پاک بھارت تناﺅاور گندے انڈے ... آصف خورشید رانا

2016 ,اکتوبر 8



پاک بھارت تناﺅ کاآغاز اڑی حملوں سے نہیں ہوانہ ہی یہ دونوں ممالک کے درمیان تناﺅمیں اضافہ کے لیے پہلا واقعہ تھا ۔پٹھانکوٹ یا ممبئی حملے بھی ابتدا نہیں تھے بلکہ تاریخ اس تناﺅ کو قیام پاکستان سے جوڑتی ہے جب پاکستان بنا تو اسی وقت بھارتی رہنماﺅں نے کہنا شروع کر دیا پاکستان چند دن باقی رہے گا اور دوبارہ بھارت کے آگے ہاتھ جوڑ کھڑا ہو گا کہ مہاراج برصغیر کے مسلمان پھر سے آپ کی غلامی میں آنا چاہتے ہیں۔یہ محض بیانات نہیں تھے اس کے لیے پوری منصوبہ بندی تھی پاکستان کو حصے میں ملنے والے اثاثہ جات خواہ وہ رقم کی شکل میں ہو ں یا جنگی سازوسامان ، دریاﺅں کے پانی کا مسئلہ ہو یا علاقوں کی تقسیم کا کلیہ ہر معاملہ میں بھارت نے انگریز سرکار کے ساتھ مل کرہرممکن کوشش کی کہ پاکستان چند دن ہی دنیا کی نقشے پر نظر آسکے ۔تاہم یہ برصغیر کے مسلمانوں کی قربانیوں کا ثمر تھا جن کا آغاز مسلم لیگ کے قیام سے بھی بہت پہلے ہو چکا تھا اور پھر مسلم لیگ کے جھنڈے تلے بانی پاکستان کی قیادت میں اللہ رب العزت نے زمین کا ایک ٹکڑا نعمت کی شکل میں عطا کر دیا۔ مسئلہ کشمیر بھارت کی ان سازشوں میں ایک تھا جو انگریز سرکار کے ساتھ مل کر پاکستان کے خاتمہ کے لیے تیار کی گئیں تھیں۔ گرداس پور کا علاقہ بھارت کو دے کرکشمیر پر قبضہ کی راہ آسان کی گئی آکری ضرب تب لگی جب بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں اتار کر ریاست دہشت گردی کا آغاز کر دیا۔ کشمیر کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کا آغاز ہوا تو چانکیہ سیاست کے علمبردار بھارت نے عافیت جانی کہ اقوام متحدہ کے دروازے پر دستک دی جائے اور پھر استصواب رائے کا وعدہ کر کے مسلح جدوجہد کو وقتی طور پر روکنے میں کا میاب ہو گیا ۔ عالمی سطح پر مسلسل وعدے کرتا رہا تاہم جونہی فضاءکچھ بہتر ہوئی تو کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار ددے دیا۔ کشمیریوں کو کبھی اقتصادی پیکج دے کر رام کرنے کی کوشش تو کبھی ظلم و جبر سے جھکانے کی بھارتی کوششیںناکام ثابت ہوئیں۔ کشمیر کے باسیوں نے اس دعوے کو تسلیم کرنے سے انکار ہی نہیں کیا بلکہ مختلف محاذوں پر آزادی کے لیے جدوجہد بھی جاری رکھی ۔پاکستان نے بھی ہرموقع پر دامے درمے سخنے مظلوم کشمیریوں کی حمایت جاری رکھی ۔کشمیریوں نے کبھی سیاسی محاذ پردنیا کو جگانے کی کوشش کی تو کبھی دنیا کے منصفوں کو بیدار کرنے کے لیے بندوق کا سہارا لیا لیکن دنیا میں امن کی بانسری بجانے والوں نے کشمیریوں کی ہر کوشش پر اپنی آنکھیں بند رکھیں ۔ اب حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ کشمیریوں کی تیسری نسل اپنی آزادی کے لیے قربانیاں دے رہی ہے اور تیسری نسل آزادی یا موت کا نعرہ لے سڑکوں پر آ نکلی ہے ۔ بھارت نے اس تحریک کو پھر سے بندوق اور گولی سے دبانے کی کوشش کی تو یہ تحریک مزید ابھر کر دنیا کے سامنے آ گئی ۔ پاکستان نے ہمیشہ ہی آزدی کی اس تحریک کے وکیل کا کردارادا کیا ہے ۔ باوجود کہ کشمیر کو بانی پاکستان نے اپنی شہہ رگ قرار دیا تھا اس تحریک کی سیاسی و سفارتی حمایت تک ہی محدود رہا اور اسے دو طرفہ مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کرتا رہا ۔نریندر مودی کی اسلام اور مسلمان دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اس نے اپنے انتخابات ہی اسلام ، مسلمان اور پاکستان دشمنی پر جیتا تھا ۔ انتہا پسند ہندوں تنظیموں نے نریندر مودی کی انتخابی مہم کو کامیاب بنایا اور برسرقتدار آتے ہی بھارت کی گلیوں کوچوں میں انتہا پسند ہندو دندنانے لگے ۔ کشمیر میں بھی یہی صورتحال رہی ۔نریندر مودی نے پاکستان میں پراکسی وار کے لیے اجیت دوول ڈاکٹرائن پر عمل کروایا لیکن راحیل شریف کی قیادت میں شروع ہونے والے ضرب عضب آپریشن کی وجہ سے فاٹا ، کراچی اور بلوچستان سمیت دیگر علاقوں سے بھارتی فنڈڈ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے عمل کے باعث یہ ڈاکٹرائن دم توڑ گیا۔ایک طرف بھارت کی گلیوں کوچوں میں انتہا پسند ہندو دندنانے لگے اور مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی گئی دوسری طرف کشمیر میں بھارتی فوج درندگی کے ریکارڈ توڑنے لگی۔آزادی کی علامت اور نوجوان کشمیریوں کے ہیرو برہان وانی کی شہادت نے تحریک آزادی کو ایک نیا رخ دے دیا۔ کشمیر کی گلی کوچوں میں برہان وانی کے ہم عمر پاکستانی پرچم لے کر باہر نکلے تو ماﺅںبہنوں بوڑھوں نے آگے بڑھ کر ان کا ساتھ دیا۔ گلی گلی شہر شہر پاکستانی پرچم لہرا نے لگا۔ یہی نہیں کشمیری نوجوانوں نے اپنی گھڑیوں کا وقت پاکستان کے ساتھ ملا لیا تو بوڑھوں بزرگوں نے عید بھی پاکستان کے ساتھ منانے کا اعلان کر دیا ۔ اب نوجوانوں کی جیبوں میں موجود موبائل کی ٹون پاکستان کا قومی ترانہ بن گئی ۔سکولوں کی اسمبلی میں پاکستان کے قومی ترانہ کے ساتھ شروعات ہونے لگیں تو بھارتی فوج پر جیسے پاگل پن کا دورہ پڑ گیا ۔ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے نوجوانوں کو چپ کروانے کے لیے پیلٹ گنوں کا استعمال کیا جانے لگا لیکن تحریک نے جو رخ اختیا ر کر لیا اس کو موڑنے میں فوج نے ہر طرح کی درندگی کا مظاہر ہ کر لیا ۔گزشتہ تین ماہ سے وادی میں کرفیو، کئی ہزار نوجوان پیلٹ گنوں کا شکار ہو کر ہسپتال میں ہیں ،تین سو کے قریب اپنی جان قربان کر چکے ہیں ، سکول بند،فون بند، انٹر نیٹ بنددوکانیں بند ، تاجروں نے کاروبار کرنے سے انکار کر دیا ، مزدوروں نے کام کرنے سے انکار کر دیا کسان طلباءوکلاءسب میدانوں میں نکل پڑے کوئی نوجوان بھارتی گولی کا نشانہ بن جاتا تو اس کو پاکستانی پرچم میں دفنانے کے لیے بلاشبہ ہزاروں لوگ آن کی آن جمع ہو جاتے ۔ ان حالات میں پاکستان بھی کشمیریوں کے وکیل کا حق ادا کرنے کے لیے میدان میں نکل کھڑا ہوا۔ دنیا بھر کے فورمز میں پاکستان نے مسئلہ کشمیر، کرفیو ، بھارتی مظالم اور غیر انسانی سلوک کو بے نقاب کرنے کا آغاز ہوا۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں بھارتی مظالم بے نقاب کر کے اور کشمیریوں کی تحریک کو آزادی کی تحریک کہہ کر پوری قوم کے دل جیت لیے۔ اس موقع پر وزیر اعظم کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر کامیاب آل پارٹیز کانفرنس نے جہاں بھارت کو سیخ پا کیا وہاں پاکستانی قوم کے دلوں میں وزیر اعظم کی عزت میں اور ذیادہ اضافہ ہو گیا۔میاں نواز شریف نے مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے جتنے اقدامات کیے ان سے ان کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ کشمیری عوام اور ان کے رہنماءبھی نواز شریف کے گن گانے لگے ۔اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے مسئلہ کشمیر کو صحیح انداز میں اجاگر کرنے پر وزیر اعظم کی تعریف کی ۔ لیکن سچی بات ہے میرے وطن کی مٹی بہت زرخیز ہے لیکن کچھ حصہ بنجر بھی ہے۔ اس صورتحال میں جب عسکری و سیاسی قیادت ، اپوزیشن ، سیاسی و مذہبی جماعتیں اور عوام ایک پیج پر رہ کر اتحاد و یکجہتی کا شاندار مظاہرہ کر رہی ہیں وہاں ایک بڑے میڈیا کے ادارے سے ایک غیر مستند خبر پھیلائی گئی جس سے سوائے بھارتی لابی کو خوش کرنے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔بھارتی میڈیا کو پاکستان کی عسکری وسیاسی قیادت اور کشمیر کے لیے اٹھنے والی موثر آواز کے خلاف پراپیگنڈہ کا موقع مل گیا۔یہی نہیں جس وقت وزیر اعظم کی مقبولیت بلندیوں کو چھور ہی تھی اسی وقت وزیر اعظم کی اپنی جماعت سے کچھ ایسے آوازیں اٹھنے لگیں جو وزیر اعظم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو کم کرنے لگیں ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مشاہد اللہ خان نے جو کچھ کہا اس کی یقنیا ً تحسین نہیں کی جاسکتی ۔ ایسے موقع پر ان کی تقریر سوائے کشمیر کے حوالہ سے بلائے جانے والے اجلاس کو متنازعہ بنانے کے سوا کچھ نہیں تھااور یہ بات سرا سر ان کے وزیر اعظم کے خلاف ہی جاتی ہے۔اسی طرح ایک اور رہنما نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران تحریک آزادی کے لیے ایک موثر کردار اداکرنے والی شخصیت کے بارے میں انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کیے اور سوال کیا کہ کیا حافظ سعید انڈے دیتا ہے جس پر صرف بھارتی لابی کو خوشی محسوس ہوئی اور پاکستان و کشمیر دونوں طرف ایک منفی پیغام گیا کیونکہ پاکستان کے عوام اور کشمیر عوام دونوں بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا کشمیر کی آزادی کے بارے میں کیا کردار ہے ۔کسی کی ٹوکری میں سارے انڈے صاف نہیں ہوتے کچھ گندے بھی نکل آتے ہیں ۔وزیر اعظم صاحب ذرا دیکھ لیں آپ کی ٹوکری میں بھی کچھ گندے انڈے تو نہیں جو باقی انڈوں کو تو خراب کریں گے لیکن آپ کوبڑھتی ہوئی مقبولیت کو بھی گندا کر دیں گے۔

متعلقہ خبریں