جتنا بڑا آدمی اتنا کڑا احتساب

2016 ,اکتوبر 7



عوام جمہوریت سے آمریت اور پھر آمریت سے جمہوریت کی طرف بھاگتے ہیں، پنڈولم کی طرح دائیں بائیں جھولتے رہتے ہیں، کہیں ٹک کر، جم کر نہیں بیٹھتے تو آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ خاصے غور و فکر، چھان پھٹک کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ حکمران نام نہاد جمہوری ہوں یا غیر جمہوری، دونوں ہی ’’ڈلیور‘‘ کرنے میں ناکام رہتے ہیں جبکہ عوام کی دنیا صرف اتنی سی ہے کہ’’ابن مریم ہوا کرے کوئی، میرے دکھ کی دوا کرے کوئی‘‘۔ اپنے دکھوں کی دوا کے لئے وہ شیروانیوں کی طرف بھاگتے ہیں اور چند سال ان کے ہاتھوں خجل خوار ہو کر وردیوں کی طرف لپکتے ہیں اور چند سے کچھ زیادہ سال بعد پتھر چاٹ کر واپس شیروانیوں کے شجر سے امید بہار باندھ لیتے ہیں علیٰ ہذالقیاس۔ستر 70سال سے سانپ سیڑھی کا یہ کھیل جاری ہے تو طے یہ کہ’’ڈلیور‘‘ کوئی بھی نہیں کرتا اور اس کے پیچھے سب سے بڑی وجہ یہ کہ حکمران سیاسی ہو یا فوجی، احتساب سے ماورا ہوتا ہے اور بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ کائونٹیبلٹی کے بغیر ڈیموکریسی صرف انارکی یعنی طوائف الملوکی اور سرعام لوٹ مار کے سوا کچھ بھی نہیں، یہی کچھ ہمارا’’مستقل منظرنامہ‘‘ ہے۔’’جتنا بڑا آدمی اتنا کڑا احتساب‘‘ کے بغیر ناممکن ہے کہ عوام کو کہیں سے کبھی کوئی ریلیف نصیب ہو کیونکہ عوام تک کچھ پہنچنے ہی نہیں دیا جاتا۔ آج کل یعنی عہد حاضر میں دولت کمانا نام ہے دراصل ’’کلاسیفائیڈ انفارمیشن‘‘ تک رسائی کا جو ہر قسم کے حکمرانوں کو حاصل ہوتی ہے۔ مخصوص قسم کی معلومات تک یہ رسائی دراصل خزانے کی کنجی ہوتی ہے اور احتساب نہ ہونے کی وجہ سے اس کا بے رحمانہ بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے مثلاً اگر کسی کو یہ معلوم ہو کہ ائیر پورٹ کہاں بننا ہے؟ یا انڈسٹریل سٹیٹ کے لئے کون سی جگہ خریدی جانی ہے؟ موٹر وے یا رنگ روڈ کہاں کہاں سے گزرنے والی ہے تو کون ہے جو وہاں فرنٹ مینوں کے ذریعے اونے پونے زمینیں خرید کر انہیں سونے چاندی کے بھائو نہیں بیچے گا؟ یا کون سے قیمتی ہتھیار، اوزار، مشینری یا بیش قیمت ایکوپمنٹ وغیرہ کہاں سے خریدنا ہے تو مینوفیکچررز کے ساتھ ساز باز کرکے کاغذی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ان سے خریداری کو یقینی بنانا کیا مشکل ہے خصوصاً جب احتساب کا کلچر ہی موجود نہ ہو تو کھربوں کے سودوں میں اربوں کی دیہاڑی معمولی بات ہے، اسی طرح ایس آر اوز کو تھوڑا سا آگے پیچھے کرکے دولت کے انبار لگانا معمولی کاریگری ہے۔ یہ تو چند معمولی اشارے ہیں ورنہ ایک لاکھ ایک طریقوں سے سوئس بینک اور پانامے بھرے جاسکتے ہیں یعنی پھر وہی بات کہ اکائونٹیبلٹی کے بغیر’’نام نہاد جمہوریت‘‘ ہو یا’’غیر جمہوریت‘‘ درحقیقت ننگی لوٹ مار کا لائسنس ہے، پھر فرد واحد کا یہ فیصلہ کہ کھربوں روپے کا فلاں میگا پراجیکٹ شروع کردو کہ جتنا بڑا پراجیکٹ اتنے بڑے کمیشن اور کک بیک۔ عوام کو بھلے ضرور ت ہو نہ ہو، ذاتی پسند کا پراجیکٹ بغیر کسی ٹرانسپیرنسی کے ان پر تھوپ دیا جاتا ہے، چاہے قوم پر قرضہ مزید ہی کیوں نہ چڑھ جائے۔ اس کے پیچھے بھی یہی یقین اور اعتماد کہ......’’ہم ہر سطح پر ہر قسم کے احتساب سے ماورا ہیں‘‘۔غرضیکہ ہزار ہاتھوں اور طریقوں سے وہ دولت ہڑپ کرلی جاتی ہے جسے عوام کی بہتری بھلائی کے لئے خرچ کیا جانا چاہئے۔ نتیجہ یہ کہ عوام’’جھونگے‘‘ پر زندہ رہتے ہیں یعنی سر ڈھانپیں تو پائوں ننگے، پائوں ڈھک لیں تو سرننگا۔ یہ ہیں اس کثیر الجہتی دھندے کی معمولی ترین، حقیر ترین جھلکیاں جو صرف اس لئے بام عروج پر دندنا رہا ہے کہ پوچھنے ، احتساب کرنے والا ہی کوئی نہیں۔ مہذب ملکوں کے حکمرانوں کو بھی خصوصی معلومات تک رسائی ہوتی ہے، دل ان کا بھی کرتا ہوگا کہ فرشتے نہیں،انسان ہی ہیں اور خال خال ٹمپٹیشنز کے سامنے نڈھال ہو کر پکڑے بھی جاتے ہیں لیکن عموماً ایسا نہیں ہوتا کیونکہ وہاں احتساب کا نظام بہت ہی مضبوط، مؤثر ، آزاد اور فول پروف ہوتا ہے۔ہماری کسی بھی حکومت پر لیبل جمہوری ہو یا غیر جمہوری، اے کی ہویا بی کی.......قدر مشترک یہ ہوتی ہے کہ’’ڈلیور‘‘ نہیں کرتی اور’’ڈلیور‘‘ اس لئے نہیں کرپاتی کہ لوگوں کا80فیصد حصہ یا حق تو ان تک پہنچتا ہی نہیں، کھایا جاتا ہے اور ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ اس ملک میں احتساب نام کی کسی شے کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔ جب تک’’جتنا بڑا آدمی اتنا کڑا احتساب‘‘ کے بنیادی اصول پر سو فیصد عملدرآمد یقینی نہیں بنایا جاتا........عوام کا کچھ نہیں بنے گا سوائے اس کے کہ کچھ مینڈک ، مگر مچھ اور کچھ مگرمچھ ڈائناسورز بن جائیں۔ حکومت جمہوری ہو بلکہ یوں کہیں کہ نام نہاد جمہوری ہو یا غیر جمہوری، کسی تاجر کی ہو یا آمر کی.......اس سے عوام کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور وہ حسب روایت شیروانیوں اور وردیوں کے درمیان یونہی لڑھکتے رہیں گے۔کمال ہے، حال یہ ہوگیا کہ چھاج کیا، چھلنیاں بھی احتساب کی بات کررہی ہیں۔ بلاول بھٹو کا یہ تازہ ترین بیان خاصا لذیذ ہے کہ......’’2018 ہم حکومت میں اور نواز شریف جیل میں ہوں گے‘‘۔ پارٹی کے اندر سے نہ سہی کوئی باہر سے ہی یہ پوچھ لے کہ’’سرے محل‘‘ اور’’کوٹیکنا‘‘ کا کیا بنا؟ اور پاناما لیکس میں کس کس کی ماما کا ذکر خیر شامل ہے۔ویسے کہنے کو تو ثابت کچھ زرداری صاحب کے خلاف بھی کبھی نہیں ہوا، ان کے ہاتھ اور دامن بھی میاں صاحب کی طرح بالکل صاف ستھرے اور دھلے دھلائے ہیں۔ بلاول نے پیپلز پارٹی چھوڑ کر جانے والوں سے واپسی کی اپیل کی ہے، اس پر انشاء اللہ کل روشنی یا اندھیرا ڈالیں گے۔ (بشکریہ جنگ۔7 اکتوبر 2016)

متعلقہ خبریں