلو واپس چلیں۔ وہ اپنا فقرہ مکمل کر ہی پائے تھے کہ جیپ جو آہستگی سے چل رہی تھی ہلکے سے جھٹکے سے رُک کر بند گئی۔ جس سے ڈرائیور شرمندہ سا ہو رہا تھاکیونکہ اس نے دعویٰ کیا تھا، گاڑی دو سال تک سٹارٹ رہ سکتی ہے۔ اس نے ابھی دوبارہ گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی، میں نے اپنے کولیگ سے کہا تم مائن ڈیٹکٹر آن کر کے دیکھ لو۔ اس نے ڈیٹکٹر آن کیا تو بیپ ہونے لگی۔ جس پر ہم تمام حیران ہوئے۔ سرچ کی تو جیپ کے ٹائر سے چند انچ پر مائن نصب تھی۔ یہ خدا کی قدرت ہے کہ جیپ مائن کے قریب آ کر رک گئی۔ایسا کیوں ہوا اس کے بارے میں ہمارے پاس کوئی دلیل اور وضاحت نہیں ہے۔
٭٭٭
فدایاں ختم نبوت پاکستان کے امیر علامہ خادم حسین رضوی کہتے ہیں ”میں لاہور سے اپنے گاؤں جاتاتو صبح فجر کی اذان کے ساتھ کھیتوں میں اپنے کنویں پر چلا جاتا۔ جہاں کنواں چلا کر اس کے پانی سے وضو کر کے نماز ادا کرتا۔1995ء کی ایک صبح  بھی حسب معمول میں نے کنواں تیزی سے چلایا اور اس سے بھی زیادہ تیزی سے برتن میں پانی ڈالنے کیلئے لپکا۔ برتن اٹھایا اسے پانی سے بھرنے کے لئے کنویں کے تھوڑے سے حصے کے اوپر چھلانگ لگادی مگر توازن بگڑ گیا اوردوسری طرف نہ پہنچ سکا۔ درمیان میں کنواں تھا۔ جس میں گرتے ہوئے بے ساختہ زبان سے اللہ اکبر نکلا۔ اس کے ساتھ ہی ایسا محسوس ہوا، کسی نے پکڑ کر سوتالڑ پر بٹھا دیا ہے۔ سوتالڑ ماہل کومتوازن رکھنے کیلئے شہتیر کی طرح لکڑی لگائی جا تی ہے جو کنویں کے کنارے سے چند فٹ نیچے ہوتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں، اللہ نے دین کیلئے ناچیز سے کام لینا تھا اس لئے محفوظ رکھا۔ اس کے بعد 2009ء میں صبح کے وقت تلہ کنگ سے لاہور جا رہا تھا۔ ایک سی این جی سٹیشن سے گیس  بھروائی، مسجد میں نماز ادا کی نوافل پڑھنے لگا تھا کہ سوچا گاڑی میں نفل ادا کر لوں گا۔ گاڑی میں بیٹھا۔ تھوڑی دیر بعد موڑ آیا تو مڑنے کی بجائے گاڑی سیدھی جا رہی تھی۔ ڈرائیور سو گیا تھا۔ میں نے کہا کیا کر رہے ہو،ساتھ ہی گاڑی سڑک سے نیچے آ گری۔ میں نے اس دوران ان لمحات کو آخری سمجھ کر تین مرتبہ کلمہ پڑھ لیا۔ اسی حادثے میں ریڑھ کی ہڈی متاثرہوئی جس کا کئی سال سے علاج جاری ہے۔ اس حادثے میں ڈرائیور اور کار کو خراش تک نہیں آئی۔
٭٭٭
 ڈاکٹر خالد جمیل اختر کو لوگ Big Brother کے نام سے بھی جانتے ہیں۔انہوں نے تیسرا جنم کے عنوان سے کتاب لکھی۔ وہ 1979ء کو اپنے دوست ناصر کے بھائی کی شادی کی شرکت کے لئے پنڈی جا رہے تھے۔ اس گاڑی میں ناصر اور ڈاکٹر خالد جمیل اختر کا دوست اور ناصر کے انکل  (ر)کرنل  اور آنٹی بھی ساتھ تھے۔ ڈاکٹر خالد جمیل اختر کہتے ہیں۔”ہم دونوں باتوں میں مگن تھے اسی اثناء میں یوں لگا جیسے گاڑی کچے میں اتری ہو۔ جیسے ہی گاڑی واپس سڑک پر آئی اس نے دائیں بائیں لہرانا شروع کر دیا۔ میں ابھی تک یہ سمجھ رہا تھا، ناصر شرارتاًاس طرح گاڑی چلا رہا ہے لیکن پھر دوسرے ہی لمحے گاڑی بے قابو ہو گئی اور سامنے سے آتے ہوئے ایک ٹرک سے ٹکڑا گئی۔ میں نے ایک دھماکے کی آواز سنی۔ وہ بہت خوفناک  دھماکہ تھا۔ مجھے یوں لگا جیسے یہ دھماکہ میلوں دور ہوا ہو۔ لیکن اصل میں خود دھماکے کا ایک حصہ بن چکا تھا۔ پھر ایک خاموشی سی چھا گئی۔ آس پاس موجود ہر چیز اجنبی سی لگنے لگی۔ میں گاڑی میں جیسے لٹکا ہو اتھا۔ کرنل صاحب گاڑی میں آگے کو گرے ہوئے تھے اور سعید کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے ایک لمحے میں یہ سب کچھ دیکھا۔ لیکن پھر کئی چھوٹے چھوٹے دھماکے میرے ذہن میں ہوئے اور اس کے بعد میں بے ہوش ہو گیا تھا۔
جب ہوش آیا تو مجھے بہت سی انجانی آوازیں سنائی دیں۔ کئی لوگ ہمیں گاڑی سے نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے پہلے کرنل صاحب اور سعید کو اور پھر آنٹی کو باہر نکالا۔ کرنل صاحب کے سر سے خون بہہ رہا تھا اور سعید بھی خون میں لت پت پڑا تھا۔ پھر پتا چلا کرنل صاحب زخموں کی تاب نہ لا کر انتقال کر چکے ہیں، میں چونکہ ہوش میں تھا اور باتیں کر رہا تھا اس لئے لوگوں کا خیال تھا کہ مجھے کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے میری طرف کچھ زیادہ توجہ نہ دی، سعید اور آنٹی کو ہسپتال روانہ کر دیا۔ مجھے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے اپنے آپ کو ہلانے کی کوشش کی تو مجھے یوں لگا کہ میرے جسم کا نچلا حصہ میرے ساتھ نہیں ہے۔ میں نے ٹانگوں کو ہاتھ لگایا لیکن مجھے کچھ محسوس نہ ہوا۔ میں نے چٹکی کاٹی تو بھی مجھے کچھ محسوس نہ ہوا۔ مجھے ایک دم سے پتا چل گیا؛ میرے ساتھ کیا ہوا ہے اور میں کیا کچھ کھو چکا ہوں۔
بعد میں ایک صاحب مجھے گاڑی سے نکالنے کیلئے آئے تو میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ وہ فوج میں کیپٹن ہیں۔ میں نے ان سے کہا میرا خیال ہے مجھے ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ لگی ہے جس کی وجہ سے میرا نچلادھڑ کام نہیں کر رہا ہے۔ میں میڈیکل کا سٹوڈنٹ ہوں، اس لئے مجھے علم ہے کہ اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو میرا نچلا دھڑ ہمیشہ کیلئے مفلوج ہو جائے گا۔ آپ کا پہلا احسان یہ ہو گا، میں جیسے کہوں بالکل ویسے ہی مجھے گاڑی سے نکالیں اور دوسرا اگر ہو سکے تو مجھے کسی چھوٹے ہسپتال میں لے جانے کی بجائے سی ایم ایچ پنڈی لے جائیں۔ کیپٹن صاحب بلاشبہ اللہ کے نیک بندے تھے، انہوں نے میری بات مان لی۔
میں نے کیپٹن صاحب سے کہا کہ تین آدمی اس طرح مل کر مجھے باہر نکالیں، ایک آدمی مجھے ٹانگوں سے پکڑے، دوسرا گردن کے نیچے سے اور تیسرا کمر سے؛ انہوں نے اسی طرح مجھے گاڑی سے نکالا۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرے ٹھیک ہونے میں اس ہدایت کا بڑا ہاتھ تھا۔ مجھے افسوس سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اکثر ڈاکٹر بھی فسٹ ایڈ سے واقف نہیں ہوتے۔ میرے خیال میں عالم دین اور ڈاکٹر کی پیشہ وارانہ زندگی میں غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی اور نہ ہی ہونی چائیے کیونکہ اپنی غلطی سے ایک جسم اور دوسرا روح کو تباہ کر دیتا ہے۔ شاید پانچ یا دس فی صد لوگوں کو فسٹ ایڈ کا پتا ہو گا حالانکہ اگر آپ فسٹ ایڈ کے بارے میں جانتے ہوں تو موقع آنے پر آپ نہ صرف دوسروں کی بلکہ اپنی زندگی بھی بچا سکتے ہیں۔ حادثہ کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت پیش آ سکتا ہے۔ خاص طور پر ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ کیلئے فسٹ ایڈ کے بنیادی اصولوں کا ہر شخص کو علم ہونا چاہیے کیونکہ ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ بظاہر نظر نہیں آ رہی ہوتی۔
اگر ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ لگ جائے تو مریض بار بار درد کی شکایت کرتا ہے یا پھر یہ کہتا ہے کہ اس کی ٹانگوں میں جان نہیں ہے۔ ایسے موقع پر لواحقین یا تو مریض کو بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں یا کھڑا کرنے کی یا پھر پانی پلائیں گے اور پھر کہیں گے ذرا ہل کر دکھاؤ۔ اگر اس طرح کے مریض کے حرام مغز کو پچیس فیصد نقصان پہنچا ہو تو اس طرح اسے بٹھانے یا ہلانے جلانے سے یہ نقصان پچاس یا ستر فیصد تک ہو سکتا ہے، اس طرح لواحقین بجائے احسان کرنے کے مریض کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیتے ہیں۔
 میں سمجھتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد تھی کہ اس نے میرے دماغ کو حاضر رکھا اور مجھے ناقابل تلافی نقصان سے بچا لیا۔ گاڑی کے ٹرک سے ٹکرانے کے بعد مجھے بہت شدید جھٹکا لگا تھا اور میری ٹانگیں مڑ کر اگلی سیٹ کے اوپر والے حصے میں جا لگی تھیں، اس سے میری کمر شدید دباؤ پڑنے کی وجہ سے ٹوٹ گئی۔ آپ سوچئے اگر میں نے سیٹ بیلٹ باندھی ہوتی تو میں اپنی اس معذوری سے بالکل بچ جاتا۔ بظاہر سیٹ بیلٹ کتنی معمولی چیز ہے لیکن کسی حادثے کی صورت میں اتنی اہم ہوتی ہے کہ یہ انسانی جان بچا سکتی ہے۔ میرے خیال میں ہمیں لمبا سفر سیٹ بیلٹ کے بغیر ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔
کیپٹن صاحب نے مجھے تین بندوں کی مدد سے اٹھوانے کے بعد اپنی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹایا اور گاڑی واپس موڑ کر سی ایم ایچ راولپنڈی کی طرف روانہ ہو گئے حالانکہ وہ لاہور جا رہے تھے۔ ویسے تو زندگی میں بہت سے لوگوں نے مجھ پر احسانات کئے ہوں گے لیکن کیپٹن صاحب کے اس احسان نے میری آنے والی زندگی کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔
سی ایم ایچ راولپنڈی تک کا سفر میں نے بڑی مشکل سے طے کیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ یہ راستہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔ میں سیدھا لیٹا گاڑی کی چھت دیکھ رہا تھا۔ مجھے اپنے بچپن سے اب تک کی زندگی کے مختلف واقعات یاد آ رہے تھے۔ سبیل سے دودھ پی کر میں کیسے بھاگا کرتا تھا اور اپنے پیچھے بھاگنے والوں کو اتنی دور چھوڑ دیتا، وہ میرے پیروں کی گرد کو بھی نہیں پا سکتے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے میری ایک زندگی ختم ہو چکی ہے اور دوسری شروع ہونے والی ہے…… معذوروں والی زندگی۔ ایسی زندگی جس میں اپنے آپ کو ویل چیئر پر بیٹھا دیکھ رہا تھا۔
چند دن کے بعد جب مجھے آپریشن کیلئے لیجایا جا رہا تھا تو میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ کیا میں آپریشن کے بعد ٹھیک ہو جاؤں گا۔ میرے سوال کا جواب دینے کی بجائے انہوں نے کہا۔ ”یہ آپریشن بہت ضروری ہے“۔
میں سمجھتا ہوں، اس معاملے میں ڈاکٹر کو مریض سے تفصیلی گفتگو کرنی چاہیے، مریض کو اپنے علاج کے ہر مرحلے سے آگاہی ہونی چاہیے۔ اسے پتا ہونا چاہیے کہ اگر وہ کسی آپریشن کے عمل سے گزرنے جا رہا ہے تو اس سے اسے کتنے فی صد فائدہ  کی امیدیا نقصان کا اندیشہ ہے۔ بہت سی بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کا علاج کئی طریقے سے ہو سکتا ہے۔ ہر طریقہ ہر مریض کے لئے مناسب نہیں ہوتا۔ علاج مریض کے حالات اور عقیدے کے مطابق ہی مناسب رہتا ہے۔
  حادثے سے قبل میں سمجھتا تھا زندگی کامیابیوں کا نام ہے۔ کامیابی کسی بھی طرح جائز یا ناجائز طریقے سے حاصل کر لینی چاہیے۔ زندگی کی جدوجہد میں کامیابی کیلئے میں پڑھائی زیادہ کرتا تھا تاکہ ٹاپ کر سکوں۔ اس طرح میں نے میٹرک میں ٹاپ کیا۔ ایف ایس سی میں ٹاپ کیا۔ آرمی کالج میں سوورڈ آف آنر حاصل کی۔  میں کامیابیاں حاصل کرتا جا رہا تھا۔ کامیابی کیلئے میں ڈنڈی بھی مارا کرتا تھا۔ یعنی میں اپنے نوٹس کسی کو نہیں دکھاتا تھا تاکہ کوئی ان کو دیکھ کر میرے مقابل نہ آسکے جبکہ جس سے کمپی ٹیشن ہوتا اس کے نوٹس دوستوں سے  چوری کراکے بھی پڑھ لیتا تھا۔ میں میڈیکل کا سٹوڈنٹ تھا۔ اب میں سمجھتا ہوں، ایکسیڈنٹ سے پہلے میں ایک خودغرض انسان تھا۔ جب ایکسیڈنٹ ہوا تو پانچ سیکنڈ میں سب کچھ بدل گیا۔ وہ ٹانگیں جن پر مجھے ناز تھا وہ نہ رہیں۔ ڈاکٹر نے کہا تم ساری زندگی چل نہیں سکو گے۔ ڈاکٹر نہیں بن سکو گے۔ باپ نہیں بن سکو گے۔ اس وقت عمر بیس سال تھی اس کے بعد زندگی میں کیا رہ جاتا ہے۔ اس حادثے سے میرے لئے کامیابی کا مفہوم اورconcept یکسر بدل گیا۔ کامیابی کیلئے  عموماًلوگوں کے سروں پر پاؤں رکھ کر گزرنا پڑتا ہے۔ میں ہمیشہ چاہتا تھا کہ تیز دوڑ کر کامیابی حاصل کروں گا۔ اب چند قدم چلنا ہی کامیابی کا معیار تھا۔ اب محض پڑھنا ہی مقصد تھا، ٹاپ کرنا نہیں۔ پھر میں نے عزم و ارادہ کیا، میں نے ٹھیک ہونا ہے، قوت ارادی کا یہ میرے لئے عظیم مشاہدہ اور تجربہ تھا۔ میں چلنے لگا، ڈاکٹر بنا خود شادی کی اور اپنے بچوں کی شادیاں بھی کر چکا ہوں۔ ڈاکٹروں کی رائے غلط ثابت ہوئی۔اس کے بعد بہت بڑی تبدیلی یہ آئی کہ میرا ٹرسٹ اُٹھ گیا۔آپ ڈاکٹر کے پاس گئے ہیں، اس نے بائی پاس کا مشورہ دیا۔ اس کی تشخیص مشورہ یا رائے صحیح ہو سکتی ہے اور غلط بھی ہو سکتی ہے۔ میں کسی پر اعتماد نہیں کرتا خود جائزہ لیتا ہوں، معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہوں،پھر کوئی فیصلہ کرتا ہوں۔
٭٭٭
نیوز اینکر عرفانہ سعیدکہتی ہیں۔موت کیا ہے؟ اگر کبھی موت اچانک سے سامنے آن کھڑی ہو تو کیسا لگے گا؟ کیا واقعی موت سے خوف محسوس ہوتا ہے؟ یہ وہ سوالات تھے جو میرے ذہن میں مستقل گردش کرتے رہتے تھے۔ میں شاید جواب چاہتی تھی ان سب سوالوں کا۔
لیکن کیسے؟
ایسے سوالات کا جواب تو وہی انسان دے سکتا ہے جس نے زندگی کو موت کی آغوش سے پلٹتے دیکھا ہو۔
شام ہوئی ……مغرب کی اذان سن کر ایک بار پھر سے یہ سوال ذہن میں ابھرنے لگا۔
”گاڑی کی رفتار بہت تیز ہے انکل“۔ میں نے اپنے ڈرائیور سے کہا تو وہ ہنس دیا۔
”بیٹا کچھ نہیں ہوتا ……ڈرنا نہیں چاہیے“ رفتار کم کرنے کے بجائے وہ ہنس رہے تھے۔
میں خاموش ہوگئی اور پھر اچانک اگلے ہی لمحے سڑک کے بیچوں بیچ ایک گدھا نہ جانے کہاں سے آگیا؟
”انکل بریک لگائیں۔“ میں فرنٹ سیٹ پر تھی اور بے ساختہ چلائی مگر اگلے ہی لمحے گاڑی گدھے سے ٹکرا کر سڑک پر اوندھی ہوگئی اور پوری سڑک سے لڑھکتی ہوئی فٹ پاتھ سے جا ٹکرائی۔
میں فرنٹ سیٹ پر تھی اور کھڑکی کے بالکل درمیان میں میرا سر تھا جس پر ڈھیروں کانچ ٹوٹ کر بکھر چکا تھا۔ایک لمحے کی بات تھی کہ گاڑی اگلی قلابازی میں نہر میں جاگرتی لیکن فٹ پاتھ سے ٹکرا کر رک گئی۔ 
بعد میں اپنی مدد آپ کے تحت گاڑی سے گھسٹتی ہوئی باہر نکلی۔ باہر نکل کر میں نے اپنے کپڑے جھاڑے اور بالوں پر بکھرے کانچ کے ٹکرے جھاڑنے لگی۔
مجھے اتنی معمولی خراش آئی، بہت دیر بعد اس بات کا خیال آیا کہ اتنے زبردست ایکسیڈنٹ میں اتنی معمولی خراش……؟
اس روز مجھے ہر سوال کا جواب ملا اور میرے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ سوال یہ نہیں موت کیا ہے؟سوال یہ ہے، زندگی کیا ہے۔یقینا زندگی موت کی امانت ہے۔
٭٭٭
ادیب اور صحافی صلاح الدین انقلابی بتاتے ہیں ”سفرانسان کو ہمیشہ ایک سوچ اور سبق آموز واقعات سے روشناس کراتا ہے جو زندگی کا رخ بھی متعین کرتے اور بعض اوقات کسی واقعہ اور فکرکے اثرات اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ لوگ اس کی بنیاد پر اپنی زندگی کا سفر نئے انداز میں شروع کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ عیدالضحیٰ کے فوری بعدپیش آیا۔میں چھٹیاں گزارنے کے بعد شکرگڑھ سے واپس لاہور آرہا تھا تاکہ اپنے اخبار کی رات کی ڈیوٹی پر پہنچ سکوں۔ ہماری ویگن نارنگ کے قریب پہنچی تھی، مخالف سمت سے آنے والے ایک سائیکل سوار کے غلط کراسنگ پر ویگن ڈرائیور نے اسے بچانے کی کوشش کی لیکن اسی دوران ٹائرسلپ ہونے سے ویگن ایک خوفناک دھماکے کے ساتھ کھائی میں جاگری۔ میرے سرپر ایسی چوٹ آئی کہ وقتی طور پر کچھ ہوش نہ رہا۔ میں چند منٹ کیلئے بے ہوشی جیسی کیفیت کا شکار ہو گیا۔ اتنا یاد ہے کہ یہی خیال ذہن میں آیا: بس آخری لمحات آ پہنچے ہیں لیکن خدا نے ایک اور موقع دیدیا تھا کہ ہم اپنی اصلاح کر لیں۔ ویگن نرم زمین پر گری تھی جس سے چند مسافروں کی ٹانگوں پر زخم آئے البتہ ڈرائیور اور کنڈیکٹر حیرت انگیز طور پر غائب ہو چکے تھے۔ اس حادثے میں جس چیز نے متاثر کیا وہ ممتا کا جذبہ تھا۔ حادثے کے فوری بعد سب لوگ اپنے بچاؤ کیلئے ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے باہر نکلنے کی کوشش میں تھے لیکن ایک خاتون اپنے کمسن بیٹے کو پکار رہی تھی لیکن کوئی اس کی نہیں سن رہا تھا۔ اس نے اپنے بچے کے ملنے تک ویگن سے باہر آنے سے انکار کردیا۔ایسے واقعات کی خبریں ہم روزانہ اخبارات میں شائع کرتے ہیں لیکن آج اس کا عملی مشاہدہ کر رہا تھا۔ کھڑکی میں لگا ہوا راڈ شاید دونمبر تھا جو حادثے کے بعد معمولی تار کی طرح مڑ گیا اور انسانی جانیں بچانے کے کام آ گیا۔ میں نے باہر نکلتے ہی شور مچا کر بچے کی طرف توجہ دلائی تو لوگوں نے کسی سیٹ کے نیچے آئے بچے کو جو زخمی ہو چکاتھا، باہر نکالا تو ماں کی جان میں جان آئی۔اس کے بعد وہ ویگن سے باہر آئی۔ ممتا کا یہ روپ دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار تھی اور پکار پکار کر کہہ رہی تھی کہ ماں انسانیت کا اعلیٰ روپ ہے۔
٭٭٭ 
ڈاکٹر مہوش جناح ہسپتال میں تعینات ہیں۔ان کے میاں کا تعلق فوج سے ہے۔ ان دنوں ان کی تعیناتی فاٹا میں ہے۔ ایسے غازیوں اور مجاہدوں کے سامنے تو موت ہر وقت رقصاں رہتی ہے۔ ڈاکٹر مہوش نے خود کو پیش آنے والا واقعہ سنایا کہ وہ کس طرح ایک موقع پر زندگی اور موت کے دوراہے پر آ گئی تھیں۔”میں 90ء میں نویں کلاس کی طالبہ تھی۔ میں گرمیوں کی چھٹیوں میں اسلام آباد گئی ہوئی تھی۔ ٹرین میں واپسی تھی۔ دادی اماں ساتھ تھیں۔ ان دنوں بم دھماکوں کا نیا نیا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ ٹرین کی روانگی کے آدھے گھنٹے بعد سیٹ کے اوپر رکھا بم پھٹ گیا۔ یہ تین والی سیٹ کے اوپر پھٹا تھا۔ اس کے نیچے بیٹھے دو افراد موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ باقی شدید زخمی ہوئے۔ ڈبے میں خون ہی خون اور خوف کی فضا طاری تھی۔ میں اور دادی بھی زخمی ہوئے۔ جس پر دو تین ماہ ہسپتال میں رہنا پڑا۔ میں سمجھتی ہوں کہ اللہ نے ہمیں نئی زندگی دی ورنہ تھوڑا سا ہم آگے پیچھے ہوتے یا بم اِدھر اُدھر نصب ہوتا تو وہ لوگ ہم بھی ہو سکتے تھے جو اس ظالمانہ اقدام کا نشانہ بن کر دنیا سے چلے گئے۔
٭٭٭
جاوید احمد عابد شفیعی نوائے وقت کے انٹر نیٹ کے شعبہ میں کام کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں ”موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کا ذائقہ ہر ذی روح کو چکھنا ہے۔ کسی کو بھی اس سے فرار نہیں لیکن ہم جب قبرستان میں کسی کو 

دفنانے جاتے ہیں ہمیں یہ سوچ کر بہت خوف آتا ہے کہ ہم نے آخر اس دفنائے جانے والے انسان کی طرح ایسی ہی قبر میں دفن ہونا ہے لیکن قبرستان سے واپسی کے چند گھنٹے بعد ہی شیطان کے بہکاوے میں آکر سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ میں نے موت کو دیکھا ہے لیکن شائد اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ کی مہلت کیلئے کچھ وقت مزیدملنا تھا، اس لئے میں نے موت کو تو دیکھ لیا لیکن موت کے فرشتہ کو نہ دیکھ سکا۔ اس پر میں اللہ پاک کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔ اگر اب بھی میں خود کو احکام الٰہی اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نہ چلاؤں تو مجھ جیسا بدنصیب انسان شاید اس دنیا میں نہ ہو گا۔ ہوا یوں کہ رات کو میں والدہ جو شدید بیماری کے باعث بستر سے نیچے نہیں اتر سکتیں، کے کمرے میں گیس ہیٹر لگا کر سو گیا۔ صبح اٹھا تو ہیٹر بند تھا۔ کمرے کا دروازہ چونکہ کھلا تھا اس لئے میں بے فکر ہو گیا کہ کمرے میں گیس نہیں بھر سکتی اور میں نے ماچس جلا کر جونہی ہیٹر جو کہ میرے قد سے اونچا دیوار پر لگا تھا کے قریب کی تو کمرے کا دروازے سے اوپر کا حصہ آگ سے بھر گیااور آگ تیزی کے ساتھ نیچے کی طرف بڑھی۔ میری والدہ صاحبہ زور سے چیخیں۔”ہم گئے“۔ اسی لمحہ اللہ پاک نے میرے ذہن میں یہ بات ڈالی کہ کھڑکی کھول دوں جو میں نے انتہائی پھرتی سے کھولی۔کھڑکی کا کنڈا پہلے سے کھلا تھا۔میں نے کھڑکی کا دروازہ پکڑ کر کھولاتو آگ جیسے تندور سے باہر کی طرف نکلتی ہے ایسے نکلی جو میری آنکھوں کے اوپر کے حصے تک پہنچ چکی تھی اور والدہ جو کہ کروٹ لیکر لیٹی تھیں کے دائیں بازو کو بھی جھلسا گئی۔ میرا سر جیسے ہانڈی پکتی ہے کی طرح دو دن تک جلتا رہا۔چند ماہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے میری والدہ اور مجھے مکمل صحت یاب کر دیا۔جلے کے معمولی نشان باقی رہ گئے۔ اگر اس وقت اللہ پاک وہ کھڑکی کھولنے کی بات میرے ذہن میں نہ ڈالتا تو میں اور میری والدہ دونوں آج قبروں میں پڑے ہوتے۔ اس بات سے میں نے جو سبق حاصل کیا وہ یہ تھا کہ اللہ نے مجھے مہلت دی ہے، میں اپنے گناہوں سے سچی توبہ کر کے خود کو سنت و شریعتؐ کا پابند بنا لوں ورنہ یہ مہلت پھر نہ ملے گی اور آخرت میں ذلت و رسوائی اور عذاب میرا منتظر ہو گا۔ اللہ پاک مجھے اور تمام مسلمانوں کو سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے اور راہ ہدایت پر چلاکر آخرت میں رب تعالیٰ بخشش کا حقدار ٹھہرائے۔ آمین ثم آمین۔
٭٭٭
سینٹرجنرل(ر) ملک عبدالقیوم سٹیل مل کے چیئرمین رہے وہ کہتے ہیں ”میں میٹرک میں تھا کہ شدید بخار کی لپیٹ میں آ گیا۔ بخار اترنے کے بجائے شدت اختیار کرتا جا رہا تھا۔ گاؤں میں جس طرح کا علاج ہو سکتا تھا وہ کرایا۔ مجھے دراصل ٹائیفائیڈ تھا جس کا اس دورمیں گاؤں کے ڈاکٹروں کو علم ہی نہیں تھا۔ میری Step mother کو بھی ٹائیفائیڈ تھا۔ ہم دونوں قریب قریب چار پائیوں پر تھے۔ والدہ کا اسی سے انتقال ہو گیا۔ میں بھی زندگی سے مایوس ہو گیاتھا تاہم اللہ تعالیٰ کی رحمت اور کرم نوازی سے ریکور ہونے لگا۔ میٹرک کے بعد ایف اے کیا بی اے میں تھا کہ فوج میں سلیکشن ہو گئی۔ پی ایم اے کاکول میں تربیت کے بعد پوسٹنگ کوئٹہ ہوئی پھر سیالکوٹ ہو گئی۔ جہاں محاذ جنگ تیار تھا۔  بھارت کی طرف سے حملہ کیا گیا۔ اس دوران دفتر کے طور پر استعمال ہونے والے ٹینٹ کو آگ لگ گئی۔ جیپ دشمن کے گولوں سے تباہ ہو گئی۔ جنگ مورچہ ہی محفوظ مقام ہوتا ہے۔ بھارت کی طرف سے روسی توپوں سے ایک ایک من کے گولے داغے جا رہے تھے۔ گولوں کی آواز کان پھاڑ دیتی ہے۔ کمزور اعصاب کے مالک افراد کی موت کے لئے گولوں اور بموں کی ہولناک آواز ہی کافی ہوتی ہے۔ من من کے گولے ارد گرد گر رہے اور سروں کے اوپر سے گزر رہے تھے کوئی بھی گولہ آپ کی زندگی شمع بجھا سکتا ہے۔ کئی ساتھی افسر اور جوان آنکھوں کے سامنے بمباری و گولہ باری سے ٹکڑوں میں بٹ کر جام شہادت نوش کرتے دیکھے۔ اللہ نے میرے مقدر میں غازی بننا لکھا تھا۔ 
سٹیل مل کی نجکاری جس طرح کی جا رہی تھی، اس کا مجھ پر زیادہ ہی اثر پڑ گیا۔ میں خسارے میں جانیوالے اداروں کی نجکاری کے خلاف نہیں ہوں مگر یہ عمل شفافیت سے ہونا چاہئے۔ جس دور میں اس کو اونے پونے بیچا جا رہا تھا اُس دورمیں سٹیل مل منافع میں جا رہی تھی۔ اس کے غیر منقولہ  اثاثوں کی مالیت اربوں میں تھی۔ ایک طرف اربوں روپے بنک میں موجود تھے دوسری طرف اربوں روپے کا خام مال بھی موجود تھا۔ سٹیل مل کے منقولہ اتاثوں کی مالیت بھی اس سے زیادہ تھی جس قیمت پر اسے فروخت کیا جارہا تھا۔ ان دنوں مجھے ایک بازو میں شدید درد ہونے لگا۔یہ تکلیف کنٹرول میں نہیں آ رہی تھی تو میں کراچی سے علاج کے لئے اسلام آباد آگیا تاکہ AFC میں چیک اپ کرا سکوں۔ اس دوران سپریم کورٹ میں سٹیل مل بیچنے کے از خود نوٹس پر سماعت ہو رہی تھی۔ مجھے شریف الدین پیرزادہ نے سپریم کورٹ میں اپنا موقف دینے کو کہا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں اسلام آباد میں علاج کے لئے آیا ہوں۔ سپریم کورٹ جانے کے قابل نہیں۔ ان کے اصرار پر سپریم کورٹ گیا۔جہاں دل کی شدید تکلیف کے باوجود تین گھنٹے بیٹھنا پڑا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سٹیل مل کی نجکاری پر میری رائے لی تو میں نے اپنے تحفظات ظاہر کئے۔ ان کو بتایا کہ ایک مکمل رپورٹ صدر کو بھجوا دی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا، انہیں بھی اس رپورٹ سے آگاہ کیا جائے۔ میں نے بتایا کہ وہ کانفیڈنشل رپورٹ ہے۔ بہرحال جہاں سے فارغ ہو کر AFC سے گیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے چیک اپ کیا۔انجیو گرافی کی تو ان کا کہنا تھا ”آپ نے یہاں آنے میں دیر کر کے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔“ دل کے دو مین والو اور ایک چھوٹی وین بند ہو چکی تھی ڈاکٹروں نے دو سٹنٹ ڈال دئیے۔ جس سے ایک بار پھر زندگی بچ گئی۔ بہر حال دنیا سے ایک دن ضرور جانا ہے۔ آج میں گزری زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تویقین جانیں ایک لمحہ محسوس ہوتا ہے۔ انسان کی اخیر موت ہی ہے۔ زندگی یہی سوچ کر گزاری جائے تو معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
٭٭٭
خالد لطیف سینئر ہیڈ ماسٹر(ر) شور کوٹ شہر (جھنگ) کہتے ہیں ”14اگست 1947ء کو وطن عزیز پاکستان معرض وجود میں آیا۔ یہ ایک چھوٹا سا جملہ ہے لیکن اس میں بے شمار ان گنت لا تعداد قربانیوں کی داستان پوشیدہ ہے۔ اس دن ہزاروں سہاگ لٹ گئے۔ بچے یتیم ہو گئے۔ ہزاروں ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عصمتیں تار تار ہوئیں۔ بہت سارے لوگ مشرقی پنجاب کے ہندو اور سکھ غنڈوں کے ہاتھوں زخمی ہوئے اور انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔ ہزاروں مال و اسباب سے محروم ہو گئے۔ اماں حوا کی بیٹیاں اپنے والدین سے بچھڑ گئیں۔
میری دو پھوپھی زاد بہنوں کا تا حال کوئی پتہ نہیں۔ وہ اپنے والدین کو یاد کرتے کرتے تڑپ کر سلگ سلگ کر مر گئی ہونگی یا مر جائیں گی۔ انکے والدین اور اکلوتا بھائی انکی جدائی میں آنسو بہاتے بہاتے اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔
مجھے خالد لطیف کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔12اپریل 1945ء کو انڈیا مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور تحصیل موگا کے گاؤں لوپوں میں ایسے دور میں صفحہ ہستی پرنمودار ہوا جب انگریز کی سامراجیت اور ہندؤں کی بہمیت کا راج تھا۔ ہندوستان کی تقسیم کی تحریک زوروں پر تھی۔
ہندوستان خاص طور پر مشرقی پنجاب کے مسلمانوں میں بے چینی اور سراسیمگی بدرجہ اتم موجود تھی۔ والد صاحب کا اسم گرامی محمد عبداللہ تھا۔ وہ ایک نامور طبیب کے طور پر جانے جاتے تھے۔
ہمارا گاؤں سکھ آبادی کی اکثریت پر مشتمل تھا۔ مسلمان آٹے میں نمک کے برابر تھے۔میں انگلی کے سہارے چلنے والا طفلک ہی تھا۔ارگرد کے حالات سے بے نیاز تھا اور معصوم کھیلوں میں مصروف اس بات سے بے خبر تھا کہ مستقبل قریب میں سیاسی بھونچال آنیوالا ہے۔ گھڑی ٹک ٹک کرتی رہی رات آئی اور ڈھل گئی۔ 
یہ مجھے علم نہیں کہ میری والدہ محترمہ مرحومہ نے میرے اور میری دو بہنوں کے ساتھ اپنا آبائی گاؤں کب اور کس حالت میں چھوڑا؟ جو کچھ انہوں نے مجھے بتایا وہی صفحہ قرطاس پر لا رہا ہوں۔
لوگ جب قافلوں کی شکل میں نقل مکانی کر رہے تھے۔ سکھ غنڈے مسلمان قافلوں پر حملہ آور ہو رہے تھے۔ بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔اسی دوران ہم والد محترم سے بچھڑ گئے۔یہ میری والدہ کیلئے جانکاہ لمحہ تھا لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ وہ مجھے اپنی گود میں اُٹھاکر اور دونوں بہنوں کو انگلی پکڑا کر  نامعلوم منزل کی طرف گامزن تھیں۔ حوصلہ افزا بات یہ تھی کہ ہم پاکستان جا رہے ہیں۔ خدا خدا کر کے ہزار ہا مشکلات اور مصیبتیں جھیلنے کے بعد ہم ضلع فیصل آباد (لائلپور) موجودہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک گاؤں 289/ج ب چندو بڈالہ پہنچے۔
مجھے یہ قطعی علم نہیں کہ ہم کس طرح اور کن حالات میں یہاں پہنچے۔ میری والدہ محترمہ(مرحومہ) مرتے دم تک5-10-1981ان دکھوں کا ذکر کرتی رہیں۔ اپنے شہید اعزاو اقربا کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھیں اشکبار ہو جاتیں۔ آنسو تھے کہ جاری و ساری رہتے۔ اشک تھے کہ رکنے کا نام نہ لیتے۔ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ میرے والد صاحب ہم سے بچھڑ گئے تھے۔اللہ تعالیٰ قادر و کریم ہے۔ جس نے ہمیں دو خوشیاں عطا کیں ایک پاکستان کی اور دوسری بچھڑے ہوئے باپ کا دوماہ بعد معجزانہ طور پر مل جانا۔ میں کم عمر تھا مجھے کچھ سمجھ نہ تھی کہ ماں کیا باتیں کرتی ہے؟ اور کیوں روتی ہے؟

جوں جوں بڑا ہوتا گیا میری والدہ تسلسل کے ساتھ اپنے جھیلے ہوئے مصائب و آلام کا تذکرہ کرتیں 8.7سال کی عمر میں مجھے بھی سمجھ آنے لگی کہ ہم ہندوستان چھوڑ کر پاکستان آئے ہیں۔
پھر تو یہ عالم تھا کہ مجھے رات کو سنے ہوئے واقعات (قتل و غارت کے واقعات) خوابوں میں نظر آنے لگے اور میں ڈر کر نیند سے بیدار ہو جاتا۔
جب میں ذرا اور بڑا ہوا تو میں نے اپنی والدہ محترمہ سے استفسار کرنا شروع کر دیا کہ میری دائیں پسلیوں کے نیچے زخم کا نشان کیسے بنا؟ تو ماں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے اور بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ یہ زخم اس وقت ہوا تھا جب ہم اپنے گھر سے نکل کر انجانے راستوں پر سفر کر رہے تھے۔ راستے میں رات پڑ گئی میں حیران و پریشان تھی کہ کہاں جاؤں؟ کونسا راستہ اختیار کروں؟ ساتھ ہی ایک گاؤں تھا جلاؤ گھیراؤ اور مارو پکڑو کی آوازیں آ رہی تھیں۔
میں سوچوں میں گم سم تھی کہ مجھے خیال آیا کہ اس گاؤں میں آپکے والد کے ایک سکھ دوست رہتے ہیں۔ چنانچہ میں نے اس گاؤں کا رخ کیا اور سکھ کا نام پوچھ کر انکے گھر چلی گئی۔
اس نے بادل نخواستہ اپنے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دی اور پھر روکھی سوکھی روٹی بھی کھلائی اور صحن میں چار پائی بچھا دی۔

وہ خود اور دیگر اہل خانہ گھر کے دوسرے حصہ میں چلے گئے۔ اس کا بیٹا بڑا متعصب تھا وہ نہیں چاہتا تھا، مسلمانوں کے قدم انکے گھر میں لگیں۔ مجھے تو نیند نہ آ رہی تھی کیونکہ وہ آدمی ہمیں قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ دو تین بار وہ برچھی لیکر میری طرف آیا چونکہ میں نے باریک سی چادر کا نقاب کیا ہوا تھا اور اسکی یہ حرکت دیکھ رہی تھی۔
ایک بار تو اس نے دور سے مجھ پر برچھی کا وار کیا۔ وار کارگر ثابت نہ ہوا۔ برچھی میرے ہاتھ کو چیرتی ہوئی آپ کے (میرے) پیٹ میں دھنس گئی۔ خون کا فوارہ اُبل پڑا اور میں بلبلا اٹھی۔ میں نہ تو شور کر سکتی تھی نہ واویلا میں نے صبر کیا اور سکھ سے شکایت کی، آپکے بیٹے نے تو مجھے اور میرے بیٹے کو زخمی کر دیا ہے۔ اس نے کہا بہن یہ بہت بگڑا ہوا ہے۔ مسلمانوں کا دشمن ہے۔ میں کیا کر سکتا ہوں؟ جوں توں کر کے رات گزاریں اور منہ اندھیرے گھر سے نکل جائیں۔ اس نے بیٹے کو سمجھایا بجھایا اور خود پہرہ دینے لگا۔
اسکی ہدایت کے مطابق صبح ہوتے ہی ہم اسکے گھر سے روانہ ہو گئے اور مسلمانوں کے ایک قافلے کے ساتھ مل گئے۔ میری حالت غیر ہو رہی تھی۔ میں تکلیف سے کراہ رہا تھا۔ شدید بخار ہو گیا تھا۔ موت کے آثار نمایاں تھے۔ نبض ڈوب رہی تھی،بے ہوشی کے عالم میں تھا۔ سانس اکھڑ رہی تھی۔ فرشتہ اجل قریب ہی تھا۔ خوش قسمتی سے اس کیمپ میں طبی امداد مل گئی۔ مرہم پٹی کی گئی اور کھانے کی دوا بھی دی گئی۔
والدہ غم سے نڈھال تھی۔ ہوتی بھی کیوں ناں؟ میں اسکا اکلوتا بیٹا اور زندگی کا واحد سہارا تھا۔والدہ میری صحت کیلئے اللہ کے حضور ہاتھ اٹھا اٹھا کر اور گڑگڑا کر دعائیں مانگتی رہی کہ اے اللہ! میرے بیٹے کو شفائے کاملہ عطا فرما۔ وہ امید و یاس میں مبتلا تھی۔
وہ بے بس تھی کچھ نہ سوجھتا تھا کہ کیا کرے؟ اللہ نے میری والدہ محترمہ کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشا اور تقریباً ڈیڑھ ہفتہ بعد میری حالت سنبھلنے لگی۔ اللہ نے مجھے شفا دی، میری ماں نے سکھ کا سانس لیا۔ سچ ہے کہ زندگی موت کی امانت ہے جو اپنی امانت کو کسی بھی لمحے واپس لے سکتی ہے۔
میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ ہم ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک گاؤں میں آباد ہو گئے تھے۔والدین نے میری پرورش بڑے لاڈ پیار سے کی۔ والدہ محترمہ کو مجھے افسر بنانے کا شوق تھا۔ میں نے 1956ء میں گاؤں کے پرائمری سکول سے پانچویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔ مسلم ہائی سکول جانی والا میں چھٹی جماعت میں داخلہ لیا۔ ادارہ ہذا میں استاد محترم محمد احمد خان صاحب۔ مرزا فقیر محمد صاحب۔ لعل دین او ٹی صاحب اور ملک غلام عباس صاحب نے میری شخصیت کو وہ جلا بخشی کہ اسکی چمک دمک تادم زیست برقرار رہے گی۔
ایف اے گورنمنٹ انٹر کالج گوجرہ سے پاس کیا۔ پروفیسر جناب الطاف حسین شیخ اور فارسی ادب کے استاد جناب عبدالمجید قریشی صاحب کے فرمودات آج بھی ذہن پر نقش ہیں۔ کالج میں آرٹس گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل کر کے انٹر میڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ پھر گورنمنٹ ڈگری کالج فیصل آباد سے بی اے کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ ایم اے (اردو) کا امتحان بھی اسی ادارہ سے پاس کرنے کے بعد سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور سے1970ء میں بی ایڈ کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم ایڈ کی ڈگری فرسٹ ڈویژن میں حاصل کی۔ ماں کے خواب کی تعبیر پوری ہوئی۔ امتحان سے فراغت کے بعد اپنے مخلص دوست جناب مرزا اقبال محمد بیگ حال مقیم لاہور کے ساتھ مل کر بچیکی ضلع شیخوپورہ موجودہ ضلع ننکانہ صاحب میں اقبال ماڈل ہائی سکول کا اجرا کیا اور خون جگر دیکر اسکی آبیاری کی۔ ہم نے عہد کیا تھا کہ
خونِ دل دے کر نکھاریں گے رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے
ہم نے خلوص دل سے طلباء کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔ الحمد للہ ادارہ میں طلبا کی تعداد کافی تھی۔ہمارا ادارہ ننکانہ کا کامیاب ترین ادارہ تھا۔ 1970ء کے عام انتخابات کے نتیجہ میں پیپلز پارٹی کی حکومت بر سر اقتدار آئی جسکے چیئر مین جناب ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ انہوں نے بڑے بڑے صنعتی اور تعلیمی ادارے قومی تحویل میں لے لئے۔ چنانچہ ہمارا ادارہ بھی اسی زمرے میں آ گیا اور ہماری ملازمت بھی نیشنلائز ہو گئی۔ اپنی تدریسی زندگی میں ہم نے محنت لگن اور شوق سے کام کیے۔
ہماری محنت رنگ لائی ہمارے ادارے کے فارغ التحصیل طلبا ہیں: رانا عبداللطیف بابر برگیڈئر پاک آرمی۔ رانا عبدالرحیم خاں۔ بریگیڈء رانا آفتاب خان۔ محمد اسلم بریگیڈئر۔ لیفٹینٹ کرنل رانا محمد افضال رائے ممتاز حسین سیکرٹری پنجاب اسمبلی۔ فضل حسین اعوان کالم نگار نوائے وقت۔ ایڈیشنل سیشن جج چوہدی طالب حسین۔ سیشن جج میاں فیض محمد۔ رانا محمد اعظم خاں ایس پی رینجرز ایس پی ٹریفک سردار محمد آصف خان۔ انسپکٹر پولیس رائے جاوید۔ انسپکٹر پولیس رانا طاہر خاں۔ ایڈووکیٹ رائے ولایت علی مجاہد۔ ایڈووکیٹ چوہدری صابر علی۔ ایڈووکیٹ رانا اکرام اللہ خان۔ انسپکٹر رائے منشا۔ایڈووکیٹ جنرل رائے طارق سلیم اور بہت سے دیگر ہماری محنت کا ثمر ہیں۔
اگر1947ء میں زندگی کا سلسلہ منقطع ہو جاتا تو اتنے شاہکار بھی تخلیق نہ کر سکتا لیکن ؎
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔
٭٭٭


میں نے میٹرک اپنے گاؤں کے قریبی قصبے بچیکی میں گورنمنٹ اقبال ماڈل سکول سے 1977ء میں کیا تھا۔ اس سے قبل اور بعد امتحانات مارچ میں ہوتے رہے مگر ہمارا میٹرک کا امتحان جولائی میں ہوا۔ اس وقت پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم تھے۔ انہوں نے اپنی حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے سے چند ماہ قبل انتخابات کرا دیئے۔ جس کے نتائج کو اپوزیشن نے تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا اور تحریک شروع کر دی۔ اس تحریک میں 9 پارٹیوں کے اتحاد پاکستان نیشنل الائس (PNA) اسے اردو میں قومی اتحادکہا گیا، اس اتحاد نے نظام مصطفے کے نفاذ کو اپنا نصیب العین قرار دیا۔ اس تحریک کی وجہ سے ملک میں غیر یقینی کی صورت حال پیدا ہوئی۔ بڑے شہروں میں امن و امان کی صورت حال بدترین ہو گئی جس کے باعث میٹرک کے امتحانات ملتوی کر دیئے گئے۔ پی این اے اور حکومت کے مابین مذاکرات شروع ہونے پر حالات بہتر ہوئے تو جون کے آخر  میں امتحانات کا انعقاد ہوا۔ ہمارا سنٹر ننکانہ صاحب تھا۔ ہم آٹھ نو طلباء نے ننکانہ میں مکان کرائے پر لیا۔ 4 جولائی کو پیپر 

دینے جانے سے قبل میں ناشتے کیلئے باہر گیا تو چھ بجے کی خبروں میں کہا جا رہا تھا۔”ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کردی گئی۔ان کو انکے ساتھیوں کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے“۔
 اقبال ماڈل ہائی سکول کے اساتذہ سے میٹرک کے بعد زیادہ رابطہ نہ رہا تاہم 1995ء کے بعد سے لاہور میں اقبال صاحب سے فون پر بات ہوتی رہی۔ ان سے خالد لطیف خالد صاحب کا نمبر بھی مل گیا۔ ان سے زیادہ گفتگو ہوتی ہے۔ خالد صاحب نے ”نئی زندگی“ کے حوالے سے اپنے تجربات تحریر کر دیئے۔مرزا اقبال محمد بیگ صاحب سے ان کے گھر میں ملاقات کی۔ میرے ساتھ محمد اقبال علوی بھی تھے۔ اقبال صاحب کے ساتھ خود تو ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا تاہم انہوں نے اپنے ایک واقف کار فتح محمد صاحب کا واقعہ بیان کیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے بھی حکومت کی اس سکیم سے استفادہ کیا جس کے تحت ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر کوئی سکول کرائے پر لے سکتے تھے۔ فتح محمد نے بھی ایسا ہی لاہورمیں ایک بوائز اینڈ گرلز ہائی سکول حاصل کیا تھا۔ یوں اقبال صاحب اور فتح محمد کی ایجوکیشن آفس میں ملاقات ہو جایا کرتی تھی۔ اقبال صاحب کہتے کہ ایک مرتبہ فتح محمد نے بتایا کہ ان کے ساتھ ایک حیرت انگیز اور تعجب خیز واقعہ پیش آیا۔ فتح محمد نے بتانا شروع کیا۔”میرے گھر میں پانی کی موٹر زمین کی چند فٹ کھدائی کر کے لگائی گئی ہے۔ اس کی شاید تار اتر گئی تھی۔ میں یہ تار لگانے نیچے اتر گیا۔ موٹر کو ہاتھ ہی لگایا تھا کہ زور دار جھٹکا لگا۔ اس کے بعد میں بے ہوش نہیں ہوا بلکہ مر گیا تھا۔ کرنٹ پڑنے پر میں نہ چیخا نہ چلایا۔ گھر والوں نے میری عدم موجودگی محسوس کر کے مجھے تلاش کیا تو میں کھوہ میں  بے سدھ بلکہ مرا پڑا تھا۔ انہوں نے جیسے تیسے مجھے باہر نکالا اور مردہ سمجھ کر رونا پیٹنا شروع کر دیا۔ ساتھ ہی تجہیز و تکفین کی تیاری شروع کر دی۔ اس دوران میں محسوس کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں، مجھے یہاں سے اٹھا کر کسی اور دنیا میں لے جایا جا رہا ہے۔ ایک پرہجوم جگہ پر مجھے لے جا کر کھڑا کر دیا گیا جہاں بے شمار لوگ قطار در قطار کھڑے تھے۔ میں بھی ایک لائن میں کھڑا ہو گیا۔ لوگ آگے چلتے جا رہے تھے۔ مجھ سے آگے کھڑے شخص کی باری پر اسے کاؤنٹر پر موجود شخص نے دیکھا اور اسے وہاں نصب گیٹ کے اندر جانے کا اشارہ کیا میری باری آئی اس نے بلند آواز میں کہا۔ ”یہ وہ فتح محمد نہیں ہے“ اس کے ساتھ ہی میرے جسم میں حرکت اور خون میں روانی کے آثار پیدا ہونے لگے۔ مجھے لواحقین کے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ تھوڑی دیر میں میں اٹھ کے بیٹھ گیا“۔
اقبال صاحب  سے میں نے کہا کہ آپ گوجرہ کے رہنے والے ہیں۔ سکول وہاں سے آ کر بچیکی میں بنایا؟ اس پر انہوں نے جو کچھ بتایا وہ عزم و عزیمت کی عظیم داستان ہے۔ اقبال صاحب کی زبانی روداد سنیئے۔
”تعلیم مکمل کرنے کے بعد نائب تحصیلدار کی آسامی کیلئے درخواست دی۔ انٹرویو کی کال پر لائلپور(موجودہ فیصل آباد) چلا گیا جہاں انٹرویو کے لئے لائن لگی تھی۔ اس لائن میں میرا کلاس فیلو بھی تھا۔ سخت دھوپ اور گرمی نے برا حال کر رکھا تھا۔ میرے دوست نے تنگ آ کر کہا۔: دفعہ کرو اس نوکری کو، گرمی میں کھڑا نہیں ہوا جاتا۔ میرے والد کا جڑانوالہ کے قریب ہائی سکول ہے۔ آپ وہاں آ جائیں۔ آپ کو ہیڈ ماسٹر لگا دیں گے“۔ چند روز بعد میں جڑانوالہ سے بچیکی کے قریب چکمر 644 چلا گیا۔ اسی روز مجھے ہیڈ ماسٹر کم ٹیچر کی اپوائنمنٹ کا لیٹر دیدیا گیا۔ یہ 1970ء کی بات ہے۔ میری تنخواہ 22 سو روپے مقرر کی گئی یہ بہت بڑی تنخواہ تھی۔ اس دور میں سونا 2 سو روپے تولہ تھا۔ رہائش سکول میں تھی کھانے اور دیگر ضروریات پر ماہانہ سو روپے کے قریب خرچہ آتا تھا، وہاں میں 8 ماہ رہا۔ انتظامیہ پورا تعاون کرتی تھی۔ سکول ٹائم کے بعد ٹیچر اور کچھ گاؤں کے نوجوان والی بال کھیلا کرتے تھے۔ ان میں ایک نوجوان شراب کی بوتل ساتھ رکھتا اور وقفے وقفے سے گھونٹ لگاتا اور کھیلتا جاتا۔ کھیل کے دوران بیہودہ گوئی اس کی عادت تھی۔ ایک دن انتظامیہ نے اس کی فائل بھجوائی جس میں اسے ٹیچر تعینات کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ میں نے اتفاق نہ کیا جبکہ انتظامیہ کا اصرار تھا، اسے ہر صورت تعینات کرنا ہے۔ میں نے کہا اگر آپ نے اس بدقماش شخص کو استاد بنانا ہے تو پھر میں سکول میں نہیں رہ سکتا۔یوں میں نے استعفیٰ دیدیا۔ میں دسویں کی کلاس کو پڑھاتا تھا۔ ان کو استعفے کے بارے میں بتایا تو پوری کلاس نے یک زبان ہو کر کہا ہم بھی اس سکول میں نہیں پڑھیں گے۔ میں نے پوچھا۔: کہاں جاؤ گے۔ تو ان کا جواب تھا جہاں آپ جائیں گے۔ میں نے یہاں سے سات آٹھ کلومیٹر دور بچیکی قصبے کا سروے کیا۔ جہاں ہائی سکول نہیں تھا۔ وہاں میں نے ایک عمارت کرائے پر لی۔ دسویں کی کلاس شروع کی اور پھر لوگ آ تے گئے کارواں بنتا گیا۔میرے کالج کے کلاس فیلوخالد لطیف خالد صاحب پہلے روز سے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔ ہم نے سکول کی فیس سرکاری سکول کے مطابق رکھی۔
 میں نے پہلی تنخواہ 22 سو روپے لے جا کر والدہ کے ہاتھ میں دیدی، والد ساتھ بیٹھے تھے انہوں نے اسی طرح یہ پیسے ان کو پکڑا دیئے۔ انہوں نے یہ رقم مجھے لوٹاتے ہوئے کہا ہمیں پیسوں کی ضرورت نہیں۔ اللہ کا دیا بہت کچھ ہے۔ آپ اپنی شادی کے لئے  پیسے جمع کریں۔ اس وقت میری منگنی بھی نہیں ہوئی تھی۔
پرائیویٹ سکول اور عملے کے اخراجات فیسوں سے پورے ہو رہے تھے۔ سکول بھٹو دور میں قومیا لیا گیا تو کاغذی کارروائی میں کئی ماہ لگ گئے۔ اس دوران میرے پاس 22 سو والی تنخواہوں کی ایک بڑی رقم موجود تھی۔ میں نے سکول کا کرایہ عملے کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات اسی میں سے ادا کئے۔ کرائے کے گھر میں بھی اساتذہ کے ساتھ رہتا تھا۔کرائے کے ساتھ کچن کا خرچہ بھی میرے ذمے تھا۔ ان اخراجات کے باعث جمع شدہ پونجی ختم ہو گئی۔ طلباء سے فیس لینا ہم سکول کے نیشنلائز ہونے کے بعد بند کر چکے تھے۔ ایک روز میری جیب میں ایک پیسہ بھی نہیں تھا۔ میں پریشانی کی حالت میں گھر کی طرف جا رہا تھا کہ پکوڑوں کی ریڑھی لگانے والے ایک شخص نے مجھے آواز دی۔ میں نے اسے سنا ان سنا کر دیا۔ میرا پکوڑے کھانے کا موڈ نہیں تھا اور جیب میں پیسے بھی نہیں تھے۔ میں نے اس کی آواز پر رسپانس نہ دیا تو اس نے اپنے ”چھوٹے“ کو بھجوایا اس نے بھاگ کر مجھے بازو سے پکڑا اور اپنے سیٹھ کا پیغام دیا۔ مجھے مجبوراً پکوڑے والے کے پاس جانا پڑا۔ اس نے پوچھا آپ پریشان لگ رہے ہیں، خیر تو ہے۔ میں نے کہا کوئی مسئلہ نہیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ اس دوران اس نے کہا سر پریشان نہ ہوں۔ میں دس ہزار تک آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔ اس دور میں 10 ہزار بہت بڑی رقم تھی۔ اندازہ کر لیں ان دنوں سونا 2 سو روپے تولہ تھا۔ مجھے پیسوں کی اشد ضرورت تھی مگر میں اس کو آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ میں انکار کر کے گھر چلا گیا تو تھوڑی دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تووہی شخص سامنے کھڑا تھا۔ اس کو میں اپنے کمرے میں لے آیا۔ اس نے اپنی جیب سے رقم  نکالی اور چارپائی پر بچھے گدے کے نیچے رکھ کر کہا۔:سر یہ آپ کے ہیں۔ میں نے پھر انکار کیا۔ تو اس نے کہا اس وقت یہ مجھ پر حرام اور آپ پر حلال ہیں۔ جب بھی آپ کے پاس ہوں واپس کر دینا نہ بھی کریں تو بھی میری طرف سے تقاضا نہیں ہو گا۔ یہ کہہ کر واپس چلا گیا۔ مجھے ایک ایک روپے کی اشد ضرورت تھی میں نے اس میں سے پانچ چھ ہزار اخراجات کے لئے الگ کر کے باقی ایک ہفتے بعد اسے واپس کر دیئے۔ باقی پیسے ڈیڑھ سال بعد ادا کئے۔
میری کامیابیاں اللہ کریم کا احسان اور انعام ہیں۔ مجھے محنتی ایماندار اور ڈیڈیکیٹڈ لوگوں پر مشتمل ٹیم ملی تھی۔ ان میں خالد لطیف خالد، محمد ادریس، شاہ محمد، ریاض احمد، محمود علی، عبدالستار اور محمد اسلم ابتدائی دنوں میں ساتھ شامل ہوئے۔ ستار صاحب 644 چک کے سکول سے دسویں کی کلاس میں ساتھ آئے تھے۔ جو اقبال ماڈل ہائی سکول میں ٹیچر بنے۔
٭٭٭
رانا شفیق خان پسروری علامہ احسان الٰہی شہید کے ساتھ جلسے میں شدید زخمی ہوئے۔انہوں نے موت جس طرح قریب سے دیکھا اس کی روداد انہی کی زبانی ملاحظہ فرمائیے۔”23مارچ 1987ء کو مینارِ پاکستان کے پڑوس میں قلعہ لچھمن سنگھ کے مقام پر سیرت النبی ؐکے مقدس عنوان کے تحت سے علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید اور ان کے رفقاء کا جلسہ منعقد کیا گیا۔ میں اس پروگرام میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ علامہ شہید بیٹھ کر بہت کم خطاب کیا کرتے تھے۔ لیکن اس روز اپنی ناسازیئ طبع اور سفر کی تھکان کی وجہ سے انہوں نے بیٹھ کر خطاب کا آغاز کیا۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا ان کی خطابت کا رنگ مجمع پر اثر انداز ہوتا گیا۔ ان کے خطاب کے دوران ہی پھولوں کا ایک گلدستہ اسٹیج پر پہنچایا گیا اس پر ”اسلام کا بیباک سپاہی۔۔۔ احسان الٰہی احسان الٰہی“ کندہ تھا۔ ہم نے جلسے کے اختتامی مراحل میں گلدستے کی آمد کو بڑی متعجب نگاہوں سے دیکھا۔ علامہ شہیددورانِ خطاب حضرتِ اقبال کے مشہور شعر  ؎
کافرہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
کے دوسرے مصرع کو ادا کر رہے تھے کہ وہ گلدستہ ایک دھماکے سے پھٹ گیا۔ جس کی زد میں آکر حضرت علامہ شہید دور جا گرے۔ میں علامہ شہید کے بالکل پیچھے بیٹھا ہوا تھا جب دھماکہ ہوا تو میں بے ہوش ہو گیا۔
جب مجھے ہوش ٓیا تو مجھے پہلا احساس یہ ہوا کہ جیسے مجھے کرنٹ لگا ہے اور لوگ شوروغل کرتے ہوئے میرے گرد جمع ہیں۔ میں نے ٓآنکھیں کھولیں۔ کرسی سے اٹھ کر چلنے کی کوشش کی لیکن گر پڑا۔ 
جب میں گرا تو اپنی بائیں جانب حضرت مولانا حبیب الرحمن یزدانی شہید h خون میں لت پت مجھے نظر آئے۔ ان کو دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ جیسے وہ اس دنیا سے کوچ کر چکے ہیں۔ اتنے میں میں پھر بے ہوش ہو چکا تھا۔ نوجوانوں نے مجھے اٹھا کر اسٹیج کی پچھلی جانب ایک فٹ پاتھ پر لٹا دیا۔ موسم کی خنکی اور زمین کی ٹھنڈک کی وجہ سے میں ہوش میں آ گیا۔ میں نے دیکھا کہ لوگ مجھے اٹھا کر ایک رکشا میں ڈال رہے ہیں۔ میرے ساتھ ایک اور زخمی کو بھی بٹھا دیا گیا۔ ہسپتال کی طرف جاتے ہوئے اس زخمی کا چہرہ میرے سینے کے ساتھ آ لگا۔ میں نے اسے ہٹانے کا سوچا مگر پھر خیال آیا کہ نہ جانے وہ کتنی تکلیف میں ہو گا؟ اس کی تکلیف کا سوچ کر میں نے اس کے سر کو اپنے سینے پر ہی رہنے دیا۔ میں نے دیکھا کہ میرے سینے سے خون ابل رہا ہے۔ میں نے خیال کیا یہ میرے زخمی بھائی کے جسم سے نکل رہا ہے لیکن میرے ہاتھ لگانے پر معلوم ہوا کہ وہ اس بھائی کا خون نہیں بلکہ میرے سینے پر آنے والے گہرے زخموں سے جاری ہے۔ اسی دوران مجھے اپنی دائیں آنکھ سے خون بہتا ہوا محسوس ہوا میں نے دو تین دفعہ ہاتھ سے صاف کرنے کی کوشش کی مگر خون رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ میں نے اسے اسی حالت پر چھوڑ دیا۔ بعد ازاں پتہ چلا کہ دراصل بم کے ذرات کی وجہ سے میری آنکھ راہِ خدا میں شہید ہو چکی ہے۔ اس دوران میں پھر بے ہوش ہو چکا تھا۔ جب ہسپتال پہنچے اور مجھے بیڈ پر لٹانے لگے تو مجھے ہوش آ گیا۔ دورانِ جلسہ میں نے سینڈل پہن رکھے تھے۔ دھماکے کے باعث  بم کے ذرات سے سینڈل کٹ گیا تھا۔ جس کی وجہ سے ہسپتال پہنچنے تک کے سفر میں میرا ایک جوتا کہیں گر چکا تھا اور ایک میرے پاؤں میں موجود تھا۔ میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ میرا دوسرا جوتا بھی اتار دیا جائے۔ اس کے بعد میں پھر بے ہوش ہو گیا۔ پھر کبھی ہوش آتا اور کبھی بے ہوش رہتا۔ تقریبا 16دن بے ہوشی کی حالت میں رہا۔ اس دوران میری شہادت کی خبر بھی پھیل گئی۔ زخم اتنے زیادہ تھے کہ جب علامہ صاحب کو ریاض (سعودی عرب) لے جانے کے لیے اسپیشل طیارہ آیا تو علامہ صاحب نے مجھے بھی ساتھ لے جانے کا کہا مگر ڈاکٹروں نے کہا کہ اس کی حالت بچنے کی نہیں۔ لے جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔مگر دیکھئے! میں آج بھی آپ کی خدمت میں ہوں اور حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید ہو کر جنت البقیع میں مدفون ہیں۔ بہر حال موت کا منہ اس طرح دیکھ لیا کہ اب موت سے ڈر نہیں لگتا۔ 
ہسپتال میں مجھے حضرت علامہ شہیدؒ کی وفات سے بے خبر رکھا گیا۔ عیادت کیلئے آنے والوں کو بھی ان کی شہادت کا تذکرہ کرنے سے منع کیا گیا۔ مجھے علامہ شہیدؒ کی وفات کا دو اڑھائی ماہ بعد پتہ چلا۔ اس دھماکے کی وجہ سے میرے سر پر بہت گہرا زخم آیا۔ جو آج بھی مجھے تکلیف دیتا ہے۔ اسی طرح میری دائیں آنکھ اور بائیں کان کا پردہ بے کار ہو گیا۔ اس کے علاوہ میرے پورے جسم پر زخموں کے بے شمار نشانات ہیں۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کو زندگی منظور تھی اور اس نے اپنے دین کی خدمت کے لیے مجھے مزید موقع عطا فرما دیا۔“ 
٭٭٭
نوائے نیوز روم کے سینیئر رکن ندیم صالح صدیق کہتے ہیں ”سرگودھا ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے میں اپنی والدہ، بیگم اور بچوں کے ساتھ گیا۔ شادی میں شریک ہونے کے بعد ہم سرگودھا سے لاہور کے لئے تقریباً 2 بجے 40 شمالی سے روانہ ہوئے۔ ان دنوں لاہور آنے کے لئے سرگودھا سے پہلے پنڈی بھٹیاں اور پھر موٹر وے کے ذریعے لاہور آیا اور جایا جاتا تھا۔ ہم سب بھی کار پر اسی راستے سے گاؤں گئے اور پھر اسی راستے سے واپس آ رہے تھے۔ پنڈی بھٹیاں کے قریب ایک ٹرک کو اوورٹیک کرتے ہوئے میری کار کے سامنے اچانک ایک ”ہینوٍ“ بس آ گئی۔ آج بھی میں جب اس منظر کو یاد کرتا ہوں تو میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ خوفناک منظر میری آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے جب فراٹے بھرتی ایک بس برق رفتاری سے میری کار کی طرف آرہی تھی اور اسے دیکھ کر مجھے ایسا لگا جیسے کانوں نے سننا ہی بند کر دیا ہو اور میں یہ سوچنے لگا کہ اگر یہ بس اس تیز رفتاری سے میری کار کے ساتھ ٹکرا گئی تو ہم سب کا کیا بنے گا کیا کوئی بچ پائے گا کہ نہیں؟ مگر مارنے والے سے بچانے والا بے شک بہت بڑا ہے۔ اس وقت میرے دل نے اللہ تعالیٰ کے حضور التجا کی۔”یا اللہ مدد فرما میں کیا کر سکتا ہوں میرے بس میں تو کچھ بھی نہیں ہے صرف تو ہی ہے جو ہمیں اس مشکل سے بچا سکتا ہے“۔پھر مجھے نہیں معلوم کہ کیسے میرا پاؤں تیزی سے بریک کی طرف چلا گیا زور دار آواز کے ساتھ سڑک پر ٹاٹروں کے رگڑنے کی آواز آنا شروع ہو گئی اس کے ساتھ ہی ٹائروں کی شدید بو بھی آنے گی۔ اس موقع پر مجھے ایسے محسوس ہوا کہ جیسے کسی نے اٹھا کر میری گاڑی کو بس کے سامنے سے ہٹا دیا۔ یہ سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری مدد فرماتے ہوئے مجھے اس حادثے کا شکار بننے سے بچا لیا مگر آج جب بھی میں اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں توجسم میں سنسنی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ میں اس حادثے سے بچ جانے کے لئے اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔
٭٭٭

 

متعلقہ خبریں