حضرت امام حسینؑ

2020 ,فروری 7



خــــاتونِ جنت حضرت سیــــدہ فــــاطمہ سلام اللہ علیہا کی خــــادمہ حضرت فضــــہ رضی اللہ تعالٰی عنہا 10 محرام الحرام کے بعد یزید کی قید میں تھیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی نواسی حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا قافلہ لے کر دمشق پہنچیں تو بازاروں اور گھروں کی چھتوں پر لوگ جمع ہوگئے کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ یہ کٹے ہوئے سر کن کے ہیں اور یہ جو قیدی آرہے ہیں یہ کون ہیں؟ صرف اتنا اعلان کیا ہوا تھا کہ حکومت کے کچھ باغیوں کو قتل کردیا گیا ہے اور ان کے سر یزید کے دربار میں پہنچائے جارہے ہیں لوگ باغیوں کو دیکھنے کے لیئے چھتوں پر چڑھ رہے تھے بازار دمشق میں ہجوم ہوگیا قافلہ رک گیا آج وہ بازار حمیدیہ کہلاتا ہے سب قیدی بھوک پیاس اور پریشان حال تھے چھت سے ایک خاتون حضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دیکھا کہ قیدی ہیں پریشان حال ہیں تو اس نے پانی کچھ کھانے کی چیزیں کچھ کپڑے دوپٹے اور ضرورت کا سامان بھیجا نواسی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے سارا کچھ دیکھ کر اس خاتون کو بلوایا جب وہ قریب آئی تو آپ سلام اللہ علیہا نے فرمایا بی بی تو نے ہمارے ساتھ بڑی نیکی کی ہے کوفہ سے لے کر دمشق تک کسی نے ہمیں پوچھا تک نہیں کسی نے ہمارے حال کی خبر نہیں لی تم کون ہو؟ اور ہمیں کیا سمجھ کر ہم سے اتنی بھلائی کی اس نے کہا میں آپ کو نہیں جانتی دراصل میں اپنی اوّل عمر میں مدینہ منورہ میں رہتی تھی اور حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی خادمہ تھی جب حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کا وصال ہوگیا تو میں مدینہ منورہ چھوڑ کر دمشق آگئی آپ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا اگر آپ نے اتنی نیکی کی ہے تو آپ کو کیا معلوم ہے کہ ہم کون ہیں ؟ بی بی فِضہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے جواب دیا مجھے اور تو کچھ معلوم نہیں لیکن جب حضرت سیدہ کائنات فاطمہ سلام اللہ علیہا کاوصال کا آخری وقت تھا تو میں عرض کیا بی بی جان مجھے کچھ وصیت کر دیں اس وصیت پر عمر بھر عمل کروں گی وہ مجھے جانتی تھیں کہ میں دمشق سے ہوں انہوں نے مجھے وصیت کی کہ بیٹا ایک ہی وصیت ہے کبھی قیدی نظر آئیں توان سے اچھا سلوک کرنا میں نے حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی وصیت پر عمل کیا ہے حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اپنی آنکھوں میں آنسو لیے فرمانے لگیں اللہ آپ کا بھلا کرے بتائیں آپ نے ہم سے اتنی نیکی کی ہم آپ کے لئیے کیا دعا کریں ہم تو اِس وقت خود مہاجر ہیں قیدی مظلوم ہیں بے یارومددگار ہیں ہم آپ کے لئے دعا کرسکتے ہیں اس نے کہا بی بی میری ایک ہی آرزو ہے حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے پوچھا کیا آرزو ہے ؟ حضرت فضہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی جب میں مدینہ منورہ سے چلی تھی اس وقت حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے دو چھوٹے چھوٹےشہزادے تھےحضرت سیدنا امام حســــن علیہ السلام اور حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام اور ایک چھوٹی بیٹی تھی حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اب کافی زمانہ گزر گیا مجھے مدینہ منورہ سے ہجرت کئیے میری اُس وقت سے آرزو ہے کہ مجھے حضرت امام حسن علیہ السلام و حضرت امام حُسین علیہ السلام اور حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی زیارت ہوجائے آپ سلام اللہ علیہا دعا کر دیں کہ مجھے ان کی زیارت ہوجائے حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا تیری دعا قبول ہوگئی ہے
میں ہی خــــاتونِ جنت حضرت سیــــدہ بی بی فــــاطمہ سلام اللہ علیہا کی بیٹی زینب سلام اللہ علیہا ہوں اور اس وقت یزید کی قیدی ہوں اور یہ جو سر کٹا ہوا نیزے پر دیکھ رہی ہو یہ خــــاتونِ جنت حضرت سیــــدہ بی بی فــــاطمہ سلام اللہ علیہا کے چھوٹے بیٹے حضرت سیدنا امام حُسین علیہ السلام کا ہے حضرت فضــــہ رضی اللہ تعالٰی عنہا یہ سن کر زاو قطار رونے لگیں اورحضرت سیدہ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کو پیار کرنے لگیں

حوالہ داستان کربلا

متعلقہ خبریں