گنجلک

2022 ,جون 10



تحریر: فضل حسین اعوان
ڈاکٹر نے پورا دن فاؤنٹین ہاؤس میں وہاں کے مکینوں کے روئیے کا جائزہ لیتے ہوئے گزارا۔ فاؤنٹین ہاؤس کو پہلے پاگل خانہ کہا جاتا تھا۔ اس ہاؤس کے ایک مکیں سے اس نے جب بھی سوال کیا تو جواب دانشمندانہ اور فلسفیانہ ملا۔ ڈاکٹر صاحب اس سے بڑے متاثر ہوئے اور شام کو اس سے آخری سوال کیا ”تم جہاں کیسے آ گئے؟“جواب میں وہ بولا ”میں نے ایک بیوہ سے شادی کی۔ اس کی جوان بیٹی سے والدِ محترم نے بیاہ رچا لیا۔ یوں میرا باپ میرا داماد اور اس کی بیوی میری جو بیٹی بھی تھی، میری ماں بھی بن گئی۔ میری بیوی جو پہلے میرے باپ کی بہو تھی اب ساس بھی تھی۔ ان کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی وہ میری بہن تھی۔ اس کے ساتھ میں اس کی نانی کے شوہر ہونے کے ناتے اس کا نانا بھی تھا۔ خدا نے مجھے فرزندِ ارجمند عطا فرمایا جو اپنی دادی کا بھائی بھی تھا اور سگے دادا کا سالا بھی۔“ڈاکٹر نے پوچھا ”پھر پریشانی کیا ہے؟“ اس کا جواب تھا ”بڑی دولت کے مالک میرے دادا نے جائیداداولاد میں تقسیم نہیں کی۔ وہ صحتمند بھی ہے۔ ایک سال قبل میری بیوی نے مجھ سے طلاق لے لی اور چند روز قبل میرے دادا کی دلہن بن گئی۔ ان کے ہاں جو اولاد ہو گی وہ میری کیا لگے گی۔ میری اولاد کی کیا لگے گی۔ میرے باپ اور سوتیلی ماں اور میری بہن کی کیا لگے گی؟؟؟ بس یہی سوچ رہا ہوں۔“
مہنگائی کی گرد، لوڈ شیڈنگ کے غبارسے لوگوں کی زندگی مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ آمدن میں دھیلے کا اضافہ نہیں ہوا، اخراجات فلک بوس ہوگئے۔ ان حالات میں جسم اور سانس کا رشتہ برقرار رکھنا محال ہو رہا ہے۔کچھ لوگوں کو خونیں انقلاب کی دھمک سنائی دے رہی ہے۔ پاکستان میں کچھ بھی ہو سکتا ہے مگر بھوکے لوگوں کے ہاتھوں انقلاب نہیں آ سکتا۔ پاکستان میں کبھی کوئی بھوک سے مرا ہے نہ مرے گا۔پاکستانی بخیل نہیں دیالوہیں۔ شہروں میں جگہ جگہ دستر خوان کھلے ہیں۔ دیہات میں ڈیرے آباد ہیں۔ سب سے بڑھ کرخانقاہوں اور مزارات کے لنگر خانے کبھی بند نہیں ہوئے۔ خونیں انقلاب وہاں آتا ہے جہاں بھوک افلاس اور ننگ کا بھوت معاشرے اور معاشرت کو نگلنے کے درپے ہو۔ خونیں انقلاب کی باتیں بس قصے اور کہانیاں ہیں۔روٹی انسان کی بنیادی ضرورت ہے مگر اس حقیقت سے بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ اس کے علاوہ بھی تعلیم صحت قرابت داریوں ملنے ملانے اور آنے جانے جیسی ناگزیر ضروریات ہیں۔ 
پاکستان میں کبھی پیٹرولیم کی قیمتیں بجٹ میں سال بھر کے لیے طے کی جاتی تھیں، اب مہینے مین دو بار ہوتی ہیں۔ یہ بھی ضروری نہیں، جب حکومت کا موڈ ہو قیمت بڑھا دی جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں ایک ہفتے میں دوبار 30تیس روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا۔ مرے کومارے شامدار، بجلی کے نرخ مسلسل بڑھائے جا رہے ہیں۔ گھی اور آئل کی قیمت میں دو سو روپے لٹر کا اضافہ ہوا۔ زندگی میں افواہیں گنجلوں،گتھیوں کو بڑھاتی اور ارتعاش پیدا کرتی ہیں۔ پیٹرول مزید 25روپے بڑھانے کی افواہ اُڑی۔ ایسے مواقع پر لوگوں کو سڑکوں پر آکر احتجاج کرنا ہوتا ہے۔ دو ہفتوں میں 85روپے فی لیٹر اضافہ کیسے برداشت کر لیاجائے۔ احتجاج ضروری مگرکان دیکھنے کے بعددوڑلگے تو عقل مندی ہے۔خبر تصدیق نہ احتجاج،تاہم لوگوں نے گاڑیاں دوڑائیں، موٹر سائیکل بھگائے،رکشے چلائے،ٹریکٹرہلائے اور پیٹرول پمپوں پر لائنوں میں لگ گئے۔ اس طرح لائنوں میں لگنا مہامجبوریوں کاعکس ہے۔بجلی اور دیگر اشیاء کے نرخوں میں اضافے پر اقتدار سے تازہ تازہ باہر ہونے والی پی ٹی آئی سرسری رد عمل دے کرشاید توانائیاں محفوظ رکھنے کیلئے چُپ سادھ لیتی ہے۔ویسے بھی ابھی 25 مئی کوتازہ تازہ مار پڑی ہے، ٹکوریں کررہے ہوں۔ وہ فوری انتخابات کے اعلان کی متمنی ومنتظر ہے جو الیکشن کمیشن کے عندیہ کے مطابق اسی سال اکتوبر میں ہوسکتے ہیں۔ ویسے یہ حکومت جلد جانے کے لیے نہیں آئی۔ یہ اتنے بُدھو نہیں ہوسکتے کہ اکتوبر میں الیکشن کرانے کے لیے کڑے اور انساں گزیدہ فیصلے کریں۔ 
 پاکستان میں سیاست امکانات، کرشمات اور کرامات کا کھیل ہے۔ کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ آج کی حکومت سوا سال کی مدت پوری کر سکتی ہے۔آئین کی رو سے ایک سال کی توسیع مل سکتی ہے۔ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ آ سکتا ہے۔ نومبر کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ آرمی چیف کی تعیناتی ہونی ہے۔ بحث چھِڑ ی ہے کہ کون آرمی چیف ہوگا، کون لائے گا۔ جو بھی وزیر اعظم ہو گا، اسی نے فیصلہ کرنا ہے۔ شہباز شریف اُس وقت وزیر اعظم ہو سکتے ہیں۔ کوئی اور سکتا ہے۔ بعید نہیں ہماری معجزاتی جمہوریت میں عمران خان ہی وزیر اعظم بنے بیٹھے ہوں۔ آرمی چیف کی تقرری کون کرے گا؟ اس پرایڑیاں اُٹھا کر بحث جا ری ہے۔ مرضی کا چیف،ہمارا جرنیل، ان کا جرنیل، یہ لا حاصل اور فضول سوچ ہے۔ تقرری کے بعد کسی کا جرنیل نہیں ہوتا، چیف بننے کے بعد وہ وہی کرتا ہے جو مناسب گردانتا ہے۔ اسے مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے نہ ماتحتوں کی پرواء۔ "کُن "کے قریب قریب اختیارات سے طاقت کا کوہ طور بن چکا ہوتا ہے۔مدت میں جتنی بھی توسیع ہو دنیا سے جانے کی طرح سروس سے بھی ایک دن (خدا نخواستہ اگر انہونی نہ ہو جائے تو)جانا ہوتا ہے۔ خمار کوارٹرگارڈ سے نکلتے ہی اترجاتا ہے۔
ہم کرونا سے نکلے تو مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کے عذاب میں پھنس گئے جس سے زندگی ایک گنجلک،گُتھی اور جنجال بن گئی۔اپنے پیشروؤں کی طرح اتحادی حکمران بھی الجھے ہوئے ہیں بلکہ ان کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی گرداب میں ہیں۔ابھی تو بجٹ میں ٹیکسوں کی بھرمار کا ممکنہ مرحلہ بھی درپیش ہے۔عمران خان شست لگا کر بیٹھے۔بجٹ کے بعد اودھم مچائیں گے۔پی پی پی کے دور میں سی این جی سیکٹر دوبالا ہی نہیں سہ بالا اور چوبالا ہو گیا تھا۔اس کے بعد ن لیگ کے دور میں یہ سیکٹر پستیوں کی گہرائی میں جا گرا۔آج دونوں پارٹیوں میں اتحاد اوراعتماد عرشِ معلیٰ پر ہے،یہ فیصلہ کرسکتی ہیں کہ کس کی پالیسی اولیٰ تھی۔پی ٹی آئی حکومت نے آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دینے کی کوشش کی۔اس سیکٹر کا زیادہ تر دارومدار دوسرے ممالک سے آرڈرز اور فری لانسنگ پر ہے۔اتحادی حکومت کی طرف سے اس انڈسٹری پر بھی ٹیکس لگانے کی تجاویز سامنے آرہی ہیں۔اِدھر ٹیکس کی باتیں ہورہی ہیں اُدھر اس صنعت کے وابستگان بیرون ممالک منتقل ہونیکی پلاننگ کرنے لگے ہیں۔آئی ٹی شعبہ پاکستان میں ماہانہ کروڑوں ڈالرز کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔دانش مندی کا تقاضا ہے کہ حکومت اس مرغی کے انڈے کھائے ذبح نہ کرے۔ 
 بات ہم نے مسائل، مصائب، مشکلات،کٹھنائیوں،الجھنوں،گنجل،جنجال،جھنجٹ اورگنجلکوں سے شروع کی تھی۔ ان سے نجات کا وقتی ہی سہی آپ کو ایک کلیہ بتاتے ہیں ہر دور میں مجرب رہا ہے،آزمودہ ہے۔ پی ٹی وی دیکھا کریں۔ سب دلدر دورسب اچھا اور ہرا نظر آئے گا۔اس سے بھی بڑا کارآمد اور حقیقی ہے:ہر حال میں،حتیٰ کہ زوال اور وبال میں بھی اللہ کریم کا شکر ادا کریں۔آپ بذات خود اربوں کھربوں کے ہیں۔
 

متعلقہ خبریں