محبوبﷺ خدا کا محبوب حرم پاکؓ

2017 ,جون 13



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک /مولانا محمد کلیم اللہ حنفی):اہل اسلام ایک خاندان کی مانند ہیں جن کے روحانی باپ حضرت محمد رسول اللہؐ اور قرآن کریم کی تصریح کے مطابق آپ ؐ کی ازواج مطہرات روحانی مائیںہیں۔ اہل اسلام کی ان عظیم ماؤں نے اپنے اقوال و افعال ، عمدہ اخلاق اور اعلیٰ کردار سے امت کی تربیت کی ہے۔ انہی میں سے ایک عظیم المرتبت ، عظیم النسبت اورجلیل القدر ماں سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کا تذکرہ کئے بغیر دین اسلام کی فتح ونصرت کا باب مکمل نہیں ہوتا۔

نبوت کے پانچویں سال شوال المکرم کے تقریباً آخری ایام میں آپ کی ولادت ہوئی۔ آپ کا نام عائشہ بنت ابو بکر صدیق۔ لقب صدیقہ ،حمیرا ہے جبکہ آپ کا قرآنی اعزاز’’ام المومنین‘‘ہے۔ آپ کی والدہ کا نام ام رومان ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ کا بچپن بہت خوشگوار گزرا ، چاق وچوبندہونے کے ساتھ ساتھ بے پناہ صلاحیتوں نے آپ کی شخصیت کو خوب نکھارا۔ علم و ادب سے گہری وابستگی ، فطری حاضر جوابی ، ذکاوت و ذہانت ، مذہب سے واقفیت اور غیر معمولی قوت حافظہ کی وجہ سے آپ دیگر اپنی ہم جولیوں سے ممتاز حیثیت رکھتی تھیں۔

آپ کی فضیلت و منقبت ہر لمحہ روبہ ترقی رہی۔ جہاں آنکھ کھولی وہ گھر صداقت کا گہوارہ تھا جہاں جا کر ازدواجی زندگی بسر کی وہاں نبوت کا بسیرا تھا۔ ام المومنین حضرت خدیجہؓ کا انتقال پر ملال کے بعد حضرت خولہ بنت حکیم ؓ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی کہ آپ نکاح فرما لیں۔ آپ ؐ نے پوچھا: کس سے؟ حضرت خولہ نے جواب دیا کہ اگر بیوہ سے شادی کے خواہش مند ہیں تو حضرت سودہ بنت زمعہ موجود ہیں اور اگر کسی کنواری سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو ابوبکرؓ کی صاحبزادی عائشہ موجود ہے۔ آپ ؐنے حضرت خولہ سے فرمایا کہ چلو تم بات کر دیکھو۔ حضرت خولہؓ سیدہ ام رومان ؓکے پاس گئیں اور کہا آپ ؐ نے حضرت عائشہ کے لیے پیغام نکاح دیا ہے ام رومان بہت خوش ہوئیں اورکہنے لگیں کہ ابو بکر ؓ کا انتظار کر لینا چایئے۔سیدنا ابو بکرصدیق ؓ تشریف لائے انہیں سارا معاملہ بتایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ محمد ؐ تو میرے منہ بولے بھائی ہیں اس نسبت سے تو میری بیٹی عائشہ ان کی بھتیجی ہوئی۔ بھتیجی سے نکاح کیسے ہو سکتا ہے ؟

حضرت خولہؓ نے آپ ؐ کو بتایا تو آپؐ نے فرمایا کہ یہ میرے دینی بھائی ہیں لہذا نکاح جائز ہے۔حضرت ابو بکرؓ نے اس سعادت پر لبیک کہا۔چنانچہ آپؐ تشریف لائے اور حضرت ابوبکرؓ نے نکاح کر دیا۔ نکاح کے کچھ عرصہ بعد تک آپ میکے میں رہیں۔ بالآخر ہجرت کے بعد آپ مدینہ طیبہ تشریف لے گئیں اور وہاں آپ کی رخصتی ہوئی۔آپ ؐ نے امہات المومنین سے جو ازدواجی سلوک کا سبق امت کو دیا ہے ۔بالخصوص سیدہ عائشہؓ کے ساتھ نرمی شفقت اور تربیت کا برتائو وہ ہم سب کے قابل عمل نمونہ ہے۔

امام مسلم نے فضائل عائشہؓکے تحت اپنی صحیح میں حدیث ذکر کی ہے کہ آپؐ جب گھر میں تشریف لاتے سیدہ عائشہ ؓ اپنی سہیلوں کے ساتھ گڑیوں سے کھیل رہی ہوتیں تو آپ ؐ کی آمد پر سیدہ عائشہ کی چھوٹی چھوٹی سہیلیاں چھپ جاتیں اور گڑیوں کو بھی چھپا لیتیں۔ آپؐ لڑکیوں کو بلاتے اور حضرت عائشہؓ کے ساتھ کھیلنے کو کہتے۔

مشہور حدیث میں ہے کہ رسول اللہؐ نے’’ ازراہ محبت‘‘ سیدہ عائشہ ؓکے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ دوڑ لگانے کو کہا چنانچہ جب دوڑ لگائی تو اپنی بیوی کا دل رکھنے کے لیے از خود پیچھے رہ گئے اور سیدہ عائشہ پہلے پہنچ گئیں۔ ایک مرتبہ کسی سفر سے واپسی پر نبی کریمؐ نے پھر دوڑ لگانے کا کہا اس بار آپؐ مقررہ جگہ تک جلدی پہنچ گئے اور فرمایا یہ ادلے کا بدلہ ہے۔ باہم خوش مزاجی کے ایسے واقعات ہیں کہ اگر ہمارے گھریلو نظام زندگی میں ان کو اپنا لیا جائے تو گھروں میں پروان پاتی رنجشیں ، کدورتیں اور نفرتیں اپنی موت آپ مر جائیں اور خوشیوں سے گھر جنت کا نقشہ پیش کرنے لگے۔

نبی کریم ؐ خود فرماتے ہیں کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا۔ معلم انسانیت ؐ نے نور علم سے جن ہستیوں کوفیض یاب کیا ان میں سیدہ عائشہ ؓبھی ہیں۔ آپ ؐ نے اپنی لاڈلی اور محبوبہ بیوی کو دنیا کی سلیقہ مندی ، آداب معاشرت ، تہذیب و شائستگی سے بہر مندکیا اور کتاب و حکمت اورفقہ و اجتہاد سے بھی آشنا کرایا۔ معاشرتی زندگی میں باہمی برتائو کا طریقہ اور نجی زندگی میں فکر آخرت کی دولت بھی عطا فرمائی۔گھریلو زندگی میں سوکنوں سے حسن سلوک کا درس بھی دیا اور سوتیلی اولادوں سے محبت کا سبق بھی۔

سیدہ عائشہ ؓکے عمدہ اوصاف کی جھلک سیرت کی کتابوں سے چھلک رہی ہے۔ انتہاء درجے کی عبادت گزار تھیں چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم ؐ جب تہجد کے لیے اٹھتے تو آپؓ بھی اٹھتیں اور نماز تہجد ادا فرماتیں۔ چاشت کی نماز میں کبھی ناغہ نہ کرتیں۔اکثر روزہ سے ہوتیں۔ ایک دفعہ گرمیوں عرفہ کادن تھا آپ روزے سے تھیں گرمی اس قدر سخت تھی کہ بار بار سر پر پانی ڈالتیں آپ کے بھائی حضرت عبدالرحمان نے کہا جب اتنی گرمی تھی تو روزہ کیوں رکھا؟ آپ ؓنے فرمایا کہ میں بھلا یوم عرفہ کا روزہ کیسے چھوڑ سکتی ہوں جبکہ میں نے نبی کریمؐسے خود سنا ہے کہ عرفہ کا روزے سال بھر کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔حج کی پابند تھیں بہت کم ایسا ہوا کہ آپ نے حج نہ کیا ہو۔ آپ نے کثرت کے ساتھ غلاموں کو آزاد کیا۔ شرح بلوغ المرام میں ہے کہ آپ کے آزاد کردہ غلاموں کی تعداد 67 ہے۔ حاجت مندوں کا بہت خیال فرماتیں۔ مالی صدقہ کثرت سے دیتیں۔ فقراء اور مساکین کو بہت نوازتیں۔ ان کی عزت و توقیر کا خیال رکھتیں۔

جامع الترمذی میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت موجود ہے کہ ہم اصحاب محمد ؐ کو جب کوئی مشکل بات پیش آ جاتی تو ہم حضرت عائشہ سے رجوع کرتے وہ ہماری رہنمائی فرماتیں۔

سیدہ عائشہ ؓکے زندگی کے بہت سے واقعات ایسے ہیں جو حوادثات کہلاتے ہیں۔ دشمنان اسلام منافقین نے آپ کی عفت پاکدامنی پر انگلیاں بھی اٹھائیں۔ جسے عرف عام میں واقعہ افک کہا جاتا ہے یہ بہت دلخراش سانحہ تھا کئی دنوں کے صبر واستقلال کے بعد بالآخر اللہ رب العزت نے آپ کی پاکدامنی پر قرآنی مہر ثبت کردی۔

58 ہجری رمضان المبارک کی17 تاریخ کو آپ سخت بیمار ہوئیں امام ابن سعد نے لکھا ہے کہ کوئی خیریت دریافت کرنے آتا تو فرماتیں کہ اچھی ہوں۔ عیادت کرنے والے بشارتیں سناتے تو جواب میں کہتیں: اے کاش! میں پتھر ہوتی۔ کبھی فرماتیں کہ اے کاش! میں کسی جنگل کی جڑی بوٹی ہوتی۔ نماز وتر کی ادائیگی کے بعد آپ اِس جہاں سے اُس جہاں کو کوچ فرما گئیں جس کی خواہش سرکار دو عالمؐ نے اللھم الرفیق الاعلی کے الفاظ سے فرمائی۔سیدنا ابو ہریرہؓ ان دنوں مدینہ طیبہ کے قائم مقام حاکم تھے انہوں نے آپ کا جنازہ پڑھایا۔ آپ کے بھانجوں اور بھتیجوں قاسم بن محمد بن ابو بکر ، عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابو بکر ، عبداللہ بن عتیق ، عروہ بن زبیر اور عبداللہ بن زبیر نے رسول اللہ ؐکی پیاری زوجہ اور امت محمدیہ کے مومنین کی ماں کو قبر کی پاتال میں اتارا۔

متعلقہ خبریں